تخمِ خوں:دوسری قسط

دوسری قسط

ناول نگار : صغیر رحمانی

, تخمِ خوں:دوسری قسط

ٹینگر تانگا لے کر جب نارائین پور پہنچا تو اس وقت چھہ بج رہے تھے۔ اس نے سڑک کنارے پیپل کے پیڑ کے نیچے تانگا روک دیا اور سواریوںسے کرایہ کے پیسے لینے لگا۔ کرایہ دینے کے بعد کچھ لوگ بس ا سٹینڈ کی جانب بڑھ گئے، کچھ پاس والی، دھرچھن کی چائے دکان میں جاکر بیٹھ گئے۔ دھرچھن ابھی چولہے میں لکڑی سلگا رہا تھا اور اس کی پھوس کی پلانی والی دکان میں کثیف مٹ میلا دھواں بھرا ہوا تھا۔ مشرق میں تقریبا ًدو میل دور چھتر پوراگائوں کے اوپر سورج کی سرخی پھیل رہی تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا چھتر پورا کی پیشانی پر کسی نے بندیا لگا دی ہو۔ نارائین پور کی زیادہ تر دکانیں ابھی بند تھیں اور سڑک پر سناٹے اور خاموشی کی حکمرانی تھی۔
چھہ بجیا بس چھہ بج کر دس منٹ پر آئی۔ اس کے آنے کے ساتھ ہی وہاں مسلط سکوت در ہم برہم ہو گیا۔ ادھر ادھر کھڑے اور چائے دکان میں بیٹھے لوگ بس کی طرف لپکے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری بھیڑ بس کی اندر چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد کھڑ کھڑ کرتی بس آگے بڑھ گئی تو وہاں بہ دستور پہلے کی طرح سناٹامسلط ہو گیا۔ ٹینگر سڑک کنارے تانگا چھوڑ کر دھرچھن کی چائے دکان میں آگیا۔
’کا ہو دھرچھن بھیا،کا حال چال ہے؟‘
’ٹھیکے ہے بھیا، اپنا کہو، سب ٹھیک ٹھاک ہے نا؟‘
’ہاں ٹھیکے ہے‘ ٹینگر جمائی لیتا ہوا بولا۔
’چاہ پیوگے؟‘
’ہاں پلائو۔ آج تو سسرا چاہ پر ہی دن کٹے گا۔‘
’کاہے،گھر والی روٹی سوٹی نہیں دی ہے کا؟‘
ٹینگر سے کچھ کہتے نہیں بنا، چپ رہا۔
’سانجھ کا بھابھرا بچا ہوا ہے، کہو تو ایک آدھ گو دیں؟‘
شام کو دھرچھن کی دکان پر بھابھرا کی بکری خوب ہوتی تھی۔ بغل کی پان کی دکان پر پولی تھین کی شراب ملتی تھی۔ بھابھرا کے ساتھ پولی تھین کا سواد چوکھا ہو جاتا تھا۔ لوگ دھیرے سے لنگی یادھوتی میں پولی تھین دبا کر دھرچھن کی دکان میں چلے آتے۔ وہیں بیٹھ کر دانت سے پولی تھین کا کونا نوچتے پھر چائے کے گلاس میں انڈیل کر حلق میں غٹک جاتے۔ دارو گلے کے اندر جاتے ہی کڑواہٹ بھر جاتی جسے وہ بھابھرے کے سواد سے دور کرتے۔پولی تھین پینے والے دیگر لوگ تو ہوتے ہی تھے لیکن زیادہ تر مر مزدوری کرنے والے ویسے لوگ ہوتے تھے جو شام کو

اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اپنے گھرگائوں کی راہ پکڑ لیتے تھے۔
ٹینگر روز کا عادی نہیں تھا۔ کسی کسی دن جب وہ بہت خوش ہوتا تھا یا جس دن اچھی کمائی ہوئی رہتی تھی، اس دن وہ ضرور دارو پیتا تھا۔ صرف پیتا ہی نہیں تھا بلکہ ایک دو پولی تھین گھر بھی لیتا جاتا تھا اور زبردستی بلایتی کو بھی ایک آدھ گھونٹ پلا دیتا تھا۔ اس دن تو ضرور ہی، جس دن اس کے یہا ں ’شکار‘ بنتا تھا۔ صبح میں ہی وہ گھر سے کہہ کر نکلتا تھا کہ آج لے کر آئوں گا۔ بلا یتی خواہ جتنا بھی نا نکر کرے، وہ مانتا نہیں تھا۔ ایک آدھ گھو نٹ پلا ہی دیتا تھا۔ پھر تو بلایتی کی دیکھتے بنتی تھی۔ گھنٹوں عجیب عجیب طرح سے منہ بناتی رہتی، نمک چاٹتی رہتی۔ کبھی کبھی تو موری پر بیٹھ کر او او کرنے لگتی۔ ٹینگر کا ہنستے ہنستے برا حال رہتا لیکن جب سچ مچ بلایتی کی طبیعت بگڑنے لگتی تو وہ فکر مند ہو اٹھتا۔ اس کی پیٹھ سہلاتا، اس کے سر پر پانی ڈالتا اور اب پھر ایسا کبھی نہیں کرنے کی قسمیں کھاتا لیکن اس قسم کا نشہ، دارو کے نشے تک ہی محدود رہتا۔ ہفتہ دس دن گزرتے ہی وہ پھر وہی کرتا لیکن اب بلایتی اواو نہیں کرتی ۔بہت زیادہ کچھ ہوتا تو چارپائی پر لیٹ جاتی۔ ہولے ہولے اس کا سر چکراتا تو اسے بہت اچھا لگتا۔ ایسی حالت میں ٹینگر کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اپنے قریب کھینچ لیتی۔
بھابھرا کے ساتھ چائے پینے کے بعد ٹینگر دوبارہ اپنے تانگا کے پاس آگیا۔ تانگا پر بیٹھ کر اس نے ’چنوٹی‘ نکالی اور کھینی رگڑنے لگا۔ اس وقت اسے بلایتی کے خیالوںنے آگھیرا۔ نہ جانے اس نے اپنے لیے بھی کھانا بنایا ہوگا کہ نہیں؟
بلایتی کا خیال آتے ہی اس کا دل اداسیوں سے بھر گیا۔ اسے اس کی وہ آنکھیں یاد آنے لگیں۔ جس بات کو اس کی زبان کبھی نہ کہہ سکی، وہ سارا کچھ اس کی آنکھیں کہہ دیتی تھیں۔
نہ جانے کیا ہوتا تھا ان آنکھوں میں؟ کئی کئی دنوں تک اس سے نظر ملانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔’ وہ ان آنکھوں سے کاہے بولتی تھی؟ سارا کچھ منہ سے کاہے نہیں کہہ دیتی؟ اس کی آنکھوں کے بول اس سے سہن نہیں ہوتے۔‘ اسے لگتا، وہ آنکھیں نہیں، ہٹے کٹے، تگڑے لیکن فالج زدہ پیروں والے گھوڑے کی پیٹھ پر پڑنے والے چابک ہیںجس کی مار گھوڑے کو ہنہنا تو سکتی ہے لیکن دوڑا نہیں سکتی۔
اسے اپنے جسم کے مضبوط کٹائوسے نفرت سی ہوئی۔ اسے محسوس ہوا، تانگے پر وہ نہیں، اس کی جگہ بلایتی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے ہاتھ میں لمبا چابک ہے۔ وہ اس کے مٹھے کو مضبوطی سے اپنی ہتھیلی میں پکڑے ہوئی ہے۔وہ خود کہاں ہے؟ یک لخت اسے اپنا خیال آیا۔اس نے خود کی تلاش کی۔ اس نے دیکھا، وہ تانگے میں جتا ہانپ رہا ہے۔ بلایتی کے ہاتھ کا چابک سڑ سڑ کی آواز کے ساتھ اس کی پیٹھ پر پڑ رہا ہے ۔ وہ اسے اکسا رہی ہے۔ اس میں جوش بھر رہی ہے۔ کبھی پچکار رہی ہے۔ کبھی اس کی پیٹھ کو سہلانے لگ رہی ہے۔ پھر اس کے بعد سڑ سڑ،لیکن وہ ایک قدم بھی چلنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔وہ کھڑا ہانپ رہا ہے اور چابک کی ہر مار پر ہنہنا کر دلاتی جھاڑنے لگ رہا ہے۔ پھر گردن گھما کر بے بس نظروں سے بلایتی کو دیکھتا ہے۔ اس کی آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ جھکتے جھکتے کہتی ہیں، ’میں کا کروں؟‘
’ایکواری چلوگے؟‘
اس کے خیالوں کا تانا بانا ٹوٹ گیا۔ پاس میں کھڑی ایک سواری اس سے پوچھ رہی تھی۔
’کتنی سواری ہے؟‘ آج کہیں جانے کی اس کی خواہش تو نہیں ہو رہی تھی پھربھی اس نے پوچھ لیا۔
’چار جنے ہیں اور کھاد کی دو بوریاں ہیں۔‘سواری نے جواب دیا۔
’پچاس روپے لگیں گے بابوجی۔‘
’پچاس روپے؟‘
’دور بھی تو ہے بابوجی اور پھر پورا کا پورا راستا کھیتوں کے بیچ ’پئین‘ سے تے کرنا ہوگا۔‘
’اچھا چلوــ،چالیس لے لینا۔‘ اس آدمی نے کچھ سوچنے کے بعد کہا۔
وہ تانگا پر سواریوں کو بیٹھانے لگا۔ اس نے کھا د کی بوریاں اٹھا کر پیچھے رکھیں۔ بوریوں کے وزن سے تانگا پیچھے کی طرف جھک گیا اور آگے کے بانس اوپر اٹھ گئے۔ اس نے ’ارانی‘ پر

بیٹھ کر دونوںجانب کے وزن کا توازن ٹھیک کیا اور پھر آگے بڑھنے کے لیے لگام کو کھینچ کر شیراکو اکسانے لگا۔ تانگا چل پڑا۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد نہر سے نکل کر ایک پتلی سی ’پئین‘ مغرب کی جانب گئی تھی جس سے وہاں کے کھیتوں کی سینچائی ہوتی تھی۔ اسی پئین سے لگی ایک کچی سڑک ایکواری گائوں میں داخل ہوتی تھی۔ اس نے پئین کے راستے پر تانگا موڑ دیا۔
پئین کے دونوں اطراف دھان کے کھیت تھے۔دو روز قبل رات میں جم کر بارش ہوئی تھی اور کھیتوں میں ’روپنی‘ کا کام زور و شور سے شروع ہو گیا تھا۔ کھیتوں کے کسی ٹکڑے میں ٹریکٹر اور کسی میں بیلوں کے ذریعہ ’کدئی‘ کی جارہی تھی۔ کسی ٹکڑے میں ذرا ذرا فاصلے پر دھان کے ’بچڑوں‘ کے مٹھے پڑے ہوئے تھے تو کسی کسی ٹکڑے میں گھٹنوں کے اوپر تک کپڑوں کو اٹھائے، قطار میںجھکی ہوئی عورتیں روپنی کر رہی تھیں۔ وہ روپنی کے گیت گا رہی تھیں۔ ان کے گیتوں کے میٹھے بول سے سماں میں نشہ بھر رہا تھا۔
پیلی چمک دار دھوپ میں پانی، اس میں ذرا ذرا فاصلے پر بوئے گئے، ہوا سے اٹھکھیلیاں کرتے ہرے ہرے ننھے گچھے اور اس سلسلے کو آگے بڑھاتیں لال پیلے ہرے کپڑوں میں ملبوس قرینے سے جھکی عورتیں اور ان کا وہ دلکش گیت، یہ سارا منظر کسی بھی مردے میں زندگی کا شائبہ پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ ٹینگربھی اندر سے تازہ اور شاداب ہو اُٹھا تھا۔ ذرادیر کے لیے اس کے ذہن سے بلایتی بادل کی طرح چھٹ گئی تھی۔ وہ پورا کا پوراٹینگر بنا تانگا ہانک رہا تھا۔ بارش ہونے اور ٹریکٹر کی آمد و رفت کی وجہ سے پئین بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئی تھی اور پورا راستہ ’اوبڑ کھابڑ‘ ہو گیا تھا۔ ٹریکٹر کے پہیے سے ایک نشان بنا ہوا تھا۔ وہ اسی نشان پر تانگے کا چکّہ گھما رہا تھا پھر بھی کہیں کہیں تانگا پھنس جاتا تھا تب ٹینگر کے ساتھ ساتھ سواریوں کو بھی اتر کر تانگے میں ہاتھ لگانا پڑتا تھا۔ شیرابری طرح ہانپنے لگا تھا اور اس کے منہ سے رال اور پھین نکلنے لگی تھی۔
کچھ دور کا سفر طے کرنے کے بعد ایک جگہ راستہ مڑ گیا تھا۔ وہاں سے ایکوار ی گائوں صاف طور پر دکھائی پڑتا تھا۔ موڑ مڑتے ہی راستے کے درمیان ایک بڑے سے کھڈے میں تانگے کا پہیا پھنس گیا۔ پھنستے ہی بانس اور شیرا کی گردن کو جوڑنے والی ’بم چنی‘ نکل گئی اور شیرازور سے ہنہنا کر اچھل پڑا۔
بانس پکڑ کر ٹینگر پوری طاقت سے زور لگا رہا تھا مگر پہیا ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجبور ہو کر سواریوں کو تانگے سے اتر نا پڑا۔ ان سب کے چہروں پر کھیج کے تاثرات تھے ، ’ای سالہ۔۔۔ مادرـ۔۔۔‘ ٹینگر سمجھ رہا تھا، ان کا غصہ کس پر تھا۔ اس نے انھیں کنکھیوں سے دیکھا اور پھر پہیا کے ڈنڈیا میں ہاتھ لگا کر اسے نکالنے کی زور آزمائش کرنے لگا۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات میں یہا ں نکسلیوں نے ووٹ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ انتخاب سے ایک دن قبل والی شام کو پولیس انتظامیہ کی گاڑی اڑانے کی غرض سے یہا ں بارو دی سرنگ بچھائی گئی تھی۔ رات کے کسی پہر میں سرنگ پھٹی بھی تھی مگر پولیس کی گاڑی کی بجائے عام سواری گاڑی کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ دو لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔ اس بارودی سرنگ کا یہ کھڈا ابھی تک بھرا نہیں تھا اور آج اس میں ٹینگرکا تانگا پھنس گیا تھا۔
نہ جانے کیا کچھ بڑبڑاتے ہوئے سواریوں نے بھی تانگے میں ہاتھ لگایا۔ کافی جدو جہد کے بعد کھینچ تان کر تانگے کو کھڈے سے باہر نکالا گیا۔ تانگا نکالنے کے بعد سواری کے لوگ پئین کے پانی سے اپنے ہاتھوں کو دھونے لگے اور ٹینگر اپنے ہاتھ کی مٹی تانگے کی پٹری میں رگڑ کر بم چنی ٹھیک کرنے لگا ۔ بم چنی لگانے کے بعد اس نے ـ ’بھر کس‘ ٹھیک کیا ۔سواریاں بیٹھ گئیں تو وہ پیدل ہی تانگا لے کر چل پڑا۔
ٹینگرہر کچھ لمحہ بعد چور آنکھوں سے سواریوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایکواری گاؤں بھومی ہار طبقے کی اکثریت والا گائوں تھا ۔ اب سے کچھ دن قبل کی بات ہوتی تو وہ سواری لے کر تھوڑے ہی اس گاؤں میں آتا۔ اب حالات کچھ ٹھیک ہوئے ہیں تو بات کچھ اور ہے۔ کئی سالوں کے بعد تو یہاں کھیتی باڑی شروع ہوئی تھی ورنہ کھیتی تو بند تھی۔ پئین کے دونوں اطراف ایکواری گائوں کے بھومی ہاروں کے کھیت تھے جن پر معاشی ناکہ بندی لگی ہوئی تھی۔ کھیتوں میں کتے بلی تک نہیں

دکھتے تھے۔ مگر کھیتی ہی واحدذریعہ معاش تھی جس پر کسانوں کا انحصار تھا اور مزدوروں کا بھی ۔ دونوں طرف کی ہانڈیاں ٹھنڈی پڑنے لگیں تو ہوش آیا۔ کچھ اس نے سوچا، کچھ اس نے۔ پھر ہوا صلح سپاٹا۔ نتیجہ سامنے تھا۔ کھیتوں میں میلا لگا ہوا تھا اور میلے میں نغمے گونج رہے تھے۔
ٹینگر نے آنکھوں کی بغلی سے انھیں دیکھا۔
’لگتا ہے، پوری روپنی ہو گئی بابوجی؟‘ وہ پہلی بار ان سے مخاطب ہوا۔
’نہیں،ابھی کہاں ہوئی ہے؟ ابھی تو صرف ’کارتیکا‘ بویا گیا ہے۔ اسی میں ڈالنے کے لیے کھاد لے جا رہے ہیں۔ دن ٹھیک ٹھاک کرے تو دو چار دن میں سب روپائیے جائے گا۔‘ سواریوں میںسے ایک نے کہا۔
ایک دوسرا کھینی مل رہا تھا۔ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو ٹینگر پر سکون لگنے لگا۔ اس نے کہا، ’بابو جی تھوڑا ہم کو بھی دیجئے گا۔ راستے نے تو پسینا چھڑا دیا۔‘ اس نے’ گمچھا‘ سے پیشانی پر بہہ رہے پسینے کو صاف کیا اور کھینی مانگ کر ہونٹوں کے بیچ میں دبا لیا۔بات چیت کرتے تھوڑی دیر میں وہ ایکواری گائوں پہنچ گیا۔
سواریاں اور کھاد کی بوریاں اتارنے کے بعد خالی تانگا لے کر وہ واپس اسی راستے پر چلا تو ایک بار پھر اس کا دل کھل اٹھا۔وہی کھیت، قطاروں میں سجی وہی عورتیں اور وہی نغمے۔ وہ بلایتی کے بارے میں سوچنے لگا۔وہ بھی تو پنڈت جی کے کھیتوں میں روپنی کرنے گئی ہوگی۔ بلایتی کا خیال آتے ہی اس کے اندر افسردگی بھرنے لگی۔ اسے اپنی پیٹھ پر پھر چابک کی مار کا احساس ہوا۔ پورا راستہ اس نے اداس دل کے ساتھ طے کیا۔ نارائین پور پہنچا تودھوپ تیز ہو گئی تھی اور اسے بھوک محسوس ہونے لگی تھی۔ مگر کھائے تو کیا کھائے؟ یہا ں کھانے کے لیے کچھ ملتا بھی تو نہیں۔اس کے لیے نارائین پور تھا نہ کے پاس جانا ہوگاـ۔ وہیں کچھ دکانیں تھیں جہاں ’ لٹی چوکھا‘ ملتا تھا۔ اس نے دھرچھن کی دکان میں جاکر چائے مانگی۔اس سے قبل ’چانپاکل‘ پر جاکر اس نے پیٹ بھر کر پانی پیا۔ پانی پینے کے بعد اسے محسوس ہوا، بھوک کچھ کم ہو گئی ہے۔ مزید ایک دو سواری ڈھونے کے بعد شام کو وہ گھر لوٹا تو اس نے دیکھا، بلایتی سر سے پیر تک سجی سنوری دروازے پر کھڑی تھی۔
****

کمرے میں گہری تاریکی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سجھائی دے رہا تھا۔ گہرے اندھیرے میں خاموشیوں کا عجیب طرح کا شور مسلط تھا۔ اس شور کے درمیان باہر چھائونی میں بندھے شیر ا کے بدن جھاڑنے کی آواز بھی گاہے بہ گاہے خلط ملط ہو جاتی تھی اور اس کے ارتعاش سے خاموشی پل بھر کے لیے ٹوٹ کر موتیوں کی طرح بکھرجاتی تھی۔ بعد ازاں لمبا سکوت، اس سکوت میں صرف ٹینگر کی نیند ہی دکھائی اور سنائی پڑتی تھی۔ خراٹوں کی آواز سے برساتی مینڈکوں کے ٹرّانے کا گمان ہوتا تھا۔
آج سواریوں کو لے کر ایکواری گائوں جانے کے دوران اس کے جسم کی ہڈیاں چٹک گئی تھیں۔ واپس گھر لوٹااور شام کی ’پروئیا‘ نے اس کے بدن کی گندھ لی تو اس کے جسم کا روآں روآں پھوڑابن کر ٹیس اٹھا۔اس کے دونوں بازو جواب دے گئے تھے۔ پھنسے ہوئے تانگا کو نکالنے میں اسے کتنا زور لگانا پڑا ہوگا اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتاتھا کہ اس کے شانے اکھڑ گئے تھے۔کھانا کھانے کے بعد چارپائی پر گرا تو اٹھ نہ سکا۔ ابھی ذرا دیر پہلے بلایتی نے اس کے پورے جسم پر تیل کی مالش کی تھی ۔پور پور کو اینٹھا تو نیبو سے رس کی طرح درد نکلا۔ اس کے بعد اسے اتنا آرام ملا کہ وہ سیدھے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
وہ سو گیا مگر بلایتی کی آنکھوں میں نیند نہیں آئی۔وہ جاگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں کمرے کے تاریک ’چھپر‘ میں کچھ تلاش کر رہی تھیں۔ وہ خاموش پڑی کن ہی خیالوں میں گم رہی۔رات کا پہلا پہر بیت رہا تھا۔ اس کا اندازہ ہوتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے گردن گھما کر اندھیرے میں ٹینگر کو دیکھنے کی کوشش کی۔اس نے اس کی نیند کو دیکھا۔ برساتی مینڈک متواتر

ٹرٹر کر رہا تھا۔ اس نے احتیاط کے ساتھ چارپائی کے نیچے پیر کو رکھا۔ لاکھ کوشش کے باوجود چارپائی چرچرا اٹھی۔ اس کی سانسیں رک گئیں۔ چند لمحوں تک جوں کی توں بیٹھی رہی۔ پھر دھیرے سے اٹھی اور کھڑی ہو گئی۔ اس پورے مرحلے میں ٹینگر محض کسمسایا اور کروٹ بدل کرسوگیا۔وہ ہلکے قدموں سے دروازے کی جانب بڑھی۔ آہستہ سے کواڑ کھول کر باہر آئی۔ باہر سے کواڑ کو اس نے ’ اڑھکا‘ دیا۔ذرا دیر وہیں کھڑی گہری گہری سانسیں کھینچتی رہی پھر آنگن ’لانگھ‘ کر باہر کا دروازہ کھولا اس نے اور گلی میں آگئی۔ باہر تاریکی کچھ کم تھی۔ اس نے اپنی ساڑھی کا آنچل سر پر ڈال کر گھونگٹ کر لیا اور تیز قدموں سے ایک جانب بڑھ گئی۔
وہ لمبے لمبے قدموں سے چلنے لگی۔درمیان میں پیچھے مڑ کر دیکھ بھی لیتی تھی۔ ذرا دیر بعد ہی وہ پنڈت کانا تیواری کے پھاٹک پر کھڑی اپنی سانسوں کو درست کر رہی تھی۔
اس نے ایک بار اپنے گرد ونواح کا جائزہ لیا اور پھاٹک کے اندر چلی گئی۔ اندر بھی گہرا سناٹا پھیلاہوا تھا۔ سیدھے ہاتھ کی طرف چھپر والے برآمدہ میںگائے، بھینس اور بیل کھونٹے سے بندھے ہوئے تھے۔ ان کے پیرو ں کی رگڑ سے ان کی گردن میں بندھی گھنٹیاں ٹنٹنا رہی تھیں۔ ’نادوں‘ کی دوسری طرف مٹی میں سنا ٹریکٹر سے جوتنے والا ہل رکھا ہوا تھا۔ ایک طرف ’بھوسی‘ رکھنے کے دو بڑے بڑے ’کھوپ‘ ۔ یہ سب کچھ پھاٹک کے بعد والے احاطہ میں رکھے ہوئے تھے۔ احاطہ کے بعد زینہ اور اس کے بعد پکے کا برآمدہ جس میں اناجوں سے بھری بوریوں کے چھلے اور تھریسر کی مشین رکھی ہوئی تھی۔ درمیان میں موٹے ’پلوں‘ والا ’الکترا‘ چڑھا کالا کواڑ جس میں لوہے کی موٹی کنڈی لٹک رہی تھی۔ اس نے کواڑ کے پاس رک کر دھیرے سے کنڈی کو کھٹکھٹایا اور کواڑ کھلنے کا انتظار کرنے لگی۔ دوسرے لمحہ کواڑ کھلے اور پنڈت کانا تیواری باسمتی چاول کے کھیت کی طرح مہ مہ مہک اٹھے۔
’ہرے رام،ہرے کرشن۔تو یہاں؟ اس وقت؟‘
’مالک۔۔۔‘
’ارے بول نا؟یہاں کیا کرنے آئی ہے؟‘
’مالک میرا۔۔۔‘
’ارے بول نا۔ کیا مالک مالک لگا رکھا ہے؟‘
’مالک، میرا کھیت سدھ کر دیجیے۔۔۔‘
’کیا؟‘
پنڈت جی کو محسوس ہوا گویا وہ کوئی خواب دیکھ رہے ہوں۔
’ہرے رام،ہرے کرشن۔ ارے یہ کیاکہہ رہی ہے تو؟ تیری تو مت ماری گئی ہے۔کسی نے دیکھ لیا تو جیتے جی مارا جائوں گا میںـــ۔جا تو ،یہاںسے جلدی جا رے۔‘ پنڈت جی نے گھبراہٹ میں ادھر ادھر دیکھا۔
’مالک،مجھ پر دیا کر دیجیے۔ جندگی بھر میں۔۔۔‘
’ارے بات دیا کی نہیں حوصلے کی ہے رے۔ تجھ میں حوصلہ تھا، تو یہاں تک چلی آئی۔ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے، تیرے ساتھ یہ سب کروں۔ ہے رام،ہے کرشن۔ سچ مچ کل یگ آگیا ہے، کل یگ۔اَدھرم پھیل گیا ہے۔‘ پنڈت جی نے ہاتھوں کو جوڑ کر اور سر کو اوپر اٹھا کر کہا۔ ’ہے پربھو، اپنے اس نردھن براہمن کی مان مریادا، عزت و آبرو کی رکشا کر پربھو۔تیرے اس سنسار میں سر، اسر کا بھید مٹنے لگا ہے۔ ساری حدیں ٹوٹنے لگی ہیں۔ انرتھ ہورہا ہے، انرتھ ہو رہا ہے پربھو۔ اور اسے بھی شما کردے پربھو۔ یہ چھوٹی ذات تیری مہیما کو کیا جانے؟ تیرے بھکت کو بھرشٹ کرنے چلی آئی۔ مورکھ ہے، اسے شما کر دے پربھو۔ ‘ پھر انھوں نے بلایتی سے کہا، ’ تو جا، تو جا یہاں سے۔‘
’مالکــ، مالک میں آپ کے پیر پڑتی ہوں۔ میرا کھیت۔۔۔ ‘ وہ پنڈت جی کے پیروں پر گر پڑی۔ پنڈت جی ہڑ بڑا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔
’اے چھونا نہیں،چھونا نہیں۔‘ پھر بڑے پیار سے انھوںنے بلا یتی کوسمجھایا۔

’بلایتی، تو پاگل ہو گئی ہے؟ بدھی بھرشٹ ہو گئی ہے تیری جو مجھ سے یہ پاپ کرانا چاہتی ہے؟ارے براہمن تو دیوتا کا روپ ہوتا ہے اور تو دیوتا کو بھرشٹ کرنا چاہتی ہے؟ اتنے بڑے پاپ کا بھاگی دار بنانا چاہتی ہے؟ مورکھ، تجھے اپنی حیثیت دیکھنی چاہیے نا؟ کہاں تو، کہاں میں؟ تونے سوچ کیسے لیا کہ میں تیرے ساتھ۔۔۔۔۔ دیکھ بلایتی۔۔۔۔۔‘ آگے انھوں نے نرمی سے کہا، ’ میں تیری حالت سمجھ رہا ہوں مگر میں تیرے ساتھ۔۔۔۔۔؟ تیرے اور میرے بیچ میں جو انتر ہے، میں اسے نہیں مٹا سکتا۔ اس کی اجازت نہ یہ سماج دیتا ہے اور نہ ہی دھرم۔ اس لیے سن بلایتی، تو اپنا من شانت رکھا کر۔ اپنے وچاروں کو قابو میں رکھا کر۔ یہی تیرا دھرم ہے اور دھرم کہتا ہے، جو جہاں ہے وہیں بنا رہے اور اپنے دھرم کا پالن کرے۔ جا بلایتی، اپنے گھر جا۔‘
’مالک۔۔۔۔۔مالک۔۔۔۔۔دیا۔۔۔۔۔‘
پنڈت جی نے مزید کچھ نہیں کہا، اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ وہ کچھ دیر تک چوکھٹ کے پاس اندھیرے میں بیٹھی رہی پھر اٹھ کر گھر کی طرف چل دی۔ گھر پہنچی تو سب کچھ اسی طرح پایا جیساچھوڑ کر گئی تھی۔اس نے اڑھکے ہوئے کواڑ کو کھولا اور کمرے میں جاکر دھیرے سے چارپائی پر لیٹ گئی۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
پرشورام سنگھ کا ایک بیل رات میں مر گیا۔ اسے سانپ نے ڈس لیا۔ گرکر منہ سے جھاگ نکالنے لگا۔ زبان نکل کر باہر آگئی اور پلک جھپکتے ہی اینٹھ کر مر گیا۔ صبح صبح ان کا آدمی ٹینگر کو بلانے آیا۔ ٹینگر ابھی ’ٹٹی‘ سے فارغ ہوکر کنویں پر بیٹھا مٹی سے ’بدھنا‘مانجھ رہا تھا۔ بلا یتی باہر چھائونی میں شیراکو گھاس ڈال رہی تھی۔ ٹینگرکا آج من ٹھیک نہیں تھا۔پورا بدن ٹوٹ رہا تھا۔ اندر ہی اندر بخار سی طبیعت ہو رہی تھی۔ آج تانگا نکالنے کی اس کی خواہش بھی نہیں تھی۔ اس نے سوچا تھا، آج پورا دن آرام کرے گا۔پرشورام سنگھ کا آدمی ا ٓیا تو اس کا دل رو ہا نسا ہو اٹھا۔ اس کے آرام کرنے کی سوچ پر لات پڑ گئی۔ پہلے تو اس کے دل میں آیا کہ پر شورام سنگھ کے آدمی کو منع کر دے پھر کچھ سوچ کر وہ ایسا نہیں کر سکا۔ ایک تو مالک لوگوں کی بات تھی جنھیں نا کہنا اچھی بات نہیں تھی دوسرے ’پونی‘ کی بھی بات تھی۔ پونی ہونے کے ناطے موقع بے موقع ،چاہے انچاہے ان کے کاموں کو کرنا ہی پڑتا تھا۔
لیکن سچائی یہ تھی کہ اب وہ اس طرح کا کام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے باپ تک یہ روایت چلی تھی بلکہ اس کے باپ تک انہیں روایتی کاموں پران کے معاشی نظام کا انحصار تھا۔ اس کے بابا یعنی دادا تک کادور اور بھی مختلف تھا۔ وہ تو باضابطہ لکھن دیو سنگھ کے ’بندھوا مزدور‘ تھے۔ لکھن دیوسنگھ کو سیرگائوں کے زمین دار تھے۔ بابا بتاتے تھے، جس کو زمیندار کہتے ہیں اور جسے زمین داری، وہی زمین دار تھے لکھن دیو سنگھ اور وہی ز میندا ری تھی ان کی۔سو پچاس بیگھا نہیں، پورے چار سو بیگھے کی جوت تھی۔ راجا مہاراجائوں کی طرح قلعے جیسا گھر، گاڑی چھکڑے، لیکن وہ چلتے تھے گھوڑے پر ہی۔ کیاشان تھی، کیا رعب تھا ان کا۔
ناف سے نیچے والے جتنے تھے، کیا مجال جو ان کے سامنے ’کھاٹ‘ پر بیٹھے رہ جائیں۔ جس راستے سے گزرتے، یہ اپنا راستا بدل لیتے یا پھر ایک کنارے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے۔ ان کے گھوڑے کے گزرنے کے بعد ہی آگے بڑھتے۔ ایسے زمیندار لکھن دیو سنگھ کے بندھوا تھے اس کے بابا اور ان کی زمینداری جانے کے بعد بھی انہیںکی خدمت میں رہے اور ان کی تقریباً پوری زندگی لکھن دیو سنگھ کی خدمت او ر ’بیگار‘ میںہی گزر گئی تھی۔
اس وقت، اسے یاد ہے جب وہ بہت چھوٹا تھا، چھہ یا سات سال کا۔ اس کی ناک سے ’ نیٹا‘ بہا کرتا تھاـ۔ وہ اپنے بابا کے ساتھ مرے ہوئے جانوروں کی کھال اتارنے جایا کرتا تھا۔ کھال اتارنے کے بعد اس کے بابا’جھولے‘ میں کلیجی اور مانس بھر کر لاتے تھے۔ تب اس کے گھر میں جشن جیسا ماحول ہو تا تھا۔ جانور کا مانس اور ’مہوا‘ کی شراب۔ گھر میں سب لوگ موج مستی میں چور رہتے تھے بلکہ یہ دور تو کئی کئی ہفتوں تک چلتا تھا۔ مانس کا ’ سکھوتا ‘ لگا کر ’بھانڑی

میں رکھ دیا جاتا تھا اورا اس میں سے نکال نکال کر پکایا جاتا، مہینے تک۔
لیکن رفتہ رفتہ کافی کچھ بدلا ۔لکھن دیوسنگھ کی زمیندا ری تو پہلے ہی چلی گئی تھی، پریوار بھی ٹوٹ گیا ۔ شان گئی، رعب گیا۔ حالات بدلے، سوچ بدلی۔ یہ لوگ بھی وہاں سے اجڑے اور ببھن گانواں آکر بس گئے۔تب سے یہیں ہیں۔ یہیں باپ مرا، یہیں ’بیاہ‘ ہوا۔
مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ باپ دادا والا کام وہ نہیں کرے گا۔مر مزدوری کر لے گا مگر وہ سب نہیں کرے گا۔ کچھ دنوں تک تو مرمزدوری کرتا بھی رہا پھر اس نے اپنا تانگا نکال لیا اور اسے ہانکنے لگا۔
بلایتی کا ’کرنی‘ والا کام بھی اسے پسند نہیں تھا لیکن وہ اسے کئی وجہوں سے منع نہیں کر پاتا تھا۔ ایک تو وہی، مالک اور پونی کا سوال۔ دوسرا یہ کہ یہ بلایتی کے ہاتھ کی ہنر تھی۔ اس جیسا ہنر مند آس پاس کے علاقوںمیںکوئی نہ تھا۔ زچگی کا بگڑا سے بگڑا معاملہ چٹکیوں میں سنبھال لیتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھوں سے اس کا تجربہ، اس کی قابلیت نہیں چھیننا چاہتا تھا۔
ان سب کے علاوہ شاید ایک تیسری وجہ بھی تھی اور شاید کیا ، بلکہ یقینی طور پر یہی وجہ اس کے لیے زیادہ معنی رکھتی تھی۔ بلایتی جب جب کسی کی زچگی کرا کر لوٹتی، اسے محسوس ہوتا، وہ خود ماں بن کر لوٹی ہے۔ وہ اس کا چہرہ تازہ اور بشاش دیکھتا تھا اور اس پر گہرے سکون کے تاثرات مرتب ہوتے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر لوریاں ہوتی تھیں ،چھاتیوں میں دودھ بھرے ہوتے تھے اور آنکھوں میں ممتا کے ست رنگی پھول کھلے رہتے تھے۔ اور وہ، اس سے اس کا یہ سکھ نہیں چھین سکتا تھا لیکن جانوروں کی کھال اتارنے اور اس طرح کے دوسرے کاموں میں اس کی بالکل دل چسپی نہیں تھی اور نہ ہی کسی طرح کا سکھ حاصل ہوتا تھا۔ گاہے بہ گاہے وہ یہ سب مجبوری کے سبب کرتا تھا۔
اس لیے کرتا تھا کہ مالک لوگوں کی بات کیسے ٹالے۔ ایک انجانی سی زنجیر اس کے پیروں کوجکڑے رہتی تھی جب کہ حقیقت یہ تھی کہ بلایتی سے شادی ہونے کے بعد وہ یہی سوچا کرتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے سے تانگا ہنکوانے جیسا چھوٹا کام بھی نہیں کروائے گا بلکہ گائوں کے اسکول میں پڑھنے بھیجے گا اور اسے اونچی تعلیم دلوا کر صاحب یا صاحب جیسا بنائے گا۔ اسے کسی لکھا پڑھی والے کام میں لگائے گا۔ نوکری میں ریزرویشن کی بات وہ سنتا آرہا تھا۔ خود اس کے بلاک کے بی ڈی او صاحب بھی تو اسی کی ذات کے تھے۔ سنتا تھا، وہ ریزرویشن سے آئے ہیں لیکن کیسا باباجی( براہمن) سے لے کر بابوصاحب (راجپوت )تک اُن کو سلام ٹھوکتے تھے۔ ان کا دروازہ گھیرے رہتے تھے۔’ حاکم ای والا ٹھیکہ دے دیجیے۔حاکم او والا ٹھیکہ دے دیجیے۔‘گڑ گڑاتے رہتے تھے۔
اس کا بیٹا اتنا بڑا صاحب نا سہی، اتنے بڑے صاحب کا چپراسی بھی بن جائے تو کم ’بھیلو‘نہیں بلکہ بھیلو تو چپراسی کا ہی ہوتا ہے۔ جو بھیلو کھانا ہوتا ہے،چپراسی ہی کھاتا ہے۔صاحب تو بھیلو کھاتے نہیں۔صاحب تو کمیشن۔۔۔۔۔
لیکن اوپر والے کا ستم ۔۔۔ایک بھی اولاد نہیں دی اس نے۔یہ سب سوچ کر اس کا دل پژمردہ ہو اٹھا۔
پرشورام سنگھ کا آدمی جا چکا تھا۔ وہ بے دلی سے اٹھا اور بسگتیا، رم رجوا اور بھیکناکو بلانے چلاگیا۔ ’رات میں بابو صاحیب کے بیل کو سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ چلو اس کو اٹھانا ہے۔ تم لوگوں کے پینے وینے کا انتجام ہو جائے گا۔‘ باری باری سے اس نے تینوں کو بلا کر کہا۔ ان تینوں کو لے کر وہ اپنے گھر آیا۔ اس نے موٹی رسی اور کونے میں کھڑا بانس اٹھا کر کندھے پر رکھ لیا پھر وہ چاروں پرشورام سنگھ کے دروازے پر پہنچ گئے۔ بابو صاحب کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے سے تأسف عیاں ہو رہا تھا۔ گزشتہ سال ہی تو انھوںنے شری پال پور کے میلے میں سے ایک جوڑا بیل خریدا تھا۔ ایک اکیلا بچ گیا۔ ایک اکیلا بیل بھلا کس کام کا؟
بیل اینٹھا پڑا تھا۔ اس کے منہ کا جھاگ سوکھ گیا تھاـ اور باہر نکلی ہوئی زبان پر دانت جم گئے تھے۔ جسم نیلا پڑ گیا تھا۔ دروازے کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔ لوگ آپس میں طرح

طرح کی چہ می گوئیاں کر رہے تھے۔ کوئی کچھ کہہ رہا تھا، کوئی کچھ۔ چاروں ان کی باتیں سنتے رہے اور اپنے کام میں مصروف رہے۔
انھوں نے سب سے پہلے مرے ہوئے بیل کو سیدھا کیا پھر اس کے چاروں پیروں کو ایک ساتھ کرکے رسی سے باندھا۔ اس کے بعد پیروں کے درمیان بانس لگا کر دو آگے ہوگئے اور دو پیچھے۔ اب انھوں نے زور لگا کر بانس کو اٹھایا اور کندھے پر رکھ لیا۔ بیل بیچ میں جھولنے لگا اور اس کی گردن ایک سمت کو لٹک گئی۔ وہ لوگ اسے لے کر ڈگمگاتے قدموں سے گائوں کے پچھواڑے نہر کی طرف بڑھ گئے۔ نہر کنارے ،جہاں مرے ہوئے جانوروں کو پھینکنے کی جگہ تھی، وہاں پہلے سے ہی سڑی ہوئی لید، ہڈیاں اور کھو پڑیاں بکھری پڑی تھیں اور ان سے تعفن کا بھبکا اٹھ رہا تھا۔ بسگتیا، رم رجوااور بھیکناپر تو اس عفونت کا کوئی اثر نہیں دکھا مگر ٹینگر کو ابکائی آنے لگی۔ اس نے اپنی ناک کے گرد ’گمچھا‘ لپیٹ لیا۔ کوے کھوپڑیوں کو کھود رہے تھے اور کتے چیتھڑوںمیں منہ پھنسائے رساکشی کر رہے تھے۔ ذرا فاصلے پر گدھوں کا ایک غول سست بیٹھااونگھ رہا تھا۔
یہ چاروں جانور لے کر قریب پہنچے تو کوے پھڑپھڑا کر کچھ اونچائی تک اڑے پھر پاس کے کھیت کی کیاری پر بیٹھ گئے۔ کتے اپنے کام میں مشغول رہے۔ ایک قدرے صاف جگہ دیکھ کر انھوںنے کندھے سے بوجھ اتارا اور اپنی اپنی پیشانیوں پر چھلک آئے پسینا پونچھنے لگے ۔ٹینگر کھڑا چاروں جانب دیکھ رہا تھا۔ بسگتیااور بھیکنا بیٹھ کر سستانے لگے۔ نوکے آس پاس وقت ہوا ہوگا مگر دھوپ بڑی بے رحم ہو ئی تھی۔
ٹینگر کے جسم میں ’چنچنی‘ ہونے لگی۔ آسمان کا رنگ بالکل نیلا تھا۔ اس پر اکادکاسفید بادل کے ٹکڑے تیر رہے تھے، اتنا نیچے کہ ہاتھ بڑھا کر مٹھی میں پکڑے جا سکیں۔ کبھی کبھی کثیف دھویں جیسا کوئی بڑا ٹکڑا تیرتا ہوا جاتا تو ان کے سروں کے اوپر لمحہ بھر کے لیے سایہ دار شامیانہ تن جاتا۔
’پہلے کھینی کھا لیا جائے۔‘ بھیکنانے لنگی کی گرہ سے ’چنوٹی‘ نکالتے ہوئے کہا۔
’ہاں ہو بنائو۔ہم بھی ذرا ’دشا‘ جائیںگے۔‘ قریب کھڑا رم رجوابولا۔
’بڑی گرمی ہے۔لگتا ہے سام سام تک بارس ہوگی۔‘ بسگتیانے گردن اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔
’چلو جلدی کرو بھائی،اس کو چھیل چھال کر جلدی سے ہٹایا جائے۔ ‘ ٹینگرقدرے بے چین ہو کر بولا ۔ بھیکنانے کھینی ٹھوکی اور رم رجواکی طرف بڑھایا۔ رم رجوا نے چٹکی سے کھینی نکالی اور ہونٹوں کے نیچے دباتا ہوا نہر کے خلیجی حصے کی طرف بڑھ گیا۔ باری باری ان تینوں نے بھی ہونٹوں کے نیچے کھینی دبائی اور کام میں لگ گئے۔
انھوں نے رسی کھول کر بیل کے پیروں کو الگ کیا اور ایک ایک پیر کی طرف سے کھال چیرنے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد رم رجوا لوٹا تو چوتھی ٹانگ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ شان چڑھی چھریاں تیزی سے کھال کو گوشت سے الگ کرتی جا رہی تھیں۔ چاروںگردن جھکائے اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہے۔
’تب ہو بسگتیا بھیا اوؤر سنائو، سنے ہیں کہ آپ کی’ جورو ا ‘ پھر ’گابھن ‘ ہوگئی ہے؟ ‘ بھیکنا نے وقت کاٹنے کے لیے بات چھیڑی۔
’ کا کہیں بھیا، اس بار پھر رہ گیا۔‘ بسگتیا جھینپ کر بولا۔
’ارے رہ گیا تو کا ہوا؟ اس میں سرمانے کی کا بات ہے؟‘ رم رجوانے چہل کی۔
’ارے نہیں بھیا،آٹھ گو ہو گیا سب۔ ہم تو اب ایکو نہیں چاہتے تھے پر نا جانے کیسے گلتی ہو گئی؟ ‘ وہ صفائی دینے والے انداز میں بولا۔
’ارے اتنا فکر کاہے کرتے ہو؟ او منہ اور پیٹ لے کر آئے گا تو دو گو ہاتھ بھی تو لے کر آئے گا؟ اوپر والا سب کا انتجام کیے ہوا ہیـ۔‘ بھیکنابڑے بزرگ کی طرح اسے سمجھانے لگا۔
’او تو ٹھیک ہے پر اپنا پھرج بھی تو بنتا ہے۔ ویسا کرم بھی تو کرنا پڑتا ہے۔ کم لڑکا پھڑکا رہنے سے جان ہلکی رہتی ہے، اوئور پھر ان کو دونوں سانجھ بھات روٹی بھی مل جاتی ہے۔نہیں تو کتا

سیار کی ترح۔۔۔۔۔‘
’ای بات تم رات میں تو سوچتے نہیںہوگے تو اب کاہے پچھتا رہے ہو؟ ٹینگر بھیا کو دیکھو، کتنا حساب سے چلتے ہیں۔‘
ٹینگرجو اس پوری بات چیت میں خاموشی اختیار کیے ہوئے تھا، گردن اٹھا کر بھیکناکو دیکھنے لگا۔
’کا ہو ٹینگر بھیا، جھوٹ کہہ رہے ہیں کا؟‘
’ارے ٹینگر بھیا کا کہیں گے؟ ان کا تو ۔۔۔۔۔؟ کا ہو ٹینگر بھیا؟‘ بسگتیا کی بات سے ٹینگر کو لگا کہ اچانک وہ برہنہ ہو گیا ہو، اس کے جسم سے کپڑے سرک کر نیچے گر گئے ہوں۔ بسگتیا، بھیکنااور رم رجواقہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
ٹینگر خود کو سنبھالتا ہوا بولا، ’اب تم لوگوں کو جو کہنا ہے کہو، میں کا بولوں؟‘
’لیکن بھیا، آپ کی جورو کا تو جواب نہیں۔ لگتا ہے، پچھلے جنم میں بلی کی پوجا کیے تھے، جو ایسی مہرارو پائے ہو؟بڑی کسمت والے ہو بھیا۔‘ رم رجوا کی باتوں سے بوند بوند رشک ٹپک رہا تھا۔
’ارے تو تم کاہے لار ٹپکا رہے ہو؟ تم اس جنم میں بلی پوج لو۔تمہیں اگلے جنم میں ٹینگر بھیا جیسی مہرارو مل جائے گی۔‘ بھیکناکی بات پر ایک بار پھر سب ہنس پڑے تھے۔ اس بار ان میں ٹینگربھی شریک تھا۔
جانور نصف سے زیادہ چھل گیا تھا۔ گدھوں کا جھنڈ فعال ہو اٹھا اور کتے بھیـ’ ڈھیٹ‘ گڑائے نزدیک آگئے تھے۔ بسگتیا کمر سیدھی کرنے کے لیے کھڑا ہواـ۔ اکڑوں بیٹھے بیٹھے اس کی کمر اکڑ گئی تھی۔
’ذراچنوٹی نکالو ہو بھیکنابھیا۔ایک بار پھر کھینی وینی بنے۔‘ اس نے ایک’ڈھیلا‘ اٹھا کرکتوں کی طرف اچھالا۔ کتے ذراسا پیچھے ہٹ گئے۔
’لیکن ایک بات کہیں ٹینگر بھیا، برا تو نہیں مانوگے؟‘ بھیکنا چنوٹی نکال کر بسگتیاکی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، ’گھر کی شوبھا بال بچوں سے ہی ہوتا ہے، تم کسی ڈاگٹر واگٹر سے کاہے نہیں دکھاتے ہو؟ کم سے کم پتا تو چلے کہ کمی کس میں ہے؟تم میں یا تمہاری مہرارو میں؟‘
ٹینگر کے چہرے پر اداسی پھیل گئی۔ ’اب کا دکھائیں اور کا نہیں دکھائیں۔ کسمت میں ہی نہیں ہے تو دکھانے سے کا ہوتاہے؟‘ اس نے شکستہ خاطر لہجہ میں کہا۔
کچھ لمحوں تک سب نے خاموشی اختیار کر لی اور اپنے اپنے کاموں میں لگے رہے۔ جانور کی اب صرف گردن کھال کے اندر رہ گئی تھی۔ کتے اور گدھ بے صبری سے اپنا اچھا وقت آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ کتنی بڑی آزمائش تھی، شکار سامنے تھا اور وہ ٹکر ٹکر تکنے اور ہونٹوں پر زبان پھیرنے کے لیے مجبور تھے۔
’دیکھو تو،بات چیت میں کام اتنی جلدی نپٹ جاتا ہے کہ پتابھی نہیں چلتا۔ ‘ رم رجوانے گردن کے پاس پیر لگا کر کھال کو کھینچتے ہوئے کہا۔ کھال اتر گئی تھی۔ ٹینگر نے کنکھیوں سے بد ہیئت جانور کو دیکھا۔ اسے محسوس ہوا، وہ خود وہاں پڑا ہے جس کے جسم سے بسگتیا، بھیکنااور رم رجوا نے کھال اتار دی ہے بلکہ اپنی کھال اتارنے میں وہ خود بھی شامل تھا۔
کھال، رسی اور بانس اٹھا کر وہ چاروں واپس گائوں کی طرف چل دیے۔ ان کے وہاں سے ہٹتے ہی کتے اور گدھ جانور پر ٹوٹ پڑے اور ’پہلے ہم، پہلے ہم‘ کے لیے آپس میں الجھ پڑے۔ـ ٹینگردور تک مڑ مڑ کر جانور کو دیکھتا رہا۔
ٹینگر نے کھال بسگتیا، رم رجوا اور بھیکناکو سونپ دی۔ ان کے مابین یہی بات طے پائی تھی کہ کھال وہ تینوں لے لیں گے اور دو چار دنوں بعد ہڈیاںوہ اٹھا لائے گا۔ اس طرح سب کو کچھ کچھ آمدنی ہو جائے گی۔
گھر آکر ٹینگر نے سب سے پہلے ڈوری اور بالٹی اٹھائی اور ہاتھ منہ دھونے باہر کنویں پر چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھو کر وہ کمرے میں آگیا۔ ’گھر کی شوبھا بال بچوں سے ہوتی ہے۔۔ اچانک بھیکناکی بات اسے یاد آگئی۔ اس نے کمرے سے نکل کر ادھر ادھر دیکھا۔ بلایتی نہیں تھی۔ پنڈت جی کے کھیت میں روپنی کرنے گئی تھی۔واپس کمرے میں آکر اس نے کواڑ بھیڑ دیا پھر اس نے اپنی لنگی اٹھائی اور گردن جھکا کر غور سے دیکھنے لگا۔
***
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
صغیر رحمانی عہد حاضر میںصف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کا اصلی نام محمد صغیر عالم ہے ۔جنوری 1969کو ضلع آرہ ،صوبہ بہار کےمرحوم عبدالرحمان صاحب کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے دیہی ترقی میں ایم ۔اے کیا ۔ ایک بڑی آرگنائزیشن میںاعلیٰ عہدے پہ فائز ہیں ۔ چار افسانوی مجموعے پرانے گھر کا چاند ، واپسی سے پہلے، جہاد، اور داڑھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کے ناول " تخم خوں"نےرکارڈ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسے دلت ڈسکورس کا پہلا ناول بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک ہندی ناول اشیش بھی منظر عام پہ آ چکا ہے ۔
1 Comment

کمنٹ کریں