امید پر اشعار

ہر ڈوبتے سورج کے ساتھ نئے خورشید کے طلوع ہونے کی امید وابستہ ہوتی ہے۔ زندگی کا سارا سفر امیدوں پر قائم ہے۔ امید نہ ہو تو ہر سو تاریکی بسیرا کرے اور زندگی کی رنگا رنگی ناپید ہوجائے۔ انسان نے امید ہی کے دم سے ہر طرح کی ترقی کی ہے۔ مایوسی کےعالم میں امید کی ایک ہلکی سی کرن انسان کو تحریک دیتی ہے۔ امید ہی ایک ہارے ہوئے انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ کامیابیاں اس کے قدم چومنے لگیں۔ امید کے موضوع پر چند بہترین اشعار کا انتخاب پڑھیے اور شیئر کیجے۔

ہم کو اُن سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
مرزا غالب
۔
تپتے ہوئے صحرا میں بھی بارش کی تھی امیدیں
بے حد تھا یقیں مجھ کو یوں اپنی دعائوں کا
ندیم بھابھہ
۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
علامہ اقبال
۔
دل نااُمید تو نہیں ، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے
فیض احمد فیض

امید کے موضوع پر شعر

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
امیر قزلباش
۔
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید
مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا
فراق گورکھپوری
۔
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
احمد فراز
۔
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
شکیل بدایونی

امید پر شاعری

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے
جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
عمران الحق چوہان
۔
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
کیف بھوپالی
۔
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
افتخار عارف
۔
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں