تجھ بن ذات ادھوری ہے : مختصر جائزہ

مضمون نگار: محسن اسرار، کراچی

, تجھ بن ذات ادھوری ہے : مختصر جائزہ

یہ کامی شاہ کے شعری مجموعہ کا نام بھی ہے اور ایک اچھا مکالمہ بھی۔ اگر ہم اس فریز کا منطقی جائزہ لیں تو کامی شاہ کی شاعری کا بہت قریب سے تجزیہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح غائب اور موجود کے الحاق کا ایک لامتناہی سلسلہ سامنے آتا ہے۔ اس مکالمے میں تجھ بن اور لفظ ذات بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ذات مختلف جزئیات و کلیاتی خصوصیات کا مرکب ہے اور ہر شخص اپنی ذات کا حوالہ خود ہوتا ہے۔ زندگی ذات سے وابستہ ایک عرصہ ہے جو صاحبِ ذات کی تقدیر ہے۔ زندگی ذات پر اثر اندا زہوتی ہے اور ذات زندگی پر۔
کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی ذات میں مکمل ہے چناچہ ادھورے پن کا احساس ہر سطح پر موجود رہتا ہے۔ عمومی طور پر تو اس لائن کا مطلب یہ ہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ محبوب کے بغیر زندگی ادھوری ہے، لیکن خصوصی طور پر ایسا نہیں کہا جاسکتا۔
تجھ بن، کہنا اس بات کی علامت ہے کہ صاحبِ ذات اپنے ادھورے پن کے اسباب کو جان چکا ہے اور اسے اپنے اندر رہنے والی کمی کا دکھ بھی ہے۔ تجھ اک استعارہ ہے، ان عوامل کے مجموعے کا جو ایک ذات کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں لیکن ان عوامل کا حصول اتنا آسان نہیں ہوتا، شاید یہ زندہ رہنے سے بھی زیادہ دشوار ہو۔
کامی شاہ کو ان دشواریوں کا احساس ہوگیا ہے اور یہی احساس کامی کو شاعری کی اُپچ فراہم کررہا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔۔
میرا دریا عجیب دریا تھا
جس کی حالت پہ مسکرائے دشت
۔۔۔
سُنا ہے آئینے کے سامنے پھر
کوئی پاگل پرندہ آگیا ہے
۔۔۔
خود کو دریافت کررہا ہوں ابھی
آخری بات تک نہیں پہنچا
۔۔۔


ان کی شاعری ایک مسلسل سفر کی علامت ہے، وہ شعوری اور لاشعوری دونوں حالتوں میں محوِ سفر رہتے ہیں۔ جس کی ترجمانی اس شعر سے ہوتی ہے۔
پھر ترا ہجر اِس کہانی میں
آخری بار تک نہیں پہنچا
اس شعر میں لفظ پھر اک مسلسل تگ و دو کی علامت بنا ہُوا ہے۔ سفر کی ابتدا، اختتام، پھر آغاز۔۔۔ گویا ایک دائرہ بند سفر ہے جو شاید کبھی ختم نہ ہو اور یہی زندگی ہے۔ اس شعر میں کامی کا حوصلہ اور توانائی بدرجہ اتم موجود ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تھک کر بیٹھنے والا شخص نہیں ہے اور بنیادی شاعر کی یہی پہلی خصوصیت ہے کہ اس کا سانس اکھڑتا نظر نہ آئے۔ کامی شعوری طور پر بہت زخمی ہونے کے باوجود لاشعوری طور پر بہت مضبوط بھی ہے۔ وہ اپنے زخموں کو بھی عارضی سمجھتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اگر ذات کی تکمیل ہوجائے تو ہر زخم خود ہی بھرجاتا ہے۔ ہمت اور امید ہمہ وقت اس کی دسترس میں رہتی ہے، تبھی وہ کہتا ہے۔۔۔
پھر پسِ جاں کوئی اُڑان کھُلی
اور ملا ہم کو آگہی کا پتہ
کامی شاہ مظلوم کو بھی اپنا سمجھتا ہے اور ظالم کو بھی۔ اس کا مسئلہ ہے کہ ظلم ہوتا کیوں ہے؟اور وہ کیا محرکات ہیں جو ظالم کو ظلم کرنے کا اور مظلوم کو ظلم سہنے پر مجبور کرتے ہیں اور یہ نظریہ اپنی جگہ درست ہے کہ ظالم سے نفرت کرنے کے بجائے ظلم کو ختم کرنے کی سعی کی جائے اور ان اسباب کا تدارک کیا جائے جن کے سبب ظلم وجود پاتا ہے۔ اور وہ اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے کہ۔۔۔
ہم تو اچھے بھلے جئے جائیں
پر جو لپکے ہے خون دل کی طرف
وہ ظلم کی فضا سے دور نکل جانا چاہتا ہے، اس کا اظہار وہ اپنی ایک لائن کی نظم۔۔ جہاں دن رات نہیں ہیں، میں اس طرح کرتا ہے۔۔
میں تم سے وقت کے اُس پَل سے باہر آئوں گا ملنے،،
وہ اپنی ذات کو اک ایسا خواب گردانتا ہے جس کے اندر بھی دروازے کھُلتے ہیں اور باہر بھی۔ وہ اپنی ذات سے باہر بھی بہت دور تک دیکھنے کی استطاعت رکھتا ہے اور ان تمام علت و علل کا احاطہ کرتا ہے جو اس کی ذات کو بالواسطہ اور بلا واسطہ متاثر کررہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گردوپیش میں غیر متعلق لوگوں کے دکھوں سے بھی متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس طرح ہمہ وقت خارجی اور داخلی مسائل کا شکار رہتا ہے۔
اکثر کامی شاہ سے ملاقات کے دوران محسوس ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھویا کھویا سا رہتا ہے، لیکن گفتگو برمحل کرتا ہے اور کسی بات کا دوٹوک جواب دینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ شاید اس کی یہ عادت بعض اوقات گراں بھی گزرتی ہو۔
کامی شاہ ایک تیز رفتاری کا حامل وجود ہے، وہ وقت سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے، وہ تاخیر کو پسند نہیں کرتا اور ہر رستہ تیزی سے چل کر طے کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس سعی میں وہ بعض اوقات طے شدہ مقام پر وقت سے پہلے ہی پہنچ جاتا ہے، اب خسارہ ہو یا منافع اسے کیا۔
وہ تو بس راہ میں حائل پتھر کو ٹھوکر مار کر گزرنے کا عادی ہے چاہے اس کا پائوں ہی کیوں نہ زخمی ہوجائے۔ اور ایسا شعر بھی کہتا ہے۔۔۔
پہلے سانسیں سمیٹ لینے دے
کیا ہُوا، کیا ہُوا نہ پوچھ ابھی،،
اس کی بعض عادتوں کا فائدہ اسے غائبانہ طور پر پہنچتا رہتا ہے، مثلاً وحشت اس پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ وہ وحشت کو اپنے مطمع نظر سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے مجھے کامی شاہ کی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت کسی فلاسفر کی یاد نہیں آئی کیوں کہ اس کے ہاں عقل سے زیادہ دل کی کارفرمائیاں موجود ہیں۔ وہ سوچتا بھی دل سے ہے۔ اس کی سوچ کی لہریں کہیں کہیں ذیشان ساحل سے ہم آہنگ ہوتی نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کے ہاں ذی شان ساحل کی طرح ٹھنڈی وحشت نہیں ہے بلکہ ایک مقید لاوا وجود کی دیواروں سے سر ٹکراتا نظر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔۔۔
وحشتیں مجھ میں جڑ پکڑنے لگیں
اس قدر وحشتوں کی بات ہوئی
پہلے زخموں کا حال پوچھا گیا
اور پھر چاقوئوں کی بات ہوئی
کامی شاہ کی کیفیات کو پہنچنا خاصہ مشکل مرحلہ ہے وہ کسی طرف سے ہاتھ ہی نہیں آتے، ہر صاحبِ نظر کو چکمہ دینا بھی ان کا مشغلہ معلوم ہوتا ہے، کیفیات ان پر مسلط نہیں ہوتیں بلکہ وہ کیفیات پر مسلط ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔۔۔۔


یہاں باہر ہیں جب پنجرے ہی پنجرے
تو پنچھی کیوں بغاوت کررہے ہیں
۔۔۔۔۔
تبصرے کا ہے یہ جدید اندز
کاندھے اُچکا کے منہ بناتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
تُو دل کی بات سے ناراض مت ہو
یہ بچہ پیار میں بِگڑا ہُوا ہے
وہ خیال پر تجربہ نہیں کرتے بلکہ تجربات سے خیال اخذ کرتے ہیں، وہ ایک باعمل زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔ وہ رسم و رہِ دنیا کے مخالف نہیں ہیں لیکن طرفدار بھی نہیں۔
وہ اپنے درس بھی خود تخلیق کرتے ہیں۔ کہتے ہیں۔۔۔
اگر کڑوی ہوائوں سے بھی گزرو
تم اپنا ذائقہ محفوظ رکھنا
وہ گزرنے والے سانحوں اور حادثوں کو واقعاتی پس منظر میں جگہ دیتے ہیں۔ اس طرح ان کی شاعری میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ جیسے یہ اشعار۔۔۔۔
ادھوری رہ گئی ہے نظم میری
تِری چُوڑی کا ٹکڑا کھو گیا ہے
۔۔۔
کل پسِ شام سیڑھیوں سے ادھر
تیری خوشبو پڑی نظر آئی
۔۔۔
دن مِرا کھو گیا ہیولوں میں
رات کو آہٹوں نے گھیر لیا
۔۔۔
سُنا ہے آئینے کے سامنے پھر
کوئی پاگل پرندہ آگیا ہے
۔۔۔
ہجرت کرگئے سارے شور مچاتے بچے
گونج رہی ہے ریل کی سیٹی خالی گھر میں
۔۔۔۔


ان کے ہاں روایتی جمالیات کی جھلکیاں تو نہیں ملتیں البتہ جدید جمال کی رنگینیاں اور کار گزاریاں ضرور ملتی ہیں۔ وہ مختلف تراکیب سے الفاظ کو جدید بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ نئی نسل کے پسندیدہ شاعر ہونے کے امکان تک پہنچ رہے ہیں۔
کامی کے ہاں محبت ایک معمہ کے بطور سامنے آتی ہے۔ انہوں نے محبت پر بہت کچھ لکھا ہے، ان کی نظم محبت باولی لڑکی خاصی تاثراتی نظم ہے۔ اس کی دو لائنیں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔
محبت باولی لڑکی
سمجھتی ہے خدا کو اپنے آنسو پوسٹ کردے گی
تو وہ ٹوٹی ہوئی روحوں کو پھر سے جوڑ دے گا،،
نظم، کہانی ختم ہوجائے گی جاناں، میں بھی محبت پر اچھی لائنیں لکھی ہیں۔
کہانی وہ کہ جس میں سارے ہی کردار پاگل ہیں
کہانی جو مِرے اندر کہیں گُم ہے، کہانی وہ محبت ہے
محبت، وہ جو ہنستی ہے تو لگتا ہے کہ جیون خوبصورت ہے
محبت، جس کی رنگوں اور جذبوں پر حکومت ہے
محبت، جس کی مجھ کو اور تم کو بھی ضرورت ہے
محبت کے لیے آئو۔۔۔
کامی شاہ اپنی نظم، ایک مختلف لمحہ میں پوری طرح کھلتے نظر آتے ہیں۔ اس نظم کی تقریباً تمام لائنیں جدت سے بھری ہوئی ہیں۔ کامی کی تمام امیجنری ان کی اپنی تخلیق کردہ ہے، وہ کائنات میں ایک اور کائنات دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے ویژن کو کھولنے کے لیے ہمیں ان کے ذہن میں اترنا پڑے گا۔
محبت پر کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
محبت عمر بھر کا دکھ ہے اور ہم
اثاثہ جان کر رکھے ہوئے ہیں
اُسے محبت نہیں ہوئی تھی
یہ بات خود کو بتا رہا ہوں
محبت ایک موسم ہے
اِسے لمحہ نہیں لکھنا
میں تمہیں بھول ہی نہیں سکتا
اور یہی بات بھولتی ہو تم،،
مختصر یہ کہ کامی شاہ تھیسس بھی لکھتے ہیں، اینٹی تھیسس بھی اور سِن تھیسس بھی۔
ان کی کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
٭٭٭٭
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔

کمنٹ کریں