تخمِ خوں (تیسری قسط)

ناول نگار : صغیر رحمانی

, تخمِ خوں (تیسری قسط)

سب کچھ تو ٹھیک ہی ہے۔۔۔۔۔ پھر کا وجہ ہے کہ۔۔۔۔۔؟‘ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ آخر اس وقت اسے کیا ہو جاتا ہے؟ اس کی پیٹھ پرسڑ سڑ چابک پڑتا ہے لیکن وہ ایک قدم بھی چل نہیں پاتا۔ ہنہنا کر رہ جاتا ہے۔ اس کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ بلایتی سے نظریں ملانے کی اس کی ہمت نہیں ہوتی۔ آخر وہ کیا سوچتی ہوگی اس کے بارے میں؟ کیا اسے کوستی نہیں ہوگی؟ اسے ادھورا نہیں سمجھتی ہوگی؟ اس سے نفرت نہیں کرتی ہوگی؟ سوالوں کی بھیڑ اور ایک اکیلا ٹینگر۔
نہیں وہ اس سے نفرت نہیں کرتی۔ وہ نفرت کرتی ہوتی تو اسے محسوس ہو جاتالیکن اس کی باتوں سے، اس کے برتائو سے اسے کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ اس سے نفرت کرتی ہے۔اس کی زبان سے کبھی الاہنا یا طعنے کے بول نہیں پھوٹے۔ کبھی کچھ نہیں کہا اس نے لیکن۔۔۔۔۔ لیکن اس کی آنکھیں؟ وہ تو سب کچھ کہتی ہیں۔ خلابھری وہ آنکھیں۔ اس کی ویرانی، اس کی مایوسی ، اس کی خاموشی، کیا یہ سب طعنے نہیں کستیں؟ کیا اس کا مذاق نہیں اڑاتیں؟
جب وہ منہ کے بل گرتا ہے تب اس کی تشنہ آنکھیں اس کی کھلی نہیں اڑاتیں؟ اس کا تمسخر نہیں بناتیں؟ اس کی مردانگی پر ٹھہاکا نہیں لگا تیں؟ اسے اکساتیں، اسے جوش نہیں دلاتیں؟ اور جب وہ کسی طرح ایک ڈیگ بھی نہیں بڑھ پا تا تب کیا اس کے کھوکھلے پن کو سہلانے نہیں لگتیں؟ اس سے ہمدردی نہیں دکھلانے لگتیں؟ اس پر ترس نہیں کھانے لگتیں؟ اور پھرکئی کئی دنوں تک اس کے چہرے پر مرکوز اس کی آنکھیں فریاد نہیں کرتیں؟ کیا وہ کئی کئی دنوں تک اس کا سامنا کرنے سے نہیں ہچ کچاتا؟ منہ کے بل گرنے سے قبل جب وہ بری طرح ہانپ رہا ہوتا ہے، اس کی پیٹھ پر پڑنے والے اس کے چابک کی مار میں غصہ اور حقارت نہیں ہوتی؟ اس میں کھیج بھری نہیں ہوتی؟ ایک جھنجلاہٹ، ایک تڑپ نہیں ہوتی؟ اور آخر میں، آخر میں جب وہ خود کو سمیٹتی ہے، اپنے کپڑوں کو بٹورتی ہے اور اس کی جانب سے منہ کو موڑ کر دوسری جانب کر لیتی ہے تب کیا اس کا روآں روآں اسے ناکارہ نہیں سمجھتا؟ تانگے کا ٹوٹا ہوا، بے کار، بنا کام کا پہیا نہیں سمجھتا؟
وہ مضطرب ہو اٹھا۔ تو پھر وہ اس سے کبھی کچھ کہتی کیوں نہیں؟ بول بک کر اپنے دل کا غبار کیوں نہیں نکال لیتی ؟ اندر ہی اندر کڑھتی کیوں رہتی ہے؟ اندر ہی اندر مرتی کیوں رہتی ہے؟ اندر ہی اندر؟ کہیں کمی اسی کے اندر تو نہیں ہے؟ اس نے اوجھا جی کی بات پر غور نہیں کیا تھا لیکن کہیں سچ مچ کھیت ہی تو خراب نہیں ہے؟ تب کیا کہے گی وہ؟ اپنا عیب اس کے سر کیسے منڈھے گی؟ اسے ڈر بھی تو ہوگا، اس کا عیب کھل جائے گا تو وہ اسے چھوڑ دے گا۔ پھر کہاں جائے گی وہ؟ اس کے میکے میں بھی تو اب کوئی نہیں بچا ہے۔ اسی وجہہ سے چپ رہتی ہے،لیکن اوجھا جی۔۔۔۔۔؟ ان کی بات کا اگر یقین کر بھی لیا جائے تو، عیب تو کھل ہی چکا ہے۔ انھوں نے کہا ہی تھا’ کھیت ہی خراب ہے۔ کسی براہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘
لیکن وہ اسے چھوڑ کیسے سکتا ہے؟ وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ بھلے ہی وہ بے اولاد رہے لیکن اسے چھوڑنہیں سکتا۔ اس کے الاوہ اس کا ہے کون؟ پھر اس کے جیسی مہرارو کسی کی ہے کیا؟ اسی کے چلتے تو وہ اپنے ٹولے میں سراو نچاکرکے چلتا ہے۔کیسے لوگ اس کے رنگ روپ کی تاریف کرتے نہیں تھکتے اور کیسا رم رجوا ’لار ‘ٹپکا رہا تھا۔ اس نے تو پچھلے جنم میں کسی بلی کی پوجا نہیں کی تھی۔ وہ تو اسے کسمت سے ملی تھی لیکن رم رجوا کہیں سچ مچ اگلے جنم میں اس جیسی مہرارو پانے کے لیے بلی کی پوجا نہ کرنے لگے؟ لار تو سب ٹپکاتے ہیں اور اس کی کسمت پر جلتے ہیں۔ بھلا اسے وہ کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ اوجھا جی کی بات پر اسے یکین نہیں ہے۔ ’بیج‘ ٹھیک رہے گا تو کسی بھی کھیت میں جم جائے گا۔ بیج ہی ٹھیک نہیں ہے۔ کمی اسی میں ہے۔ وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔بھلے جندگی بھر بے اولاد رہے۔‘

’لیکن بھیا، گھر کی شوبھا بال بچوں سے ہی ہوتا ہے۔۔۔‘ جیسے بھیکنا کہہ رہا تھا۔ اس پر پھرسے پژمردگی چھانے لگی۔ آنکھوں کے سامنے منظر ابھرنے لگے۔ اس نے دیکھا، گھر کی ڈیوڑھی پر دو بچے ’اوکابوکا‘ کاکھیل، کھیل رہے ہیں۔۔۔۔۔
’اوکا بوکا تین تلوکاــ، لوا لاٹھی چندن کاٹھی، چننا کے نام کا، ا جئی بجئی، پنوا پھولوا، کا نی انگلی پچک۔‘
’ اور ا ب تاڑ کاٹو ترکل کاٹوــــــ۔۔۔‘پھر وہ دوسرا کھیل کھیلنے لگے۔
’تاڑ کاٹو ترکل کاٹو،کاٹو رے بر کھا جا،ہاتھی پر کے گھونگھورا چمک چلے راجا، راجا کے رجیہ ہا بھیا کے دوپٹا، ہیچ مارو بیچ مارو۔۔۔ ‘
پھر وہ آپس میں گھمسان کرنے لگے۔ سب سے بڑا والا باہر چھائونی میں تانگے پر بیٹھا اس کی طرح تانگا ہانکنے کی نقل کر رہا ہے۔ ایک جس کی ناک بہہ رہی ہے، آنکھوں میں پیلی پیلی ’کچی‘ بھرے برآمدہ میں بیٹھی بھات کے لیے اوں اوں کر رہی ہے۔ اس کے بعد والی جس کا پیٹ کافی پھولا ہوا ہے اور جسے جونک کی بیماری ہے، موری پر بیٹھی ’کونتھ کونتھ‘ کر پتلی ٹٹی چھیر رہی ہے۔ ایک بیمار، بخار میں تپتا کمرے میں پڑا ہوا ہے۔ ایک کے جٹیائے لٹیائے سر سے آنگن میں پسری بلایتی جویں نکال رہی ہے اور پلپلی سی چھوٹکی اس کی ربر جیسی چھاتی سے کینچویں کی مانند لٹکی ہوئی ہے۔
اچانک ڈیوڑھی پر کھیل رہے دونوں لڑتے جھگڑتے بلایتی کے پاس آگئے اور ’بھات‘ مانگنے لگے۔ بڑکا بھی باہر چھائونی میں سے بھاگتا ہوا آیا اور اپنی پھٹی پینٹ سے جھانکتی ’پھنیا‘ دکھانے لگا۔ اسے نئی پینٹ چاہیے۔ پیچھے مڑ کر چوتڑ کی گھسی ہوئی جھل جھلی دکھانے لگا۔ اچانک سب کے سب آپس میں الجھ گئے اور پورا گھر کہرام سے بھر گیا۔ ٹینگر نے دیکھا ان آٹھوں کی شکل بسگتیا کے بچوں سے مل رہی ہے۔ سب آپس میںچھین جھپٹی کر رہے ہیں۔ بلایتی نویں سے ہے۔ بڑا ساتمبو لیے انھیں سنبھال نہیں پا رہی ہے لیکن اس کی آنکھوں میں سکون ہے۔ کوئی الجھن، کوئی فکر ، کوئی اندیشہ نہیں۔چہرے پر چمک اور خوشی اور آنگن میں رونق ہی رونق۔
بلایتی ر وپنی کرکے واپس آئی تو ٹینگر کی آنکھوں کے سامنے سے منظر چھٹ گئے۔ بلایتی نے آنگن میں آکر ڈوری اور بالٹی اٹھایا اور باہر کنویں پر چلی گئی۔ وہ کیچڑ مٹی سے سنی ہوئی تھی۔ ٹینگر اسی طرح اکڑوں بیٹھا رہا۔ بس ایک نظر دیکھا اس نے اسے۔ ہاتھ منہ دھو کر بلایتی لوٹی تب بھی وہ اسی طرح بیٹھا رہا۔
’کاہے من مار کے بیٹھے ہو؟ کچھ ہوا ہے کا؟ ‘ بلایتی موری پر جھوٹے برتنوں کو رکھنے لگی۔
’نا،ہوگا کا؟ کچھ اچھا نہیں لگتا۔‘
’کا ہیـ؟ ‘ وہ موری پر بیٹھ برتن مانجھنے لگی۔
’ارے جب تک کام پر رہو کچھ نہیں بجھاتا۔ کام سے لوٹتے ہی بھائیں بھائیں کرتا گھر کاٹنے دوڑنے لگتا ہے۔‘ ٹینگر کے دماغ میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔
’کام کی کمی ہے کا؟ جاکر کھیت سے شیرا کے لیے گھاس ہی لے آتے۔‘
’گھاس لانے سے کا ہوتا ہے؟لوٹ کر آنا تو گھر ہی میں ہے نا؟‘ پھر تھوڑا رک کر بولا ۔ ’ بھیکناکہہ رہا تھا، گھر کی شوبھا لڑکے پھڑکے سے ہوتا ہے۔۔۔‘
رکابی مانجھتے مانجھتے بلایتی کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے ٹینگر کے چہرے پر نظریں گڑا دیں۔ وہ سمجھ رہی تھی، ٹینگرکے دل میں کیسا طوفان اٹھا ہوا ہے۔
’تم لوگوں کی باتوں پر کان کاہے دیتے ہو؟‘ وہ ا ٹھ کر آئی اور دھیرے سے ٹینگرکے پاس بیٹھ گئی۔
’کان نہیں دیں تو کا کریںـ؟ کس کا کس کا منہ روکیں؟ ای سب ہمارے چلتے ہو رہا ہے۔ ہم کو ہی اوپر والے نے اپاہج بنا دیا ہیـــ۔‘ وہ اکڑوں بیٹھا گھٹنوں میں منہ دے کر بولا۔
’ایسا کاہے بولتے ہو؟ اوجھا جی نے تو کہا تھا۔۔۔۔۔‘
’ارے اوجھا جی کا کہیں گے؟بیج ہی نہیں پڑے گا تو کھیتوا اپنے آپ دھان نہیں نا اگا

دے گا؟ کا تم جانتی بو جھتی نہیں ہو جو ہمارے منہ سے کہلوا رہی ہو؟‘
بلایتی چپ ہو گئی۔ کیا کہتی؟ کیسے بتاتی کہ دوش بیج میں نہیں، کھیت میں ہے۔ کھیت بنجر ہو تو بیج نہیں انکھواسکتا۔ اوجھا جی نے بھی تو یہی کہا تھا۔ پھر ٹینگر اپنے آپ کو دوشی کیوں سمجھ رہا ہے؟ نہیں نہیں، وہ دوشی نہیں ہے۔ اس میں کوئی کمی نہیں۔
’ایسا لگتا ہے ائولاد کا منہ دیکھے بنا ہی ہم مر کھپ جائیں گے۔‘ ٹینگرنے گھٹنوں کے اندر سے آنسو بھرا چہرہ اٹھا کر بلایتی کو دیکھا۔ بلایتی کا چہرہ تاثر ات سے عاری ہو رہا تھا۔
’کیسے بھی ہوتا،کم سے کم بوڑھاپے میں ایک لوٹا پانی دینے کا آسرا تو ہوتا۔ ایک سہارا تو ہوتا؟ ‘ اس کی نظر بلایتی کے چہرے پر ٹکی رہی اور اس کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کرتی رہی۔ بھیکنا کی باتوں سے افزائش نسل کی اس کی چاہ میں یک گونہ اضافہ ہو گیا تھا۔
بلا یتی چپ، صرف سوچتی رہی ۔ ٹینگر کبھی اس طرح کی بات نہیں کرتا تھا۔اس طرح کی بات کبھی ان دونوں کے بیچ ہوئی ہی نہیں۔ نہ جانے آج کیا ہو گیا ہے ٹینگر کو؟ کیوں اتنا ہلکان ہو رہا ہے؟ اس کی چنگاری کو بھی تو کرید دیا اس نے۔ سوئی ہوئی ممتا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اس کی سانسیں گہری ہونے لگیں اور وہ لمبی لمبی سانس کھینچنے لگی۔
’اوپر والا ایک ائولاد دے دیتا۔۔۔۔۔‘ ٹینگرسسک رہا تھا ۔ بلایتی سے رہا نہیں گیا۔ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ برآمدے میں ایک جانب رکھے ’ اپلوں‘ کے ڈھیر میں سے اپلے نکال کر آنگن میں لے آئی۔ اپلوں کو ایک پر ایک رکھ کر ’کئوڑا‘ سجایا۔اندر جاکر مٹی کا تیل اور ماچس لے آئی۔ کئوڑے پر تیل چھڑک کر اس نے آگ سلگایا۔ لپٹیں اٹھنے لگیں تو اس نے باہر کا کواڑ بھیڑ دیا۔ ٹینگربرآمدے میں بیٹھا اس کی ان حرکتوں کو دیکھتا رہا۔ اس کی سمجھ میںنہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ وہ کچھ بول پانے کی حالت میں نہیں تھا۔ چپ چاپ اس کے حرکات دیکھتا رہا۔ بلایتی آگ کے سامنے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ آگ کی لپٹوں سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھوں میں لپٹوں کی طرح لہریں اٹھ رہی تھیں۔ کئوڑا پوری طرح جل کر راکھ میں تبدیل ہو گیا۔ راکھ ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس کا ایک تودہ سا پڑا ہوا تھا۔ تودے کے پاس کھڑا ٹینگر بے بس نگاہوں سے بلایتی کو دیکھ رہا تھا۔ بلایتی بھی اسے کچھ لمحوں تک دیکھتی رہی۔
’اس پر موتو۔۔۔۔۔‘ بلایتی کے اندر سے گویا کسی دوسری عورت نے کہا ۔ ٹینگر یک لخت اکبکا گیا۔ کیا کہہ رہی ہے وہ؟ گھبرا کر باہر کے دروازے کی جانب دیکھنے لگا ۔دروازہ بند تھا۔
’موتو اس پر۔۔۔۔۔‘ بلایتی نے اسے پکڑ کر اکسایا۔ ٹینگرکی آنکھوں میں الجھنیں اور نہ سمجھ میں آنے والے تاثرات گردش کرنے لگیـ۔ بلایتی عجیب لگ رہی تھی۔ کم سے کم اس بلایتی جیسی تو نہیں ہی، جسے وہ روزانہ دیکھا کرتا تھا۔ اس کا رویہ بالکل کسی اجنبی بلایتی کی طرح لگ رہاتھا۔ ادھر ادھر دیکھ کر گویا کسی طرح اس نے خود کو اطمینان دلایا پھر لنگی اٹھا کر راکھ کے تودے پر پیشاب کرنے لگا۔پیشاب کر چکنے کے بعد اس نے لنگی نیچے کی اور انتہائی بے بس نگاہوں سے بلایتی کو دیکھنے لگا۔ بلایتی سر خم کیے بغور راکھ کے تودے کو دیکھ رہی تھی۔ جہاں پیشاب کی دھار گری تھی، اس جگہ پر ایک گڈھا نمودار ہو آیا تھا۔ وہ بیٹھ گئی۔ راکھ کے ڈھیر کو بہار کر آنگن صاف کرنے لگی ۔ ’اوپر والے پر بھروسا رکھو۔۔۔ ‘ اس کے اندر سے دوسری عورت نے دھیرے سے کہا۔
ٹینگرہونق کی طرح کھڑا رہا۔ اس کے چہرے پر ابھی تک کچھ بھی نہ سمجھ میں آنے والے تاثرات مسلط تھے۔ بلایتی راکھ کی ٹوکری اٹھا کر باہر کوڑے پر پھینکنے چلی گئی۔
****

رات کافی ہو چکی تھی۔ ذر ا دیر قبل جھما جھم بارش ہو رہی تھی۔ بارش رکی تو ’پچھوا‘ چلنے لگی۔ کمرے میں ہوا بھر گئی تھی لیکن بلایتی اندر ہی اندر نمک کی طرح پسیج رہی تھی۔ آج پھر اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ کمرے میں ایک عجیب طرح کی امس کااحساس ہو رہا تھا۔ بارش تو رک چکی تھی مگر

گاہے بہ گاہے چھپر کی کھپریل پر بڑی بڑی بوندیں بد بدا کر گرنے لگتی تھیں جس سے وہاں مسلط خاموشی لخطہ بھر کے لیے درہم برہم ہو جاتی لیکن پھر دوسرے ہی لمحہ سناٹے کی دبیز چادر بچھ جاتی۔
بلایتی نے نظریں گھما کر قریب میں سوئے ہوئے ٹینگر کو دیکھا۔ آج ا س کی ناک نہیں بج رہی تھی۔ بلایتی نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ نیند میں بھی اس کے چہرے پر کرب کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹینگرایک بے بس، مایوس انسان کی طرح نظر آرہا تھا۔ بلایتی کا دل اس کے تئیں ہمدردی کے جذبے سے بھر اٹھا۔ خواہش ہوئی کہ اسے اپنے سینے سے جکڑ لے۔ احساس ندامت سے وہ تڑپ اٹھی۔
اس کی صرف ایک خواہش، ایک معصوم خواہش کو پورا نہیں کر سکی۔ اسے ایک سکھ نہیں دے سکی اور ٹینگرکا دل ایسا کہ اف تک نہیں کرتا۔ نہ جانے کس مٹی کا بنا ہے وہ۔ اتنا بڑا دل کہ اس میں سمندر سما جائے، سارا آسماں، ساری زمیں سما جائے۔ اور وہ ایک ایسا پیڑ کہ پھل تو کیا چھایا بھی ناملے۔ کئی سال ہوگئے، وہ اس نام نہاد پیڑ کے نیچے پھل کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ کیسی آس ہے اس کی، کیسی یاس۔ کیسی تپسیا ہے اس کی، کیسی پیاس۔ اس کی امید کا چراغ بجھتا ہی نہیں جب کہ وہ اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ اس انتظار میں اسے کچھ بھی نہیں حاصل ہونے والا۔ اس کی امید کی پھڑ پھڑاتی لو بلایتی کو زیادہ تکلیف پہنچا تی تھی۔ جب وہ اس کی آنکھوں میں اس معصوم امید کی ٹمٹماتی لو کو دیکھتی تو تڑپ کر رہ جاتی۔
مٹی کی مورت گڑھ کر دینا ہو تا تو کئی کئی گڑھ دیتی، زندگی سے بھر پور کلکاری کہاں سے گڑھے؟ وہ تو کسی ہاٹ بکے نا بازار، جو خرید کر خوش ہو لیتی، اسے خوش کر دیتی ۔ا س کے اندرون میں کہیں تلاطم سا مچا اور فرط غم سے اس کی آنکھیں گیلی ہو گئیں۔ موتیوں جیسے بوند بوند آنسو اس کے گالوں پر ڈھلکنے لگے۔
اچانک وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ آہستہ قدموں سے کمرے سے باہر نکل آئی۔ باہر ہوا میں نمی ملی ہوئی تھی۔ برآمدہ کے زینے سے نیچے اتری تو چھپر کے کناروںسے چو رہی ٹپ ٹپ بوندیں اس کے کندھوں پر پڑیں۔ اس نے باہر کا دروازہ کھولا اور گلی میں آگئی۔چہار جانب گہرا سناٹاتھا۔ اس نے اطراف کا جائزہ لیا اور آگے بڑھ گئی۔
کچھ ہی لمحوں کے بعد وہ ایک بار پھر پنڈت کانا تیواری کے موٹے پلوں اور وزنی چوکھٹ والے دروازے پر کھڑی تھی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلاـ۔
’تون ہے؟ الے تون ہے؟‘ نیم وا کواڑ کے پلوں سے کسی نے گردن باہر نکالی۔
’من جی بابا آپ ؟‘ حیرت سے بلایتی کی آنکھوں کے کنارے چوڑے ہو گئے ساتھ ہی اسے مسرت کا بھی احساس ہوا ۔
’من جی بابا آپ کب آئے؟ ‘ اسے فرحت بخش حیرت ہو رہی تھی کہ من جی بابا اتنے بڑے ہو گئے تھے۔ اس بار کافی دنوں بعد آئے بھی تھے۔
’آد ہی آیا ہوں لیتن تو تون ہے؟ تاہے آئی ہے؟‘ من جی بابا نے سوالوں کی بوچھار کر دی۔
’باباـــ۔۔۔ میں بلایتی۔۔۔‘ وہ رک رک کر بول پائی۔
’الے بلایتی تو ہے؟ اتنی بلی ہو دئی؟ اتھا بول تیا تام ہے؟‘
بلایتی فورا ًکچھ بول نہیں پائی۔ سوچنے لگی، بلکہ سچائی تو یہ تھی کہ من جی بابا کو دیکھنے کے بعدوہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ وہاں کس لیے آئی تھی۔
من جی بابا پنڈت کانا تیواری کی اکلوتی اولاد تھے۔ پیدایشی معذور۔ ان کے دونوں پیر، دونوں ہاتھ اور گردن جنم سے ہی ٹیڑھی تھی۔ چلتے تھے تو ٹانگیں پھینک پھینک کر، جیسے میدان میں گیند کھیل رہے ہوں۔ بلایتی کو شروع سے ہی ان سے ہمدردی تھی۔ اب سے چھہ سات سال قبل پنڈتائین کا جب انتقال ہوا تھا، وہ صرف نو سال کے تھے۔ نو سال کی عمر اور اوپر سے ٹیڑھے میڑھے۔ گو موت بھی خود سے کرنے سے قاصر تھے۔ بلایتی نے ان کا گو موت تک کیا تھا۔پھر و ہ

اپنی شہر والی موسی کے ہاں چلے گئے۔ اور تب سے وہیں رہ رہے تھے۔ گاہے بہ گاہے چندا یام کے لیے گائوں آتے تھے اور پھر واپس ہو جاتے تھے۔ ان کی موسی کا لڑکا آکر ان کو لیوا جاتا تھا۔
’الے بول نا، تیاتام ہے؟‘
بلایتی چونک گئی۔
’مالک سے کام تھا۔۔۔‘ وہ آہستہ سے بول پائی۔
’پتادی،پتادی۔۔۔‘ من جی بابا نے زور سے آواز لگائی۔
’کیا ہے من جی باباـ؟‘ اندر سے پنڈت جی وارد ہوئے۔من جی بابا نے کواڑ کے دونوں پلے کھول دیے۔پنڈت جی کی نظر بلایتی پر پڑی تو پل بھر میں ان کے تیور بدل گئیـ۔
’تمــ۔۔۔۔۔تم پھر آگئی؟‘
’پھل آدئی؟ پہلے بھی آئی تھی تیا؟‘ من جی بابا درمیان میں بولے۔
’من جی بابا،آپ اندر جائیے۔جاکر سو جائیے ۔‘پنڈ ت جی ذراسخت لہجے میں بولے۔
’نہیں،میں نہیں دائوندا۔پہلے بتائیے، ای تا ہے آئی ہے؟ یہ مدھ تھے ملنے آئی ہے۔ ہے نابلایتی؟ مدھ تھے ملنے آئی ہو نا؟‘
’من جی بابا، آپ کو اندر جانے کے لیے کہہ رہاہوں میں۔‘ پنڈت جی گویا گرج کر بولے۔ من جی بابا روہانسا ہو گئے۔ اپنی ٹیڑھی ٹانگ پٹکتے ہوئے اندر چلے گئے۔
’توـــ،تو یہاں پھر کیوں آئی ہے؟‘ ان کے جانے کے بعد پنڈت جی پھنکارے۔
’مالکــ،مالک مجھ پر دیا کیجئے۔میرا کھیت۔۔۔‘
’ارے نیچ ذات۔ اب میں تجھ سے کیا کہوں؟ تم لوگ تو سر پر چڑھ کر موتنے لگے ہو۔ اصل میں قصور تم لوگوں کا نہیں ہے۔ یہ سب ’لال جھنڈین‘ کروا رہا ہے۔ ان ہی سبوں نے تم لوگوں کو ہاتھی کے کان پر چڑھا رکھا ہے۔کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں رہے ہو تم لوگ۔ جو منہ میں آ رہا ہے، بول بک دے رہے ہو لیکن میں بھی کہہ رہا ہوں۔یہ ٹھیک نہیں ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو جس سازش کے تحت یہاں آ رہی ہے، اس میںمیں تجھے کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ اب توجا یہاں سے ۔‘ پنڈت جی نے بھڑاک سے دروازہ بند کر لیا۔ بلایتی ذرا دیر کھڑی رہی پھر مایوس قدموں سے لوٹ آئی۔

ہمارا معاشرہ مرے ہوئے ہاتھی کی قیمت بھی سوالاکھ لگاتا ہے۔ براہمن پتر خواہ سارے عیبوں سے بھرا ہو مگر سماج میں اس کامقام دیوتا کا ہی ہوتا ہے۔ براہمن پتر من جی بابا تھے تو پیدایشی معذور۔ ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر بھی لیکن تھے تو وہ براہمن پتر، اس لیے وہ دیوتا روپ تھے اور اس کے مطابق’ مان سمان‘ حاصل کرنا ان کے پیدایشی حقوق میں شامل تھا۔
صبح صبح گھر سے نکلے تو ’آشیرواد‘ حاصل کرنے والوں کا تانتا لگ گیا۔ گھر گھومن مہتو کے دروازے کے پاس سے گزرنے لگے تو سامنے سے گائوں کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر رام بالک چودھری جی آتے دکھائی دے گئے۔
’پائوں لگتے ہیں باباـ۔‘ نزدیک پہنچنے پر چودھر ی جی نے پرنام کیا۔
’تا دی ماہتر تھاحیب،تا حال تال ہے؟‘
’ٹھیک ہے باباــ۔آپ کب آئے؟‘
’ہم تو تل ہی آئے ہیں۔ ائول تھنایئے،اتھتولوا تا تیا حال تال ہے؟ تھنے ہیں تے مل تھنڈ ہو دئے ہیں؟ للتوں تو تھوب مالتے پیتتے ہیں؟‘
’یہ کسی کی جھوٹ سچ ہے باباــ۔میں تو لڑکوں کو بہت پیار کرتا ہوں۔سب آپ ہی لوگوں کی کرپا سے تو چل رہا ہے۔‘
’تھیت ہے۔تلاتے لہیے، تلاتے لہیے۔‘ فٹ بال کھیلتے ہوئے من جی بابا آگے بڑھ گئے۔

اس گائوں میں سونروا کی پان گمٹی ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہر وقت چہل پہل رہا کرتی تھی۔ کوئی پان کا شوقین ہو کہ نہ ہو، تھوڑی دیر وہاں ٹھہر تا ضرور تھا۔ گائوں کے نوجوانوں کا تو ایک طرح سے وہ اڈا تھا۔ ہروقت مجمع لگا رہتا تھا۔پہلے وہ صرف پان بیچا کرتا تھا پھر دھیرے دھیرے اس نے گٹھکا، سگریٹ بھی رکھنا شروع کر دیا اور صابن، اگربتی جیسی دوسری چیزیں بھی۔ گائوں کے لڑکے دن بھر وہاں ہلڑ بازی کرتے، گٹھکا چباتے رہتے تھے۔ ملیڑی سے سبک دوش ہو چکے صوبے دار دھیریندررائے نے کئی بار سونرواکو تنبیہ کی کہ سگریٹ نہ بیچے۔ گائوں کے نوجوانوں کی لت بگڑ رہی ہے لیکن وہ سنے تب نا؟ لڑکے بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ گٹھکا، سگریٹ بیچنا بند کرے اس لیے اس کی دکان مزے سے چل رہی تھی۔ صبح صبح دکان کھول کر وہ گٹھکا کی لڑیاں جھالر کی طرح سجا دیتا۔
اس کی گمٹی ایک طرح سے ابلاغ کا مرکز تھی۔ گائوں کے لوگوں کو زیادہ تر خبروں کی ترسیل وہیں سے ہوتی تھی۔ ایک تو وہ روزانہ ایک اخبار منگواتا تھا جو شہر سے دن چڑھنے تک اس کے پاس پہنچ ہی جاتا تھا۔ دوسرے اس کی گمٹی میں ہر وقت دوبینڈ کار یڈیو کھڑ کھڑاتا رہتا تھا اور تیسرے یہ کہ کہیں سے آنے جانے والے کے پاس اگر کوئی اطلاع ہوتی تو وہ سب سے پہلے اسے اس گمٹی کو دیتا پھر وہاں سے وہ خبر پورے گائوں میں پھیل جاتی تھی۔
تو اس طرح بھی سونرواکی پان گمٹی سبوں کے لیے نا گزیرتھی۔ جس کا اسے بھرپور فائدہ پہنچ رہا تھا۔
سونروا کی گمٹی کے پاس کھڑے لڑکوں نے من جی بابا کو آتے دیکھ لیا تھا۔ وہ منہ ہی منہ مسکرائے اور ایک دوسرے کے کانوں میں کچھ کہا سنی کی۔ من جی بابا نزدیک پہنچے۔ انھوں نے انھیں کانا پھسی کرتے دیکھ لیا تھا۔ پاس پہنچ کر بولے۔
’تالے تاہے، ہنتھ لہے ہو تم لود؟‘
’پرنام من جی باباـ۔‘
’پائوں لگ رہے ہیں باباـ۔‘
’تھیت ہیـ،تھیت ہے۔ تم لود ہنتھ تاہے لہے تھے؟‘
’کچھ نہیں بابا۔آپ کھیت کی طرف نکلے ہیں کا؟‘
’ہاں،ہم تھیتوے تی تلف دھومنے دالہے ہیں۔‘ وہ آگے بڑھے۔
سامنے دلیپ سنگھ کا دالان تھا۔ دالان کے باہر ان کا ہاتھی بندھا ہواتھا۔
’بابا،پائوں لگتے ہیں۔‘ دلیپ سنگھ نے اپنے دالان میں سے ہی ہاتھ جوڑے۔
’تادی بابو تھاحیب، تیاتل لہے ہیں؟تلیے تھیت دھوم تل آتے ہیں۔‘
’آپ دھوم آئیے من دی بابا۔ ابھی ہم دلا دوسلا تام تل لہے ہیں۔ ائول پھل ہم تو ہاتھی پل تھل تل نا تھیت دھومنے دائیں دے۔‘ دلیپ سنگھ نے من جی بابا کی نقل اتاری۔ من جی بابا اندر ہی اندر تلملا گئے۔ دلیپ سنگھ کی بات ان کے دل سے لگ گئی۔
’ای تھالا لت پوتون ۔۔۔تھیت ہے،تھیت ہے۔ہم بھی پتادی تھے بول تل تھلیدواتے ہیں ہاتھی۔ پھل ہم بھی دائیں دے ہاتھی پل تھل تل تھیت دھومنے۔‘
من جی بابا گائوں سے باہر اپنے کھیتوں میں آگئے۔ حد نظر تک سارے کھیت ان کے اپنے تھے اور سب کے سب گائوں کے قریب۔ پہلے ان کے کھیت کافی دور دور اور الگ الگ تھے۔ لساڈھی گائوں کی جڑ تک۔
پنڈت کانا تیواری نے اپنی کوششوں سے پچھلی چک بندی کے وقت اپنے سارے کھیتوں کا ایک جگہ ’چک‘ کرا لیا تھا۔ اب ان کا ایک آدھ کھیتوں کا ’ٹوپرا‘ ہی فاصلے پر رہ گیا تھا۔ اس سے گائوں کے بھومی ہاروں میں ان کے تئیں کھنس بھری ہوئی تھی۔ اس سے قبل یہ کھیت ان کے ہی تھے۔پنڈت جی کے ذریعہ ان کا چک کرا لینے کے بعد اب ان کے کھیت کافی دور دور ہو گئے تھے اور ان میں پیداواربھی کم ہوتی تھی لیکن پنڈت کانا تیواری کے جوڑ توڑ کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ بلاک اور سرکل آفس میں بھی ان کے کافی رسوخ تھے۔ ’پروہت گری ‘کے بعد ان کا زیادہ

تروقت بلاک اور سرکل آفس کے ساتھ ساتھ مقامی سیاست میں ہی گزرتا تھا۔ پنچایتی راج کے انتخابات میں بھی ’مکھیا‘ بننے کا مکمل ارادہ کرچکے تھے۔ ویسے وہاں کے سابق مکھیا جٹا شنکر رائے تھے۔کچھ دن قبل تک وہ بھی اپنا عہدہ بچائے رکھنے کے لیے کوشاں تھے، لیکن خود کو ہی نہیں بچا سکے۔اچانک اوپر سے بلاوا آگیا اور چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد ایک امیدوار کی جگہ خالی ہو گئی تھی مگر اس جگہ کو پر کرنے کے لیے گاہت شرما فیصلہ کرچکے تھے۔ اس کے علاوہ لساڈھی گائوں کے ایک یادو جی بھی اپنا مضبوط دعویٰ پیش کرنے کے لیے پوری تیاری کر چکے تھے۔ خیر سب کو انتخابات ہونے کا انتظار تھا۔ انتخاب ہو تو سہی، بہت سارے برساتی مینڈک نکلیں گے۔۔۔ ٹر۔۔۔ر۔۔۔رانے۔۔۔
من جی بابا اپنے کھیت کے مینڈھ پر آکر کھڑے ہو گئے۔ دو ٹوپروں کو چھوڑ کر تیسرے ٹوپرے میں عورتیں دھان کے ’بچڑے‘ بو رہی تھیں۔ ان میں بلایتی بھی تھی۔
’الے اوبلایتی،بلیتیا لے۔‘ انھوںنے مینڈھ پر سے آواز لگائی۔
’کاہے من جی باباـ؟‘ بلایتی نے کھیت میں سے گردن گھما کر پوچھا۔
‘الے یہاں آئو،وہاں تھے تیا پوتھ لہی ہے؟‘
بلایتی نے اپنے کیچڑ لگے ہاتھ سے پیشانی پر جھول رہی لٹوں کو پیچھے کیا اور من جی بابا کی جانب بڑھ آئی۔
’کاہے من جی بابا؟ آپ یہاں کا ہے چلے آئے؟‘ پاس آکر اس نے پوچھا۔
’اتھی تلح دھومنے تلا آیا ہوں۔‘ پھر اس کے چہرے پر لگی کیچڑ دیکھ کر ہنس پڑے من جی بابا۔ ’لوپنی ہاتھ تھے تلتی ہے یا منہ تھے؟ تھیل ای بتا، تو لات میں تاہے آئی تھی ائول پتادی نے تودھے بھدا تیوں دیا؟‘
’او مالک سے ایگو کام تھا۔‘ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ من جی بابا کی باتوں کا کیا جواب دے۔
’الے تو بتانا، تیا تام تھا؟‘ من جی بابا ضد کرنے لگے۔
بس وہ ان کی ضد سے ڈرتی ہے۔ جس بات کی ضد پکڑ لیں، پھر مانتے نہیں تھے۔
’ارے اسی طرح۔۔۔۔۔چھوڑئیے، آپ گھر جائیے۔‘
’نا ۔۔۔۔۔ نا۔۔۔۔۔ بتا۔۔۔ ۔۔ہم دھل نہیں دائیںدے۔ ابھی ادھل ہی لہیں دے۔‘
’ارے میری تبیت ٹھیک نہیں تھی۔رات میں وہی کہنے گئی تھی کہ آج میں کام پر نہیںجائوں گی۔بس کا،مالک بگڑ نے لگے۔بولے کہ روپنی پیچھے پڑ رہی ہے،تجھے جانا ہی ہوگا۔‘
سوچتے سوچتے بلایتی کو ایک خوب صورت سا بہانا مل ہی گیا۔
’او۔۔۔۔۔‘ جیسے سمجھتے ہوئے من جی بابا بولے۔ ‘ میں تو تھمد لہا تھا تے تیلا ملد تدھے مالا پیتا ہے۔اتھی لیے تو پتادی تھے تہنے آئی ہے۔‘
’اچھا۔۔۔۔۔‘ بلایتی نے جان بوجھ کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت کی تاثرات پیدا کیے۔ ’اگر میرے مرد نے سچ مچ مجھے مارا پیٹا ہوتا تو۔۔۔۔۔؟‘
’تو میں اتھے تھوب تھوب پیتتا۔‘
’کاہے؟‘ بلایتی نے اسی معصومیت سے سوال کیا۔
’اتھ لیے تے تو بہت اتھی ہے۔‘
’او کیسے؟‘
’ہاں تو بہت اتھی ہے۔ بتپن میں میلی بہت تھیوا تی ہے۔ میں تیلے ملد تو تھوب مالتا۔‘
’اچھا چھوڑئیے،جانے دیجیے، غصہ مت کیجیے۔‘ وہ انھیں ایک جانب لے جاتی ہوئی بولی۔ ’چلیے، آپ اس پیڑ کے نیچے آرام سے بیٹھ کرکھیتوں کو دیکھئے اور ہم لوگوں کو روپنی کرنے دیجیے نہیں تو مالک بگڑیں گے۔‘ اس نے انھیں پیڑ کے نیچے لاکر بیٹھا دیا۔
’ہاںہاں،تم دائو،لوپنی تلو۔ہم یہیں تھے دیتھیں دے۔‘
بلایتی پھر کھیت میں چلی گئی۔

پنڈت جی کے کھیتوں میں وہ ٹینگر کی شادی ہونے کے ایک دو سال بعد سے ہی کام کرنے لگی تھی۔ یہیں کی بیٹی ، یہیں کی بہو۔ اس لیے ایک دو سال بعد ہی کھیتوں میں جانے لگی تھی۔ اس وقت من جی بابا پانچ چھہ سال کے تھے۔ پانچ چھہ کی عمر ہی کیا ہوتی ہے؟ اس پر پورا جسم عیب دار۔ عقل بھی ویسی ہی۔ جہاں تہاں ہگ موت دیتے تو اسے ہی صاف کرنا پڑتا۔
مالکن کی تو روتے روتے صبح شام ہوتی۔ اوپر والے نے ایک اولاد بھی دی تو کسی کام کی نہیں۔ بلایتی کا ہاتھ پکڑ کر ہی کبھی کبھی کھیتوں میں گھومنے جایا کرتے اور کسی مینڈھ پر پسر جایا کرتے۔ اس وقت تو بغیر مدد کے چل بھی نہیں سکتے تھے۔ جیسے جیسے عمر بڑھی، کچھ کچھ سدھار ہوا۔ جسمانی طور پر اور ذہنی طور پر بھی لیکن کبھی کبھی، ابھی بھی ان کا ذہنی توازن بگڑ جاتا تھا۔ کسی بات کی ضد پکڑ لیتے تھے تو بے قابو ہو جاتے تھے۔ بلایتی کے لیے وہ قابل رحم تھے۔ ان کو دیکھ کر اس کا کلیجہ چاک ہونے لگتا تھا۔ اوپر والا کسی دشمن کو بھی ایسی زندگی نہ دے۔
چاروں طرف دھوپ چمک رہی تھی۔ پیڑ کے نیچے من جی بابا کچھ گارہے تھے۔ اچانک اتنے حصے میں جتنے میں بلایتی اور دوسری عورتیں روپنی کر رہی تھیں، بڑی بڑی بوندوں والا پانی برسنے لگا۔پورا آسمان صاف تھا، صرف سر کے اوپر کالے بادلوں کا ٹکڑا پانی برسا رہا تھا۔
من جی بابا تالیاں پیٹ کر ہو۔۔۔ ہو۔۔۔ہو۔۔۔ کرنے لگے۔ انھیں لطف آرہا تھا۔
جھکی ہوئی بلایتی نے گردن گھما کر خوش ہوتے من جی بابا کو دیکھا۔
دھوپ میں پانی کی بوندیں شیشے جیسی چمک رہی تھیں اور پورا منظر نا قابل فراموش رومانس سے بھر اٹھا تھا۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
صغیر رحمانی عہد حاضر میںصف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کا اصلی نام محمد صغیر عالم ہے ۔جنوری 1969کو ضلع آرہ ،صوبہ بہار کےمرحوم عبدالرحمان صاحب کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے دیہی ترقی میں ایم ۔اے کیا ۔ ایک بڑی آرگنائزیشن میںاعلیٰ عہدے پہ فائز ہیں ۔ چار افسانوی مجموعے پرانے گھر کا چاند ، واپسی سے پہلے، جہاد، اور داڑھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کے ناول " تخم خوں"نےرکارڈ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسے دلت ڈسکورس کا پہلا ناول بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک ہندی ناول اشیش بھی منظر عام پہ آ چکا ہے ۔

کمنٹ کریں