تخم خوں : اردو کا پہلا دلت بیانیہ

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی

, تخم خوں : اردو کا پہلا دلت بیانیہ

’’دلت ادب‘‘ ایک موضوعی ادب ہے جس میں موضوع کے اعتبار سے دلتوں کی تلخ زندگی اوران کے تئیں سماج کے جارحانہ رویے کواس طرح برتا گیا ہو کہ اس زندگی کی داستان سے سماج کی اُن طاقتوں کے خلاف نفرت وغصہ پیدا ہو، جن طاقتوںکے ہاتھوں صدیوں کے ظلم و استحصال کے نتیجے میں وہ اس طرح کی غیر انسانی زندگی جینے پرمجبورہیں۔ اگریہ نفرت وغصہ اس نظام یا طاقت کے تئیں نہیں پیدا ہوتا تو ایسا ادب محض ہمدردی، اورترحم کا ادب بن کر رہ جائے گا۔ وہ دلت ادب نہیں ہوگا۔ دلت ادب کے وجود میں آنے کے پیچھے یہی جوہر کارفرماہے۔


ہندستان کی مختلف زبانوں (ہندی،مراٹھی، گجراتی، کنڑ، اڑیا وغیرہ) کی طرح اردو میں کثرت سے دلت کہانیاںلکھی گئیں۔ ارد وجس نے انسانیت اور سماجی مسائل سے ہمیشہ جڑے رہنے والے اپنے مزاج کی وجہ سے بنی نوع انسان کو کبھی طبقات و درجات میں تقسیم کرکے نہیں دیکھا اورسماج کے ہر طرح کے درد کو اس نے اپنا درد سمجھا۔ اس نے دلت طبقہ سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ دلت مسائل کو اپنے ادب کا موضوع بنایا بلکہ دوسری زبانوں کے شہ پاروں کوبھی منتقل کرکے اپنا حصہ بنایا۔ اوراپنی بساط کے مطابق سماج کے اس ناسور کو ختم کرنے کی کوشش کی۔


اردو افسانوں میں دلت مسائل کو مختلف جہتوں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی مثلاً ان پر ہونے والے مظالم، ان کا استحصال، ان کے ساتھ عدم مساوات، ان کی معاش واقتصادی زبوں حالی، شہروں اوردیہاتوںمیں ان کے ساتھ سلوک، زمیندارانہ اور جاگیر دارانہ عہد میں ان کے حالات اور معاشرے میں عام انسانوں کے درمیان اُن کے مقام کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بنائے گئے قوانین کے نفاذ میں دشواریوں کا ذکر بھی اردو افسانے میں کیاگیا ہے۔ دلتوں کو آج اگرچہ سرکاری، و غیر سرکاری مراعات حاصل ہیںاورانہیںدلت بیداری کی وجہ سے پہلے کی طرح کے حالات اورمسائل کا سامنا نہیں کرناپڑرہاہے مگر پھر بھی ذات پات کے نام پر تفریق اورکج فہمی کی بہتیری مثالیں ہمیں شب و روز دیکھنے کوملتی ہیں۔بالخصوص شادی بیاہ اور عشق ومحبت کے معاملات میںیہ آج بھی قتل و غارت گری کا سبب ہے۔ موجودہ دورمیں’’آنر کلنگ‘‘ کی اصطلاح اسی سے وجود میںآئی ہے اور ہزاروں مقدمات اسی تفریق کی بناپر عدالت میں درج ہوچکے ہیں۔ اردو افسانہ نگار آج بھی دلتوں کے ان مسائل پر قلم اٹھارہے ہیں۔ چنانچہ اردوکے اہم افسانہ نگار وںمثلاًپریم چند،کرشن چندر،خواجہ احمد عباس،سلام بن رزاق، انورقمر، ساجد رشید، غضنفر، عبدالصمد، شوکت حیات، خورشید حیات، شموئل احمد، مشتاق احمد نوری، رحمان شاہی،م صغیر رحمانی،احمد صغیر، قاسم خورشید اورمجیر احمد آزاد وغیرہ کے یہاں اس طرح کی کہانیاں اوران میں دلت مسائل کی عکاسی بڑی آسانی سے آج بھی تلاش کی جاسکتی ہے۔مگر اردو ناول میں اس موضوع پر زیادہ کچھ ناول نہیں لکھا گیا۔پریم چند نے اپنے مختلف ناولوں میں اس موضوع کے کچھ شیڈس دکھائے مگر وہ بھی کوئی مکمل ناول دلت مسائل پر نہیںدے سکے۔دلت موضوع پرپہلا ناول شاید ’دویہ بانی‘‘ہے جسے معروف فکشن نگار غضنفر نے لکھا تھا۔ افسانہ نگار صغیررحمانی کانیا ناول ’’تخم خوں‘‘بھی مکمل طور پر دلت ڈسکورس اور نکسل موومنٹ کو پیش نظر رکھ کر لکھاگیاہے۔اسے پڑھ کرکے ایک نتیجہ تو فوراً اخذ کیا جا سکتاہے کہ دلت مسائل پربیانیہ کے لحاظ سے یہ اردو کا پہلا مکمل ناول ہے۔ ’’دویہ بانی‘‘ بھی دلت مسائل پر ہی لکھا گیا تھا مگر وہاں پس منظر تاریخی اور اسلوب شاعرانہ تھا۔یہاں عہد حاضر کے سلگتے مسائل ہیں اور اسلوب و اظہار حد رجہ حقیقت پسندانہ۔بقول پروفیسر حسین الحق ’’دویہ بانی ‘‘ دلت صورت حال کو بیان تو کرتاہے مگر اس کا بیانیہ اردو زبان کے ذریعہ خود کو قائم کرتاہے جب کہ صغیر رحمانی’ تخم خوں‘ میں دلت بیانیہ کی بنیاد رکھتے ہیں۔اور اس اولیت میں ان کا کوئی شریک نہیں۔‘‘اس بیانیہ کی مثال میں یہ چھوٹا سا منظر دیکھئے


’’دروازے پر کھڑا ٹینگر اوپر تک بھیگی ہوئی اپنی دیوار وں کو دیکھ رہا تھا۔دودنوں سے وہ گھر میں مقید تھا ،باہر نہیں نکلا تھابلکہ لگاتار ہو رہی بارش کے سبب نکل ہی نہیں سکا تھا۔اس کے گھر سے دو دو گھر بعد رام کشن کا گھر تھا۔رام کشن کا گھر گر گیاتھا۔عجیب لگ رہاتھا ،دیور سمیت پورا چھپربیٹھا ہوا۔بانس بلے ادھر ادھر لٹک رہے تھے۔چھپر کا موٹا،دھویں سے کالا پڑ چکا ’دھرن‘ چھپر کےدرمیان سے باہر نکل کر اس طرح غصے میں کھڑا تھا گویا اپنے آپ کو آسمان میں پیل دینا چاہتا ہو۔
دیوار کی مٹی گلا وا بن گئی تھی،چھپر کا کھپرا نریا چاروں جانب بکھر گئے تھے۔چھپر کے نیچے نریا کھپڑوں ،بانس بلوں کے نیچے سے رام کشن کے گھر کی اشیاء دکھائی دے رہی تھی( تھیں)۔ کھٹیا ،برتن،کپڑے ،بکسا۔۔۔سب کیچڑ میں لت پت ،پوری تھاتھی،تنکا تنکا کر جٹائی گئی
پوری گرہستی ،،بانس بلوں اور کیچڑوں میں مدفن(دفن) تھی۔‘‘(ص۔۱۲۹)


اور دلت بیانیہ کی ایک مثال اس منظر میں بھی ملاحظہ کیجئے
’’ اس نے دیکھا ،گھر کی ڈیوڑھی پر دو بچے ’اوکا بوکا‘کا کھیل کھیل رہے ہیں۔۔۔۔
’اوکا بوکا تین تلوکا،لوا لاٹھی چندن کاٹھی،چننا کے نام کا ،اجئی بجئی ،پنوا پھلوا،کانی انگلی پچک‘
’اور اب تاڑ کاٹو ترکل کاٹو‘۔۔۔پھر وہ دوسرا کھیل کھیلنے لگے۔
’تاڑکاٹو ترکل کاٹو،کاٹو رے برکھا راجا،ہاتھی پر کے گھونگھورا چمک چلے راجا،راجا کے
رجیہ ہا بھیا کے دوپٹا،ہیچ مارو بیچ مارو۔۔۔‘
پھر وہ آپس میں گھمسان کرنے لگے۔سب سے بڑا والا باہر چھائونی میں تانگے پر بیٹھا اس کی
تانگا ہانکنے کی نقل کر رہاہے۔ایک جس کی ناک بہہ رہی ہے ،آنکھوں میں پیلی پیلی ’کچی‘
بھرے برآمدہ میں بیٹھی بھات کے لئے اوں اوں کر رہی ہے۔اس کے بعد والی جس کا
پیٹ کافی پھولا ہوا ہے اور جسے جونک کی بیماری ہے،موری پر بیٹھی ’کونتھ کونتھ ‘ کر پتلی ٹٹی چھیر رہی ہے۔ایک بیمار ،بخار میں تپتا کمرے میں پڑا ہوا ہے۔ایک کے جٹیائے لٹیائے
سر سے آنگن میں پسری بلائتی جویں نکال رہی ہے اور پلپلی سی چھوٹکی اس کی ربر جیسی چھاتی سے کینچوے کی مانند لٹکی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔اچانک ڈیوڑھی پر کھیل رہے دونوں لڑتے جھگڑتے بلایتی کے پاس آ گئے اور ’بھات‘ مانگنے لگے۔بڑکا بھی باہر چھائونی میں سے
بھاگتا ہو اآیا اور اپنی پھٹی پینٹ سے جھانکتی پھنیا دکھانے لگا۔اسے نئی پینٹ چاہیے۔پیچھے
مڑ کر چوتڑ کی گھسی ہوئی جھل جھلی دکھانے لگا۔اچانک سب کے سب آپس میں الجھ گئے اور پورا گھر کہرام سے بھر گیا۔ٹینگر نے دیکھا ان آٹھوں کی شکل بسگتیا کے بچوں سے مل رہی
ہے۔‘‘ (ص۔۵۰)


ایسا لگتا ہے صغیر رحمانی نے پریم چند اور الیاس احمد گدی کی طرح وہی سب لکھا ہے جو انہوں نے بچپن سے دیکھا اور بھوگا ہے۔اس کا ہر صفحہ ان کے مشاہدے کا عکاس ہے۔انہوں نے دلت مسائل کو صرف اخباروںاور کتابوں سے نہیں جانا ہے بلکہ دلت کرداروں کے ساتھ جی کر ان کی سائیکی میں اترنے کی کوشش کی ہے۔۱۹۹۰ ء کے آس پاس بہار میں حق کے لئے آواز اٹھانے والی آوازیں دلتوں،پسماندوں اور غریبوں کی تھیں ،ان آوازوں نے کئی تحریکوں اور آندلنوں کی بنیاد رکھی تھی۔صغیر رحمانی نے بڑی باریکی اور گہرائی سے ان تحریکوں کے بطن میں اتر کر نتائج اخذ کیے ہیں اور ناول کے تانے بانے میں اس طرح پرویا ہے کہ وہ سارے حالات زندہ صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے پھر جاتے ہیں۔یہ وہ معاشرہ ہے جسے خود بہار والوں نے بھی بہت قریب سے نہیں دیکھا ہوگا کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سماجی اور سیاسی مسائل پر فکشن لکھنے اور ان مسائل کو بھوگ کر فکشن تخلیق کرنے میں بڑا فرق ہے۔صغیر رحمانی نے بہت صحیح لکھا ہے کہ اردو ادب میں دلت مسائل کو دیکھنے کی کوشش ٹھیک ویسی ہے جیسے ٹرین کی کھڑکی سے بھاگتے ہوئے گائوں کو دیکھنے کی۔صغیر رحمانی نے ایسا بالکل نہیں کیاہے اس لیے اس میں قاری کو بہار کا وہ چہرہ دکھائی دیتاہے جو شاید ہی کسی نے دکھایا ہو۔سامنت واد اور برہمن واد کا مسئلہ شاید ہندستان کے بہت سارے علاقوں میں ہو مگر بہار میں اس مسئلہ کی جڑیں زمینی تنازعہ کے ذریعہ بہت اندرون تک سمائی ہوئی ہیںاور مختلف تحریکوں کے باوجودآج تک صورتیں بدل بدل کر سیاست کے کام آرہی ہیں۔


ناول آغاز سے انجام تک دلتوں اور برہمنوں کے درمیان طبقاتی تفریق کی مختلف شکلیں دکھاتاہے۔پاٹھک کے گھر بچہ کی ولادت کے موقع پر ٹینگر کا تھالی کے شور سے یہ یقین دلانا کہ گھر میں بچہ نہیں دیوتا آیاہے،بلائتی کا بچے کے لئے تحفہ لینا اور اس کا یوںہی پھینک دیا جانا،پتل میں کھانا کھانا اور پیتل کے برتن سے خوشی منا نا وغیر ہ ایسے ان گنت مناظر ہیں جو سماجی عدم مساوات کی پوری تاریخ بیان کردیتے ہیں۔برہمنوں کا اس دنیا پر حق جتانا اور دلتوں کو اس حق سے محروم رکھنا سامنت واد کی بنیاد ہے ۔ان کی نظر میں دلتوں کی زندگی اور دنیا کے سارے عیش و آرام برہمنوں کی بدولت ہی ہیں اس لیے برہمنوںکو خوش رکھنا اور سیوا کرنا سارے طبقات کی ذمے داری ہے۔ ناول میںپنڈت جی اور ٹینگر کے درمیان ہونے والے اس مکالمے کو پڑھیے اور برہمنوادی نظام فکر کا اندازہ لگائیے۔
’’ٹینگر برآمدے میں پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور پنڈت جی کی منہ سے پھوٹ رہے شلوک کو
غور سے سننے لگا۔اس پر نظر پڑنے پر پنڈت جی چپ ہوئے تو اس نے پوچھا
مالک اس کا متلب کا ہوا؟


’مطلب۔۔؟یعنی ارتھ یہ ہوا کہ۔۔۔۔۔جنم لیتے ہی براہمن پرتھوی پر شریسٹھ ہے کیوں کہ وہ
دھرم کی رکشا کر سکتاہے۔پرتھوی پر جو کچھ بھی ہے وہ سب کچھ برہمن کا ہے۔برہما کے مکھ سے
اتپن تتھا کلین ہونے کی وجہ سے وہ پرتھوی پر کے سارے دھن کا ادھیکاری ہے اور دوسرے سارے
لوگ براہمن کی دیا کی وجہ سے سبھی چیزوں کا بھوگ کرتے ہیں۔اگر براہمن نندت کرموں میں
لگا ہوا ہو تو بھی ہر طرح سے پوجنے کے قابل ہے کیونکہ براہمن سب سے اتّم دیوتاہے‘
’اوؤر مالک ہمارے لئے کیا لکھاہے۔۔۔؟‘
’تمہارے لیے۔۔؟ہاں تمہارے لئے بھی لکھاہے نا؟۔۔
ویسر بدھ برہمخ شودر ادیودیو پادانم چریت
نہ ہی تسیاستی کنچت سوم مرترہاریہ دھنو ہی س۔۔۔۔
’اس کا متلب کا ہوامالک۔۔۔؟‘
’اس کا ارتھ ہوا کہ براہمن کے لئے اچت ہے کہ وہ شودر کا دھن بنا کسی بھئے یا سنکوچ کے
لے لے۔۔۔کیوں کہ شودر کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کا دھن اس کے مالک کے دوارا
حرن کرنے کے قابل ہے۔۔‘(ص۔۱۱۰۔۱۱۱)


سارا کاسارا کاروبار بس اسی استحصال کا ہے اور ساری کوشش برہمنزم کی بس یہ ہے کہ دولت سے اقتدار تک سب پر انہیں کا قبضہ رہے۔اور اس کے لئے وہ مذہب،طاقت اور علم کے مختلف حربوںکا استعمال کر رہے ہیں۔ٹینگر جیسے لوگ ان کے لئے سوفٹ ٹارگٹ ہیں جنہیں وہ ان کی غریبی،کمزوری اور علم سے محرومی کے باعث بڑی آسانی سے اپنے شیشے میں اتارتے ہیں اور صدیوں سے اپنی غلامی میںرکھے ہوئے ہیں۔و ہ صرف عہد موجودہ میں ہی انہیں دبا کر نہیں رکھتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی ان پر ایسے ہی حکومت کرتی رہیں اور دلتوںکے اندر روشنی کی ایسی کوئی رمق پیدا نہ ہو جو انہیں براہمنزم اور سامنت واد کے مقابل کھڑا ہونے کا حوصلہ بخش دے۔اب یہی دیکھئے پنڈت کانا تیواری بلائتی کے حسن کا قائل ہے،جب وہ اس کے پاس ہوتی ہے تو پنڈت کو آس پاس باسمتی چاول کے کھیت کی طرح خوشبو کا احساس ہوتاہے ،مگر وہ بلائتی کے ساتھ سمبھوگ کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اوجھا کے کہنے کی وجہ سے بلائتی چاہتی ہے کہ کوئی برہمن اس کے کھیت کو شدھ کردے ،تاکہ اس کے کھیت میں ہریالی آجائے اور اس کا آنگن سونا نہ رہے ۔مگر پنڈت تیواری ہر گز تیا رنہیں ہوتا۔ ہمیںتعجب ہوتاہے کیوںکہ عام طور پر دیکھا گیاہے مالک یاحاکم اس طرح کے آفر کو چھوڑنا تو دور وہ زبردستی اس طرح کا استحصال کرتے رہے ہیں۔پھر پنڈت بلائتی جیسی خوبصور ت عورت کو، جسے دیکھ کرکئی لوگ لارٹپکاتے ہیں اور پنڈت کا ایمان بھی متزلزل ہو جاتاہے،کیوں نہیں استعمال کرنا چاہتا۔دراصل یہاں بھی پنڈت کا وہ سامنت وادی ذہن کام کررہا ہے جو صدیوں سے دلتوں کے ہر کام میں اپنا مفاد اور ان کا نقصان دیکھتارہا ہے۔پنڈت کو ولائتی کی ضد میں سازش دکھائی دیتی ہے کہ شاید یہ جان بوجھ کر مجھے بدنام کرنا چاہتی ہے،یا برہمن کی اولاد پیدا کرکے اپنی نسل شدھ کرنا چاہتی ہے۔یہی نہیں وہ اپنی آنے والی نسل کو بھی شودروں سے محفوظ اور ان کاحاکم بنا کر رکھنا چاہتا ہے اس لئے وہ اپنی تمام خواہشات کی قربانی کو توقبول کرلیتا ہے مگر برہمنزم کے مستقبل پر داغ برداشت نہیں کر پاتا۔بلائتی جب بہت ضد کرتی ہے تو وہ جھلاّ کر بالآخر سچائی قبو ل کرہی لیتاہے


’’پرکاہے؟ کاہے مالک؟ مالک لوگ تو۔۔؟
’ارے وہ مورکھ ہوتے ہیں۔بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ان کی۔پر میں نہیں کروں گا۔تو میرا
پیچھا چھوڑ۔انہوں نے کواڑ بند کرنا چاہا ۔بلائتی نے کواڑ کو پکڑ لیا۔
’پر کاہے مالک۔۔۔۔؟‘
اس کا یہ حوصلہ دیکھ کر پنڈت کانا تیواری پہلے تو متحیر رہ گئے پھر انہوں نے کہا۔
’کاہے؟ تو سن،ارے تو ٹھہری چرم کی پٹاری۔تیرے ساتھ سن سرگ کرنے سے جو بوند
گرے گی وہ ایک بوند ہوگی نا؟ اور اس سے جو اولاد ہوگی ،وہ کیا ہوگی؟ برہمن کی اولاد
ہوگی نا؟ اور اگر کنیا ہوئی،وہ کیا ہوگی؟ براہمن پتری نا؟ اور اس کنیا کا بیاہ تو کرے گی
اپنے کسی شودر سے۔ایک براہمن پتری کا بھوگ ایک شودر کرے گا۔کرے گا نا؟
تو بول،اب بھی تیری بدھی میں بات آئی کہ نہیں؟ انہوں نے پھر کواڑ کو بند کرنا چاہا۔
بند ہوتے کواڑ کو پھر بلایتی نے پکڑ لیا۔
’مالک،مالک میں اس کی سادی آپ کے ہی جات میں کردوں گی۔‘
’اچھا؟ پنڈت جی کی آنکھوں سے چنگاری پھوٹنے لگی۔
’اور اگر بالک ہوا تو؟ ہمارے ہی ہتھیار سے ہمارا ہی ناش؟ انہوں نے اسے دھکا دے
کر کواڑ سے الگ کیا اورخود بھی باہر آگئے۔
’مادر۔۔۔۔۔میں تم لوگوں کی ساری سازش سمجھتاہوں۔سرپر چڑھ کر موتنے لگے ہو‘‘(ص۔۹۵)


یہ ہے ناف سے اوپر والوں کی سائیکی اور استحصال کی منظم حکمت عملی ،جو برہمنزم کو صدیوں سے نہ صرف حکومت کے مواقع دے رہی ہے بلکہ مستقبل کو محفوظ کرنے کے گر بھی سکھا رہی ہے۔یہ اتنا محتاط ہے کہ چھل کپٹ سے دورسیدھے سادے شودروں کے ہر کام میں اسے سازش کی بو ملتی ہے۔جبکہ اصل سازش کے جال تو وہ خود بنتا ہے ۔پنڈت نے کتنی چالاکی سے بلائتی کے شوہر ٹینگر کو اپنے جال میں پھنسایا۔نہ صرف اس کی مرضی کے ساتھ بلائتی کو ایس ڈی او صاحب کی خدمت میں بھیجنے پر کامیاب ہو ابلکہ خود ٹینگر کو خوشنما خواب دکھاکر جانوروں کی کھال کے دھندے میں دھکیل دیا۔سارا فائدہ خود اٹھایا اور پولس پیچھے پڑی تو لومڑی کی طرح چالاکی سے اُس نے ٹینگر کو ہی پھنسا دیا۔
تخم خوں صر ف موضوعی اعتبار سے نہیں ،فنی ٹریٹمنٹ اور برتائو کے لحاظ سے بھی قابل توجہ ناول ہے۔پلاٹ کا گٹھائو ایسا ہے کہ ناول اپنے آغاز سے ہی قاری کو پوری طرح گرفت میںلے لیتاہے اور کردارنگاری ایسی کہ بلائتی قاری کی فکر کا حصہ بن جاتی ہے۔وہ استحصال کی ہی علامت نہیں مزاحمت کا شعلہ بھی بنتی ہے اور اپنے ہر روپ میں مکمل نظر آتی ہے۔مرد کرداروں میں ٹینگر ،مانجھی،اگھورن،جھگرو،بھیکھنا،سب کے سب ایک ہی درد کا شکار ہیں اور اس سامنتی کلچر کو جھیل رہے ہیں جہاں ان کے نام کی طرح ہی کام بھی کوئی دلکشی نہیں رکھتا۔ان کے ساتھ ہونے والے سلوک سے انسانیت کراہتی ہے اور آسمان شرمندہ ہوتا ہے ۔مگر کوئی چہرہ ایسا سامنے نہیں آتا جو ان کی کراہ پر مضطرب ہو یا ان کے ہاتھوں کو تھام کر صاف ستھری زندگی کا راہی بنادے۔اس کے لئے انہیں کے درمیان سے کسی کو اٹھنا ہو گا ۔صغیر رحمانی نے دکھایا ہے کہ اب آندولنوں اور تحریکوں کے ذریعہ اس کی شروعات ہو چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب بلائتی یا ٹینگر کی مزاحمت رنگ لائے گی اور وہ اپنا حق اسی سامنت وادی طبقہ سے چھین کر اپنے گھروں کو روشن کریں گے۔چنانچہ ناول کا خاتمہ جس منظر کے ساتھ ہوتاہے وہ منظر دلت مسائل کے خاتمے کی جھلک اور ان کے روشن مستقبل کا اشاریہ پیش کرتاہے۔آپ بھی دیکھئے


’’نور کا تڑکا پھیل چکاتھا۔آسمان کا جنوبی کنارہ سرخی مائل ہونے لگا تھا۔سورج کے طلوع
ہونے میں محض چند ساعتوں کی تاخیر تھی۔عین اسی وقت بلائتی نے کیسر ملے دودھ کی مانند سرخ اور روئی کے پھاہے جیسے نرم بچے کو جنم دیا۔ادھر بچے کے پیر زمین پر پڑے ،ادھر
سورج نے اپنی شعاعیں بکھیر دیں۔ٹینگر گویا پاگل ہو اٹھا ۔زور زور سے پیتل کی تھالی پیٹنے
لگا۔سورج نکل چکاتھا۔(ص۔۳۵۱)
میرا خیال ہے دلت مسائل پر تخم خوں ایک سچا اور بڑا ناول ہے،جو اپنے فنی ،فکری اور بیانیہ پہلوئوں پر تفصیلی گفتگو کا تقاضا کرتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں