تہمت

مضمون نگار : اعزاز کیانی

, تہمت

بغیر تحقیق کسی آدمی سے کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو دراصل اس سے متعلق نہ ہو تہمت کہلاتا ہے.
تہمت ہمارے سماج کا ایک عام مسئلہ ہے. یہ مسئلہ سوشل میڈیا پر ایسے ہی موجود ہے جیسا کہ عملی زندگی میں ہے.


ہمارے ہاں عموماً اس الزام و اتہام کی وجہ یا محض مخالفت و اختلاف ہوتی ہے یا محض بغرض تفنن طباع دوسروں سے بہت سی باتیں منسوب کر لی جاتی ہیں جو دراصل ان سے متعلق نہیں ہوتیں ہیں یا بسا اوقات عدم تحقیق کی وجہ سے نادانستہ طور پر کوئی بات کسی آدمی سے منسوب کر لی جاتی ہے.
اول الذکر دونوں صورتوں میں تہمت
ایک مستقل بالذات برائی ہے.
تہمت دراصل ایک ایسا جھوٹا سہارا ہے جس کو ایک انسان ان اوقات میں اختیار کرتا یے جب اسکے اپنے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی ہے.


چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی جب ایک موقع پر اصحاب کرام سے کچھ گناہوں پر بیعت لی تو ان میں ایک واضح برائی جس پر بیعت لی گئی یہ تھی ‘کہ ایک دوسرے پر تہمت نہیں لگائیں گے ( راوی عبادہ بن صامت).
علاوہ ازیں اس طرح کی بے پرکی نہ صرف ایک آدمی کے شخصی کردار کو مجروح کرتی ہے بلکہ اسکے لیے موجب ایذا بھی بنتی ہے. ایذا رسانی کی بابت رسالت مآب نے نہ صرف یہ تلقین فرمائی ہے کہ ایک مسلمان کے ید و لسان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں بلکہ راستے سے کسی ایذا رساں شہ کے ہٹانے کو بھی صدقہ قرار دیا ہے ( راوی ابو ہریرہ).


اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو ایک آدمی کے لیے اس سے بڑھ کر رسوائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا باطن بھی خود اس جھوٹ ( تہمت) کےخلاف شہادت دیتا ہو.
میرےنزدیک اس رویے کا انسداد اس طور ممکن ہے کہ اس بات کو اپنی عملی و سوشل میڈیا کی زندگی کا اصول بنا لیا جائے کہ آپ کوئی بات بغیر تحقیق و دلیل کے نہیں کہیں گے, وہی بات کہیں گے جس پر اگر آپ سے جواب طلبی کی جائے تو آپ کافی و شافی دلائل و اشہاد پیش کر سکتے ہوں, جن معاملات میں معلومات دستیاب نہ ہو وہاں سکوت اختیار کریں گے اور نہ کسی کی ذات کو, خواہ وہ کوئی سیاسی ومذہبی شخصیت ہو یا آپ کی طرح کا کوئی عام فرد, اپنی تفریح و مزاح کا موضوع بنائیں گے. اور یہ اصول بجائے خود ایک مستقل با لذات اصول ہے کہ آپ کے اصول احبا و اغیار کے لیے یکساں ہوں.
ارشاد ربانی ہے کہ:
کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر پائے کہ تم انصاف کا دامن چھوڑ دو ( المائدہ)
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں

کمنٹ کریں