تتلیاں آواز دیتی ہیں

افسانہ نگار : نصرت اعوان

, تتلیاں آواز دیتی ہیں

شام دور کھڑی شرما رہی تھی ۔
آسمان سورج کی آخری تمازت سے گلابی ہونے لگا تھا۔۔ پرندوں کے جھنڈ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف محو پرواز تھے۔۔
ہر روز نماز عصر کے بعد یہ منظر چاے کا کپ ہاتھ میں لیے بالکنی سے دیکھنا میرا معمول تھا۔
میں کچھ دیر کے لئے اردگرد کے ماحول سے کٹ کر قدرت کے اس راز میں گم ہو جاتی ۔۔ تفکرات اور ذمہ داریوں سے کچھ وقت کے لئے آزاد ہوجاتی۔۔
نیچے بلڈنگ کے لان میں معصوم بچپن کھلکھلاتا ہوا بکھر جاتا ۔۔
پھولوں کو پھولوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر میں بھی بچپن میں چلی جاتی ہوں ۔۔ میرا بچپن ۔۔!
میں نے دیکھا ۔۔
میرا گھرکتنا سادہ، کتنا زندگی سے بھر پور تھا ۔۔ امی آنگن کے کونے میں بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں کچھ بنانے میں مصروف ہیں ۔۔


ایک لڑکی جس نے دو چوٹیاں کس کر بنائی ہوئی ہیں، شلوار کے پائنچے اونچے کئے ہوئے، ایک ہاتھ میں جھاڑو لئے دوسرے میں بالٹی‛ مگ سے پانی نکال کر سرخ اینٹوں کا فرش رگڑ رگڑ کر دھو رہی ہے۔
اسکی دلچسپی کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے اسے دنیا میں کوئی اور کام نہیں کرنا، سواے فرش دھونے کے، دروازہ کھلا، ایک لڑکا گندے جوتوں سے اندر داخل ہوا ۔۔
“اے آبی ! وہیں رک ۔۔ جوتے وہیں اتار۔ امی ی ی ی ی ی” وہ چلائی۔
عابد چہرے پر شرارت لیے جوتوں سمیت فرش پر کیچڑ کے نشان چھاپتا برآمدے میں چلا آیا اور تخت پر بیٹھی دادی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتا ہے دادی تو واری واری جانے لگتی ” میرا بچہ، میرا شہزادہ!!” وہ غصے کے مارے آگ بگولا ہو گئی ۔۔
تب میں اس لڑکی کے چہرے کو دیکھتی ہوں، بغور ۔۔ کتنی شفافیت اور معصومیت تھی ۔۔ کتنی ملاحت زمانے کی گندگی اور آلودگی سے پاک چہرہ ۔۔ مطمئن، پرسکون روح ۔۔۔
بابا جانی کی آواز آتی ہے، بابا جانی دروازے کے پاس ہی جوتے اتار دیتے ہیں اور وہ بھاگ کر انکے لئے چپل لے کر آتی ہے جو ان کے قدموں میں رکھ کر ہاتھ سے تهیلا پکڑ لیتی جس میں روز سبزی اور پھل ہوتے۔ بابا جانی کبھی خالی ہاتھ نہی لوٹے ۔ اس نے وہ تهیلا دادی کے پاس رکھ دیا اور عابد کو گھورتی ہوئی گھڑے میں سے پانی نکال کر بابا جانی کو دینے آی تو وہ مسکرا دئے ۔۔ سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔ “میری شاہزادی، میرا بیٹا !!”
یہ لفظ سنتے ہی اسکے وجود میں توانائی و محبت کا انوکھا احساس ہوتا تھا۔
یہ سب اب کہاں ۔۔ آہ۔۔!!


میں سوچنے لگی ۔۔ سب بچھڑ گیے ۔۔ میں بھی تو خود سے بچھڑ گئی ۔۔ میں کہاں کھو گئی؟ میرے سب رشتے ۔۔ وہ بھائی، چھوٹی بہن، جن کے ملک سے باہر ہونے پر کبھی کبھی کی رسمی سی دعا سلام رہ گئی ۔۔ راہیں تھک چکی تھیں احساس جامد ہو چکا تھا۔۔
کھوے ہوئے بچپن کو ڈھونڈتی ڈھونڈتی بہت دور نکل آئی تھی ۔۔
وہ گلی بھی تو تھی جہاں زندگی کی انوکھے انداز میں مجھ میں دھڑک رہی تھی ۔۔ روز گزرتی تھی کالج کے لئے وہیں سے ۔۔ وہ بند گھر کراۓ پر اٹھایا جاتا تھا ۔۔ سنا تھا اب کوئی فیملی نہیں آتی تھی ۔۔ کوئی تنہا وجود تھا اس میں شاید کوئی لڑکا تھا جو اکثر ہاتھ میں فائل لئے ہوئے میرے نزدیک سے گزرا تھا ۔۔ سر جھکاے ہوئے، کبھی سر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اسکی یہی محتاط روش مجھے سوچنے پر مجبور کر گئی۔ اس سے پہلے کہ سوچوں کو پرواز ملتی، شادی کر کے پردیس دوسرے شہر کوچ کر گئی ۔ سب ماضی کا حصہ بنتا گیا ۔۔ اور پھر زندگی میں دو گلاب کھل گئے ۔۔انکو سینچتے سینچتے زندگی یوں گزری اب سب خواب لگتا ہے۔۔ لیکن ہر شام بیٹھ کر اس خواب کو کچھ دیر آنکھیں بند کر کے دیکھتی ہوں ۔۔ روز اپنے کھوئے ہوئے وجود کو ڈھونڈنے ۔۔ جیسے آج بیٹھ کر دیکھ رہی ہوں ۔۔ تب ہی اندر سے بیٹی زور سے چلائی “ممّا سمجھائیں بھائی کو، ریموٹ نہیں دے رہا ۔۔” اندر سے بیٹے کی ہنسی سنائی دی ۔۔ کہاں گم ہے میرا بچپن ؟؟!
یہی تو میرا عکس ہے ۔۔ میری طرح میرے عابد کی طرح میری زندگی کی یہی تو اصل سچائی ہے ۔۔ یہی تو وہ خوشیاں ہیں جو چھٹ گئیں، لیکن کہاں؟ وہ تو ہمارے بچوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ ۔ ۔ ۔
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
2 کمنٹ
  1. Avatar

    بہت خوبصورت تحریر عمرِ گُم گشتہ کو آواز دیتی ہوئ خود سے ملنے کے لیۓ چند لمحات ضروری ہوتے ہیں!! ذندگی بس چہرے بدلتی ہے ختم نہیں ہوتی

    Reply
  2. Avatar

    بچپن اور رفتگاں کی یادوں سے لبریز افسانہ

    Reply

کمنٹ کریں