نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے نادان انسانوں

ڈاکٹر کہکشاں عرفان
lafznamaweb@gmail.com

, نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے نادان انسانوں

بیشک اللہ رحمن و رحیم ہے۔ مگر وہ بار بار فرماتا ہے کہ گناہ گاروں، بدکاروں اور نافرمانوں کے لیے عذاب الیم ہے۔ (یعنی درد ناک عذاب ہے) کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ اے انسانو! اللہ کو پہچانو؛ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے انسان رب کائنات کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے الزام تراشیاں چھوڑو اور اپنے رب کے سامنے سرجھکا دو اس کی وحدت پر ایمان لے آئو اب بھی توبہ کے دروازے کھلے ہیں ایسا نہ ہو کہ توبہ کے در بھی بند ہو جائیں۔ اس سچ کو ماننا ضروری ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور صرف اللہ کی ذات لافانی ہے۔ اللہ کے غضب اور عذاب سے بچنے کا راستہ توبہ کا ہے، اور اللہ انسان کو بخشتا ہے تو انسان اس کے بتائے راستے پر چلے تو بہتر ہوگا۔ اللہ نے نماز اپنے بندوں کو خود سے ملنے اور بات کرنے کے لیے بنائی ہے۔ آج کا حکمران کسی بھی ملک کا ہو مگر اس کی رعایا اس سے مل نہیں پاتی اس سے بات نہیں کرپاتی، کچھ نمائندہ لوگ ہی سرکار تک پہنچ پاتے ہیں جو عوام کے فائدے کی کم اپنے فائدے کے بارے میں زیادہ باتیں کرتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے آئو نماز کی طرف کیونکہ نماز ہی واحد ذریعہ جس میں بندہ اللہ سے سیدھی گفتگو کرتا ہے۔ اس سے گفتگو کے لیے کسی میڈیا یا پریس کانفرنس یا سیکورٹی سسٹم کی ضرورت نہیں، چوبیس گھنٹوں میں اللہ سے پانچ دفعہ ملاقات کا حکم ہے۔ کسی صدر یا وزیر اعظم کے دربار میں اس کی رعایا کتنی مرتبہ حاضری لگا سکتی ہے، جنتا ایک بار بھی نہیں مل پاتی۔ اللہ اپنے بندوں کے ظاہری ہی نہیں باطنی حالات اور محسوسات سے آگاہ ہوتا ہے۔ حضرت علی نے فرمایا تھا: جب میں اللہ سے بات کرنا چاہتا ہوں تو نماز پڑھتا ہوں اور جب میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ سے بات کرے تو میں قرآن پڑھتا ہوں، بے شک قرآن اللہ کا کلام ہے، اور اللہ قرآن پاک میں اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اسے پڑھنے کی ضرورت ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، دینی و دنیا کی حفاظت کا نسخہ قرآن میں موجود ہے۔ اللہ نے روزہ فرض کیا مگر روز نہیں سال میں صرف ایک ماہ۔ اللہ نے زکوٰۃ بھی فرض کی ہے مگر روز نہیں سال میں ایک بار وہ بھی ہر انسان پر نہیں صاحب حیثیت اور صاحب نصاب پر۔ امیر لوگوں پر جو سال بھر خرچ کرنے کے بعد بھی بچا کر رکھتے ہیں ان پیسوں پر ان زیورات پر زکوٰۃ فرض ہے، ان اناجوں پر جو اللہ کی بارش سے پید ا ہوئے پورے اناج کا دسواں حصہ اور جو اناج پیسے اور محنت کے پانی سے پیدا ہوئے اس پر بیسواں حصہ زکوٰۃ کا ہے، اللہ اپنے تمام بندوں کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔ اور انسانوں کو اللہ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا ہے، تاکہ انسان آپس میں ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹیں، ان کو خوشیاں بانٹیں، ان کے دکھوں میں شریک ہوں اور جو مدد بھی کریں تو ایسی کہ دکھاوا یا احسان کرکے زیر بار نہ کریں، انسانوں پر انسان کے اللہ نے بہت سے حقوق نافذ کیے ہیں، والدین کے حقوق اولاد کو ماں باپ کے ساتھ کیسے برتائو کرنے چاہئے، بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے پڑوسیوں کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ پڑوسی کہا مگر کہیں کسی ذات دھرم، مذہب، رنگ، نسل کا نام نہیں لیا گیا اور اپنے گھر سے چالیس گھر دائیں اور بائیں، چالیس آگے چالیس پیچھے آپ کے پڑوسیوں کا شمار ہوتا ہے۔ اور آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں کی خبرگیری رکھیں، کہ کوئی بیمار تو نہیں کوئی بھوکا تو نہیں سویا،کوئی ضرورت مند تونہیں، دولت صرف اپنے برتنے کے لیے اللہ نہیں دیتا، بلکہ اس میں اس کے غریب رشتہ داروں، غریب پڑوسیوں، غریب بچوں، یتیموں، بیوائوں اور غریب انسانوں کا بھی حق ہوتا ہے۔ اگر زکوٰۃ کا کچھ حصہ نکال کر اپنے مال و دولت کو پاک کر لیا جائے تو کیا یہ بہتر نہیں؟اگر صدقہ کرکے بلائوں سے خود کو محفوظ کرلیا جائے تو کیا یہ صدقہ ہمارے لیے کسی رحمت سے کم نہیں؟ صدقہ ہزار بلائوں کو ٹالتا ہے، انسان کو چاہیے خود غرضی کا لبادہ اتار دے۔ مجبوریوں کا سودا نہ کرے۔ کمزوروں پر ظلم نہ کرے، عورتوں کی عزت، بزرگوں کی خدمت کرے۔ کسی یقیم کا مال نہ کھائے۔ اور ان نیکیوں سے خود کو اللہ کے عذاب سے بچائے۔ آمین

اللہ کی نظر میں سب برابر ہیں اللہ تعصب بھی نہیں کرتا اور جانب داری بھی نہیں، اللہ غیر جانب دار ہو کر فیصلہ کرتا ہے، اسی لیے قرآن شاہد ہے کہ اللہ نے کسی گناہ گار اور سرکش کی حمایت نہیں کی خواہ وہ نبی کی بیوی ہو یا نبی کا بیٹا ہو یا کسی گناہ گار یا سرکش کی اولاد یا بیوی ہو یا بذات خود نبی ہو۔ اللہ کے انصاف کا ترازو کسی کے لیے بھی نہیں صرف نیکی اور اچھے انسانوں کی طرف جھکتا ہے۔ برائی یا برائی کے رشتہ داروں یا دولت کی طرف نہیں۔ آج ایمان تو ہے ہی نہیں، انصاف بھی بک چکا ہے، اس کی تازہ مثال سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی صاحب کی شکل میں آپ نے دیکھا۔ ایسے ہزاروں منصف پیسوں اور عہدوں پر بک جاتے ہیں اور غلط فیصلے دیتے ہیں، مگر اللہ کا انصاف سب کے لیے ایک جیسا ہے، وہ نہ دولت سے بکتا ہے نہ عہدے پر۔ اللہ نے لوطؑ کی بیوی نوحؑ کے بیٹے کو معاف نہیں کیا اور فرمایا وہ تیرے اہل میں سے نہیں تھے۔ اللہ نے یونسؑ کو بھی سزا دی اور مچھلی کے پیٹ میں بھوکا پیاسا اندھیرے میں رکھا۔ صرف اس لیے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر انھوں نے اپنی بستی والوں کو بد دعاء دے دی اور بستی سے حکم ربی کے بغیر نکل پڑے یعنی قناعت اور صبر بھی ضروری ہے۔ اللہ نے انعام بھی عطا کیا اور مرتبہ بھی بلند کیا ان لوگوں کا جو سرکش اور بت پرستوں کے رشتے میں تھے۔ اللہ نے فرعون کی بیوی سفیہ کا مرتبہ بلند کیا باوجود اس کے کہ ان کا شوہر انسانیت کا دشمن تھا، مگر محترمہ سفیہ ایک نیک دل اور حساس خاتون تھیں اور اللہ نے اپنے نبی کو اپنے دشمن کے گھر میں پناہ بھی دی، اور پرورش بھی کرائی، اور اسی نبیؑ یعنی موسیؑ سے فرعون کو شکست بھی دلائی، بیشک اللہ حکمت والا ہے۔ اللہ نے آزر کے بیٹے کو نبی بنا دیا۔ ایک بت پرست ہی نہیں بت گر کا بیٹا بھی نبی ہوسکتا ہے یعنی ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اللہ نے توبہ بھی قبول کی ہے اور بہت ساری تو دعائیں قرآن پاک میں موجود ہیں، آدمؑ اور یونسؑ کی توبہ اللہ نے قبول کی اور معافی دی ہے۔ وہ دعائیں بھی قرآن پاک میں موجود ہیں۔ اللہ سورہ مزمل میں فرماتا ہے ’’اپنے رب کے نام کا ذکر کرو، اور ہر طرف سے بے تعلق ہوکر اس کی طرف متوجہ ہو جائو وہی مشرق و مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنائو۔ یہ قرآن تو نصیحت ہے،تو جو چاہے اپنے پروردگار تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔ اور خدا سے بخشش مانگتے رہو بیشک خدا بخشنے والا ہے‘‘


بڑی خوش آئند بات ہے کہ انسانیت ابھی باقی ہے، ملک کے بہت سے امیروں اور تاجروں رتن کانٹا، ادا کار اکھچے کمار اور کئی سیلیٹریز نے بڑھ کر انسانیت کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے۔ حالاتِ حاضرہ میں دنیا کے نقشے میں تمام املاک اسی وباء سے جان و مال کا نقصان اٹھا رہے ہیں، لوگوں کی تجارت بند ہیں، میلیں اور فیکٹریاں بند ہیں، کارخانے بند ہیں، ہوائی جہاز، ریلوے، بس، ٹیمپو، رکشہ سب بند ہیں، جب ہر انسان گھروں میں قید ہے اور آمد و رفت اور خرید و فروخت بھی بند ہے ساتھ ساتھ تمام طرح کے کنسٹرکشن بھی بند ہیں تو بے چارے یومیہ مزدورں، کاریگروں، رکشہ چلانے والوں، ٹیمپو چلانے والوں اور ان جیسے غریب انسانوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے گھر کی روزی روٹی کیسے چلے گی، آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں اور ان لوگوں کے پاس بینک بیلنس بھی نہیں اچانک نوٹ بندی کی طرح لاک ڈائون کا فیصلہ بھی اچانک لیا، لوگ جہاں تھے وہیں پھنسے رہ گیے، جس سفر میں تھے جس پردیش میں ان کو حکومت اور انسانی ہمدردی دونوں کی ضرورت ہے، خدا را لوگ اپنے کرائے داروں کو باہر نہ نکالیں، بلکہ ہو سکے تو کچھ مہینوں کے کرائے معاف کر کے انسانیت اور ہمدردی میں شامل ہو جائیں، حکومت پر فرض ہے کہ حکومت اپنے ملک کی غریب عوام کی مدد کرے اور صرف حکومت ہی نہیں ملک کے تمام امیروں، تاجروں، آفیسروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے انسانی فرائض کو پہچانیں اور اپنے آس پاس غرباء پر نظر رکھیں ان کی مدد کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ کورونا وائرس سے تو بچ جائیں مگر بھوک مری سے مر جائیں، حکومت صحت عامہ کی طرف دھیان دے، صرف حکومت ہی نہیں ہر شعبہ کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ انسانی جانوں کو بچانے میں مدد فرمائیں، دوری بنائے رکھیں کیونکہ اس میں حکمت پوشیدہ ہے، کیونکہ ملک میں وسائل کم ہیں دوائیں ناپید ہیں کوئی ویکسین ایجاد نہیں۔ اس مہلک بیماری سے بچنے کے لیے احتیاط اور سماجی دوری بے حد ضروری ہے، ہندوستان کی عوام سے گزارش ہے کہ آپ سب حکومت ہند کا ساتھ دیں۔ انسانیت کو سب سے اوپر رکھیں ورنہ آپ کی لاپرواہیاں یہ کہنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ؎
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے نادان انسانوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

شیئر کریں

کمنٹ کریں