ٹرین پر باجے اور بائیولوجی کا نامعلوم جین

مضمون نگار : وہارا امباکر

, ٹرین پر باجے اور بائیولوجی کا نامعلوم جین

کرسچن ڈوپلر آسٹرین سائنسدان تھے۔ 1842 میں انتالیس سالہ ڈوپلر نے ریاضیاتی منطق کو استعمال کرتے ہوئے استدلال کیا کہ آواز کی پِچ یا روشنی کے رنگ کا انحصار مشاہدہ کرنے والے کی جگہ اور رفتار پر ہے۔ اگر آواز کا سورس سننے والے کی طرف آ رہا ہے تو کمپریس ہونے کی وجہ سے آواز کی پچ زیادہ جبکہ دور جانے کی صورت میں کم ہو گی۔ نقادوں نے مذاق اڑایا۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی لیمپ سے نکلنے والی روشنی کے رنگ مختلف نظر آئیں؟
ڈوپلر نے 1845 میں باجا بجانے والوں کے ایک بینڈ کو ٹرین پر سوار کیا اور انہیں کہا کہ جب ٹرین چلے تو ایک ہی نوٹ بجاتے رہیں۔ پلیٹ فارم پر کھڑے سامعین حیرت میں سنتے رہے کہ جب ٹرین ان کی طرف آ رہی تھی تو یہ نوٹ زیادہ جبکہ جب دور جا رہی تھی تو کم پِچ کے ساتھ تھا۔
ڈوپلر کا کہنا تھا کہ آواز اور روشنی یونیورسل اور قدرتی اصولوں کے تحت کام کرتے ہیں، خواہ وہ سننے اور دیکھنے والوں کو کتنا ہی خلافِ عقل کیوں نہ لگے۔ اگر آپ احتیاط سے دیکھیں تو دنیا کے بے ہنگم اور پیچیدہ لگنے والے فنامینا بہت ہی نظم والے فطری قوانین کا نتیجہ ہیں۔ کئی بار ہم اپنے ادراک اور وجدان سے ان کو سمجھ لیتے ہیں لیکن زیادہ تر ہمیں ذہانت سے مرتب کردہ تجربات اور حالات کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔ جیسا کہ باجا بجانے والے بینڈ کو ٹرین پر سوار کرنا ۔۔۔ کہ ہم ان کو سمجھ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ویانا میں سائنس پھل پھول رہی تھی۔ ڈوپلر فزکس کے استاد تھے اور ان کے ایک شاگرد ڈوپلر کے طریقوں سے بہت متاثر بھی ہوئے تھے اور پریشان بھی۔ یہ شاگرد مینڈیل تھے۔ ان کو دلچسپی بائیولوجی سے تھی لیکن بائیولوجی کی سائنس بے ہنگم ڈسپلن لگ رہی تھی۔ بائیولوجی میں ٹیکسانومی پڑھی جاتی تھی۔ زندہ اشیاء کو کنگڈم، فائلم، کلاس، آرڈر، فیملی، جینرا اور نوع میں تقسیم کرنے کا کام ہوتا تھا۔ لیکن یہ سب بس کیٹگری بنانے والا کام تھا۔ اس کے پیچھے منطق کیا تھی؟ ایسا کیوں تھا؟ کینگرو کا بچہ کینگرو ہی کیوں ہوتا ہے، چمگاڈر کا چمگادڑ؟ سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والے سنہرے بال اور نیلی آنکھ والی اولاد کو اور سیاہ فام گھنگھریالے بالوں کے گھر سیاہ فام اور گھنگریالے بال والے بچے ہی کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ یہ سب کچھ نامعلوم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ سوال صدیوں پرانے تھے۔ فیثاغورث نے اس پر اپنی تھیوری چھٹی صدی قبلِ مسیح میں پیش کی تھی۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ وراثت باپ سے آتی ہے۔ نر کا سیمن پورے جسم میں سے ہدایتیں اکٹھی کرتا ہے۔ ہر عضو سے پرسرار بخارات جمع کرتا ہے اور ایک شخص کی لائیبریری بن جاتا ہے اور ایک شخص کا نچوڑ ہوتا ہے۔ آنکھ کا رنگ، بالوں کی ساخت جیسی ہدایات اس میں ہوتی ہیں۔
یہ ماں کے جسم میں جا کر جب ٹھہر جائے تو وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اور یوں بچہ وجود میں آتا ہے۔ اس تھیوری کو بعد میں سپرم ازم کا نام دیا گیا۔ اس میں مرکزی کردار سپرم کا تھا۔ باپ بچے کو “نیچر” دیتا ہے۔ ماں اس کی پرورش کرتی ہے۔ اس خیال کے پیچھے فیثاغورث کا مثلث کے ساتھ جنون تھا۔ اپنی مثلث کی ریاضی کی طرح ان کا فارمولا یہ تھا کہ اس کی ایک سائیڈ باپ کی نیچر ہے، دوسرا ماں کی نرچر اور ان کی مدد سے تیسری سائیڈ معلوم کی جا سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ارسطو کے تیز اور تجزیاتی دماغ نے فیثاغورث کی وراثت کی تھیوری کو بائیولوجیکل دنیا سے تجرباتی ڈیٹا کے ذریعے غلط قرار دیا تھا۔ وراثتی فیچر ایک یا کئی بار دو نسلیں چھوڑ کر بھی آ سکتے ہیں۔ کئی عادات جیسا کہ چال ڈھال، خلا میں گھورنا یا ذہنی حالت ایسے فیچر نہیں جو سپرم میں جا سکیں۔ اور اگر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو پھر وہ بھلا اپنے تمام فیچر والد سے کیسے لے سکتی ہے؟
ارسطو نے متبادل خیال پیش کیا جو اپنے وقت سے بہت آگے کا تھا۔ جس طرح والد کی طرف سے فیچر وراثت میں آتے ہیں، ویسے ہی والدہ کی طرف سے بھی اور نیا وجود ان کے ملاپ سے ہے۔ والد سے جو چیز والدہ میں منتقل ہوتی ہے، وہ پیغام ہے۔ جیسا کہ عمارت کا نقشہ۔ اسی طرح کچھ ہدایات ہیں جو منتقل ہوتی ہیں، جبکہ کچھ ہدایات والدہ کی طرف سے۔ جبکہ والدہ کی طرف سے بچے کے بننے کا میٹیریل آتا ہے۔ وراثت دراصل پیغام کی منتقلی ہے۔ یہ مثلث نہیں، ایک دائرہ ہے۔ فارم سے انفارمیشن اور انفارمیشن سے فارم۔
ارسطو نے اس کو کوڈ کہا تھا اور اگرچہ ارسطو کا کوڈ کا بنیادی خیال درست تھا لیکن اگر وراثت انفارمیشن کی منتقلی ہے تو یہ انفارمیشن کیا ہے؟ کہاں پر ہے؟
ہزاروں سال تک اس سوال پر ارسطو اور فیثاغورث سے آگے نہیں بڑھا جا سکا۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں