تریگام سے تہاڑ تک

تریگام سے تہاڑ تک
جدوجہد کا لازوال سفر
تحریر شمیم خان

عظیم یونانی فلسفی سقراط کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اپنے مقدمے کی پیروی خود کی اور اپنے بیان کے ابتدائیہ میں کہا
جیوری میں شامل کوئی شخص مجھے یہ کہہ سکتا ہیکہ میرا طرز عمل باعث شرم ہے جسکے نتیجے میں آج مجھے موت کا سامنا ہے میرا جواب یہ ہیکہ اگر تم سب یہ سمجھتے ہو کہ کسی شخص میں اگر سچ بولنے کی طاقت ہے اسے زندگی اور موت کا حساب رکھنا چاہیے تو میرے نزدیک یہ بات درست نہیں
سچے انقلابی کو موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے یہ فکر کرنی چاہیے کہ اسکا موقف درست ہے یا غلط
سقراط کی کہی اس بات کو ہر زمانے کے انقلابیوں نے ایک روایت کے طور پر زندہ رکھا اور موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسکرا کر موت کو گلے لگایا عین اسی طرح جسطرح سقراط نے ہر پیشکش ٹھکرا کر زہر کا پیالہ پی کر موت کا استقبال کیا تھا۔

تاریخ انسانی کے اوراق پر نظر دوڑائیے تو ایسے انسانوں کی ایک مالا نظر آئیگی جنھوں نے وقت کی روایات کے خلاف ہمیشہ علم بغاوت بلند کیا اور فکر اور سوچ کو نئی سمت عطا کی
سقراط سے حضرت عیسی’ تک، ابوذر غفاری سے حسین ابن علی تک ، منصور سے سرمد تک چی گویرا سے بھگت سنگھ تک اور عمر مختار سے مقبول بٹ شہید تک انقلابیوں کی ایک ایسی لڑی جسکا ہر موتی انمول ہے جسکی موت کو چشم فلک بھی حیرت سے دیکھے۔ انھی انقلابیوں میں سے ایک مقبول بٹ شہید کا آج یوم شہادت ہے۔

منقسم جموں کشمیر کا یہ عظیم بیٹا اپنی دھرتی سے محبت کے جرم میں سولی چڑھا دیا گیا
اٹھارہ فروری انیس سو اڑتیس کو تریگام ضلع بارہ مولا کہ ایک کسان گھرانے میں پیدا ہونے والا بچپن میں ہی ماں کی شفقت و محبت سے محروم ہو گی ہزاروں کشمیریوں کی طرح مقبول بٹ شہید کا خاندان بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا۔

مقبول بٹ شہید کی طبعیت ابتدا سے ہی باغیانہ راہوں پر چل پڑی اسکول میں امیر اور غریب بچوں کو الگ الگ بٹھانے پر مقبول بٹ نے احتجاج کے طور پر اسکول کی جانب سے دیا جانے والا ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا یوں مقبول بٹ نے بہت کم عمری میں پرخار راہوں کا انتخاب کیا جس پر چلتے چلتے وہ ساری زمدگی لہولہان ہوتے رہے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد مقبول بٹ نے سینٹ جوزف کالج سے گرئیجویشن کیا یہاں سے انھوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اپنی جاندار تقاریر سے ہم عصروں کو متاثر کرتے رہے
سینٹ جوزف کالج کے پرنسپل جارج شنکس نے کہا تھا

This young man, if managed to pass through the hardships, will become a great person. But these types of people usually face extreme difficulties in society. The kind of freedom this type of youngsters demand is very hard to achieve. Subsequently, they get sacrificed on their way to freedom.”

ایک زمانہ شناس شخص کے کہے ہوئے الفاظ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئے مقبول بٹ شہید ایک ایسی ہی آزادی کا خواہاں تھا جسکا حصول مشکل تھا لیکن ایک انقلابی کسی کا کو ناممکن نہیں سمجھتا اور وہ جان کی پرواہ کیے بغیر جدوجہد کا راستہ اپناتا ہے اور اس راہ میں جان کی قربانی بھی دیتا ہے اور وہی مقبول بٹ شہید نے کیا۔

مقبول بٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اپنے چچا کے ہمراہ پاکستان چلے گئے اور وہاں ایک صحافی کے طور پر کام کرنے لگے ساتھ میں اپنی تعلیم بھی مکمل کی لیکن ایک انقلابی روح حالات سے سمجھوتہ نہ کر سکی اور سیاست کی پرخار راہوں کا انتخاب کیا محاذ رائے شماری کے بانیوں میں سے ایک مقبول بٹ بھی تھے پھر عسکری ونگ این ایل ایف بنائی اور بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گوریالا کارروائیاں کرنے لگے گرفتار ہوئے اور انھیں سزائے موت سنائی گئی لیکن جیل توڑ کر فرار ہوئے اور ہفتوں کے پیدل سفر کے بعد آزاد کشمیر میں داخل ہوئے لیکن یہاں بھی جیل کی سلاخیں انکی منتظر تھیں انیس سو اکہتر میں بھارتی طیارے گنگا کے اغوا کے بعد شاہی قلعہ لاہور کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں پاکستانی ایجنسیوں اور پولیس کی فسطائیت کا جوانمردی سے سامنا کیا اور پھر لاہور ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلے نے مقبول بٹ کی سچائی پر مہر ثبت کی اور وہ رہا ہو گئے مقبول بٹ شہید نے سیاسی جدوجہد کا انداز اپنانے کی کوشش کی اور محاذ رائے شماری کے پلیٹ فارم سے انتخابی سیاست کی لیکن ایک کالونی کے انتخابات کب کسی ایسے شخص کو قبول کرتے ہیں جو تہی دست ہو جو روایات کے خلاف ہو اور ایک جدید سوچ کا علمبردار ہو۔

مقبول بٹ بھی اس طرز سیاست سے دلبرداشتہ ہوئے اور پھر عسکری محاذ کا رخ کیا اور ایک بار پھر وادی کشمیر جا پہنچے لیکن بدقسمتی سے ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور اس بار قابض بھارتی حکام ماضی کی غلطی دہرانا نہیں چاہتے تھے لہذا مقبول بٹ کو تہاڑ جیل دہلی منتقل کیا گیا جہاں گیارہ فروری انیس سو چوراسی کو انھیں پھانسی دی گئی۔

مقبول بٹ شہید کی زندگی بڑی پر آزمائش رہی سری نگر کے مہتاب باغ سے مظفراباد کے دلائی کیمپ تک اور لاہور کے شاہی قلعے سے دہلی کے تہاڑ جیل تک جدوجہد کا ایک ایسا لازوال سفر ہے جس پر جموں کشمیر کے ہر فرد کو فخر ہے مقبول بٹ ایک ایسا کردار جس کے معترف دشمن بھی ہیں ویسے تو مقبول بٹ شہید کی شہادت پر اس طرز کا ردعمل نہیں ہوا جسکے وہ مستحق تھے محض آزاد کشمیر میں ہی احتجاج کیا گیا لیکن بٹ شہید کی شہادت کے چند برس بعد وادی کشمیر یکدم تبدیل ہو گئی اور آگ و خون کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ جسکی مثال ملنا مشکل ہے۔

معروف کشمیری حریت پسند اعظم انقلابی کہتے ہیں:
مقبول بٹ شہید کی شہادت سے دو دن قبل نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریز کی ملاقات ہوئی اور غالب امکان یہی ہیکہ پاکستان کی طرف سے اس اقدام کے لیے بھارت کو گرین سگنل دیا گیا( بحوالہ Kashmir Observer 12 feb 2015)

اعظم انقلابی مزید لکھتے ہیں کہ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں اور میری سوچ کے مطابق پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے لیکن اس دن جب مقبول بٹ کو پھانسی ہوئی تو جھٹکا لگا جب ریڈیو پاکستان نے رات آٹھ بجے کے بلیٹن میں مقبول بٹ کی پھانسی کو کوئی ذکر نہیں کیا بعد میں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان کی رضامندی سے بھارت نے مقبول بٹ کو پھانسی دی۔ مقبول بٹ کی پھانسی پر وادی کشمیر میں کوئی خاص ردعمل نہیں ہوا سوائے عبدالغنی لون کے کسی صف اول کے لیڈر نے صدائے احتجاج بلند نہیں کیا۔

جماعت اسلامی بارمولہ کے ممبر اشرف ایڈووکیٹ نے بارمولہ میں احتجاج کیا جس پر جماعت کے امیر پیر صلاح الدین نے اشرف ایڈووکیٹ کی بنیادی رکنیت معطل کردی۔ ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود مقبول بٹ شہید کی قربانی اور انکی شخصیت آزادی کا استعارہ بنکر ابھرا اور آج نہ صرف ریاست کے اندر بلکہ بیرونی دنیا جہاں جہاں ریاستی باشندے آباد ہیں اپنے اس قومی ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

مقبول بٹ کی شخصیت اور کردار کو خونی لکیر کے دونوں طرف قابضین نے داغدار کرنے کی بھرپور کوشش کی اور ہر طرح کا پروپیگنڈہ کیا انکی شخصیت کو کبھی دہشت گرد کبھی بھارتی اور پاکستانی ایجنٹ کبھی ڈاکو اور لٹیرا اور کبھی مجاہد بنا کر پیش کیا گیا لیکن ان سب ہتکھنڈوں کے باوجود ہر گزرتے دن مقبول بٹ کی شخصیت انکے نظریات اور انکی قربانی نکھر کر سامنے آتی رہی۔ تہاڑ جیل کے جیلر سنیل گپتا اپنی کتاب بلیک وارنٹ میں لکھتے ہیں

It was very clear that Maqbool was a political prisoner and he was treated as one too. Unlike others who would spend their time gossiping or trying to make trouble, all he did was read. When he took a break from reading, he would regale us with his discourse on Kashmir and why he was fighting for its freedom from India and Pakistan. Or he would tell us stories of his travels between India and Pakistan and the various adventures he undertook. It was fascinating and we were a bit in awe of this international figure, even though he was considered anti-India. We could see why he had a massive following in Kashmir and abroad

مقبول بٹ ایک سیاسی قیدی تھا اور پاکستان اور ہندوستان سے آزادی کا خواہاں تھا دوسروں کے برعکس جو ہر وقت کوئی نہ کوئی مشکل کھڑی کر رکھتے ہیں مقبول بٹ اپنا زیادہ وقت مطالعے میں صرف کرتے تھے یا پھر اپنی جدوجہد کی باتیں ہمیں سنایا کرتے تھے۔
سنیل گپتا مزید لکھتے ہیں۔

The other impact that Butt made was more dramatic. When he reached Tihar, we were still bound by the British prison manual which said stationery was contraband in jail. Apparently, there was a fear that prisoners may write and smuggle out incendiary material so writing instruments and the material were kept away from inmates. This became another battle that Butt fought and won for other prisoners and won. I cannot remember a single instance when he created a problem for us or broke any rules. If he fought the system, it was by petitioning authorities in the right manner. Even his jail uniform (white kurta pajama) was always pristine, spotless, and sparkling. Just like his prison record.

ہم برطانوی قوانین کے پابند تھے جنکے مطابق اسٹیشنری جیل کے اندر ممنوع تھی لیکن مقبول بٹ نے اسے چیلنج کیا اور اور وہ یہ جنگ جیت بھی گئے۔ مجھے کوئی بھی ایک ایسا موقع یاد نہیں جب مقبول بٹ نے ہمارے لیے کوئی مشکل کھڑی کی ہو۔ سنیل گپتا لکھتے ہیں کہ مقبول بٹ کا جیل کا لباس کرتا پاجامہ ہمیشہ بے داغ اور چمکدار تھا انکے جیل ریکارڈ کی طرح سنیل گپتا مزید لکھتے ہیں:

To my mind, Butt was a victim of circumstances. I always felt that if the Indian diplomat, Ravindra Mhatre, had not been kidnapped and murdered in Birmingham, Butt would have stayed in jail for a long time, despite serving out a death sentence. It was rumoured that Butt could be released as a goodwill gesture to speed up the process of integration. But his fate was sealed as soon as news came in on 3 February 1984 that the assistant high commissioner at the Indian consulate in Birmingham had been kidnapped and an unknown group, Kashmir Liberation Front (KLF), had claimed responsibility. They had also demanded the release of Maqbool Butt.

میرے خیال میں مقبول بٹ حالات کا شکار رہا میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے ہیکہ اگر انڈین سفارت کار اغوا اور قتل نہ کیا جاتا تو مقبول بٹ سزائے موت سے بچ سکتا تھا اور اسطرح کی افواہیں بھی تھی کہ مقبول بٹ کو انکے اچھے کردار کے باعث رہا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن تین فروری کے واقعے نے انکی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔

مقبول بٹ شہید پھانسی چڑھ کر بھی اج ہزاروں دلوں میں زندہ ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اسکی جدوجہد، نظریات اور قربانی کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ آج ریاست اور بیرون ریاست مقبول بٹ کے چاہنے والے اسکی برسی بنا رہے ہیں ان سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں مقبول بٹ ہماری تاریخ کا لازوال کردار ہے جس نے آزادی کے پرچم کو اپنے لہو سے سرخ رو کیا مقبول بٹ کی شہادت نے ہمارے قومی وجود کو نیا شعور عطا کیا اور اپنے سوز یقین سے لاکھوں محبان وطن کے سینے روشن کیے بقول شاعر:

ذہن کے بند دریچوں پہ صدا دی میں نے
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دی میں نے
میں کہ اب تہاڑ سے ہوتا ہوں طلوع
پھر اس وضع اس طور سے ہوتا ہوں طلوع
میں کہ ہر دور کی تہذیب کا معمار ہوں میں
پھر کسی خنجر قاتل کا طلبگار ہوں میں
میں کہ ہر عصر کی تہذیب کا سرمایہ ہوں
اپنے مقتل کی طرف آپ چلا آیا ہوں
قتل ہی میرا مقدر ہے تو یوں ہی سہی
مجھ پہ شب خوں ہی ضروری ہے تو شب خوں ہی سہی
مجھ کو پھر دار پہ کھینچو کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں
میں کہ سقراط ہوں عیسی’ ہوں حسن ناصر ہوں

نوٹ: یہ تحریر شمیم خان کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: شمیم خان
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں