تخمِ خوں (چوتھی قسط)

ناول نگار : صغیر رحمانی

, تخمِ خوں  (چوتھی قسط)

دو

ضلعے کا جغر افیہ کچھ یوں تھا۔۔۔۔۔
پورا ضلع دو حصوں میں منقسم تھا اور اسے دو حصوں میں بانٹتی تھی درمیان کی ریلوے لائن۔ ریلوے لائن کے شمال میں گنگا ندی بہتی تھی۔ہر سال برسات کے موسم میں اس علاقے کا نصف سے زائد حصہ باڑھ کی چپیٹ میں رہتا تھا۔ مکہ ،چنا ،گیہوں یہاں کی اہم فصل تھے۔یہ خاص طور پر ’ ببو آن ‘ یعنی راج پوتوں کی اکثریت والے علاقے کے طور پر مشہور تھا اور اسے گفتگو کے درمیان ’چتوڑ گڑھ ‘کے نام سے بھی جانا جاتا تھا ۔
ریلوے لائن کا جنوبی علاقہ جسے ’د ھان کا کٹورہ‘کہا جاتا تھا، خاص طور سے ’بھومی ہاروں‘کی اکثریت والا علاقہ تھا۔بھوجپوری اور بھوجپوری کی چاشنی لیے کھڑی ہندی زبان اور ایک خاص طرح کی تہذیب میں پوشیدہ حملہ پن اس کی اصل پہچان تھا۔اس علاقے کی سر زمین

فقط د ھان گیہوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کئی ’تحریکوں ‘کے لیے بھی بڑ ی زر خیز ثابت ہوئی تھی۔ خاص طور پر مغربی بنگال کے نکسل واڑ ی میں آفتاب غروب ہونے کے بعد نکسلی تحریک کا طلوع اس صوبے میں سب سے پہلے اسی علاقے میں ہوا۔ تب سے لے کر اب تک گز شتہ پچاس پچپن سالوں میں عمل اور ردعمل کے طور پر سینکڑوں قتل اور درجنوں قتل عام کا گواہ رہی اس علاقے کی خوں آلود سرزمیں سے آج بھی کسیلی بو پھوٹتی رہتی ہے۔
اسی علاقے کا یہ ایک گاؤں تھا ببھن گانواں، جو خاص طور پر ’اگڑوں ‘کا گاؤں کہلاتا تھا لیکن یہاں ’پچھڑوں‘کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ اگڑوںمیں کثرت براہمنوں کی تھی۔اس کے بعد کثرت تھی بھومی ہاروںکی اور اس کے بعد راجپوتوں کی۔ پچھڑ وں میں خاص طور سے ’چمار ‘ اور ـ’دسادھ‘ ذات کی آبادی تھی۔
ان دونوں کے علاوہ چند ایک گھر جلاہوں اور کچھ ایک یادووں کے تھے۔نمبروں کا شمار چھوڑ دیا جائے تو ایک آدھ گھر کرمی کشواہا اور کایستھ کے بھی تھے۔


اس گاؤں میں گنتی کے مطابق تو براہمن زیادہ تھے لیکن زیادہ کاشت کے مالک بھومی ہار ہی تھے اور زیادہ تر زمینیں ان ہی کے پاس تھیں۔جب سے اس علاقے میں ‘ لال جھنڈے ‘ کا رسوخ بڑھا ہے اور معاشی ناکہ بندی کھیتوں سے اس کی نمی چھیننے لگی ، بھومی ہاروں کے پیروں تلے سے زمینیں سرکنے لگیں۔ ایسے میں چاندی رہی پاس پڑوس کے یادوؤں کی۔ ان کے کھیت خریدتے چلے گئے۔ باوجود اس کے ابھی بھی سب سے زیادہ کھیت بھومی ہاروں کے پاس ہی تھے۔ہاں اس گاؤں کی بات جانے دیں تو زیادہ ترکھیتوں کے مالک یادو بن گئے تھے۔کچھ بھومی ہاراپنی بچی کھچی زمین مال گزاری پر لگا کر شہر چلے گئے تھے اور بالوں میں ’مہکنے والاتیل‘ لگا کر مہین بننے لگے تھے لیکن فرار کی یہ راہ اختیار کرنا ان کا شوق نہیں ، مجبوری تھی۔ البتہ براہمن گاؤں میں ٹکے رہے کہ ان کے ٹکے رہنے کی اور بھی وجہیں تھیں۔
پنڈت کانا تیواری ان ہی میں ایک تھے۔ کھیتی تو ان کے ہاتھ میں بھی بہت زیادہ نہ تھی ، بس اتنی تھی کہ کھا پی کر کچھ بچ جاتا تھا مگر ان کے ٹکے رہنے کی خاص وجہہ تھی ، پنچایت اور بلاک سطحی سیاست۔ اس کے علاوہ ان کوجان سے بھی زیادہ عزیز تھی ان کی’پرو ہت گری ‘۔اسے چھوڑ کر وہ کہاں جا سکتے تھے؟ اور اس کے بغیر وہ کیسے رہ سکتے تھے ؟
پنڈت کانا تیواری کے روزانہ کے سیاسی معمول میں آج کا دن کافی اہم تھا۔
دن کے چار بجے تھے۔بر آمدہ میں بیٹھے پنڈت جی آج کا اخبار دیکھ رہے تھے جبھی ایک تیز رفتار جیپ آکر ان کے پھاٹک کے پاس رکی۔ آگے سے بی ڈی اوصاحب اور پیچھے سے ان کا خدمت گزار سادھواترا۔جیپ سے اترنے کے بعد دونوں پھاٹک کے اندر داخل ہو گئے۔
’آئیے آئیے حاکم ۔آج اس غلام کی یاد کیسے آ گئی ؟‘ بی ڈی اوصاحب کو دیکھ کر دور سے ہی پنڈت جی چہکے۔ ’ارے چبھورنا ، جا جھٹ سے ، اندر سے حاکم والی کرسی لے آ ۔‘
چبھور نا لپکتے ہوئے اندر گیا اور کمرے کے کونے میں رکھی ہوئی بغیر بازو والی کرسی اٹھا لایا۔ تب تک بی ڈی اوصاحب بر آمدہ میں پہنچ چکے تھے۔
’آیئے حاکم ، پدھاریے۔کہیے ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟‘
’ پنڈ ت جی ،ہم آپ کو ایک تکلیف دینے آئے ہیں۔‘ بی ڈی اوصاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے رومال نکال کر پیشانی کا پسینا صاف کیا۔
’ارے آپ حکم تو کریں ،آپ حاکم ہیں۔‘ پنڈت جی کے لہجے سے ٹپ ٹپ خو شامد ٹپک رہی تھی۔
’اگلے ہفتے آپ کے گاؤں میں ’جنتا دربار‘لگنے والا ہے۔زمین کاپرچہ بھی تقسیم ہو گا۔کلکٹر صاحب آ رہے ہیں۔ان کے ساتھ کچھ اور افسر بھی رہیںگے۔آپ تو جانتے ہیں ، کلکٹر صاحب ایک دم نرامس آدمی ہیں ، لہسن پیاز تک نہیں چھوتے ۔چونکہ جنتا دربار ہے ، ڈھیر سارے پرچہ بانٹنے ہیں ۔کئی کئی معاملوں کا نپٹارہ ہونا ہے ۔وقت تو لگے گا ہی؟ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ان کے ’جل پان‘وغیرہ کا انتظام آپ کے ذ ریعہ ہو۔‘ بی ڈی اوصاحب نے قدرے ہچ کچاہٹ

کے ساتھ اپنی بات پوری کی۔
’ارے یہ تو میری قسمت ہے حاکم لیکن ذرایہ بتائیے ، یہ کوئی نئے کلکٹر آ ئے ہیں نا؟‘
’ہاں یہ میناصاحب ہیں،پرتاپ سنگھ مینا۔‘
’پرتاپ سنگھ مینا۔‘دوہراتے ہوئے پنڈت جی کچھ سوچنے لگے، پھر بولے۔’اچھا تو مینا جی ہیںاور لہسن پیاز سے بھی پرہیز ؟‘
’ ہے ہے ہے ‘ بی ڈی اوصاحب نے دانت نکا ل دیے۔ ’ عہدہ ایسی چیز ہی ہوتا ہے پنڈت جی کہ سب کچھ بدل دیتا ہے ۔۔۔ہے ہے ہے ‘ ایک بار پھر پیلے پیلے دانت نمودار ہو آ ئے۔
’ٹھیک ہے ،ٹھیک ہے حاکم ۔آپ کا حکم ہے تو انتظام ہو جائے گا لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آ ئی ؟‘ انھوں نے ذراسا توقف کیا۔
’یہ زمین کا پرچہ بانٹنے کا کیا معاملہ ہے ؟ یہاں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی طرح کی تکرار ؟‘ پنڈت جی سنجیدہ ہو اٹھے۔
’تکرار ہے نہیں پنڈت جی ، تکرار ہو سکتی ہے ۔پرشا سن پہلے سے ہی احتیاط برت رہا ہے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ تکرار پیدا ہو جائے تب پر شا سن اپنا کام شروع کرے ؟ ہے ہے ہے۔حضور ایک توپر شا سن ایسے ہی بدنام ہے اوپر سے اور کیوں بدنام کرنا چاہتے ہیں؟‘
’لیکن حاکم،یہاں ایسی زمین ہے ہی کہاں جو آپ کا پر شا سن اس کوبانٹے گا ؟ یہاں سب تو۔۔۔۔۔‘
’ ہے پنڈت جی ،ہے ۔‘ بی ڈی اوصاحب نے ان کی بات کاٹی۔ ’سرکا ری رکا رڈ کے مطابق اس گاؤں میں ساڑھے دس ایکڑ غیر مزروعہ زمین ہے۔اب انھیں غریبوں کے بیچ میں تقسیم تو کرنا ہوگا نا ۔۔۔؟‘ آخری جملہ پورا کرتے ہوئے ان کی نظر پنڈت جی پر مرکوز ہو گئی ۔
’تو ایسا کہیے نا حاکم ۔آپ نے تو مجھے ۔۔۔۔۔‘
’ہے ہے ہے ۔اب میں کیا کہوں پنڈت جی ،ہے ہے ہے۔‘
پنڈت جی سوچنے لگے۔ ذرادیر بعد انھوں نے موضوع بدلا۔
’ویسے، اب آپ کے بھی جانے کا وقت ہو گیا ہے شاید؟‘ اس بار پنڈت جی نے اپنی نظر بی ڈی اوصاحب پر مرکوز کی۔
’اگلے سال جون تک ہوں۔بس کچھ مہینے اور پھر تو۔۔۔۔۔‘
’میرے خیال سے گھر ور تو بنا لیا ہوگا آپ نے؟‘
’ہے ہے ہے ۔‘ پیلے دانت باہر نکل آ ئے ۔ ’ اب میں کیا بولوں ۔پٹنہ میں ایک جھونپڑی بنوائی ہے اور تو کچھ کر نہیں سکا۔‘
’ ارے تو اب کر لیجئے نا۔کس نے روکا ہے آپ کو؟ ابھی سی ۔او۔ (سرکل افسر) کا چارج بھی تو آپ ہی کے پاس ہے۔آپ تو بلاک کے مالک ہیں،مالک ۔‘ پنڈت جی نے جوش بھرے لہجے میں کہا۔
’اب میں کیا بولوں؟ہے ہے ہے۔ پرمکھ جی کسی یوجنامیںہم لوگوں کی کوئی خاص گنجائش بننے ہی نہیں دیتے۔سارا مال خود ہی۔۔۔۔۔ہے ہے ہے۔۔۔‘
’ہوں۔‘ پنڈت جی سنجیدگی سے سوچ میں پڑ گئے ۔ ’اس کامطلب ہے کہ آپ پنچایت کا چنا ئو کرا کر چلے جائیںگے ؟‘
’ہاں بھئی اب تو آپ ہی لوگ مالک مختار ہیں۔ہمیں تو کوئی پوچھنے والاہی نہیں۔بلاک کے مالک پرمکھ جی اور پنچایت کے آپ لوگ۔‘
’لیکن ہمیں مالک مختار بنانے والے تو آپ ہی حاکم لوگ ہیں نا ؟آپ لوگ تو افسر بننے لگے ، ہر بڑے پوسٹ پر آپ ہی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔جہاں دیکھئے،کوئی پا سوان،کوئی رام،کوئی مینا۔۔۔۔۔ایک بھی جگہ آپ لوگوں سے خالی نہیں بچی ہے۔اور تو اور، منتری ، ایم ایل اے بھی آپ ہی لوگ ہیں ۔ ارے حاکم،اونچی جگہوں پر رہیں آپ لوگ لیکن کم سے کم گاؤں

پنچایت میں تو ہمیں رہنے دیجئے ۔‘
’ہے ہے ہے ۔ وقت آنے دیجئے پنڈ ت جی ۔سب ہو جائے گااور میں کیابولوں؟‘
’بس ایک بات اور بول دیجئے۔اس غریب براہمن کا بھلا ہو جائے گا۔‘
’ کیا ؟‘
’ارے چبھو رنا ، کیا کر رہا ہے رے۔جا ،جاکر حاکم کے لیے کچھ میٹھا پانی لے کر آ ۔ پانی شیشے والے گلاس میں لے آ نا ۔‘ بی ڈ ی اوصاحب کی بات کا جواب دینے سے پہلے انھوں نے چبھورنا کو آ وا ز لگائی ، پھر بی ڈی اوصاحب کی جانب مخاطب ہوئے۔
’سنا ہے ،مردہ جانوروں کی ہڈیوں کی ٹال کھلنے جا رہی ہے اور اس کے لیے بلاک سے لائسنس جاری ہوگا؟‘
’ہاں، ایسی یوجنا تو ہے۔پہلے لوگ اسے اپنے طور پر کرتے تھے۔ اس سے سرکار کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا لیکن اب اسے سرکار اپنے اختیار میں لینے جا رہی ہے اور اس کے لیے وہ با ضابطہ لائسنس جاری کرے گی۔بلاک میں اس کی ایک ٹال ہوگی جہاں ساری ہڈیاں جمع ہوں گی پھر وہاں سے انھیںطے شدہ مقام پر بھیجا جائے گا۔‘ بی ڈی اوصاحب کہتے کہتے لمحہ بھر کے لیے رکے ، پھر بولے۔’در اصل اسے ایک ودیشی کمپنی نے پیٹنٹ کرا یا ہے ۔وہ ان ہڈیوں کو اکٹھا کر ودیش لے جانے کے لیے سرکار سے معاہدہ کیے ہوئے ہے ۔‘تھوڑی دیر رک کر پھر وہ بولے۔ ’ایک بات تو ماننی پڑے گی پنڈت جی ۔ودیشیوں کی آنکھیں اور دماغ ہم سے زیادہ تیز ہیں ۔بھلا بتائیے ، جو ہڈیاں یہاں وہاں سڑ گل کر مٹی میں مل جاتی تھیں ، ان کے لیے ان کے دماغ میں کتنی بڑی بات سوجھی ۔ نیم، ہلدی ، باسمتی ایسی نا جانے کتنی چیزیں ہیں جن کی قیمت ہمیں ودیشیوں کے ذریعہ پیٹنٹ کرا لیے جانے کے بعد پتہ چلتی ہے۔۔۔۔۔ خیر۔۔۔لیکن وہ ٹال تو شڈول کا سٹ کے لیے ہے ۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘بی ڈی او صاحب نے حیرت سے پنڈت جی کو دیکھا۔
’اس لیے کہ میں وہ لائسنس لینا چاہتا ہوں۔‘پنڈت جی نے سنجیدگی سے کہا۔
’ اپنے کسی ’بنہار ‘کے لیے؟‘
’نہیں ،اپنے لیے۔‘
’ کیا؟‘ بی ڈی اوصاحب کا منہ وا ہو گیا۔’آپ ؟آپ یہ کام کریں گے ۔۔۔ہڈیوں کا؟‘
’ہاں حاکم ،میں ہی کروں گا۔آپ تو جانتے ہیں، کھیتی باڑی میں اب جان نہیں رہی ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی کسان خود کشی کر رہا ہے۔ روزی روٹی کے لیے کچھ تو سہارا ہونا چاہیے اور پھر اس یگ میں ’لکشمی‘ ہی سب کچھ ہے،لکشمی ۔‘
’لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ اس کے لیے نچلی ذات کا سرٹیفکٹ ہوناچاہیے؟‘
’نچلی ذات کا سرٹیفکٹ کون بناتا ہے ،آپ ہی نا؟کتنا لیتے ہیں ،سو روپے ؟چلیے میں پانچ سو دیتا ہوں ۔بنا دیجئے میرا نچلی ذات کا سرٹیفکٹ ۔۔۔۔۔ٹینگررام کے نام سے۔‘
’لیکن صرف ذات کے سرٹیفکٹ سے کیا ہوگا؟لوگوں کو پتا چل ہی جائے گا کہ لائسنس آپ نے ہی لیا ہے ۔پھر آپ تو جانتے ہیں کہ کتنا بوا ل ہوگا ؟‘
’کچھ نہیں ہوگا حاکم ۔آپ اطمینان رکھیے۔ٹینگر میرا بنہار ہے ۔لائسنس اسی کے نام سے رہے گا اور لوگوں کی نظروں میں اسے دیکھے گا چلا ئے گا بھی وہی ۔میرا سروکار تو صرف۔۔ ۔۔۔‘
’وہ تو ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔۔۔‘ بی ڈی اوصاحب کی پیشانی شکن آلود ہو اٹھی۔
’اور جہاں تک آپ کا سوال ہے ، آپ کو بھی مایوسی نہیں ہوگی۔‘
’ہے ہے ہے ۔۔۔۔۔اب میں کیا بولوں؟‘ بی ڈی اوصاحب کی تشویش کچھ کم ہوئی۔
اسی وقت بلایتی من جی بابا کے ہمراہ پھاٹک کے اندر داخل ہوئی۔ساڑھی گھٹنوں تک اٹھائے ، کیچڑ سے سنی روپنی سے واپس آ رہی تھی۔من جی بابا ساتھ تھے، ان کو پہنچانے چلی آئی۔

بر آمدہ میں ان لوگوں کو دیکھا تو ٹھٹک کر کھڑی ہو گئی ۔
بی ڈی اوصاحب کی گدھ جیسی نظربلایتی پرپڑی تواسی پرجامدہو کررہ گئی۔چہرہ، پستان، کمر،کولہے اور آخر میں لمبی چھرہری ،اجلی ٹانگیں۔پنڈت جی کو بھانپتے ذرابھی دیر نہ لگی ۔ کان میں پھسپھسا کر بولے۔
’ہرے رام،ہرے کرشن۔میں تو صرف مردے کی بات کر رہا تھا حاکم، اگر آپ کی خواہش ہو تو آپ کی خدمت میں زندہ بھی۔۔۔۔۔؟‘
’ہے ہے ہے۔اب میں کیا بولوں؟‘ جیسے وہ شرماگئے ۔ ’ ۔۔۔۔۔یہ میرا ’سیو ک ‘ہے سادھو ۔‘ انھوں نے ایک جانب کنا رے کھڑ ے سادھوکی طرف اشارہ کیا۔’یہ آپ سے آکر ملے گا۔ ہے ہے ہے۔۔۔۔۔‘ پیلے پیلے دانت متواتر باہر جھانکتے رہے۔ ’اور اب مجھے اجازت دیجئے۔آپ کا بہت سارا وقت لے لیا میں نے۔‘کرسی سے اٹھ کر وہ پھاٹک کی جانب چل پڑے اور ان کے پیچھے پیچھے سادھو بھی چل پڑا۔پنڈت جی اپنی جگہ پر بیٹھے انھیں جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔جیپ چالو ہوئی اور تیزی سے پھاٹک سے باہر نکل گئی۔من جی بابا گھر کے اندر جا چکے تھے۔بلایتی بھی واپس پھاٹک سے باہر نکل گئی۔پنڈت جی خیالوں میں الجھے بیٹھے رہے۔ اچانک وہ خوشی اور ولولوںسے چیخ اٹھے۔
’چبھو رنا،کہاں مر گیا رے ۔یہ حاکم والی کرسی جہاں تھی، وہیں رکھ دے۔‘
o o o

’مالک ای آپ کاکہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔؟‘
’ بلایتی ،میں تیرے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ذراسوچ ، بی ڈی او صاحب حاکم ہیں حاکم۔پورے بلاک کے حاکم ۔ان کی ذراسی ’کرپا‘تم لوگوں کی قسمت بدل دے گی اور پھر بی ڈی او صاحب بھی تو تیری ہی ذات برادری کے ہیںپھر ان کے پاس تجھے جانے میں شرم کیسی؟‘
’کچھ بھی ہو مالک۔میں نہیں جاؤں گی۔‘
’دیکھ بلایتی، تو ضد مت کر۔‘ پنڈت جی ذراخشک لہجہ میں بولے۔ پھر اسے سمجھا نے لگے۔’ ارے پگلی۔تیرا مرد تو کسی کام کا نہیں۔ایک بچہ کے لیے تو ترس رہی ہے۔کون جانے اسی بہانے تیری۔۔۔۔۔آخر حاکم بھی تو مرد ہیں۔‘
’لیکن مالک ،اوجھا جی نے تو ۔۔۔۔۔آپ ہی کا ہے نہیں؟‘
’ارے تو اس ڈھونگی کی باتوںمیں کہاں آ گئی؟ وہ تو ڈھونگی تھا، ڈھونگی۔اوجھا ووجھا تھوڑے تھا وہ؟اسی طرح اناپ شناپ بکتا رہتا تھااور اگر تو اس کی بات کو سچ مانتی ہے تو پھر جس طرح براہمن’دیوتا کا روپ‘ہوتا ہے اسی طرح حاکم لوگ بھی بھگوان کے روپ ہوتے ہیں اور بھگوان پرسنّ ہو جائے تو کیا نہیں ہو سکتا؟‘
’لیکن مالک ای پاپ۔۔۔۔۔؟‘ اس کی آ وا ز لرز نے لگی۔
’پاپ پنیہ تو مت دیکھ ۔یہ مجھ پر چھوڑ دے ۔آخر میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔ایک براہمن تجھ سے کہہ رہا ہے اورمیرے آ دیش سے اگر کوئی پاپ ہوتا بھی ہے تو وہ پاپ نہیں کہلائے گا، پنیہ میں بدل جائے گا۔‘
’لیکن مالک ،آپ ہی کا ہے نہیں؟‘ وہ باڑھ کے زور میں تنکا پکڑ رہی تھی۔
’ارے کیا آپ ہی کا ہے نہیں ،آپ ہی کا ہے نہیںلگا رکھا ہے؟‘پنڈت جی کھیج کر بولے لیکن دوسرے ہی لمحہ انھوں نے نرمی اختیار کر لی۔’دیکھ ، تو حاکم کے پاس چلی جا ۔اس کے بعد میں تیرا کھیت۔۔ ۔۔۔‘ عجلت میں پنڈت جی اتنا کہہ تو گئے لیکن جملہ پورا نہیں کر سکے۔
’کا۔۔۔۔۔ ؟‘
’اب تو جا۔کل صبح ٹینگرا کے ساتھ بلاک میں آ جانا ۔میں وہیں رہوں گا۔اب تو جااور ٹینگرا سے کہنا ، آج کسی وقت مجھ سے آ کر مل لے۔‘
بلایتی لوٹ آئی۔شام کو چبھو رناآ دھمکا ، ٹینگر کو بلانے۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر

گیا۔کافی دیر بعدٹینگر لوٹ کر آیا۔بلایتی نے اس کے چہرے پر آنکھیں گڑا دیں۔وہ کچھ بولا نہیں، چپ چاپ باہر چھائونی میں بیٹھا رہا۔ تھوڑی دیر بعد کمرے میں آکر چار پائی پر لیٹ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد بلایتی بھی آکرلیٹ گئی۔دونوں چپ تھے۔ جاگ رہے تھے۔
رات ان میں دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔
بلایتی الٹا ہاتھ پیشانی پر رکھے چھپر کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔
ٹینگر چپ کاہے ہے؟ کچھ بولتا کاہے نہیں؟ مالک نے اس سے بھی تو سب کچھ نہیں کہہ دیا؟تب کا بولا ہوگا ٹینگر؟ کا راجی ہو گیا ہوگا؟کہیں بگڑ نہ گیا ہو؟مالک کو اناپ شناپ نہ بک دیا ہو؟ٹھیک ہی کیا ہوگا۔ ٹینگر کا، کوئی بھی سہن نہیں کرے گا کہ کوئی اس کی جورو کو کسی اوئور کے پاس۔۔۔۔۔آگ ببولا ہو جائے گا۔لیکن کہیں مالک ناراج ہو گئے ہوں گے تو؟ ہمارے ماتھ مالک ہیں،پالن ہار ہیں،ہم تو ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں۔ ان ہی کی دیا کرپا سے ہمارا جیون ہے۔انہیں کی سیوا ٹہل سے ہمارا گزر بسر ہوتا ہے۔ ان کی بات ٹالنے سے تو نرک میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔
اوئور پھر کون جانے سچ مچ میری گود۔۔۔۔۔مالک جھوٹ تھوڑے کہتے ہوں گے؟حاکم بھی تو بھگوان کا روپ ہوتے ہیں، نہیں تو حاکم کیسے بن جاتے؟ٹینگر کی طرح ٹانگا نہیں ہانکتے؟اس کی سونی گود بھر جائے گی تو ٹینگر کو ایک سہارا مل جائے گا۔بوڑھاپے میں ایک گیلاس پانی کا آسرا ہو جائے گا۔ اوئور کا چاہیے ٹینگرکو؟مالک نے تو کہا بھی ہے۔۔۔۔۔وہ میرا کھیت۔۔۔۔۔
مالک کو کچھ اناپ شناپ کہنے سے پہلے اسے سوچنا بچارنا چاہیے تھا۔گسیّ میں جو منہ میں آیا بک نہیں دینا چاہیے تھا۔گسیّ میں کچھ بجھاتا بھی نہیں ہے، ٹھنڈے من سے ہی بجھاتا ہے۔
ٹینگر نے کروٹ بدل کر سر کے نیچے بانہہ رکھ لیا۔۔۔۔۔
بلایتی چپ کاہے ہے؟کچھ بولتی کاہے نہیں؟کا اسے منجور نہیں؟ارے اتنا سوچنے بچارنے سے کچھ تھوڑے ہوتا ہے؟مالک لوگ ہیں، ہمارا بھلا برا سوچ کر ہی کچھ کرتے کہتے ہیں۔ اوئور اس میں اتنی چنتا کی کا بات ہے؟نہیں ہوگا تو نہیں ہوگا۔آکھر میں مالک ہیں ہی۔کوسس کرنے میں کا ہرج ہے؟آکھر بی ڈی او صاحیب ۔۔۔۔۔ بلوک کے حاکم کے پاس جانا ہے۔ ہر کوئی تھوڑے ہی چلا جاتا ہے؟کیسے کیسے تو موکا ملا ہے بلایتی کو۔اسے بھی ای اچھا برا سوچ کر گنوا رہی ہے۔ ارے ای نہیں جائے گی تو کوئی اوئور چلا جائے گا۔کمی تھوڑے ہے حاکم کو۔۔۔۔۔؟
آکھر اچھا برا سوچنے والے ہم کون ہیں؟مالک لوگ ہیں نا؟ای کا کم ہے کہ بلوک کے حاکم نے اسے ایک نجر دیکھتے ہی بلا لیا۔ نہیں توکتنے تو ان کے دروازہ کو گھیرے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے۔۔۔مجھے۔۔۔پر حاکم لوگ منہ نہیں لگاتے،بھگا دیتے ہیں۔ کا مجھ سے اونہاں کا کریا کرتوت چھپا ہوا ہے؟اوئو ر ایہاں انھوں نے اسے ایک نجر دیکھتے ہی بلا لیا۔آکھر ای ہے ہی ایسی؟میں اس پر ایسے ہی پھکھر نہیں کرتا؟
کروٹ بدل کر ٹینگرسیدھا ہو گیا۔بلایتی نے بھی پیشانی سے ہاتھ ہٹایا۔
کمرے میں گہرا سکوت تھا،گہری تاریکی تھی۔
’ مالک کا بولے؟‘ بلایتی نے سکوت کو ٹٹولا،تاریکی سے پوچھا۔
’ کل تجھے بی ڈی او صاحیب کے پاس جانا ہے۔‘ ٹینگر نے سکوت کو چھوا، تاریکی کو جواب دیا۔
o o o

دوسرے دن صبح صبح ٹینگرتانگا کس کر تیار ہو گیا تھا۔ بلایتی رات والے ٹینگر اور صبح والے ٹینگر میں زمین آسمان کا فرق محسوس کر رہی تھی۔رات کو مالک کے یہاں سے لوٹ کر آنے کے بعدوہ بہت چپ چپ اور گمبھیرتھا۔ نیند بھی اسے کافی دیر کے بعد آئی تھی۔کافی رات تک کروٹیں بدلتا رہا تھالیکن صبح ہوتے ہی اس میں کافی تبدیلی آ گئی تھی۔اس کا چہرہ بشاش ہو اٹھا تھا

اور وہ رہ رہ کر چہک اٹھتا تھا۔بلایتی سے اس نے کہا،’ آج وہ ایسا بنے ٹھنے کہ حاکم دیکھتے رہ جائیں۔ انھیں بھی تو پتا چلے کہ ٹینگر، بلایتی کا مرد ہے۔ساتویں پاس بلایتی کا، کسی ایسی ویسی کا نہیں؟‘
بلایتی کو حیرت ہو رہی تھی ٹینگر کے برتائو پر۔۔۔۔۔’ ای پائوڈر لگا لو،ای بندی لگا لو،جوڑے میں پلاسٹک والا پھولوں کا گجرا لگا لو،او لال ساٹن والی ساڑی پہین لو،جس میں چوڑا گوٹا لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔ہاں، اوئور اب چلو۔۔۔۔۔‘
بلایتی تانگے پر بیٹھ گئی۔ ٹینگر نے پہلے شیراکو چمکارا پچکارا، پھر اسے آگے بڑھنے کے لیے اکسانے لگا۔تانگا چل پڑا۔ بلایتی اونچے نیچے راستوں پر ہچکولے کھانے لگی۔
پہلے پہل وہ ٹینگر کے تانگے پر شادی میںاپنی وداعی کے وقت بیٹھی تھی۔ بڑا عجیب لگا تھا اسے اپنے ہی ٹولے میں گھر سے سسرال تک جانے کے لیے تانگے پر بیٹھنا۔دوری ہی کتنی تھی؟ ٹولے کے اس کونے سے اس کونے تک لیکن اسے اچھا بھی لگا تھا۔ تانگے پر بانس کی کمانچی سے بنے اوہار ( پردہ) کے اندر وہ سمٹی سکڑی بیٹھ گئی تھی۔بغل میں ٹینگر بیٹھا تھا۔تانگا لکھناہانک رہا تھا۔اسی وقت سے اس نے بھوجائی کا رشتہ بنا لیا تھا۔وہی کیا؟شادی کے بعد تو کتنوں نے پرانا رشتہ ختم کر ٹینگرکی جانب سے نیا رشتہ جوڑ لیا تھا۔
تانگے پر اوہار کے اندر بیٹھ کر وہ سسرال آئی تھی۔راستے میں تانگے کے ساتھ اس کا دل بھی ہچکولے کھا رہا تھا۔اوہار کے اندر اسے احساس ہو رہا تھاکہ وہ کس سمت جا رہی ہے؟ اسے یہ بھی پتا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟اور اس کہاں کے تصور سے وہ اندر ہی اندر چٹک مہک رہی تھی۔
آج ٹینگر خود تانگا ہانک رہا تھا۔آج بھی اسے پتا تھا کہ وہ کس سمت کو جا رہی ہے؟ اسے یہ بھی پتا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟ مگر اس کہاں کے تصور سے وہ چٹک مہک نہیں رہی تھی۔ وہ اداس تھی۔اس پر ایک عجیب سی خاموشی مسلط تھی۔وہ اندر ہی اندر جوجھ الجھ رہی تھی۔
ٹینگر تانگا ہانک رہا تھا اور پورے دل سے ہانک رہا تھا۔خود بھی جوش میں تھا اور شیرا کو بھی جوش دلا رہا تھا۔رسی بٹ کر بنایا گیا چابک رہ رہ کر اس کی پیٹھ پر دے مارتا۔چابک پڑتے ہی شیرا دولتی جھاڑ کررفتار پکڑ لیتا۔ٹینگر کچھ گنگنا بھی رہا تھا۔آج وہ پوری مستی میں لگ رہا تھا۔
کوئی سوا ایک ، ڈیڈھ گھنٹے بعد تانگا بلاک آفس کے راستے پر ہو لیا۔کچھ دور چلنے کے بعد بلاک کی چہار دیواری نظر آنے لگی۔بلاک تک کی سڑک پکی تھی مگر بری طرح ٹوٹی ہوئی تھی۔ ہر سال اس کا ٹھیکہ ہوتا تھا مگر دو ماہ گزرتے گزرتے اس میں بڑے بڑے کھڈے بن جاتے تھے۔ کھڈوں میں گرتا اٹھتا تانگا چہار دیواری تک پہنچ گیا۔چہار دیواری کی شروعات ہوتے ہی بلاک کے احاطے میں داخل ہونے کے لیے پھاٹک تھا۔ دائیں جانب کئی کوارٹر پھر ایک تیکھا موڑ اور اس کے بعد بلاک کا آفس۔ بلاک آفس کے گیٹ کے پاس سولر ٹیلی فون کے ٹاور کے نیچے پتھر کا نشان امتیاز جس پر جنگ آزادی میں شہید ہوئے تحصیل کے شہداکے نام کھدے تھے۔بلاک آفس سے لگے ہوئے شنکربھگوان کا ایک چھوٹا سا مندر۔اس سے متصل جانوروں کا اسپتال، جو اکثر بند رہتا تھا اور جس کے ایک کمرے میں بلاک حروف شناسی مہم کا دفتر چلتا تھا۔ دوسری طرف ٹرائسم بھو ن جس میں ان دنوں سی آر پی ایفE/67 بٹالین کی کمپنی تعینات تھی۔ بالکل اس کے سامنے ایک طرف کسان بھون، درمیان میں بہار شکشا پریوجنابھون اور اس کی دوسری جانب آنگن باڑی کیندر۔ بہار شکشا پریوجنا بھون ابھی زیر تعمیر تھا اور اس میں چھت ڈھلائی کا کام چل رہا تھا۔ان سبوں کے بیچ سے یہ راستہ ٹیڑھا میڑھا چلتا ہوا دوسری طرف کے پھاٹک سے باہرمین سڑک پر نکل گیا تھا۔
آج سنیچرکا دن تھا۔بلاک آفس کے احاطے میںتقریباً سناٹا تھا۔سی آر پی ایف والوں کے میس کے پاس کچھ جوان بڑے بڑے مگوں میں چائے پی رہے تھے۔بغل میں سی آر پی ایف کا دھوبی کپڑوں پر استری کر رہا تھا۔اسی سے سٹے ہوئے بوڑھے پیپل کے پیڑ کے نیچے ان کا نائی ا پنی گمٹی نما سیلون میں شیشے پر پانی کے چھینٹیںمارنے کے بعد اس پر اخبار

رگڑ کر اسے صاف کر رہا تھا۔ دیکھا جائے تو وہاںچہل پہل کے نام پر بس اتنا ہی کچھ تھا۔البتہ دوسری طرف کے پھاٹک کے پاس کچھ زیادہ چہل پہل تھی ۔ وہاں چائے سموسے کی دکانوں اور پان سگریٹ کی گمٹیوں پرکھڑے کچھ لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ وہیں پر بس پڑائو تھا جس کی چھائونی میں کچھ لوگ بس کے آنے کے منتظر تھے۔
پھاٹک کے اندر تانگا داخل ہوا تو بلایتی کا کلیجہ دھک دھک کرنے لگا۔سب سے کنارے والے کوارٹر میں بی ڈی او صاحب رہتے تھے۔اکیلے ہی رہتے تھے۔ اکیلے کیا؟ پوکھری بلاک کی ایک اے این ایم کاان کی رہایش پر اکثر آنا جانا لگا رہتا تھا۔اس بلاک میں بی ڈی او بن کر آنے سے قبل وہ پوکھری میں اگریکلچر افسر تھے۔
ان کے کوارٹر سے پہلے ہی سادھو مل گیا تھا۔ہاتھ کو ہلا کر تانگا روکنے کا اشارہ کر رہا تھا۔پورے بلاک کے احاطے میں سادھو کا کرداربھی ایک انوکھا کردار تھا۔
سیاہ چکٹ سادھوہمیشہ ٹخنوں سے ذرا نیچے تک لنگی اور خاکی رنگ کا سپاہیوں والا کرتا پہنے رہتا تھا۔یوں تو کہنے کے لیے وہ بلاک کے جانوروں کے اسپتال میں چپراسی کے عہدے پر مامو ر تھالیکن وہ وہاں کا چھوڑ کر بقیہ ہر جگہ کا کام کرتا دکھائی دیتا تھا۔ کبھی سی آر پی ایف کے جوانوں کے لیے خصی کٹوا رہا ہوتاتو کبھی بلاک کے بڑا بابو کے گھر سبزی پہنچا رہا ہوتا۔کبھی بی ڈی او صاحب سے کسی ٹھیکے دار کی پیروی کر رہا ہوتاتو کبھی کسی ٹھیکے دار کا بل وائوچر پاس کروا رہا ہوتا۔ ہر دل عزیز، ہر کسی کا راز دار۔جس کا جو معاملہ اسی تک محدود۔ مجال جو کسی دوسرے کو بھنک بھی لگ جائے لیکن خاص طور سے وہ بی ڈی او صاحب کی ہی خدمت میں رہتا تھا۔چوکا برتن کرنے سے لے کر بدن ہاتھ کرنے تک۔آفس کا کام چھوڑ کر بی ڈی او صاحب کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو جوسادھوکے بغیر ہو پاتا ہو۔آفس کے کاموں میں بھی کچھ کام ایسے تھے جو اس کے بغیر نہیں ہو سکتے تھے۔
سادھو کے قریب پہنچ کر ٹینگر نے لگام کھینچی اور تانگا رک گیا۔
’ مالک آ گئے ہیں کا؟‘ ٹینگر تانگے سے اترتا ہو بولا۔
’ ارے او تو کب سے راہ تاک رہے ہیں۔‘
ٹینگر کے اشارے پر بلایتی بھی تانگا سے نیچے آ گئی۔اس کا کلیجا دھڑ دھڑ دھڑک رہا تھا۔
تینوں پیدل چلتے ہوئے کوارٹر کی جانب بڑھنے لگے۔سادھواور ٹینگر آگے آگے اور بلایتی پیچھے پیچھے۔ایسا ظاہر ہو تاتھا کہ بلایتی کے گلے میں کوئیـ ــ’پگہا‘ بندھا ہو جس کی ڈور پکڑ کر وہ دونوں آگے آگے چل رہے ہوں۔ـ کوارٹر کے برآمدے میں پنڈت جی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بر آمدے میں پہنچ کر تینوں رک گئے۔پنڈت جی نے ایک نظر بلایتی پر ڈالی۔وہ سر جھکائے گم صم کھڑی تھی۔پھر انھوں نے ٹینگر کو دیکھا۔ وہ گم صم تو نہیں تھا لیکن چپ تھا۔سادھو ان لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اندر چلا گیا۔ذرا دیر بعد لوٹا اور بولا،’ ہجور بلا رہے ہیں۔‘
پنڈت جی نے بلایتی کو دیکھا۔ اس بار بلایتی نے بھی آنکھیں اٹھائیں اورپنڈت جی کو دیکھا۔ ٹینگر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اندر جانے کے لیے کہا۔وہ گردن جھکائے سادھو کے ساتھ اندر چلی گئی۔
اس کے اندر جاتے ہی ٹینگر بے چین ہونے لگا۔ بے چینی میں وہ برآمدہ میں ٹہلنے لگا۔کبھی ہاتھ آگے کرتا کبھی پیچھے باندھ لیتا۔پھر اس نے لرزتی آواز میں پنڈت جی سے پوچھا، ـ’مالک، کچھ گڑبڑ نہیں ہوگا نا۔۔۔۔۔؟‘
پنڈت جی سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے، چونکے اور بولے،’ نہیں رے، گڑ بڑ کیا ہوگی۔۔۔۔۔؟‘ ابھی وہ مزیدکچھ کہنے والے تھے کہ اند ر سے سادھو واردہوا۔ اس نے گہری نظر سے پنڈت جی کو دیکھا۔ پنڈت جی کے چہرے پر اطمینان کا تأثر پھیل گیا۔ انھوں نے ٹینگر سے کہا، ’’ٹینگر، تم ایک کام کرو، پتا نہیں کتنی دیر لگے، تم بے کار اپنی روزی روٹی خراب کروگے، جائو جاکر کچھ کما دھما لو، تب تک بلایتی یہیں رہے گی۔ شام کو آکر اسے لیوا جانا۔‘

لیکن مالک۔۔۔۔۔؟‘ ٹینگر کے چہرے پر الجھن کے آثاردکھائی دینے لگے۔
’ ارے کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔حاکم تمہاری بلایتی کو کھا نہیں جائیں گے۔ تو بے فکر ہو کے جا، میں بھی اب گائوں لوٹنے کی سوچ رہا ہوں۔آج گرمی بھی بہت ہے۔‘ وہ اپنے کرتے کے دامن سے ہوا کرنے لگے۔
’ جی اچھا مالک۔۔۔۔۔‘ وہ گمچھا کندھے پر پھینکتا ہوا بولا،’سانجھ کو آکر اسے لے جائوں گا۔‘ کہتا ہوا وہ تانگے کی جانب بڑھ گیا۔
پنڈت جی اسے تب تک دیکھتے رہے جب تک وہ تانگا لے کر آنکھوں کی حدسے غائب نہ ہو گیا۔
’ اب میں چلتا ہوں سادھو۔۔۔ خیال رکھنا۔۔۔اس وقت صاحب سے ملنے کوئی نہ آئے۔۔۔‘
ـ ’ آپ بے پھکر جائیے نا ہجور۔۔۔ای سب آپ کو سمجھانا نہیں پڑے گا۔۔۔۔۔‘ سادھو کے چکٹ چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔
شام کو بلایتی کو لینے ٹینگر آیا توسادھوبرآمدے میں بیٹھا ہوا تھا۔اسی کرسی پر جس پر پنڈت جی بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے اسے آتے ہوئے دیکھا تو اٹھ کر اندر چلا گیا۔لوٹ کر آیا تو بلایتی اس کے ساتھ باہر آئی۔ وہ چپ چاپ تانگے پر بیٹھ گئی۔ ٹینگر نے دیکھا، اس کے گالوں پر پائو ڈر کی چکناہٹ نہیں تھی اور اس کی بندی بھی اکھڑ گئی تھی۔
’گرمی بھی تو بہت ہے۔۔۔پسینا سے سب بنائو سنگار چوپٹ ہو جاتا ہے۔۔۔‘اس نے سوچا۔
’ اچھا تو اب ہم چلتے ہیں بھیا۔۔۔‘ اس نے گردن ہلا کر سادھو سے کہا اور تانگے کو بڑھا دیا۔
تانگا ناہموار رستے پر بڑھا جا رہا تھا۔بلایتی گھٹنوںمیں منہ دیے بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی۔ سرخ رنگ سے رنگے ہوئے اس کے اجلے اجلے پیر اس کے سامنے تھے۔ اس کی نظریں اپنے پیروں پر گڑی ہوئی تھیں۔
اچانک اسے احساس ہوا، اس کے اجلے، دودھ جیسے پیروں پرنیلے نیلے چکتوں کے نشان اگ آئے ہیں۔
وہ سہر اٹھی۔سانپ اسی رستے اوپر چڑھا تھا اور اس سے ایسے لپٹ گیاتھا جیسے وہ چندن کا پیڑ ہو۔
’ حا۔۔۔کم۔‘
اس کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ وہ پلنگ پر اینٹھنے لگی۔سانپ اس کے جسم سے چھال نوچ کر الگ کرنے لگاپھر اس نے اپنی کینچل بھی اتار دیے۔جب وہ کینچل سے باہر آیا تو بے قابو ہو گیا۔تھوتھنے رگڑنے لگا۔ منہ سے پھنکار نکالنے لگا۔اس کا پورا جسم اس کے لعاب سے چپ چپ کرنے لگا۔وہ بے رحمی سے اسے چاٹتا رہا۔اچانک وہ نیچے سرک گیا۔پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔پھر اپنی لپلپاتی زبان۔۔۔۔۔ وہ تڑپنے لگی اور اس کے منہ سے بھی، نہ جانے کیسی کیسی آوازیں نکلنے لگیں۔
’ حاکم۔۔۔حا۔۔۔کم۔۔۔‘
وہ چھٹ پٹاتی رہی اور سانپ۔۔۔ چپڑ۔۔۔چپڑ۔۔۔ چاٹتا رہا۔چہرہ گیلا ہو جاتا تو الگ ہو کر ہانپنے لگتا۔عجیب نظروں سے۔ مجبور ، بے بس سا اسے دیکھنے لگتا۔
جب وہ اٹھ کر اپنے آپ کو سمیٹ رہی تھی ، اس نے دیکھا، سانپ کا دانت، جس کا زہر اگلنے میں وہ پورا دن ناکام رہا تھا ، فالج زدہ چوہے کی طرح جھول رہا تھا۔
’ حاکم نے کا کیا؟‘
اسے محسوس ہوا، ٹینگر کچھ بول رہا ہے۔
’منہ سے چپڑ چپڑ۔‘ گویا اس کے منہ سے نکلا۔

’ ارے منہ سے چپڑ چپڑ تو کریںگے ہی۔عمر بھی تو ہو گئی ہے حاکم کی؟‘
وہ ہوش میں آئی۔
ٹینگرسچ مچ بول رہا تھا اور اس کے منہ سے بھی سچ مچ ہی نکلا تھا۔
’ اس عمر میں چپڑ چپڑ نہیں کریںگے تو اوئور کا کریںگے؟ لیکن کا سچ مچ اوئور کچھ بھی نہیں کیا حاکم نے؟‘ وہ حیرت کے ساتھ سوچ میں پڑ گیا۔
’ نہیںسرف ہرس تھا بڈھے کا۔‘وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
’ ارے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ سرف ہرس ہو،کچھ بھی نہیں کریں۔کچھ کرنے کے لیے ہی تو بلایا تھا انہوں نے۔ہو سکتا ہے پھر باد میں۔۔۔‘
بلایتی نے بھاری پلکوں کو اٹھا کر اسے دیکھا۔
’ ایگو بات کہیں؟‘
وہ دھیرے سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔
’ ایگو کا ،دس گو کہو۔‘
وہ مستی میں جھوم کر بولا۔
’ ای ٹھیک نہیں۔اب میںاونہاں نہیں جائوںگی۔‘ مشکل سے وہ کہہ پائی۔
تجھے ہی سب بجھاتا ہے کا؟ اب تو جیادہ چپڑ چپڑ مت کر۔۔۔۔۔‘
وہ ٹینگر کا منہ تکتی رہ گئی۔
تانگا گائوں کے قریب پہنچتا جا رہا تھا۔ مغرب کی جانب سرخی تھی۔ آفتاب غروب ہو رہا تھا۔
——-
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
صغیر رحمانی عہد حاضر میںصف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کا اصلی نام محمد صغیر عالم ہے ۔جنوری 1969کو ضلع آرہ ،صوبہ بہار کےمرحوم عبدالرحمان صاحب کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے دیہی ترقی میں ایم ۔اے کیا ۔ ایک بڑی آرگنائزیشن میںاعلیٰ عہدے پہ فائز ہیں ۔ چار افسانوی مجموعے پرانے گھر کا چاند ، واپسی سے پہلے، جہاد، اور داڑھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کے ناول " تخم خوں"نےرکارڈ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسے دلت ڈسکورس کا پہلا ناول بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک ہندی ناول اشیش بھی منظر عام پہ آ چکا ہے ۔
1 Comment

کمنٹ کریں