اردو غزل اکیسویں صدی میں

اردو غزل اکیسویں صدی میں
اردو غزل اکیسویں صدی میں

مضمون: سید کامی شاہ، کراچی

ایسے ہی ایک دن خیال آیا کہ اگر آئندہ کبھی انسانی تاریخ لکھی جائے گی تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ نائن الیون سے پہلے اور نائن الیون کے بعد۔ گیارہ ستمبر کا واقعہ ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ ہے جو پیش تو ہزاروں میل دُور امریکا کے شہر نیو یارک میں آیا مگر اس نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ اس کے اثرات اتنے زیادہ تھے کہ امریکا سے ہزاروں میل کی زمینی دُوری رکھنے والے ملک پاکستان کے گاو ¿ں، دیہات میں بیٹھے لوگوں تک نے محسوس کئے۔ کچھ اثرات بالکل سامنے کے تھے جو فوراً نظر آنے لگے اور کچھ اثرات ایسے دیرپا تھے جو اب تک محسوس کئے جارہے ہیں۔ اس واقعے کا سب سے بڑا اثر ایک’ خوف‘ کی صورت میں تھا۔جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جنگ کا آغاز کیا اور ہزاروں،لاکھوں میل دُور اپنے گھروں اور اپنے کمروں میں بیٹھے افراد تک کو ایک ان دیکھے خوف میں مبتلا کردیا۔ دنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس کے شہریوں نے اس ان دیکھے خوف کی ٹھنڈی لہر اپنے بدن میں محسوس نہیں کی ہوگی۔ یہ خوف تھا ان ہونی کا۔۔ ایک نادیدہ لہر تھی جو خون کے ساتھ بدن میں رینگتی تھی اور مستقبل کی طرف سے فکر مند کرتی تھی۔ انسانی حقوق کا تحفظ تو دور کی بات خود انسانیت کو ہی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ پچھلے دس بارہ سال میں پیدا ہونے والا یہ خوفِ نادیدہ اس تیزی سے پھیلا کہ فرد کی سطح سے اوپر اٹھ کر قوموں کی سطح تک پھیل گیا۔ اس میں شک نہیں کہ ان گزرے برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کی ہے۔ ابھی بیس، تیس، سال پہلے تک جوباتیں قصے کہانیاں لگا کرتی تھیں انہیں ٹھوس شکل دے دی گئی ہے۔ اس سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی آدمی کو آدمی کے قرتیب لاتی اور اس ازلی تنہائی میں کمی آتی جس کا آدمی قدیم زمانوں سے شکار ہے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پہلے افراد کے درمیان خلا بڑھا اور پھر وہ گھر سے باہر نکل کر سماج اور قوموں کی سطح تک پھیل گیا۔


اس وقت سیاسی ،سماجی اورمعاشی تعلقات کے اندرون میں کہیں کوئی لہر ہے جو دوئی کو بانٹی اور کاٹتی ہوئی گزرتی ہے۔۔انسان کے اندر آدم، ابلیس اور خدا کی جنگ تو صدیوں سے جاری تھی مگر امریکا نے خوف اور تشدد کا پنڈورا باکس کھولا توبہت سے ممالک میں برائی کی شاخیں پھوٹ پڑیں، ہم نے میڈیا کے ذریعے سے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھا اوراپنے ملک میں بھی کہ وہ قوتیں جو چھپ کر وار کیا کرتی تھیں اور شکار کرنے کے لئے رات ہونے کا انتظار کرتی تھیں وہ بے خوف اور بے قابو ہو کر نکلیں اور دن دیہاڑے عزت، جان اور مال لوٹنے لگیں۔ آدمی آدمی کو مارنے لگا اور سماج میں نفرت پھیلنے لگی ۔اسی چھینا جھپٹی، تشدد اور خوف کے درمیان اعلیٰ انسانی اقدار ہوا ہوگئیں اور ہر طرف بھوک اور نفسانفسی پھیل گئی۔ کتابیں بے وقعت ہوگئیں اور تفکر کو وقت کا زیاں قرار دے دیا گیا۔اسلحے کے عالمی بیوپاریوں کی دکانیں خوب چمکیں۔ ایک طرف مرنے والے تھے اور دوسری طرف مارے جانے والے ، درمیان میں سے انسانیت کہیں غائب ہوگئی تھی۔
اس نفرت، تشدد اور غصے کے بیچ میں شاعروں نے اُمید کی جوت جگائے رکھی اور خواب دیکھنے پر اُکساتے رہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہی وہ ’جزوِ کارِ پیغمبری‘ ہے جس پر شاعری اپنی پوری صداقت کے ساتھ رخشندہ و تاباں، رقص کناں نظر آتی ہے۔خوف، تشدد اور شر کے مقابلے میں خیر، سچائی اور خوبصورتی کا حصہ بننے کی کاوش صدیوں سے شاعروں کے بطون میں کار فرما نظر آتی رہی ہے۔ معاشروں اور سماجوں میں پھیلائی جانے والی خودساختہ نفرت انگیزی پر مبنی فضا پرایک شاعر نے خوب اظہار کیا۔
”فضا میں اُڑتے پرندو ہماری بات سنوزمیں پہ آگ لگی ہے، اڑان میں رہنا۔“
فہیم شناس کاظمی


اشفاق احمد نے کہیں لکھا تھا کہ ”دھوکہ کبھی اپنا ٹھکانہ نہیں بھولتا۔ جہاں سے اسے روانہ کیا جاتا ہے وہ ایک نہ ایک دن لوٹ کر وہیں پہنچتا ہے۔“اسی طرح خوف کی نفسیات بھی ہمیں ایسی ہی نظر آتی ہے کہ جہاں سے خوف کو روانہ کیا جاتا ہے وہ ایک نہ ایک دن وہاں ضرور واپس آتا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے جس خوف کو قوموں اور ممالک میں پھیلایا وہ خود بھی اس سے نہیں بچ سکا۔ ان ہونی کے اس خوف نے اسے بھی پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ اسی خوف کی کارستانی ہے کہ اب ممالک جنگ سے کم پر کچھ سوچنے اور بولنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ امریکا جو دوسروں کو دھمکا کر اپنی اجارہ داری قائم کیا کرتا تھا آج اسے بھی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ بقا کا یہ خوف اتنا شدید ہوچکا ہے کہ آج کا آدمی دوسروں کو تباہ کرکے خود زندہ رہنا چاہتا ہے۔ حمیدہ شاہین نے کہیں کہا تھا۔
اجنبی اُن دنوں دہشت کی علامت نہیں تھے
ساری بستی میں پھرا کرتے تھے اونٹوں والے۔“
اجنبیت نے خوف اور دہشت کو جنم دیا اور آدمیوں کے درمیان سے اعتبار کہیں رخصت ہوگیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ایک طرف خوف کی نفسیات اپنا کام کررہی تھی تو دوسری جانب سرمایہ دارانہ نظام فٹافٹ پیسہ سمیٹنے میں جٹا ہوا تھا۔ جس کے پاس پیسہ تھا اس کی ہوس مزید بڑھ گئی اور جو بھوکا تھا اس کی بھوک بھی دو چند ہوگئی تھی۔ بنیاد اس کی ایک ہی تھی۔۔ بقا کا خوف۔ یہ ایک ایسا عجیب خوف ہے جس نے روزلِ ازل سے آدمی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس خوف نے آدمی سے بڑے بڑے کارنامے بھی کروائے۔ مگر وہ اپنے ڈی این ایز سے خوف کے اس قدیم عنصر کو نہیں نکال سکا۔ اکیسویں صدی کے انسانی ہجوم میں ہمیں اپنے ہونے کے اثبات کی ”چنتا“اور موجود سے آگے بڑھ کر کچھ اور ہوجانے یا کچھ برا ہوجانے کی فکر بھی شدت کے ساتھ کارفرما نظر آتی ہے۔ اکیسویں صدی ایک نئی صدی ہے اور اس نئی صدی کا آغاز ایک نئی طرح سے ہوا ہے۔ اس سے پہلے انسانوں کے درمیان جو رواداری، محبت اور برداشت پائی جاتی تھی وہ کہیں ہوا ہوگئی۔ اب صرف ایک چیز کام کررہی تھی اور وہ تھا خوف۔۔۔سب کو اپنی چنتا لگ گئی تھی اور اپنی بقا کا خوف لاحق ہوگیا تھا۔ اس خوف سے بچنے کے لئے آدمی تشدد پر ُاتر آیا۔ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اس نے دوسروں کو مارنا شروع کردیا۔ پچھلے دس بارہ سال میں یہ مارا ماری اتنی بڑھی کہ نہ فرد کا تعین ہوسکا اور نہ قوموں کا۔۔


کسی مفکر نے کہا تھا کہ ”جنگ میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے“۔ سوخوف اور دہشت پر مبنی فضا میں آدمیوں کا قتل عام بھی جاری رہا اور سچائی کا بھی۔ سچ کی موت کے ساتھ آدمیوں کے گروہوں میں جھوٹ کا عارضی اور ناپائیدار تعلق قائم ہوگیا اور سماجوں میں پھیلائے گئے خودساختہ شک نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ جھوٹ، شک اور خوف کی اس تثلیث نے عام آدمی سے لے کر حکومتوں اور ملکوں تک کو ایک عجیب طرح کے تناو ¿ میں مبتلا

کردیا۔ زبان، قوم، ملک، مٹی اور عقیدے کی بنیاد پر فرد کو فرد سے دور اور متنفر کردیا گیا۔ اس سارے کھیل میں خوف کی نفسیات برابر اپنا کام کرتی رہی۔ جنہوں نے دوسروں کو مارنے کے لئے اسلحہ بنایا اور بیچا اب وہ خود اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں اس جان لیوا چیز کا رُخ ان کی طرف نہ ہوجائے۔ اس سارے کھیل میں وہ واحد چیز جو آدمی کو آدمی سے جوڑ رہی تھی وہ تھا فنون لطیفہ۔۔ادب آرٹ، فلم، موسیقی، ڈرامہ۔۔۔ یہ سب انسان کو انسان سے جوڑنے والے عناصر ہیں اسی لئے لطیف فنون کہلاتے ہیں کہ ادب اور آرٹ سے وابستہ افراد کی روح میں لطافت اور بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور وہ وقتی فوائد، ہوسناکی، لالچ اور غرض سے ماوراءہو کر اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ کی سعی کرتا ہے۔


ادب میں شاعری کو تمام اصناف میں فضیلت حاصل ہے۔ حیرت انگیز طور پر ان گزرے برسوں میں ادب کی اصناف میں جو چیز سب سے زیادہ تخلیق ہوئی یا جسے سب سے زیادہ اہمیت دی گئی وہ شاعری ہے۔ اور شاعری میں سب سے زیادہ غزل پر توجہات صرف کی گئیں۔ غزل کے باب میں ذات اور کائنات کاجتنا زیادہ اظہار کیا گیا اتنا کسی اور صنف میں نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزل کی شکست اور معدومی کا جتنا زیادہ رونا رویا گیا اتنی ہی زیادہ غزل تخلیق کی گئی۔ پتہ نہیں یہ اُس کھوکھلے نعرے کا ردِ عمل تھا کہ ”ادب رُو بہ زوال ہے۔“ یا اس قول کی سچائی کی تصدیق ہورہی تھی کہ” ہر آنے والی نسل اپنے سے پہلی نسل سے زیادہ ذہین اور کار آمد ہوتی ہے۔“ عالمی ادارے ”یونیسکو“ کی ایک رپورٹ کے مطابق” چینی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے۔“ اور اب تک ہم نے جو بات کی ہے وہ اردو غزل کے ہی حوالے سے ہے۔ اردو غزل کی قدیم روایات، اسالیب اور رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ”اکیسویں صدی کی اردو غزل کی انفرادیت “تلاش کرنا ہی ہمارا مقصد ہے۔ یہ افواہ بھی اب معدوم ہوچکی ہے کہ اردو زبان کو معدومی کے خطرات درپیش ہیں اور”ادب روبہ زوال ہے“ کا نعرہ بھی محض نعرہ ہی ہے۔ جسے چند ’بد نظر بزرگوں‘ نے لہو گرم رکھنے کا بہانہ بنا رکھا ہے۔ ہم نہ تو شاعری کو دہائیوں، برسوں اورنسلوں میں تقسیم کرکے دیکھتے ہیں اور نا کسی شاعر کو اس پورے ’جزوِ کارِ پیغمبری‘ سے علاحدہ کرتے ہیں جس کا منصب عوام الناس میں زندگی کی خوبصورتیوں اور سچائیوں کی اہمیت کو اجاگر کرناہے۔

جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی جگہ عرض کرچکے ہیں کہ ہمارے نزدیک شاعر ہونا ایک اعلیٰ منصب ہے اور شاعر، شاعر ہوتا ہے۔ چھوٹا شاعر، بڑا شاعر، نوجوان شاعر، سینئر شاعر، نسوانی شاعری، مردانہ شاعری، انقلابی شاعری ۔۔۔۔یہ سب ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔۔ عجیب عجیب کھکھیڑیں گھڑ رکھی ہیں یار لوگوں نے۔۔ جس میں فلسفے، نظریئے، تجزیئے، تبصرے سبھی کچھ ہوتا ہے مگر وہ جو سچی اور خالص شاعری ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ ہمارے نزدیک شاعری اچھی ہوتی ہے یا بری ہوتی ہے اسی طرح کوئی اچھا شاعر ہوسکتا ہے تو کوئی برا شاعر ہوسکتا ہے، باقی سب ہمیں بات برائے بات اور بحث برائے بحث ہی نظر آتاہے۔ زمان و مکان اور ذات اور کائنات کو بلند نگاہی سے دیکھنے والا ’فرد‘ ہی ہمارے نزدیک ’شاعر‘ ہے۔ اس میں نہ جنس کی کوئی قید ہے اور نا عمر کی۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ آنے والی سماجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں پر ہم بات کرچکے۔۔ اب معاملہ ان گزرے برسوں میں غزل کا جائزہ لینے کا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ پچھلے دس بارہ برسوں میں لکھی جانے والی غزلوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں گنا بھی نہیں جاسکتا۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کہ غزل کے نام پر جو شاعری تخلیق کی گئی اس میں نوے فیصد سے زیادہ بے معنی تکرار اور یکسانیت کا شکار نظر آئی۔ تاہم اس منظرنامے میں کم کم ہی سہی وہ شاعر بھی اپنا کام کرتے رہے جنہوں نے غزل کی دنیا میں نئے مضامین کے ذریعے نئے جہانوں کی تخلیق کی اور فکر کرنے والوں کے لئے سوچ کے نئے دریچے وا کئے۔ رنگ، روشنی اور خوشبو کو الفاظ کا پیرہن پہنانے والے شاعروں کی ترجیحات بھی مختلف تھیں اور معیارات بھی۔”ایوانِ غزل“ میں چراغ جلاتے شاعروں کی بنیاد ایک ہی تھی۔ اُمید، خواب اور دکھ۔ اسی تثلیث کے گرد گھومتے ہوئے ’شاعر ‘ نے حیرت کا دکھ بھی اٹھایااور راحت کا رنج بھی۔ با کمال شاعروں نے اس ساری صورتحال اور منظر نامے کو بصد کمال لکھا۔۔ کیونکہ جو سوچنے والے اور فکر کرنے والے تھے ان کے موضوعات کچھ اور تھے اور ترجیحات بھی۔انہوں نے موجود و ناموجود کوالگ انداز میں دیکھا اور دوسروں سے ہٹ کر بیان کیا۔
”ہے میرا اصل اگر ماورائے وقت تو پھر
مرے لئے یہ تماشائے روز و شب کیا ہے۔“
”سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی
کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی۔“
میں ہوں وہ مسئلہ کہ مجھی سے جو حل نہ ہو
آسان جو نہ ہو وہی دشوار مجھ میں ہے
یہ کون ہے جو مجھ میں ہے میرا نگاہ دار
یہ کون ہے جو مجھ سے خبردار مجھ میں ہے۔“عرفان ستار
”شبد “ہے ”چٹکلا “نہیں، دھیان سے کیجئے سماع
شعر نہیں سنا رہا ”حال“ سنارہا ہوں میں۔“علی زریون
”اُڑتے پھرتے ہیں جو خس و خاشاک
یہ کوئی داستاں سناتے ہیں۔“انعام ندیم
”کیا حقیقت ہے کارِ دنیا کی کیا منافع ہے اس خسارے میں۔“
کیا مکیں صرف مکیں ہوتے ہیں
کیا مکاں صرف مکاں ہوتا ہے۔“
کاشف حسین غائر ۔


سوال یہ ہے کہ ادب کیا ہے اور اس کا معاشرے سے کیا تعلق ہے۔اچھا ادب اور اچھی شاعری معاشرے میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔کیا اچھا ادب اور اچھی شاعری انسان کے خمیر میں موجود شرپسندانہ عناصر یا Bad Elements کو خارج کرسکتے ہیں یا ان کے نفوذ میں کچھ کمی لانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں؟
کیا ادب فرد کی یا قوم کی تنہائی کو کم کرتا ہے۔۔ اس کا رنج بانٹتا ہے۔ یا اسے مزید انتشار اور وسوسے میں مبتلا کردیتا ہے۔
”حرف و افکار“ اور ”جذبات و خیالات“ پر مبنی یہ کیا بھید ہے اوراس کی توجیہ کیا ہے۔؟
کیا کتابوں اور شاعری کے ذریعے بری چیزوں کو اچھی چیزوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
شعر و ادب میں ایسی کیا چیز ہوتی ہے جو افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ شعر سن کر کوئی کیوں متاثر ہوجاتا ہے۔ عمدگی سے گائی ہوئی غزلیں اور گیت کیوں لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتے ہیں۔ یہ کیا سائنس ہے اور اس کی تعریف کیسے کی جاسکتی ہے؟ کسی بھی سماج کے لئے ادب کیوں ضروری ہے؟
کسی نے خوب کہا کہ ادب آدمی کو آدمی کے لئے قابلِ برداشت بناتا ہے۔ادب آدمی کو خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو سچ کردکھانے کی لگن فراہم کرتا ہے۔زندگی کو زمین سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی بلند خیالی صرف ادب ہی پیدا کرسکتا ہے۔ مگر پھر بھی ذات اور زندگی کے بارے میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی چیز تو ایسی ہے جو مزید سوچنے اور فکر کرنے پر اُکساتی ہے۔ کوئی بھید ہے کوئی راز ہے جو اشارے تو دیتا ہے مگر پوری طرح کھلتا نہیں ہے۔ اور جو شاعر ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ”زندگی “ ہے۔ اپنے اسرارورموز اور خیر و شر سے لبریز یہ زندگی ہے جو شاعر کو رنگ اور ڈھنگ بدل بدل کر چھب دکھلاتی ہے اور وہ اس کے ہر روپ کو اسی دلچسپی اور انہماک سے دیکھتا ہے۔
”سو ہم فریادیوں کی ایک اپنی صف الگ سے ہو
ہمارا مسئلہ یہ ہے ہمیں حیرت زیادہ ہے۔“شاہین عباس
”نگار خانہئِ حیرت نما میں جلتا ہوا
چراغ دُور سے اِک راز لگ رہاتھا مجھے۔“
فیصل عجمی۔۔
”شامِ شور انگیز یہ سب کیا ہے بے حد و حساب
اتنی آوازیں نہیں دنیا میں جتنا شور ہے۔“
”آنگن آنگن تکیہ برداروں کو اب کیا کیا بتائیں
آنکھ میں کیا خواب ہے اور خواب میں کیا شور ہے۔“
شاہین عباس۔۔
”اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم۔“
ذوالفقار عادل۔


نائن الیون جدید انسانی تاریخ کا ”ٹرننگ پوائنٹ“ ہے۔ یہاں سے دنیا واضح طور پر دو مختلف ادوار میں بٹ جاتی ہے۔ دہشت گردی کے ایک بڑے واقعے کے بعد زمین پر موجود لوگ بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ۔ ایک طرف دہشتگرد تھے جن کا کام لوگوں اور حکومتوں کو ڈرا دھمکا کر تشدد کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنا تھا اور دوسری جانب وہ تھے جو اس دہشت گردی کا شکار ہورہے تھے اور متاثرین کہلاتے تھے۔ ان میں ممالک بھی تھے ،افراد بھی اور اقوام بھی۔ ایسے میں ادیب اور شاعر کو اپنی ذات میں آباد شخص کے لئے جگہ اور مقام کا تعین کرنا مشکل ہوگیا۔جھوٹ، خوف،بے یقینی اور تشدد کو فروغ دیتے معاشرے میں رہنے والا شاعر اپنی ذہنی اور روحانی کیفیات میں اس دنیا کاباشندہ نہیں تھا ۔ فرد کی سطح پر اسے جس دنیا میں رہنا اور سروائیو کرنا تھا وہ بری طرح خوف اور جبر کا شکار تھی۔ محبت کے مقابلے میں ہوسناکی تھی اور محبت کے طرفدار کم کم دکھاتی دیتے تھے۔ مگر اسی خرابے میں کہیں ایک امید تھی جو روشن تھی اور اسے چلتے رہنے پر آمادہ کئے رہتی تھی۔ اسے اسی کے سہارے جیون کرنا تھا۔اسے لکھ کر ہی اس خوبصورت دنیا کا ”ہونا“ بتانا تھا جہاں ہنستے، بولتے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے، محبت کو فروغ دیتے روشنی اور سچائی کی گواہی دیتے ’آدمی‘ تھے۔ جو دنیا سماجی سطح پر نظر آتی تھی وہ اس سے بالکل مختلف تھی جو کتابوں میں آباد تھی۔ شعر و ادب کی لفظیات بھی اس سے مختلف تھیں جو میڈیا کے ذریعے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔ایک مشینی معاشرے کا فرد اپنی شاعرانہ مستی اور تخلیقی دنیا کے باغ و راغ سے نکل کر اس سماجی ڈھانچے میں شامل ہونے پر مجبور تھا جس کی تشکیل میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اپنی بقا کے لئے اسے نوکری بھی کرنی تھی ۔ سماجی ذمہ داریاں بھی نبھانی تھیں ، اپنی امید اور محبت کو بھی بچانا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک تخلیقی ذمہ داری تھی جسے معاشرتی ضرورت نہ ہونے کے باوجود انجام دیئے جانا تھا۔ اسی عالمِ شور و فغاں میں ،انہی پیچیدگیوں میں رہتے ہوئے ”شاعر“اپنا کام کرتارہا۔ایسا نہیں ہے کہ ان گزرے ہوئے بارہ، تیرہ برسوں میں شاعری نے فروغ نہیں پایا، یا زبان کو وسعت نہیں ملی۔ شعر و ادب اور زبان و بیان سے محبت کرنے والے ’روشن دماغ‘تمام تر نامساعدحالات کے باوجود اپنا کام کئے گئے۔ اورشاعری کو فروغ دیتے رہے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے غزل کی سیکڑوں سال پرانی روایت کو مزید ثروت انگیزی بخشی۔ اپنے عصر کا دکھ بھی لکھا اور اپنی ذاتی ”کیفیت“ اور ”حال“کو بھی احاطہئِ تحریر میں لائے۔
”ہم نے ان گلیوں میں چلنے کی رعایت لی ہے بس
دیکھ سکتے ہیں ہمیں یہ گھر بسا سکتے نہیں“
شاہین عباس۔
”یہ جو بھی کچھ ہے مرے ہو نے پر نہیں موقوف
مرے نہ ہونے سے انکار کا تماشہ ہے۔“
ضیاءالمصطفیٰ ترک۔
”ہوشیاروں کے یہ دن رات کہ دیوانہ کوئی
جیسے اک بات کو دہراتا چلاجاتا ہے
سرسراہٹ کوئی نادیدہ کسی کی آہٹ
غار میں جیسے کوئی آتا، چلا جاتا ہے
جیسے قاتل کو میں باتوں میں لگانا چاہوں
آدمی وقت کو بہلاتا چلا جاتا ہے۔“
ادریس بابر۔۔


البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے ”فلسفہِٗ حیات“ میں ایک جگہ لکھا کہ ”ہر کسی کی اپنی زندگی میں خواہشات اور فیصلوں کے کچھ خاص معیارات ہوتے ہیں۔ جو معیارات میرے سامنے آشکار ہوئے اور جنہوں نے مجھے زندگی کے حظ سے معمور کیا ہے وہ ہیں ”اچھائی، خوبصورتی اور صداقت۔ “اکیسویں صدی کی اردو غزل کو ہم دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ نائن الیون کے بعد جب دنیا تیزی سے گلوبل ولیج میں تبدیل ہو رہی تھی۔ ایسے میں اچھائی، خوبصورتی اور صداقت کو فروغ دینے کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ محسوس کی جارہی تھی۔ سماجوں اور معاشروں میں کئی طرح کی تثلیثیں اپنا کام کررہی تھیں۔ پیسہ، طاقت اور اقتدار، رنگ، روشنی اور خوشبو، دکھ، امید اور رنج،نفرت، تشدد اور انتقام، فکر، کیفیت اور حال، آدم، ابلیس اور خداکی مثلث مختلف سطحوں پر مختلف طریقے سے کار فرماتھی۔اس ساری صورتحال میں ایسے بہت سے عمدہ شاعر تھے جو زندگی ، تنہائی اور خوف اور نیکی، سچائی اور خوبصورتی کی تثلیث کو الگ الگ انداز سے لکھ رہے تھے۔منصب سب کا ایک تھا اور مقصد بھی۔ اچھی اور سنجیدہ شاعری کا فروغ اور معاشرے میں اعلیٰ انسانی اقدار کا نفوذ۔شعر جیسے حسین طرزِ بیان میں اپنے دکھوں، سچائیوں،امیدوں اور زندگی کی خوبصورتیوں کا اظہار ان شعراءکا مطمعِ نظر تھا۔اور وہ اس کے بیان میں کامیاب بھی تھے۔ ان میں ایسے شاعر بھی تھے جو اسی یا نوے کی دہائی یا اس سے بھی پہلے سے ”کارِ سخن “ میں مصروف تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے ”کارِہنر“ کا آغاز اکیسویں صدی کی شروعات کے ساتھ ہوا تھا۔ ابدان و ارواح کی شرح وضع کرتے یہ باکمال سخن ورکسی ستائش اور صلے سے بے پروا ہو کر اپنا کام کئے جارہے تھے۔ کرشن کمار طور نے کسی جگہ لکھا تھاکہ” ادیب کااولین مقصد ذات کے شکستہ ٹکڑوں کو ترتیب دے کر ذات کی وحدانیت کو جنم دینا ہوتا ہے۔ یہ بات چاہے اس کے پیش نظر شعوری طور پر نہ ہو مگر اپنی اولین حیثیت میں اس کا فریضہ یہی بنتا ہے۔“
”یہ میری طرف سرخ شعلوں کی بوچھار کیسی
نیا آدمی ہوں نئی آگ کا منتظر ہوں۔“
کاشف مجید۔
”شاعری مشغلہ نہیں میرا
اس سے دنیا کو دیکھتا ہوں میں۔“
علی زریون۔
نیند میں گنگنا رہا ہوں میں
خواب کی دھن بنا رہاہوں میں۔“
اکبر معصوم۔
راحت بھی رنج، رنج بھی راحت ہو جب تو پھر
کیا اعتبارِ خواہشِ دنیا کروں گا میں۔“
اجمل سراج۔
کوئی دن کے لئے خود سے فراغت چاہتا ہوں میں
اجازت دیجئے مجھ کو اجازت چاہتا ہوں میں
مجھے کارِ مسلسل کی اذیت سونپنے والے
کہیں انگڑائیاں لینے کی فرصت چاہتا ہوں میں“
فاضل جمیلی۔
”لہو کی تال پہ آغازِ رقص کرتے ہوئے
اِدھر اُدھر سے سروکار تھوڑی ہوتا ہے۔“
خالد معین۔
”انتہا سے نہ ڈر چراغ جلا
روشنی کی ہے ابتداءسب کچھ“
محسن اسرار۔
”معمّہ یہ آکر کھُلا باغ میں
اشارہ تھا وہ کس شجر کی طرف“
کاشف حسین غائر۔
”داستان ختم شد
اُس کے بعد کیا ہوا۔“
عمار اقبال۔


اکیسویں صدی میں ایک طرف کچھ باکمال اور ہنر مند شاعر تھے تو دوسری جانب متعدد شاعرات بھی ذات اور زندگی کے معاملات و مسائل کو اپنی اپنی استعداد کے مطابق بیان کررہی تھیں۔فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، ثمینہ راجہ،شبنم شکیل، نوشی گیلانی، نرجس افروز زیدی، عشرت آفریں،ثروت زہرہ، ریحانہ روحی، نسیم سید، یاسمین حمید، ناصرہ زبیری،حمیدہ شاہین،سیما غزل، حجاب عباسی،شبہ طراز،حمیرا رحمان، فریحہ نقوی، آئرین فرحت، زہرہ جنید زارا، عزت مآب، ماریہ طارق روشنی، عنبرین صلاح الدین، ڈاکٹر فاخرہ نورین اور دیگر اپنی اپنی جگہ امید جگانے اور چراغ جلانے کی سعی کررہی تھیں۔ اوراپنی فکر کو زبان دے رہی تھیں۔
”دنگ رکھتے تھے ہمیں پُتلی تماشوں والے
اب تو بچوں کے مشاغل نہیں بچوں والے“
”اتنے نخرے نہیں کرتے تھے ہمارے گڈّے
اتنے مجبور کہاں ہوتے تھے گڑیوں والے“
حمیدہ شاہین۔
”میں اُس کے دکھ میں برابر کی حصہ دار رہی
وہ میرے سامنے روتا رہاکسی کے لئے“
عزت مآب۔
آہ اگر نہ بھر سکیں تو واہ سے کام لیجیے
شعر پہ سیٹیاں نہیں، دکھ پہ تالیاں نہیں،،
فریحہ نقوی۔
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ضیاءالمصطفیٰ ترک، فیصل ہاشمی، افضل خان، افضل گوہر،شاہدذکی، شناور اسحاق،مقصود وفا، انجم سلیمی، ثناءاللہ ظہیر، کاشف مجید، احمد کامران،احمد رضوان،عدنان بشیر،دانیال طریر،حماد نیازی، منیر نیازی اور ثروت حسین کے داستانی اسلوب اور تمثیل نگاری کے ذریعے اظہار ذات میں غزل کے نئے منطقے تلاش کررہے تھے اور جون ایلیا کے فلسفیانہ سوالات اور باغیانہ خیالات سے حظ اٹھا رہے تھے۔ تو اخترعثمان، طاہر شیرازی، اختررضا سلیمی ،ادریس بابر، شاہین عباس،اور اکبر معصوم روایتی غزل کے اندر رہتے ہوئے خیال اور مضمون کی سطح پر نئی غزل کی بنت کاری کررہے تھے۔ مرکز و مدار بھلے ہی سب کے جدا تھے مگر نیکی اور سچائی اور خوبصورتی کو ڈھونڈتی ان کی لگن ایک ہی تھی۔ ان سے ذرا اوپرکی نسل کے میراحمد نوید،فیصل عجمی، عباس تابش، سعود عثمانی، سلیم کوثر، قمر رضا شہزاد،جواز جعفری، شہزاد نیّر اور دیگر شعراءاپنی ذات کو کائنات کے ساتھ جوڑ کرقدیم اور جدید نسلوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کررہے تھے۔ اوراپنا ایک نیا شعری منظرنامہ ترتیب دے رہے تھے۔
”چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دلداری کا
عاشقی دین نہیں ہے کہ مکمل ہوجائے۔“
عباس تابش۔
”اسی زمیں سے ،اسی زماں سے نیا زمانہ بنا رہا ہوں
میں اک” نہیں“ سے اور ایک ”ہاں“ سے نیا زمانہ بنا رہاہوں“
میر احمد نوید۔
”شراب و شہد کی دنیا مجھے بھی کھینچتی تھی
مگر میں عشق کے آزار کی طرف آیا“
قمر رضا شہزاد۔
”چلتے پھرتے اسے بندش کا گماں تک نہ رہے
اُس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا“
شہزا دنیّر۔
”نہ جانے کون سی مصروفیت تھی
اُسے میرا خدا ہونے سے پہلے“
انعام ندیم۔
”سرا کی عمر کیا ہے، ہم سرا کتنا پراناہے
پرانا عشق کیا کچھ تھا، نیا کتنا پرانا ہے
ہماری عکس بندی ہوچکی تھی تب ہم آئے تھے
اب آگے کیابتائیں آئینہ کتنا پرانا ہے۔“
شاہین عباس۔
دریا اُلٹ کے دیکھنا مہنگا پڑا مجھے
کچھ تہ نشیں مزار مرے ساتھ چل پڑے
میں نے تو ایک خشت سے پوچھا تھا ماجرا
اُجڑے ہوئے دیار مرے ساتھ چل پڑے۔“
شناور اسحاق۔۔


ایک طرف یہ سب تھا تو ان سب سے الگ فیصل آباد میں ایک گھر کے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھاعلی زریون ایک ”شاعرِ دل رُبا“اک ”یارِ دل نما“اپنا ایک علاحدہ شعری نصاب مرتب کررہا تھا۔ وہ پہلا شاعرتھا جس نے مروجہ شاعری سے ہٹ کر اپنا ایک الگ اور منفرد شعری اسلوب وضع کیاتھا۔ ایک الگ شعری فضا تخلیق کی تھی۔ اس نے عشق کو عاجزی اور انکساری سے ماورا ہو کر دیکھا تھا اور ذات کی محرومیوں اور مجبوریوں کا شکوہ کرنے کے بجائے لذتِ عشق کو مقدم رکھا تھا۔یہ پہلی آواز تھی جس نے ”حیٰ الا الوصال“ اور ”اناالعشق“کی صدا بلند کی تھی۔ وہ پہلا شاعر تھا جس نے اعلان کیا تھا۔
”آج کے بعد کوئی بھی عشق کو عجز مت کہے
عشق ہے کارِ کبریا، کر کے دِکھا رہا ہوں میں“
”انسان ہوں، مسجودِ ملائک ہوں علی میں
جبریل سخن کیسے کرے گا مرے آگے“
”اپنے شعروں میں تو قبلہ قیس کے مرشد ہیں آپ
رسم بھی کوئی میاں صاحب نباہی عشق کی؟”
ہم بھی یہ مانتے ہیں کہ رحمان پاک ہے
رحمان پاک سے ہی تو انسان پاک ہے“
علی زریون۔
دنیا سے بے نیازی اور اپنے عشق کی سرمستی و سرشاری کے گن گاتا یہ نرالا شاعر اپنی ایک الگ دنیا اور اپنے ایک علاحدہ شعری منظرنامے کے ساتھ اکیسویں صدی کے افق پرنمودار ہوا۔ اس کے طرزِ سخن کی تقلید بھی ہوئی اوراس کے موضوعات اور بے باک لہجے پر تنقید بھی کی گئی۔ مگر وہ اس سب سے بے نیاز اپنی تخلیقی محویت میں مگن رہا اور نئی غزل کی آبیاری کرتا رہا۔
”ترے تئیں فنِ کاریگراں سہی، لیکن
مرے لئے تو میاں شاعری تبّرک ہے“
”تم لوگ جو تہذیبِ ہوّس تک نہیں رکھتے
تم ہم سے یہ کہتے ہو کہ یہ عشق زیاں ہے“
”نیکیاں اور بھلائیاں مولا
سب کی سب خود نمائیاں مولا
گھورتا ہے ترے سریلوں کو
یہ گروہِ اتائیاں مولا
اپنی کوئی دکان داری نہیں
اپنی کیسی کمائیاں مولا“
”مرے وجود کی آب و ہوا زمینی نہیں
ترے حواس سے باہر ہے ذائقہ میرا“
علی زریون۔


اکیسویں صدی کی غزل کو دیکھا جائے تو یہ غزل واضح طور پر تین درجات میں بٹی نظر آتی ہے۔ ایک طرف گنجلک یا بے معنی طرزِ بیان ہے جس میں سمجھ نہیں آتا کہ شاعر کہنا کیا چاہتا ہےاور یہ اکیسویں صدی کی غزل کی تقریباً نوے فیصد شاعری ہے۔”اس قسم“ کی شاعری ”گھڑنے“ والے اس ”گروہِ سخن گسترانہ“ میں (عمر کی بنیاد پر) چند سینئر اور” بد نظر بزرگ“ حضرات بھی ہیں اور چند ”نوجوان منافقینِ سخن“ بھی۔ دوسری جانب ایسی غزل ہے جس میں عاجزی ،انکسار، حیرت و استعجاب کے ساتھ اپنے دکھ، امید، خواب اور یقین اورحیرت و سرشاری اورخوبصورتی اور سچائی اور محبت کو بیان کیا جارہاہے۔۔ تیسری جانب ایک الگ طرح کا بے باک اور دو ٹوک لہجہ ہے جو کسی عاجزی اور انکسار کا قائل نہیں ہے۔ اسے صرف اپنی بات کہنے سے مطلب ہے۔ مگر چونکہ یہ لہجہ غزل کی قدیم روایت سے جڑا ہوا ہے اور شاعری سے بھرپور ہے۔ اس لئے اس میں سرکشی تو نظر آتی ہے مگرکہیں کوئی بدتمیزی اور پھکڑ پن نہیں ہے۔
”اس عمر میں ملتے ہیں کہاں یار نشے جیسے
دارُو کی طرح تیکھے، کوکین طبیعت کے“
فاضل جمیلی۔
”شکست وفتح تو اک عارضی حوالہ ہے
ہم اپنے ہونے کا اعلان کرنے نکلے ہیں“
خالد معین۔
”لطف کی بات ہے خدا کو بھی
گھیر لیتے ہیں بے شمار خدا“
”وہ شخص جو کھُلتا ہی نہیں ہے کسی صورت
کھُل جائے گا لیکن کسی عورت سے کھلے گا“
”شروعِ کارِ محبت تو کر کہیں سے بھی
کہ میرا کام چلے گا تری نہیں سے بھی“
کاشف مجید۔
”تم نے ضدّی دیکھے ہوں گے
دل جیسے اڑیل کو دیکھا؟
عمران شمشاد نرمی۔


یہ بات تو طے ہے کہ آج کی غزل نے اپنے اندرون میں اپنا لہجہ تبدیل کرلیا ہے۔ اس نے بے جا لبادے اتار پھینکے ہیں اور اپنی Natural Beauty کے ساتھ سامنے آگئی ہے۔ اور غزل کا خالق ”شاعر“جو خیال،جذبے، کیفیت اور حساسیت کے ساتھ ساتھ ذہانت اور تفکر کا بھی پیکر ہوتا ہے اوراس علمی خزانے کا بھی وارث ہوتا ہے جو انبیاءکرام سے آغاز کرتا ہے اور فلاسفروں، دانشوروں، نفسیات دانوں، سماجی ماہرین سے سفر کرتا ہوا اُس تک پہنچتا ہے۔ شاعر کے اندرون میں جنم لینے والا جذبہ یا کیفیت اور اس کے دماغ میں سرگرداں خیالات، ذہانت اور تفکر اس کی شاعری میں جگمگاتا نظر آتا ہے۔ شاعری جزوِ کارِ پیغمبری ہے تو یہ کوئی ایسا معمولی منصب نہیں ہے۔۔”شاعری “لوگوں کی ”توجہ بٹورنے“ اور خود کو مظلوم ظاہر کرکے” مزید توجہ بٹورنے“ کا آلہ نہیں ہے۔ شاعری اُمید، خواب اور محبت کے فروغ کا نام ہے۔شاعری جنگل کو باغ بنانے کا عمل ہے۔ اپنے دکھوں کو چراغ بنانے اور اپنے زخموں کو گلاب بنانے کے خوبصورت عمل کو اہلِ دانش نے ”شاعری“ قراردیا ہے۔
”خدا رکھے مرے سینے میں ہے جو روزنِ زخم
ضیا بھی دیتا ہے شب بھرہوا بھی دیتا ہے“
شاہین عباس۔
”یہ شعلگی تو صفت ہے الم نصیبوں کی
جو غم نہ ہو تو کسی دل میں روشنی ہی نہ ہو“عرفان ستار
”کسی بازار میں ملتی ہے جنوں نام کی شئے
حوصلے عشق کے تیّار کہیں ملتے ہیں؟
اجمل سراج۔


”شاعر“ کے اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز افراد وہی سب کچھ کرتے ہیں جو پیغمبرانِ خدا نے کیا، یعنی عوام الناس میں امید جگائی، آگے بڑھنے اور اپنی منزل کو پانے کے لئے سیدھا راستہ سجھایا۔ حوصلے اور استقامت کے ساتھ چلنے اور مشکلوں اور مصائب پر صبر کرنے کا پیغام دیا۔’اچھائی، خوبصورتی اور صداقت کی طرف بلایا۔ ’ زحمت“ سے ”رحمت“ کشید کرنے اور اپنے لہو سے چراغ جلانے کا کام وہی کرے گا اور کر سکتا ہے اور کر رہا ہے جو اس منصب کو جانتا ہے۔ اسے اپنی راہ بھی معلوم ہے اور اپنی منزل بھی۔ ایسے عمدہ اور سچے شاعروں کی محبت شاعری سے ہے اور شعر ہی ان کی پہچان ہے۔ وہ شاعر جواردو غزل کی قدیم روایات سے واقف ہیں اور انہی روایات میں رہتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ابھی ہم نے ایک بات کہی تھی کہ شاعر شاعر ہوتا ہے اس کا زمانوں، نسلوں، سالوں اور دہائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میر،غالب،آتش،مصحفی، داغ،جگراکبر،قمر، اقبال،فیض،فراز، منیر،جون، ثروت، جمال، علیم اور رفتگاں میں شامل بہتیرے شاعر ایسے ہیں جن کے اشعار آج کی سیاسی اور سماجی صورتحال کو ایسے ڈیفائن کرتے ہیں جیسے انہوں نے گذشتہ شام ہی دوستوں کی محفل میں’ تازہ شعر سناتا ہوں‘ کہہ کر پیش کئے ہوں۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ شاعر کو سالوں، سرحدوں اور عمروں کی حدبندی میں کیوں قید کیا جاتا ہے۔؟کیا ان شاعروں کے خیالات کو جو بزبان غزل پیش کئے گئے اس لئے خود سے الگ کردیا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں برسوں پہلے کہی تھیں آج کی دنیا سے کا اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ صاحب ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں تعلق نہیں ہے۔؟حیدر علی آتش نے جب کہا۔۔۔
”کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیں؟
تو کیایہ آج کا کراچی، لیاری یا پاکستان یا زمین کا کوئی اور جنگ زدہ یا تشدد پذیر علاقہ نہیں لگتا؟


آج بھی تو کراچی، لیاری اور پاکستان اور کئی ممالک اور کئی خطوں میں آئے روز نئی قبریں بنتی رہتی ہیں۔ پھر حیدر علی آتش پرانے شاعر کیسے ہوگئے؟ یا کسی ایسے شاعر کو نیا کیسے کہا جاسکتا ہے جو صرف زبان کی توڑ پھوڑ کو جدت سمجھتا ہو اور اسے ’لسانی تشکیلات‘جیسی خوبصورت اصطلاح سے مزین کرکے خود کو ’آج کا شاعر‘قرار دینے پر تُلا ہوا ہو۔؟ معاملہ تو آدمی کا آدمی سے ہے، سماج کا فرد سے ہے، زمین کا کائنات سے ہے، آنکھ کا خواب سے ہے، رنگ کا روشنی سے ہے، وقت کا رفتار سے ہے، انسان کا رحمان سے ہے،یہی زندگی ہے اور یہی زندگی کا بہاو ہے۔ جو ان معاملات کو سچائی سے بیان کرے گا اس کی بات رہ جائے گی ۔ یہی رازِ اسم اور یہی رازِ زیست ہے اسی سے شاعری کشید کی جاسکتی ہے۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ شاعری لفظوں کے درو بست یا زبان دانی کے نام پر شعبدہ بازی دکھانے کا نام نہیں ہے۔شاعری کا معاملہ چیزِ دیگر است والا ہے۔ یہ کوئی اورہی بھید ہے۔ جو مالکِ حرف و صوت کی رحمت سے عیاں ہوتا ہے۔ میر احمد نوید نے ایک جگہ لکھا تھا کہ” شاعری جب صدا کے حصار سے باہر نکل کر چیخ بنتی ہے تب اپنے عہد کا اظہار بنتی ہے۔“ اکیسویں صدی کی غزل پر جب ہم بات کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اب غزل میں بات صرف نئے مضمون کی نہیں ہے اور نا زبان کی سطح پر کوئی کاریگری یا فنکاری دکھانے کی ہے۔۔۔ آج کی غزل کو نیا پیرایہئِ اظہا ردرکار ہے۔ وہ لفظوں کی توڑ پھوڑ اور لسانی تشکیلات کے ٹنٹے سے بہت بلند اور ماوراءہوگئی ہے۔ ۔اب شعر صرف دو ہم وزن مصرعوں کو جوڑنے کا کھیل نہیں ہے۔ نئی صدی میں بات شعر میں ہو یا نثر میں وہ Thought Provoking ہونی چاہئے۔ نکتہ آفرینی اور خیال آرائی شعر کی بنیاد رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔عمدہ شاعر شعر گوئی کی اس قدیم روایت میں حتی الامکان وسعت پیدا کرکے خودکو ان عظیم اور بلند مرتبت شعراءکے قبیل میں داخل رکھتے ہیں جن پر اردو شاعری فخرکرتی ہے۔ بیان کی کاریگری،زبان کے چٹخارے اور تلمیحات کی اہمیت اپنی جگہ مگر نئی غزل کے لئے یہ سب کچھ کافی نہیں ہے۔ نئی غزل کو بہت کچھ نیا درکار ہے۔۔ اب غزل کو خیال کے ساتھ ساتھ دماغ بھی درکار ہے۔ اب صرف شاعر ہونے سے کام نہیں چلے گا۔۔ غزل کو اچھے شاعر کے اندر ایک عمدہ نقاد بھی چاہئے۔جو غزل کی قدامت سے بھی اتنی ہی واقفیت رکھتاہو جتنی جدید طرزِ زندگی سے رکھتاہے۔ اب غزل کو شاعر کے ساتھ ساتھ ایک سخن شناس قاری بھی درکار ہے۔ اب شاعر صرف غزل کی دنیا اور قافیہ پیمائی میں محدود نہیں ہے۔اس کے سامنے زندگی اپنی پوری حشر سامانیوںکے ساتھ موجود ہے۔ اور شاعر کا کام صرف ان دیکھے مناظر کو دیکھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان مناظر کو اپنے قاری کی آنکھ کو اسی تازگی اور تازہ کاری کے ساتھ دکھانا بھی ہوتا ہے۔
”سایہ داری کی روایت کہاں آپہنچی ہے
موجِ خوں چھائوں کئے رہتی ہے تلواروں پر“
شاہین عباس۔
”میں ہی کیا گھر میں پڑا رہتا ہوں
گھر سے جاتی نہیں ویرانی بھی“
کاشف حسین غائر۔
”کر رہا ہوں میں ایک پھول پہ کام
روز اک پنکھڑی بناتا ہوں“اکبر معصوم
”تلاش کرتا ہے ہر شئے میں کوئی دوسری چیز
جو غور کیجئے تو آدمی بھی ہے بڑی چیز“
آفتاب حسین۔۔۔


شاعر جادو گری اور فسوں کاری کے علاوہ” لفظ گری“ بھی کرتا ہے۔ اسے ”قلم کائنات“ میں رہتے ہوئے نغمہ گری اور نوحہ گری کے ساتھ ساتھ رنگ سازی اور سخن طرازی بھی کرنی ہے۔ وہ صرف سامنے کی اشیاءکا مشاہدہ نہیں کرتا بلکہ اشیاءکے اندرون میں آباد کارخانہِٗ حیرت نما کو بھی دیکھتا ہے۔ پہلو بہ پہلو پھیلے ہوئے مناظراسے کبھی حیرت میں مبتلا کرتے ہیں اور کبھی رنج و راحت میں۔شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ ان تمام معاملات کو شعر کی صورت دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ شکر گزاری کا مرحلہ گلہ گزاری سے کہیں زیادہ بہتر اور معتبر ہے۔یہ یقین ہی اس کی بات میں اثر اور کلام میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔
”آنسو ہے یا آنکھوں میں
کوئی پرندہ پانی کا
پیچھے پیچھے چل کر دیکھ
آگے چلنا پانی کا
دیکھ بلندی پربت کی
دیکھ ہنڈولا پانی کا
آگ لگی ہے پانی میں
کیا ہے قصہ پانی کا
آج نہیں تو کل ہوگا
ہوگاقضیّہ پانی ک
اجاگ رہا ہے پانی میں
کوئی فتنہ پانی کا
ڈوب گیا کیا پانی میں
شور شرابا پانی کا
یہ ”لہرائن“ میری ہے
میں ہوں سپنا پانی کا“
رسا چغتائی۔۔


اب یہ ”لہرائن “اپنے آپ میں ایک نئی چیز ہے۔ لسانی تشکیلات کے نام پر لفظ کو بگاڑنے اور غیر مانوس کو مانوس کے احاطے میں لانے کی کوشش میں سر کھپانے والوں کو اس پر غور کرنا چاہئے۔”پتھر“ کو ”پھتر“ یا پٹھان کو ”پھٹان“ کہنے سے کوئی نیا پن پیدا نہیں ہوتا۔ پہلے سے موجود اور رائج لفظ کی شکل بگاڑنے سے بہتر ہے کہ کوئی نیا لفظ ایجاد کرلیا جائے جیسے استاد رسا چغتائی نے ”لہرائن“ لکھ کر اردو لغت میں ایک نئے اور خوبصورت لفظ کا اضافہ کیاہے۔ ادھر کچھ نوجوان شاعروں کی ایسی نسل سامنے آئی ہے جو زمینی پیمائش کے مطابق ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں مگر سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر نیا شعری منظر نامہ ترتیب دے رہے ہیں اوراردو غزل کے دامن کو مزید وسیع کررہے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ تمام شاعر اسی روایتی غزل سے جڑے ہوئے ہیں جسے چند سال پہلے لغو قرار دے کردُور کردیا گیا تھا۔ مگر آج وہی غزل اپنے پورے قدو قامت اور حسنِ قدیم کے ساتھ شاعروں کی توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ معاملاتِ ذہن و دل کے بیان کے ساتھ ایوان غزل میں چراغ جلانے والے ان شعراءمیں، دلاور علی آزر،یاسرجیلانی،عطا تراب،ممتاز گورمانی،ابھیشیک شکلا،عادل رضا منصوری، سالم سلیم سالم، عمران شمشاد نرمی،فرخ اظہار،علی زبیر،کاشی چوہان، سعید شارق، عمیر علی انجم، وجیہ ثانی، وحید نور، ہدایت سائر، سعد ضیغم، ضیاءشاہد، عمار اقبال، نعیم سمیراور دیگر شامل ہیں۔
”ستاروں کو برا لگتا ہے اکثر
چراغوں کی طرح جلنا ہمارا“
دعا اُس نے بھیجی ہے کچھ اس ادا سے
سدا خوش رہو تم ہماری بلا سے۔“
کاشی چوہان۔
”یہ واقعہ بھی عجب ہے میں ہنس پڑا خود پر
گئے دنوں کی اذیت شمار کرتا ہُوا“
”شاعری پیروں فقیروں کا وظیفہ تھی کبھی
اب تو یہ کام فقط نام کمانے تک ہے“
ممتاز گورمانی۔
”تم سے ہمارا واسطہ اتنا ہی رہ گیاہے کیا
ہم نے سلام کرلیا، تم نے جواب دے دیا“
”سچ تو یہ ہے کہ مصلحت کے تحت
جھوٹ بھی خوب بولتا ہوں میں“
”خدا محفوظ رکھے اُس دیئے کو
جسے جل کر بجھایا جا رہاہے“
”قیامت خیز ہیں آنکھیں تمہاری
تم آخر خواب کس کے دیکھتے ہو“
فرخ اظہارصدیقی۔
”میری آنکھوں پہ دو مقدس ہاتھ
یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے
میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں
سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے
ان پرندوں سے بولنا سیکھا
پیڑ سے خامشی ملی ہے مجھے“
تہذیب حافی۔
”بعد از صدائے کُن ہوئی تقسیمِ ہست و بود
پھرتا تھا کائنات اکیلا اُٹھا کے میں“
”درونِ خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے
زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے
مقامِ وصل اک ایسا مقام ہے کہ جہاں
یقین کرتے ہیں جس پر گماں نکلتا ہے“
دلاور علی آزر۔۔
”کچھ مکمل نہیں ہے دنیا میں
گویا یہ بات بھی ادھوری ہے“
عمران شمشاد نرمی۔
”تو ظاہر ہے کہ پھر تیکھا تو ہوگا
علی زریون کا لہجہ ہے صاحب“
علی زریون۔۔


تو صاحبانِ حرف و نظر!یہ ہے اکیسویں صدی کی غزل کا لہجہ۔۔۔ ڈاکٹر وحید احمد نے کہا تھا کہ” ہم شاعر ہوتے ہیں، ہم تھوڑے تھوڑے ہیں، ہم کم کم ہوتے ہیں۔۔۔“ توشروع سے آج تک شاعر تو کم کم ہی ہیں۔ہاں شاعر ہونے کے دعویٰ دار بہت سارے ہیں اورخود کو منوانے کے لئے اپنی اپنی جگہ تگ و دو کئے جارہے ہیں۔اور اس سلسلے میں وہ چوری چکاری، دروغ گوئی اور بہتان طرازی سے بھی خوب خوب کام لیتے ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری نے ایک گفتگو کے دوران بہت اچھی مثال دی تھی کہ ”شعر کی تخلیق شہد بنانے کا عمل ہے جو کئی طرح کے مراحل سے گزرنے کے بعد انجام پاتا ہے جبکہ ”شاعری گھڑنے“ کا عمل شیرہ بنانے جیسا ہے جتنا چاہیں بڑھاتے جائیں۔ سو ایسے بہت سارے لوگ بھی موجو دہیں جو شہد کے بجائے شیرہ بنانے میں مصروف ہیں دوسری جانب اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اردو غزل کی آبیاری کرنے والے کم کم شاعروں میں سے بہت سوں کے بہت سارے شعر مطالعے کے لئے بھی موجود ہیں اور گواہی کے لئے بھی۔یہ شاعر بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ شاعر کا منصب نغمہ سرائی کا بھی ہے اور گریہ زاری کا بھی۔ خواب دیکھ لینا بڑی بات نہیں ہے خواب دکھانا بڑا کمال ہے۔ ہم نے اس مضمون میں اپنی بات کی دلیل کے لئے جتنے اشعار پیش کئے ہیں یہ سارے اکیسویں صدی کے شعراءکے تخلیق کردہ ہیں۔ یہ سب تازہ کار ذہن اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ اپنے دکھوں،اندیشوں، سرشاریوں، حیرتوں اور مسرتوں کے ساتھ تیز رفتار اور بے یقین دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلتے ہوئے اور اپنے خیالات اور تفکرات میں دنیا سے چار قدم آگے نکلتے ہوئے یہ لوگ اردو غزل کو شاد اور آباد رکھے ہوئے ہیں۔ ان مبارک روحوں اور روشن چہرہ شاعروں میں وہ مستند شاعر بھی ہیں جو برسوں سے غزل کے گیسو سنوار رہے ہیں اور وہ نئے شعراءبھی ہیں جنہوں نے اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی شعر گوئی کی راہ اپنائی اور اپنے ہونے کا اعلان کیا۔ ان کا اچھائی، خوبصورتی اورصداقت کی تلاش کا سفر جاری ہے۔اور معاشروں اور سماجوں اور آدمیوں کے درمیان خیر و شر کی جنگ بھی۔۔۔ہمیں یقین ہے کہ خیر و شر اور یقین و گمان کے اس معرکے میں جیت خیر اور سچائی کی ہی ہونی ہے۔ اس کی گواہی دیتے دیتے ہم اکیسویں صدی تک آپہنچے ہیں اور آگے بھی چلنے کو تیار ہیں۔
”زمین میرے لیے پھول لے کے آئی تھی
بساطِ معرکہِٗ صبر آزما سے اُدھر“
ثروت حسین۔

شیئر کریں
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔

کمنٹ کریں