تخمِ خوں (مکمل ناول)

, تخمِ خوں (مکمل ناول)

پہلی قسط

ایک

ٹینگررام پیتل کی تھالی بجا رہا تھا۔
تھالی کے شورسے پورے ببھن گاواں گاؤں کو علم ہو گیا کہ امیشوردت پاٹھک کے گھر میں دیوتا کا جنم ہوا ہے۔ پاٹھک جی بے انتہاخوش تھے۔ ان کے پیر زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ جانے کتنے دیوی دیوتاؤں کو پوجنے اور منت چڑھاوا کے بعد ان کے گھر میں بر مہانے منہ کھولا تھا۔ ڈھلتی عمر میں پہلی اولاد، وہ بھی بیٹا۔ گویا ان کی ڈوبتی نیا کو کنارہ مل گیا تھا۔
پاٹھک جی کو اوپر والے نے سب کچھ دیا تھا۔ زمین جائداد ، گاڑی گھوڑا، عزت ووقار ، کیا کچھ نہیں۔ کمی تھی تو ان کے لیے ایک وارث کی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود پاٹھک جی کے اندرون میں ایک طرح کے خلا کا احساس مسلط رہتا۔ اتنا سب کچھ ہونے کا کیا فائدہ؟ جب کہ سارا کچھ ان کے بعد ختم ہی ہونے والا تھا۔تنکا تنکا بکھرنے والا تھا۔ کوئی نام لینے والا نہ تھا۔ ان ساری باتوں نے پاٹھک جی کو قدرے مایوس کرکے رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر یہ بات کائی کی طرح جم گئی تھی کہ ان کی افزائش نسل نہ ہو سکے گی، ان کے خاندان کا سلسلہ آگے نہ بڑ ھ سکے گا۔ایسی حالت میں کان بھرنے والوں کی بھی کمی نہ تھی۔ ’دوسری شادی کرلیں بابا۔ کوٹھری ہی خالی ہے تو کہاں سے آئے گا چراغ جلانے والا۔کم سے کم مرنے کے بعد منہ کو آگ تو نصیب ہوگی ورنہ اس لوک میں بھی کسی طرح چین نہ آئے گا۔۔۔‘
باتیں ہزار ہوا کرتی تھیں مگر وہ صرف باتیں ہی ہوا کرتی تھیں ۔ پاٹھک جی کان کے ذرا بھی کچے نہ تھے۔انھوں نے کبھی بھی ان باتوں کو خاطر میں لانے کی کوشش کی ہی نہیں۔انھیں پوری طرح یقین تھا کہ اسی سیاہ کوٹھری سے ان کے آنگن میں ایک دن کلکاری گونجے گی اور طرح طرح کی باتیں بنانے والوں کی انگلیاں دانتوں تلے دب جائیں گی۔ اور آج صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جب انھیں خبر ملی کہ مالکن نے کیسر ملے دودھ کی طرح سرخ اور روئی کے پھاہے جیسا نرم خاندان کے رکھوالے کو پیدا کیا ہے تو ان کی آنکھوں میں بے شمار کنوارے خوابوں کی تعبیر رقص کرنے لگی۔اندرون میں اس قدر تلاطم مچا کہ سارے طور طر یقوں کو طاق پر رکھ کر زچہ خانے کی جانب لپک پڑے۔
زچہ خانے کے دروازے پر لکڑیاں جل رہی تھیں۔ پاٹھک جی دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ سامنے مالکن لیٹی ہوئی تھیں۔ ان کی بغل میں پرانی ساڑھی کے تہہ کیے پھلیا میں لپٹا ہوا ہاڑ مانس کا ایک زندہ ٹکڑا کلبلا رہا تھا۔ پاٹھک جی نے بھیگی آنکھوں سے پہلے مالکن کو دیکھا اور ہاتھوں کو ذرا اوپر اٹھا کر کچھ کہنے کی کوشش کی، گویا پوچھ رہے ہوں، تم ٹھیک ہو نا نرملا؟ مالکن بھی جیسے ان کے کنایہ کو سمجھ رہی تھیں۔ پلکوں کو بھینچ کر دھیرے سے گردن کو جنبش دیں، گویا کہہ رہی ہوں، میں ٹھیک ہوں ناتھ، اور ہمارا بچہ بھی ٹھیک ہے۔ سب اوپر والے کی کرپا ہے۔
پاٹھک جی خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ اضطراب نے انھیں اس قدر محصور کیا کہ زچہ خانہ کے اندر داخل ہو گئے اورپھلیا سمیت بچے کو گود میں اٹھا لیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے مستقبل کا عکس نمایاں تھا۔چوں کہ ابھی اس کے نین نقش پوری طرح واضح نہیں تھے، محض ایک گول مٹول گوشت کاروآں دار گلابی لوتھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ بہت غور کرنے پر اس کی بھینچی ہوئیںآنکھیں اور ناک کے دو سوراخ واضح ہو رہے تھے مگر اس منظر کو پاٹھک جی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں میں مقید کر لینا چاہتے تھے۔ان کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔ پاٹھک جی نہ جانے کب تک اسی میں منہمک رہتے کہ انھیں وہاں کسی تیسرے کی موجودگی کا احساس ہوا۔ انھوں نے گردن گھما کر دیکھا۔
’ارے بلایتی تم؟‘
’اس بے چاری نے پوری رات بڑی محنت کی ہے۔‘مالکن نے کہا۔
’درد تو پچھلے پہر سے ہی شروع ہو گیا تھا مگر کچھ ہوہوا نہیں رہا تھا۔ میں درد سے چھٹ پٹا رہی تھی ۔اس نے ہاتھ لگا کر دیکھا تو بچے کا سر اُلٹ گیا تھا۔ اس کی بڑی جتن اور ہوشیاری کے بعد بچہ صحیح سلامت پیدا ہو سکا ہے۔ ناتھ، اسے اس کی محنتانہ کے علاوہ کچھ انعام بھی ملنا چاہیے۔ـ‘
’ہاںہاں،کیوں نہیں۔لیکن تم وہاں کیوں کھڑی ہو؟ سامنے تو آؤ۔‘
بلایتی دھیرے دھیرے سامنے آئی۔
پاٹھک جی نے کہا۔ ’کہو تمھیں کیا انعام چاہیے؟‘
وہ چپ رہی۔ پاٹھک جی کے ہاتھ میں کلبلا رہے ان کے بچے کو دیکھتی رہی۔
’ارے بول نا؟‘ پاٹھک جی نے دوبارہ پوچھا۔
’میں کابولوں۔آپ مالک ہیں۔ ‘وہ دھیرے سے بولی۔
’ارے میں تو تجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مالکن کی خدمت میںرکھ لوں مگر۔۔۔۔۔ خیر جانے دو۔فی الحال انعام کے طور پر یہ رکھو۔‘ پاٹھک جی نے کرتے کی جیب سے کچھ روپے نکال کر اس کی جانب بڑھائے۔ وہ سر جھکائے خاموش کھڑی رہی۔
’لو، رکھ لو اسے۔‘
’رکھ لے بلایتی۔تیری بخشش ہے۔‘مالکن نے اسے چپ دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔
اس نے ہاتھ بڑ ھا کر روپے لے لیے۔پاٹھک جی مالکن سے مخاطب ہوئے۔
’ارے ہاں، میں تو بھول ہی گیا تھا۔بچے کی جنم کنڈلی تیار کرنے کے لیے پنڈت کا نا تیواری سے کہناہوگا۔ مالکن، آپ بیٹے کے قرب کا سکھ اٹھائیں۔میں چلا پنڈت جی کے گھر۔‘ بچے کی پیشانی چوم کر انھوں نے مالکن کی بغل میں لٹا دیا اور جاتے جاتے رکے اور مڑکربولے۔
’ارے ہاں بلایتی، ابھی تجھے دو چار دنوںتک مالکن کی خدمت میں رہنا ہوگا۔میں پنڈت جی کو اس کی خبر دے دوں گا۔‘
پاٹھک جی زچہ خانے سے باہر نکل گئے اور بلایتی کی نظر بچے پر مرکوز ہو گئی۔
****

مالکن کے چہرے پر بے انتہا خوشی اور اطمینان کے تاثر ات تھے۔ ان کے رخسار ممتا کی چاندی سے دمک رہے تھے اور وہ اَن چھوئے احساسات کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب کر اترارہی تھیں۔ ان کی بغل میں لیٹا ہوا ان کا بچہ رہ رہ کر کلبلا اٹھتا تھا۔بلایتی کبھی بچے کو اور کبھی مالکن کے دمکتے چہرہ کو دیکھتی ۔ اس کی نظر مالکن کے چہرے پر مرکوز ہوکر رہ جاتی۔
اس نے اپنے اندر سے سانسوں کا ذخیرہ ا گل کر باہر کیا اور خلا میں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
دس سال۔۔۔ ٹینگر سے شادی ہوئے پورے دس سال ہو گئے۔ اس بیچ اس کی زمین میں گھاس پھوس تو دور، جھاڑجھنگار بھی نہیں اگا۔ کچھ روزقبل گائوںمیں ایک اوجھاجی آئے ہوئے تھے۔ وہ بہت پہنچے ہوئے اور گیانی اوجھاتھے۔ ان کی جٹا ئیں لمبی لمبی اور الجھی ہوئی تھیں اور آنکھیں ہر وقت انگارے کی طرح سلگتی رہتی تھیں۔ جلدی کوئی ان کے قریب نہیں آنا چاہتا تھا۔ وہ تین دنوں تک گائوں سے باہر نہر کے کنارے والے پیپل کے پیڑ کے نیچے بیٹھے رہے۔ انھوں نے بلایتی کو دیکھا تھا۔ دیکھنے کے بعد بولے تھے۔
’مرد کو ساتھ لے کر آ۔۔۔۔۔‘
وہ ٹینگرکو لے کر گئی تھی۔ دونوں کو دیکھنے کے بعد انھوں نے کہا تھا ۔
’ کھیت ہی خراب ہے، بیج انکھوا نہیں پا رہا ہے، کھیت کو کسی براہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘
اس نے سیکڑوں عورتوں کے ہاں زچگی کا کام کیا تھا بلکہ بچپن سے ہی اس کام سے جڑی تھی۔ اس کی ماں علاقے کی سگھڑ اور تجربہ کار چمئین تھی۔ شکم کی ساخت اور چہر ے کی رنگت دیکھ کر بتا دیتی تھی کہ بچہ کس دن اور کس وقت پیدا ہوگا۔
قرب وجوار کے خواہ جس کسی گائوں میں زچگی ہونے کو ہوتی، ہفتہ دن قبل ہی اس کا بلاوا آتا لیکن اس کی ماں بالکل وقت پر وہاں پہنچتی گویا اسے علم ہوتا تھا کہ وہ پہنچے گی اور بچے دانی کا منہ کھلے گا۔اپنی ماں کے ساتھ وہ بھی جایا کرتی۔ اس کے کاموں میں ہاتھ بٹایا کرتی۔ ما ں نے ایک ایک باریکیوں کی تفصیل اسے سمجھائی تھی ۔اس نے ان ساری باریکیوں اور پیچیدگیوں کی خوب اچھی طرح گرہ باندھ لی تھی اور جس وجہ سے وہ اپنی ماں سے بھی دو قدم آگے نکل گئی تھی۔ وہ تو یہاں تک بتانے کی اہلیت رکھتی تھی کہ بیٹا ہوگا کہ بیٹی۔ مالکن کو دیکھنے کے بعد اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بیٹا ہوگا۔
اس کے مشاق اور تجربہ کار ہاتھوں نے سیکڑوں زچگی کرائے تھے۔ اس کی آنکھوں نے سیکڑوں عورتوں کو درد سے چھٹ پٹاتے دیکھا تھا۔ اس کے کانوں نے سیکڑوں عورتوں کے درد کی چیخوں کو سنا تھا۔ وہ اس بات سے واقف تھی کہ درد ہوتا ہے۔بے انتہا درد ہوتا ہے۔ جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آتا ہے۔آنکھوں کے دیدے باہر کی جانب ابل آتے ہیں اور دانت ایک دوجے سے چمٹ جاتے ہیں۔وہ سب جانتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ درد کیسا ہوتا ہے؟ اس کی پیڑا کیسی ہوتی ہے؟ اس درد کے احساس کی لذت آمیزی کیسی ہوتی ہے؟ یہ سب وہ نہیں جانتی تھی ۔
اس کے باطن کے کسی گوشے سے ایک ٹیس اٹھی اور وہ خلا سے نظریں منتقل کرکے ایک بار پھر بچے کو دیکھنے لگی۔ وہ کلبلا رہا تھا اورہاتھ پیر پٹک رہا تھا۔بلایتی کو سمجھتے ذرا بھی دیر نہ لگی کہ اس کی تیل مالش کا وقت ہو چلا ہے۔
وہ اپنی ٹانگیوں کو لمبی کرکے بیٹھ گئی اور اس پر بچے کو لٹا لیا۔ ہاتھ کی چار انگلیاں ملیا میں ڈبو کر تیل چپچپایا اس نے اور اس کے ننھے روآںدار جسم پر ہلکی ہلکی مالش کرنے لگی۔ اس وقت اس کے چہرے سے کئی طرح کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں اور اس کے ہونٹوں سے دھیرے دھیرے کسی نغمے کے بول جاری تھے۔
*****

چھٹی کے دن پموریے آدھمکے۔ یہ بن بلائے مہمان ہوتے ہیں۔ ان کی خاطر تواضع مدعو کیے گئے سالے اور ساڑھوں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی ہے۔ویسے پموریے اب شاذونادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ بہت ساری غائب ہوتی جا رہی مخلوق کی طرح ان کا شمار بھی کم ہو تاجا رہاہے۔ جو چند ایک بچے ہیں انھوں نے کفالت کے لیے اپنے روایتی پیشے کو چھوڑ دیا ہے اور دیگر راہ اختیار کر لی ہے۔ اکاد کااس پیشے میں ہیں بھی تو ان کا کوئی مستقل ٹھوڑ ٹھکانا نہیں رہ گیاہے۔ گھومتے پھرتے کہیں مل گئے تو مل گئے۔
یہ بھی کہیں سے گھومتے پھرتے ادھر آنکلے تھے اور جب انھیں پتا چلا کہ پاٹھک جی کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے تو پھر دیر کس بات کی تھی، آدھمکے دروازے پر اور بنا کسی کی سنے آنگن میں داخل ہو گئے۔ ایک تماشا کھڑا ہو گیا۔ انھوں نے ہزار بلائیںلیں بچے کی اور ہزار مالکن کی۔ پاٹھک جی پکڑے نہیں گئے۔ وہ دالان کی محفل میں جمے رہے۔
دالان میں ایک الگ طرح کا تماشا کھڑا تھا۔ ٹھہا کوں اور قہقہوں سے دالان گونج رہا تھا۔ چوبے جی کہہ رہے تھے، ’اجی پاٹھک جی ،آخر پاٹھک جی ٹھہرے۔ اس عمر میں بھی انھوںنے ہار نہیں مانی۔ ‘ اس بہانے ان کی مردانگی کی خوب جم کے تعریف ہو رہی تھی۔
گھر کے اندر پموریے ڈیر اڈالے بیٹھے تھے۔’مالک آئیں۔انھوںنے ہزار بلائیں نہیں دیں۔اب ہزار روپے دیں۔تبھی اٹھیں گیــ۔‘ بات دالان تک جا پہنچی۔ پاٹھک جی کو آنا ہی پڑا۔ پموریے پھر ٹھمکے،’ارے بچے کے باپ کو بلائو، دادا کو نہیں۔‘
’یہ باپ ہی ہیں، دادا نہیں۔‘ اندر سے کسی لگنے والی نے شگوفہ چھوڑا۔پورا آنگن ٹھہاکوں سے گونج اٹھاگویا پموریوں کے ہاتھ کوئی کھلونا لگ گیاہو۔
’ بوڑ ھاپے میں باپ بنے ہو بابو۔ ہائے ہائے، ہزار روپے نکالو۔‘ انھوں نے پاٹھک جی کو گھیر کر چاروں جانب سے حلقہ بنا لیا اور تماشا کرنے لگے۔ پاٹھک جی پریشان ہو اٹھے۔ آخر کار معاملہ پانچ سو پر طے پایا ۔ گھر سے نکلتے نکلتے پموریے پھر ٹھٹکے، ’ارے بچوا کا ایک چما تو لے لینے دو۔‘ وہ بچے کے قریب پہنچے۔ باری باری سے اسے چوما۔ ’ہزار سال جیو میرے لال۔‘ ہزار ہزار دعائیں دیں۔ ان میں سے ایک نے مالکن کے رخسارکی جانب اپنا منہ بڑھایا۔ مالکن نے شرما کر آنچل میں منہ چھپا لیا۔
اس گہما گہمی میں بلایتی کسی کی خام خیالی میں بھی نہ تھی۔ آج صبح تک ، غسل کرنے سے قبل تک بچہ اور مالکن کے لیے وہی سب کچھ تھی۔ غسل کے بعد اپنے، اپنوں کے بیچ چلے گئے تھے۔ مالکن دلہن کی طرح سجی سنوری ، زیورات سے لدی پھدی عورتوں سے گھری بیٹھی تھیں اور بچہ کبھی اس گود، کبھی اس گود۔ گویا سب اسے اپنے حصے کا سمجھ رہے تھے۔دھوبن زچہ خانہ لیپ پوت کر اور اپنی بخشش لے کر جا چکی تھی۔نائین سب کے پیروں کو رنگ رہی تھی۔ جن کے پیر رنگے جا چکے تھے انھیں پان کی گلوریاں کھلائی جا رہی تھیں۔ چھوٹے بچے پان کھائے، منہ لال کیے یہاں وہاں پچ پچ کیے پھر رہے تھے۔ ایک دوسرے کو اپنی اپنی زبان نکال کر دکھا رہے تھے۔ ’اے دیکھ میرا کتنالال ہواہے۔ میری ساسو ماں تو میری بڑی خاطر کرے گی۔‘گائوں میں ایسا عام ہے، پان کھانے سے جس کامنہ جتنا سرخ ہوگا، اس کی ساس اسے اتنا ہی زیادہ مانے گی۔
بر آمدہ میں عورتوں اور لڑکیوں کا ایک غول ڈھولک کی تھاپ پر خاندان کے دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے گیت گا رہا تھا۔بچے اور مالکن کی آنکھوں میں کاجل لگانے کی رسم کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہ رسم نند کے لیے ہوتی ہے۔ اس بہانے بھائی بھابھی سے جو چاہے وہ مانگ لے۔وہی کیارمانے۔ بھابھی اور بھتیجے کی ایک ایک آنکھ میں کاجل لگانے کے بعد اڑیل ٹٹو سی اڑگئی، ’ پورے پانچ تولے کا پکّی جڑائی والا کنگن لوں گی تبھی د ونوں کی دوسری آنکھوں میں کاجل پورے کروں گی۔‘ مالکن ایک آنکھ کھولے اور ایک بند کیے درمیان میں لٹک رہی تھیں۔ انہیں ایک آنکھ سے سب کو دیکھنے میں بڑا عجیب لگ رہا تھا۔
’پانچ تولے کا دام بہت ہو جائے گا۔ کاجل لگا دے رما۔‘کسی نے پیچھے سے گھڑکی دی۔ لیکن رما کیوں ماننے لگی۔’بہت ہوتا ہے تو ہو جائے۔ بھتیجے سے بڑھ کر تو کچھ بھی نہیں۔آخر کار مالکن نے حامی بھری کہ وہ اس کے بھیا سے بول کر پانچ تولے کا کنگن منگوادیںگی، تب اس نےدونوں کی آنکھوں میں کاجل مکمل کیے۔
گھر میں جشن ہو رہا تھا۔ بچے اچھل کود کر رہے تھے۔ عورتیں ہنسی ٹھٹو لی کر رہی تھیں اور لڑکیاں ناچ گانے میں مصروف تھیں۔ اسی درمیان کھانے پینے کا دور بھی چل رہا تھا۔ کڑھی، بڑے، بچکے، کچوری، جلیبی اور رس گلے ۔ایک سے بڑھ کر ایک لذیذ اور خوش ذائقہ پکوانوں کی خوشبو ہوا میں تیر رہی تھی۔ مبارک باد دینے والوں کا تانتا لگا ہوا تھا۔ لوگ آ رہے تھے، جا رہے تھے۔ بھیڑ کم نہیں ہو رہی تھی۔ بچے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک تحفے تحائف، کپڑے اور کھلونے لائے جا رہے تھے۔
بلایتی نے بھی اپنی بخشش کے پیسے سے بچے کے لیے ایک گڑیا خریدا تھا لیکن وہ اسے دے نہیں پا رہی تھی۔ اسے اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیںمالک اور مالکن ناراض نہ ہو جائیں۔انھیں ناگوار نہ گزرے۔ تحائف تو برابری والوں میں لیے اور دیے جاتے ہیں۔ دراصل اس کی یہ حرکت انوکھی تھی ہی۔ گستاخی اور بے ادبی کی سرحدوں سے گزرتا اس کا حوصلہ تھا۔ طے شدہ مقام سے انحراف تھا۔ کہیں ، کبھی نہ سنا گیا اور نہ دیکھا گیا کہ بچہ پیدا کرانے والی کوئی کم ذات اپنے مالکوں کو کوئی تحفہ دے۔
لیکن اس کا من نہیں مانا تھا۔ اس نے کتنی بار خود کو سمجھانے کی کوشش کی تھی، ’ بلایتی‘ ای تو کاکررہی ہے؟ کا کرنے جا رہی ہے؟ تیری یہ حرکت تجھے بے عزت کر دے گی۔ بلایتی‘ اتنا حوصلہ مت دکھا۔ لیکن اس سے رہا نہیں گیا۔
اس نے نہ جانے کتنے بچوں کی ناڑ کاٹی تھی، کتنوںکے نرم نرم پوروں میں تیل کی مالش کی تھی مگر اس کے جیسی انسیت کسی سے نہیں ہوئی۔ اس نے اس کے اندر دبی راکھ کی چنگاری کو پھونک مار دی تھی۔ اس کے باطن میں کچھ سلگنے لگا تھا۔ اس کی خواہش ہوتی وہ اسے اپنی گود میں لے کر پچکارتی رہے۔ اپنے سینے سے لگا ئے رہے۔بھینچی بھینچی آنکھوں میں جھانکتی رہے۔ اس سے باتیں کرتی رہے۔ ’اے منا‘ تو جلدی سے بڑا ہو جا۔ جلدی سے دولہا بن جا۔چندا ماما دور کے۔ پوا پکاوے گڑکیــ۔ اپنے کھائے تھالی میں۔ مناکو دے پیالی میں۔ پیالی گئی ٹوٹــ۔ منا گیا روٹھ۔‘
یک لخت اسے محسوس ہوا، بچہ اس کی گود میں کلبلانے لگا ہے۔ پھر اس کے پستا نوں میں اپنا چہرہ رگڑنے لگا ہے۔اس نے بلائوز کے اندر سے اپنا ایک پستان باہر نکالا۔ بچے نے اس کے اگلے حصے کو اپنے پتلے پتلے ہونٹوں کے درمیان دبا لیا اور دھیرے دھیرے چوسنے لگا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی سہرن پیدا ہونے لگی۔ عجیب سی سرسراہٹ گویا چشمے سے کچھ بہہ رہا ہو۔ اس کاپورا جسم گدگدی سے لرز نے لگا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ چہار جانب خوشیاں دکھائی دینے لگیں۔ وہ خوشیوں کو چھونے لگی۔ وہ خوشیوں کو پینے لگی۔ وہ خوشیوں میں نہانے لگی۔اچانک اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ بچے نے پستان سے منہ ہٹا لیا۔ دودھ کا چشمہ بلائوز کو تر بہ تر کرنے لگا۔ اس نے لاکھ جتن کیا کہ بچہ دوبارہ پستان کو منہ میں لے لے مگر ناکام رہی۔
مالکن کی آواز اس کے کانوں میں گئی تو وہ خواب وخیال کی دنیا سے باہر آ گئی۔ اس نے جلدی سے ہاتھ کی گڑیا کو پیچھے چھپا لیا اور مالکن کی پکار پر اس سمت میں بڑھ گئی۔مالکن نے اس کے لیے اپنی دو چار پرانی ساڑھیاں، بلائوز اور تہہ بند نکلوا رکھے تھے۔ ساتھ ہی انھوںنے ڈھیر ساری کچوری ، جلیبیوںکی گٹھری بھی بند ھوادی تھی۔
’انہیں لے جا۔ اور سن، دونوں بیلا آکر میرا بدن ملنا مت بھول جانا۔، بلایتی نے سن لیا لیکن کھڑ ی سوچتی رہی۔
’کیوں کیا ہوا؟ لے جا نا انھیں۔‘ مالکن نے ٹوکا۔
’مالکن۔‘ وہ کہتے ہوئے ہچکچائی۔
’کیا بات ہے، بولو۔‘ مالکن نے شفقت سے پوچھا۔
’مالکن ای۔‘ اس نے پیچھے سے اپنا ہاتھ آگے کیا۔
’ارے یہ کیا؟ یہ تو گڑیا ہے۔‘ مالکن نے استعجاب سے پوچھا۔
’ مالکن،ای منا کے لیے۔‘ وہ رک رک کر اپنی بات پوری کر سکی۔
مالکن ہنس پڑیں، شفاف ہنسی۔
’ارے ایک ساتھ وہ کتنے کھلونوں سے کھیلے گا؟‘ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔ ’تو ایک کام کر، اسے اپنے پاس رکھ۔جب تیرا بچہ ہوگا تو وہ اس سے کھیلے گا۔‘ کہہ کر مالکن ہنستی ہوئی دوسری طرف چلی گئیں۔
وہ ہکا بکا کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔
****

ادھیاپن مدھیین ینجن یاجن تتھا
دان پرتیگرہ چیو برہمنام کلپیت
یعنی ویدوں کو پڑھنا، دھارمک انوشٹھان، کرم کانڈ، یگ کرنا کرانا اور دان دکشنا لینا یہ برہمنوں کے نردھارت کر تبیہ اور کاریہ ہیں۔
اپنے فرائض کے تئیں پوری طرح محتاط ان جملوں کو دہراتے ہوئے پنڈت کانا تیواری پاٹھک جی کے گھر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ صبح صبح، آفتاب طلوع ہو نے سے قبل نہا دھوکر، چندن اور پاشاکا لیپ تیار کر پنڈت کا ناتیواری نے پیشانی پر نکیلا ترشول بنایا، اس پر اکشت کے دانے لگائے اور گھر سے باہر نکل گئے۔
کندھے سے پوتھی پترا کا تھیلا لٹکائے پنڈت کا ناتیواری تیز رفتار سے چلے جا رہے تھے۔ وہ جلد سے جلد پاٹھک جی کے گھر پہنچ جانا چاہتے تھے، اس سے قبل کہ کسی کم ذات پر ان کی نظر پڑ جائے۔ ان کی گردن جھکی ہوئی تھی اور نظریں ان کے پیروں کے گرد سمٹ کر چل رہی تھیں۔ صبح کا وقت اور کسی کم ذات پر نظر پڑ جائے، بلکہ ان کے کسی چر ند پرند پر بھی نظر پڑ جائے تو پورا دن برباد۔ کسی بھی کام میں ہاتھ لگائو کامیابی نہیں ملنے والی۔ منہ سے ’ہرے رام ہرے کرشن‘ کا جاپ کرتے وہ تیز تیز پاٹھک جی کے گھر کی جانب بڑھتے جا رہے تھے۔ نظر با لکل پیروں کے سیدھ میں ہونے کی وجہ سے انھیں گز بھر آگے کی بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی تھی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دھم سے ٹکرا گئے۔ کسی پیڑ، کسی کھمبے سے نہیں ، اتفاق ایسا کہ بلایتی سے۔ لمحہ بھر کو پنڈت کا نا تیواری مہ مہ مہک اٹھیـ۔ انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ باسمتی چاو ل کے کٹے ہوئے کھیت میں کھڑے ہوں لیکن دوسرے ہی پل انھیں وقت کا اندازہ ہوا اور ان کاچہرہ ہلدی کی طرح زرد پڑ گیا گو یاا چانک وہ پیلیا کے مریض ہو گئے ہوں۔
’ہرے رام ہرے رام۔ ہرے کرشن، ہرے کرشن۔‘ پنڈت کا ناتیواری کو نچوڑو تو جیسے خون کی ایک بوند نہیں۔ پلک جھپکتے ہی سب کچھ ختم۔ منہ سے جاپ کی رفتار بڑھ گئی۔
’ما۔۔۔لک۔‘دوسری طرف بلایتی کو بھی جیسے لقوہ مار گیا۔
’میں پوچھتا ہوں، صبح صبح ٹکرانے کے لیے تجھے میں ہی ملا تھا؟‘ پنڈت کا ناتیواری غصے میں منہ سے پھین اڑانے لگے۔
بلایتی پر گھبراہٹ طاری تھی۔ وہ خاموش کھڑی رہی۔
’ہرے رامـ،ہرے کرشن۔‘پنڈت کا ناتیواری اپنے کپڑے جھاڑنے لگے۔’ نشٹ کرکے رکھ دیا تونے مجھے۔ ہرے رام،ہرے رام۔ نا جانے آج کیسا اپ شگون ہونے والا ہے؟‘
’مالک گلتی ہو گئی۔ میں تو سیدھی راہ آرہی تھی۔آپ کی ہی نجر اتنی نیچی تھی کہ۔۔۔‘
’ارے میری نظر نیچی تھی لیکن تو تو اندھی نہیں تھی۔ تجھے تو دیکھ کر چلنا تھا۔ سب سمجھتا ہوں میں، اس میں تیری غلطی نہیں ہے۔ یہ سب تو ’لال جھنڈین ‘کرا رہا ہے۔ٍٍان ہی لوگوں نے تم سبھی کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ سب طور طریقہ بھولتے جا رہے ہو تم لوگ۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ میں کہہ رہا ہوں، یہ اچھا نہیں ہے۔‘
’ماپھ کر دیجیے مالک، گلتی ہو گئی۔‘
’ٹھیک ہے،ٹھیک ہے۔‘ پھر انھیں کچھ یاد آیا۔ ’پاٹھک جی کے یہاں سے تیری چھٹیہوئی کہ نہیں؟ کھیت میں کام رکا پڑا ہے۔ ‘ پنڈت جی ابھی بھی اپنے کپڑے جھاڑ رہے تھے۔
’ہو گئی مالک۔ کل سے کھیت میں جائوں گی۔‘ وہ دھیرے سے بولی ۔پنڈت کانا تیواری کو کپڑے جھاڑنے سے تسلی نہیں ہوئی تو جلدی سے اور لانبے قدموں سے اپنے گھر کی جانب چل دیے۔ گھر پہنچ کر وہ سیدھے غسل خانہ کے اندر چلے گئے۔
****


پاٹھک جی کی نظر پنڈت کانا تیواری پڑ ٹکی ہوئی تھی اور پنڈت جی کی نظریں پوتھی پتروں پر۔
’بالک کا جنم سوریہ مہادشا میں کیتو کے انتر میں ہوا ہے۔ اس لیے بارہ سالوں تک بالا رشٹ رہے گا ۔ سوریہ بھاگیش ہے اور شریر کا کارک گرہ گروہے، اس لیے گرو لگنیش ہے۔ کنڈلی میں سوریہ شترو راشی کا ہے۔ بالک مہتواکانکشی، تجسوی اور اوج والا ہوگا اور بلشٹ، د ھنی اور سمپن گنوں والے لوگ اس کے متر ہوں گے۔ بالک سنسار کے کاریوں میں دکش ہوگا کنتو گوچر میں شکر کی نربل اوستھا کے کارن۔۔۔‘
’نربل اوستھا کے کارن کیا پنڈت جی؟‘ پاٹھک جی بے چین ہوگئے اور ان کی پیشانی پر تشویش کی لکیریں نمایاں ہو اُٹھیں۔
’شکر کی نربل اوستھا کے کارن بالک کچھ گمبھیر روگوں سے گرست ہوگا اور کبھی مرتیووان کی استھیتی اتپن ہو سکتی ہے۔ یہ کرم بارہ ورشوں تک چلتا رہے گا۔‘
’پنڈت جی، کرپا کرکے اس کے ندان کا کوئی اپائے بھی بتائیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ یہ بالک ہی میرے ونش کا کرن دھار ہیـ۔‘ پاٹھک جی نے تفکر بھرے لہجے میں کہا۔ ان کے چہرے پر اندیشہ کی لکیریں مزید نمایاں ہو اٹھی تھیں۔
’آپ ادھک چنتا نہ کریں۔ جہاں سمسیا ہے، وہیں سمادھان بھی ہے۔سب سے پہلے ماتا سات دنوں تک مہامر تیونجے کا سوا لاکھ جاپ کریں۔ دوجے پتا کے دھن سے یگ اور ہون کا پر بندھ ہو اور پرن آہوتی کے دن کیتو کی پرتینتر دشا کے کارن مرتیو کو ٹالنے کے لیے ایک گائے یا بچھیا کا دان بھی آوشیک ہے۔اگر اتنا کچھ ہو تو بالک اپنی نربل اوستھا سے باہر نکل آئے گا۔‘
’پنڈت جی، ہم یہ سارا کچھ کریں گے۔ ماتا مہامرتیونجے کاجاپ کریں گی ۔یگ اور ہون کا پربندھ آپ کر دیں تو کرپا ہوگی،میں سارا خرچ دوں گا۔ پرن آہوتی کے دن ہم آپ کو بچھیا بھی دان کر دیں گے۔بس ہمارے بچے کے کشٹ کانوارن ہو جائے۔ ‘ پاٹھک جی ایک سانس میں ہی سب کچھ بول گئے۔
پنڈت کانا تیواری کی پیشانی مزید چمکنے لگی۔ آنکھوں میں سنجیدگی بھرکر کچھ سوچنے لگے۔
****


بلایتی تھک کر چور ہو گئی تھی۔ چھٹی کے دن تک مالکن نے اسے روکے رکھا۔ ان چھہ دنوں تک بچہ زچہ کی دیکھ بھال کرتے کرتے وہ نڈھال ہو چکی تھی۔ مالکن کا جسم بھی اوپر والے نے ایسا بنایا تھا کہ ایک ہی بچے میں ہڈی ہڈی ڈھیلی ہو گئی تھی۔ خون کا نکلنا بند نہیں ہوا تھا۔ ذرا ذرا دیر میں ان کے کپڑے تبدیل کرنے پڑتے تھے۔ یہ سب کرتے کراتے آدھی رات ہو جاتی۔آخری پہر تک ایک کونے میں بچھاون ڈال کر سونے کی سعی کرتی، تب تک بچہ کوں کاں کرنے لگتا۔ اس کو سنبھالتی، تب تک مالکن اوں آں کرنے لگتیں۔ ان کے پیڑو میں درد ہونے لگتا ۔ ا سی وقت ان کو تیل مالش کرنی پڑتی اور پھر مالش کرتے کرتے صبح ہو جاتی۔
لگاتارچھہ راتوں تک اس کی آنکھ نہیں لگی تھی۔ اس کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی اور جسم پھوڑے کی طرح ٹیس رہا تھا۔ اس نے ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر بدن کو اینٹھا تو نہ جانے کتنی آشنا،غیر آشنا گانٹھیں پڑ پڑا کر بول اٹھیں۔ چارپائی پر وہ برساتی دیوار کی مانند ڈھہ گئی اور آنکھوں کو بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی آنکھوں میں نیند کہاں؟ نیند تو مالکن کے بچے نے چرا لی تھی۔
وہ کروٹ بدلنے لگی۔ لاکھ کوشش کی لیکن نیند نہیں آئی۔ اٹھ کر چولہے تک آئی۔ گھڑا سے پانی نکالا اور لوٹے کا سارا پانی پی گئی۔ پانی پینے کے بعدوہ دوبارہ چارپائی پر آ گئی۔ پھر وہی بے قراری ۔ پھر نیند کا اتا پتا نہیں، بار بار بچے کا چہرہ آنکھوں میں تیرنے لگتا۔ کتنا سرخ، کتنا ملائمـ۔ اس کی انگلیوں کے پور میں تیل ملتی تو اس کے اپنے جسم میں گدگدی ہونے لگتی۔ آنکھوں میں جھانکتی تو محسوس ہوتا، کچھ کہہ رہا ہے۔ کچھ بول رہا ہے۔ اسے محسوس ہوا، وہ کلبلا رہا ہے۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ پتا نہیں مالکن نے اسے دودھ پلا یا بھی ہوگا کہ نہیں۔اچانک اسے احساس ہوا، وہ کلبلاہٹ خود اس کے اندر کہیں ہوئی ہے۔ اس نے بیٹھے بیٹھے اپنے پیٹ پر ہاتھوں کو پھیر کر دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اندر کچھ چل رہا ہے۔ دھیرے دھیرے کچھ رینگ رہا ہے۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور جلدی سے دیے کی روشنی میںآگئی۔ اس نے اپنی ساڑھی کو ناف سے نیچے سرکایا۔ صاف ستھرا، اجلا پیٹ چاندی کی طرح چمک اٹھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے ناف اور اس کے ارد گرد کا حصہ سہلا کر دیکھا۔ آہستہ آہستہ دبا کر دیکھا لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ سڈول، روآں دار پیٹ اس کی سانس کی رفتار کے ساتھ ہولے ہولے اوپر نیچے ہور ہا تھا۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے ٹینگر کو دیکھا۔ دن بھر گھوڑ ے کے ساتھ ساتھ خود بھی تانگا میں جتنے کے بعد وہ چارپائی پر گر پڑا تھا۔ دیے کی روشنی میں اس کاسیاہ مضبوط جسم تیل کی طرح چمک رہا تھا اوربازئوں اور جانگوں کے کٹائو جھلک رہے تھے۔ وہ کچھ پل کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر دھیرے دھیرے اس کی جانب بڑھنے لگی۔ چارپائی کے پاس پہنچ کر رکی پھر بیٹھ گئی۔ اس کی نظر ٹینگر کے چوڑے اور مضبوط کندھوں پر ٹکی رہی۔
’اے۔۔۔‘ اس نے اس کے کندھے کو ہلایا۔
’اوں۔۔۔‘ ٹینگر نیند میں کسمسا کر رہ گیا۔
’ایـ۔۔۔‘ اس نے اسے دوبارہ ہلایا۔
اس بار ٹینگر کی آنکھ کھل گئی۔
دیے کی ملگجی روشنی میں ٹینگر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ دیکھتا رہا اور پھر اس نے خود کو ایک سپاٹ کھیت میںکھڑے پایا۔ اس نے اس کی نرم ملایم مٹی کو ہاتھوں میں لے کرمسلا تو بلایتی کے منہ سے کراہ نکل گئی۔ وہ مٹی کومسلنے لگا، مسلتا رہا۔ مٹی پسیجتی جا رہی تھی۔ ذرا دیر بعد مٹی نرم ہو گئی، جتائی کے لیے موافق، تو اس نے کھیت کے ایک کنارے سے ہل چلانا شروع کیا۔ کھیت جتنے لگا، کھیت جتتا گیا، کھیت پوری طرح جت گیا۔ وہ تھکنے لگا ، و ہ تھکتا گیا ، وہ پوری طرح تھک گیا۔ اب کھیت کو بیج کی ضرورت تھی۔ اس نے بیج ڈالنا چاہا لیکن ہنہنا کر رہ گیااور منہ کے بل گر پڑا ۔ منہ کے بل گرا وہ اکھڑی اکھڑی سانسیں لینے لگا ۔ بلایتی کی ہر طرح کے احساس سے عاری آنکھیں اوپر چھپر میں معلق ہو کر رہ گئیں۔
صبح ہوئی تو بلایتی کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی۔ابھی آفتاب طلوع نہیںہوا تھا۔ کمرے کا کواڑ کھلا ہوا تھا اور اس جانب سے ٹھنڈی ہوا کمرے میں آرہی تھی۔ وہ آنکھیں واکیے چارپائی پر پڑی رہی۔ ٹینگررفع حاجت سے فارغ ہوکر لوٹ آیا تھا اور اب باہر چھائونی میں شیراکو ’ کھرہرا ‘کر رہا تھا۔اس کے رگڑنے کی کھر کھر اور درمیان میں شیراکے ہنہنانے کی آواز اُس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ٹینگر روزانہ پانچ بجے تک اپنا تانگا کس کر تیار ہو جاتا تھا۔ گائوں کے کچھ لوگ ہر روز ’چھہ بجیا بس‘ پکڑنے نارائین پور جاتے تھے۔ گائوں سے نارائین پور کی دوری تقریباً ایک گھنٹے کی تھی۔ گائوں کے لوگوں کو نارائین پور چھوڑکر وہ پورے دن نارائین پور سے اگیائوں یا پھر خیرا تک سواری ڈھونے کا کام کرتا تھا۔ شام کو چار بجے کمار بس آرہ سے واپس نارائین پور آتی تھی۔ اس کی سواری لے کر وہ پانچ ،ساڑھے پانچ بجے تک گائوں لوٹ آتا تھا۔
عام دنوں میں جب تک ٹینگر تانگا کس کر تیار کرتاتھا تب تک بلایتی اس کے لیے روٹی بھجیا بنا دیتی تھی۔ ٹینگر کھا بھی لیتا تھا اور بلایتی اس کے دوپہر کے لیے باندھ بھی دیتی تھی لیکن آج چارپائی سے اٹھنے کی اس کی ذرا بھی خواہش نہیں ہو رہی تھی۔
ایک تو وہ کئی دنوں سے مالکن کے یہا ں تھک کر چور ہو ئی تھی دوسرے، رات میں ٹینگر نے جس طرح۔۔۔۔۔ اس کی تو بوٹی بوٹی بکھر گئی تھی۔ اس وقت، خود اس کو بھی تو کچھ ہوش نہیں رہ گیا تھا۔ وہ تو پوری باڑ ھ پی جانا چاہتی تھی لیکن اصل وجہ۔۔۔۔۔ اصل وجہ تیسری تھی۔ اچانک گھوڑا ہنہنایا ۔ بلایتی کو محسوس ہوا، یہ ٹینگرہے۔ کیسا ہنہنا کرمنہ کے بل گر جاتا ہے۔ بلایتی کے اندر اندر تک مایوسی کی دبیز تہہ پھیل گئی۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔ بند آنکھوں میں ایک بار پھر مالکن کے بچے کا چہرہ ابھر آیا۔ گول مٹول، لال روآں دار۔ وہ گلا پھاڑ کر کیہاںکیہاں کر رہا ہے۔ دھیرے دھیرے مالکن کا دھندلا چہرہ بھی ابھرا۔ وہ بچے کی تیل مالش کر رہی ہیں۔ ان کے چہرے پر ممتا کا سورج دمک رہا ہے اور آنکھوں میں خوابوں کا سمندر امڈ رہا ہے، لہریں لے رہا ہے۔ دفعتاً ان کے چہرے پر کھیج اور الجھن کے تاثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ بچہ ان سے چپ نہیں ہو رہا ہے۔ لگاتار کیہاںکیہاں کیے جا رہا ہے۔ وہ مالکن سے بچے کو لے لیتی ہے۔ اپنی گود میں بھر لیتی ہے۔ دھیرے دھیرے اس کے ملایم جسم پر تیل رگڑنے لگتی ہے۔ پتا نہیں اس کے ہاتھوں میں کسی طرح کا جادو تھا یا بچہ اس کی انگلیوں کا عادی، فور اـــ ًچپ ہو جاتا ہے اور مسکرانے لگتا ہے۔کچھ لمحہ قبل جو سورج مالکن کے چہرے پر دمک رہا تھا، اب وہ اس کے چہرے پر دمکنے لگا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں سپنوں کا وہ سمندر دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا جو مالکن کی آنکھوں میں لہریں مار رہا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھیں ریت کا میدان تھیں جس میں ایک نائو پھنسی ہوئی تھی۔
وہ بہت دھیرے دھیرے گنگنا رہی تھی۔
’پانچ پدارتھ مورا گھرے، ایکو نہیں من بھاوے ہو
لالنا ہمرا حابسوا کے سادھ، حابس ہم کھائب ہو۔۔۔
ہو لالنا۔۔۔‘
بلایتی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ اس کے ہاتھ خود بہ خود اپنے پیٹ پر چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنا پیٹ سہلانے لگتی ہے۔ او جھاجی کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔
’ کھیت ہی خراب ہے، کسی براہمن سے شدھ کرانا ہوگا۔‘
اس نے کروٹ بدل لیا اور منہ کے بل لیٹ ہو گئی۔ کمرے میں ٹینگر آیا۔ اس نے شیراکو چارہ وار ا کھلانے کے بعد تانگا کس کر تیار کر لیا تھا۔ بلایتی کو سوتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی اور کسی قدر تشویش بھی۔ وہ اس کے پاس چلا آیا۔
’ارے تم ابھی تک پڑی ہو، تبیت تو ٹھیک ہے نا؟‘
بلایتی نے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا۔ اسی طرح پڑی رہی۔
’ارے مجھے کھانا وانا دوگی کہ نہیں؟پانچ بجنے ہی والے ہوں گے۔‘
بلایتی نے تب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
ٹینگر کھیج اٹھا۔ ’ارے تم کچھ بولتی کاہے نہیں؟ ‘ اس نے اسے جھنجھوڑ دیا۔
’کا ہے؟‘ ا س نے کروٹ بدلی اور جھنجھلا کر بولی۔
بس، اس کے بعد ٹینگرسے کچھ کہتے نہ بنا ۔ بلایتی کی آنکھوںمیں وہ پوری داستان پڑ ھ رہا تھا۔ وہ زیادہ دیر تک ان آنکھوں سے آنکھیں نہ ملا سکا۔ اس کی گردن جھک گئی۔ کچھ وقفے تک وہ گردن جھکائے کھڑا رہا پھر کمرے سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد شیرا کی ٹپ ٹپ اور تانگا چلنے کی آواز بلایتی کے کانوں میں پڑی پھر وہ آواز رفتہ رفتہ دور ہوتی گئی۔
ٹینگر کے جانے کے بعد بلایتی کو اپنی بھول کا احساس ہوا۔ وہ چھڑک کر چارپائی سے نیچے آئی اور لپک کر دروازے پر پہنچی لیکن تب تک ٹینگر تانگا لے کر گائوں کی سر حد سے باہر جا چکا تھا۔ اس کا دل کچوٹ کر رہ گیا۔ بجھے ہوئے دل سے چارپائی تک آئی اور پھر چارپائی پر گر گئی۔ اس کی طبیعت اچاٹ ہو گئی تھی۔ بے کار ہی اس نے ٹینگرکے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ بے چارے کو بھوکا پیاسا بھیج دیا۔ آخر اس میںاس کا کیا قصور؟ اس کی ’کوسس‘ میں تو کوئی کمی نہیں لیکن جب کھیت ہی۔۔۔۔۔اس کی مایوسی بڑھنے لگی۔ نا جانے بے چارہ دن بھر کیا کھائے گا، پیے گا؟کم سے کم بھونجا چبینی ہی دے دیتی۔دوپہر میں چبا کر پانی پی لیتا۔آخر وہ اسے کتنا مانتا ہے ،کتنا خیال رکھتا ہے۔
بیاہ کے اتنے سال ہو گئے لیکن آج بھی اس کے لیے انگور ، ٹکولی، اسنو، پائوڈر کی بھر مار کیے رہتا ہے۔ ہر پورن ماسی کے دن نارائن پور میں لگنے والی ’ہاٹ‘ میں سے وہ اس کے بنائو سنگار کا کوئی نہ کوئی چیج کھرید کر جرور لاتا تھاجب کہ وہ ایسی کہ اسے بنائو سنگار کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اوپر والے نے اسے اوپر سے ہی بنا سجا کر بھیجا تھا۔ گوری چٹی، لمبی چھر ہری، بھرے ہوئے چہرے پر لمبی ناک، بولتی آنکھیں، گھنے کالے بال۔ دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چمئین بھی ہے۔ پیدا ہوئی تھی تو آگ جیسی ۔ جسم کے روآں تک بھورے۔کسی نے کہہ دیا، یہ تو ـ’بلایت‘ کی لگ رہی ہے۔ بس اسی دن سے ہو گئی بلایتی۔
چمارٹولی کی کیچڑ نالی میں لوٹتے پوٹتے جوں جوں اس کا سن بڑھا، نکھرتی سنورتی گئی اور جب جوان ہوئی تو ایسی پھوٹ کر نکلی کہ چمار ٹولی کیا پورے ہریجن ٹولہ میں ڈھونڈے اس کی مثال نہیں۔ اس جیسی بلایتی کے گالوں پر ٹینگراِسنو پائوڈر لگا کر اسے دہکتا شعلہ بنا دیتا تھا اور پوری چمار ٹولی میں گردن اونچا کرکے گھومتا تھا۔
اس ٹینگرکو، ویسے ٹینگر کو اس نے بھوکا پیاسا بھیج دیا تھا۔ اس کی طبیعت اتنی روہانسا ہو اٹھی کہ وہ خود کی لعنت ملامت کرنے لگی۔
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
صغیر رحمانی عہد حاضر میںصف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کا اصلی نام محمد صغیر عالم ہے ۔جنوری 1969کو ضلع آرہ ،صوبہ بہار کےمرحوم عبدالرحمان صاحب کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے دیہی ترقی میں ایم ۔اے کیا ۔ ایک بڑی آرگنائزیشن میںاعلیٰ عہدے پہ فائز ہیں ۔ چار افسانوی مجموعے پرانے گھر کا چاند ، واپسی سے پہلے، جہاد، اور داڑھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کے ناول " تخم خوں"نےرکارڈ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسے دلت ڈسکورس کا پہلا ناول بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک ہندی ناول اشیش بھی منظر عام پہ آ چکا ہے ۔

کمنٹ کریں