سنڈے اسپیشل کالم

اردو ادب میں غیر کا مسئلہ

کالم نگار : مشرف عالم ذوقی

, سنڈے اسپیشل کالم

آنکھیں کھلتے ہی لامحدود و لا متناہی سوالوں کے شیش محل ہوتے ہیں جس کا ہر دروازہ ایک بھول بھلےّاں ہوتا ہے۔ بے بس و مجبور انسان کی مجموعی شناخت اس کنج قفس میں اسرار ورموز کی پرتیں ادھیڑتے، تلاش کرتے ہوئے رائیگاں گزر جاتی ہے پھر بھی وہ سرانہیں ملتا جس کے بارے میں کہا گیا کہ غور کرو، تمہارے لئے نشانیاں ہیں۔یہاں میں ’میں‘ہونے کے باوجود عکس ناآفرید کی شاخوں میں جھولنے، ڈولنے والے پتوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور اسی خیال کو عالم رنگ وبو کے صدیوں صدیوں پر محیط سفر کے حوالہ سے غالب نے محسوس کیا تو کہنا پڑا۔ میں عندلیب گلشن ناآفریدہ ہوں۔، یہاں میں، فکشن ناآفریدہ کا عندلیب یعنی غیریت کا ایک نامکمل صفحہ ہے۔ مشہور سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ نے یہ کہ کر چونکا دیا کہ انسان محض قدرتی وسائل کا ایک حصہ ہے۔ ہزاروں لاکھوں برس قبل بگ بنگ یعنی ایک بڑے دھماکہ سے یہ دنیا وجود میں آگئی۔ یعنی کائنات کے رقص میں پھیلے، بکھرے ہزارذرّات میں سے ایک انسان کی حیثیت بس اتنی کہ بقول ہاکنگ ’ایک بڑا دھماکہ ایک بار پھر ہماری دنیا کو ختم کردے گا۔ اور اب ہمیں نئے سیاروں پر زندگی کی کھوج کرلینی چاہئے۔ خدا کی مخلوق یا ڈارون کے اس بندر کی سرشت میں ازل سے بھٹکنا لکھا ہے۔ اور اسی لئے ایجاد واختراع، سائنس وتکنالوجی میں ملنے والی کامیابی، چاند سے مریخ تک کے سفر کے باوجود انسانی شناخت سے غیریت کا پرتو نہیں ہٹتا بلکہ ہر کامیابی سے ابہام کے ہزار آباد و نا آباد جزیرے بھی سامنے آجاتے ہیں۔ غیریت کا یہ صفحہ اتنا بھیانک کہ ۶۹۹۱ میں ڈولی بھیڑ کا کلون سامنے آگیا۔اور اس پروسس میں انسانی شناخت ڈی ان اے کے ایجاد کے بعد نقل کے طورپر سامنے تھی۔ ایک چہرہ تھا اور نہیں بھی تھا۔ ایک جسم تھا اور نہیں تھا۔ ایک چہرے جیسے ہزار چہرے وجود میں آسکتے تھے۔ ایک نہ ختم ہونے والا ویران جزیرہ اور صدیوں کے سفر کے بعد بھی انسان کی سرشت میں اپنا ہی چہرہ نا موجود۔ نکولائی گوگول نے انسانی وجود کومردہ روحوں کے طورپر دیکھا تھا۔ جو مرجانے کے باوجود بھی حکومت کے اعداد وشمار اور بہی کھاتوں میں زندہ تھے۔سارتر کے یہاں غیر کا تصور مختلف ہے۔
۰ ایک چھوٹا سا بچہ چاکلیٹ کی طرف لپکتا ہے۔


‘Wow, I’ve always wanted to try that chocolate
‘ that was not yours’
کیوں؟ سارتر کہتا ہے۔ ‘Hell is other people’
اور اس کے بعد وہ کہتا ہے۔
”If there is an other/ what ever, where ever, what ever its relationship with me… I have an out side, my nature, my original sin is the existence of the other’ – -(Being and Nothingness)
سارتر کے خیالات اور وژن کی ہزار تشریح و تفہیمات ہمارے سامنے آچکی ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ فرد اور معاشرے پر ہر آنے والا وقت یا موسم اس کی تشریح اپنے حساب سے کرے گا۔ اگر Existence of the other پر بھروسہ کریں تو ہماری اپنی شناخت بھی other کے حساب سے ہی ہوگی جس پر سامنے والا بھروسہ کررہا ہے اور اس طرح معاشرے اور بھیڑ کے باوجود سب تنہا تنہا اپنی صلیبیں اٹھائے اس عالم رنگ وبو کے رقص ناتمام کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔البیر کامو نے اس Existence کو اپنے ناول outsider میں کچھ زیادہ ہی بھیانک طریقہ سے پیش کیا۔ Meursault ایک جوان آدمی ہے اورکہانی کا Narrator بھی ہے۔ اسے ماں کے انتقال کا ٹیلی گرام ملتا ہے، جب وہ ملنے جاتا ہے تو اس کی ماں کو اس کے آنے سے قبل ہی ایک کافن میں سیل کیا جاچکا ہے۔ماں کو دیکھنے کی ضد نئے نئے واقعات سے روشناس کراتی ہے۔ اس کوجیل کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور آخر وہ اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ اس Human Existence کا کوئی Value نہیں ہے۔ یعنی شیکسپئر کے لفظوں میں کہا جائے تو To be and not be, this is the question ۔انسانی شناخت کی حیثیت یہ کہ فرانز کفکا کی کہانی The Metamorphosis کا ایک کردار اچانک ایک صبح اٹھتا ہے تو خود کو ایک کینچوے کے طورپر محسوس کرتا ہے۔ اس کے شہرہئ آفاق ناول The Trial میں جوزف کے کا کردار اچانک بغیر کسی جرم کے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ Existence کی جگہ ابہام کی پرتیں انسانی وجود کے آگے سوالیہ نشان لگاتی چلی جاتی ہیں۔غیریت وہ سیاہ صفحہ ہے، جس کی دھند سے غالب بھی شکار ہونے سے نہیں بچ سکے۔ اس لئے صدا لگائی کہ ؎
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
تم ہی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
Survival اور Existence کی تعریف وتشریح کسی موہوم خواب سے زیادہ نہیں، جہاں بقا سے زیادہ فنا کا خیال حاوی ہے۔ After death جیسی کئی کتابوں میں نامعلوم دنیاؤں کے اشارے تو ملتے ہیں مگر انسان کی ذات اس لج لجی خاک سے زیادہ نہیں جسے جانوروں پر اشرف ہونے کے باوجود کچھ ماہ وسال زیادہ دے دئے گئے۔اس طرح کی گنجلک کتابوں میں عالم ارواح کے خیالی پیکر بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ دنیاوی مشن پر بھیجے گئے انسان کا کوئی Existence. نہیں ہے۔ ہنری جیمس کے ناول موبی ڈک میں سمندر کی سر کش لہروں پر انسان کی فتح تو ہے مگر قدم قدم پر انسانی ذات سوالوں کے دائرے میں بھی ہے۔ دی اولڈ مین اینڈ دی سی میں انسان کے فاتح ہونے کا اشارہ تو ملتا ہے مگر بوڑھے فشر مین کی جدو جہد رائیگاں خوش فہمی کی طرف اشارہ کرکے، اس سرور کو کم کردیتی ہے۔ لذت بے ذائقہ کا تصور البیئر کامو کے دی پلیگ میں ملتا ہے جہاں ڈاکٹر ریو ناول کے آخر میں کہتا ہے، پلیگ پھر آئے گا…..آسمانی و قدرتی آفات کے درمیان خاندان اور معاشرے میں تقسیم انسان کی شناخت نہ محبت وبے وفائی کے جذبے سے قائم ہوئی نہ ظلم وجبر کی حکومت سے۔ نہ رقابت انسانی شناخت کا حصہ بن سکی نہ عبادت، بندگی اورقربانی کا جذبہ۔ اور اس لحاظ سے دیکھیں توہم آنکھیں کھولتے ہی دوسرے کے تصرف میں آجاتے ہیں۔ناسترو دومس کی تیسری آنکھ، ادراک وفہم، دانش و فلسفہ اور علوم وفنون کے صفحوں سے گزرتے ہوئے یہ خیال بے معنی نہیں کہ ہم کیا جانتے ہیں اور کتنا جانتے ہیں؟۔شمس تبریز کو جاننے سے پیشتر کا ایک واقعہ کہ مولانا رومی اپنے شاگردوں کے ساتھ علمی و دینی گفتگو میں مصروف تھے کہ ایک نیم پاگل شخص اندر آکر کتابوں کے درمیان اشارہ کرکے پوچھتا ہے…. یہ کیا ہے۔ رومی جھنجھلاکر کہتے ہیں یہ وہ ہے جو تو نہیں جانتا۔


اچھا…شمس تبریز اپنی انگشت کو حرکت دیتے ہیں تو کتابوں کے درمیان آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ مولانا رومی پوچھتے ہیں۔ یہ کیا ہے۔ شمس تبریز کہتے ہیں۔ یہ وہ جو تو نہیں جانتا……..
اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ انسانی ذات ابھی بھی سات پردے میں قید ہے اور ہر پردہ اس کی شناخت کو غیر اہم بنا رہاہے۔ یہاں خود شناسی کا ایک مضبوط سلسلہ تصوف کی کتابوں میں آباد ہے جہاں خدا کی ذات و صفات میں گم یا تحلیل ہونا ہی شناخت سے تعبیر بھی ہے اور نجات کی صورت بھی۔ تصوف میں ایک مقام وہ بھی کہ خدا اور بندے کا فرق مٹ جاتا ہے۔بایزید بسطامیؒ سے روایت کہ عبادت گزارلمحوں میں کہا کرتے، ’سبحانی ما اعظم شانی۔‘اے خدا دیکھ میری ذات کتنی عظیم۔ منصور حلاّج نے اسی مقام پر آکر اناالحق کو صدا دی تھی۔ اس طول تمہید کا مطلب صرف یہ کہ غیریت کے افہام وتشریح کی ضرورت اس وقت ممکن ہے جب انسان کی اپنی ذات کی تعریف مکمل ہو۔
یہ سوال اہم ہے کہ اپنی تلاش کا کونسا سرا دریافت کروں کہ’میں‘ کی تلاش مکمل ہوجائے۔ اور اگر’میں‘ کی تلاش میں مسلسل سوال برہنہ کی زد میں ہوں تو یہ انکشاف بھی مجھے چونکاتا نہیں کہ میں خود کو جانتا ہی کہاں ہوں۔علامہ اقبال مشرق ومغرب کے علوم، حق وباطل، مرد مومن، شکوہ جواب شکوہ کے آئینہ میں خود کی تلاش میں سرگرداں ہوئے تو آتش رفتہ کے سراغ سے زیادہ کچھ بھی حاصل نہ تھا۔ یہاں اپنی تلاش صرف ایک فریب، یا عکس ناآفرید کہ سپر ڈالتے ہوئے علامہ کو کہنا پڑا۔
میں کہ مری سرشت میں کھوئے ہوؤں کی جستجو
میری تمام سرگزشت آتش رفتہ کا سراغ
آتش رفتہ کی حیثیت اس لٹے ہوئے خواب سے زیادہ نہیں جہاں تاریخ کی پُر شکوہ عمارتوں سے تہذیب وتمدن اور ثقافتوں کے کارواں ایک ایک کرکے گزر گئے۔ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کی تلاش میں بھی غیریت کا ایک نامکمل صفحہ آباد ہے۔ تاریخ کے ویران، گرد وغبار میں مدفون کنج سے باہر آئیے تو یہاں بھی ن م راشد لمحہئ حیرت کی وادیوں میں خود کو تلاش کرتے ہیں تو ایک نامکمل سرا’لا‘ ملتا ہے۔ اور یہی لا=انسان کی کیفیت انہیں ایشیاء کے دور اُفتادہ دبستانوں میں خوابوں کا رومان تلاش کرنے کے لئے لے جاتی ہے۔ یہ سلسلہ خدا سے شروع ہوتا ہے کہ خدا بھی اپنے لئے نصف منکر اورغیریت کے لامحدود حدود میں داخل ہے۔ برزخ کی وادیوں، ہفت افلاک کی خاموشیوں اور اداسیوں کے درمیان کن فیکون کا طلسم ہاتھ آیا تو عزازیل کی مخالفت کے باوجود آدم کو تخلیق کیا۔ عالم رنگ وبو کے مظاہر میں مصور کائنات نے ایمان ویقین کی دہلیز پر پہلا لفظ ’لا‘ کا اتارا اور اس طرح نصف حصہ غیریت کا شکار ہوگیا۔
لا الٰہ الاّاللہ نہیں ہے کوئی معبودسوائے اللہ کے۔ پھر جواب ملتا ہے۔ محمد ّرسول اللہ۔ یعنی جواب نہ ملتا تو ممکن تھا کہ خدا کی ذات ’لا‘ کے پردے سے کبھی باہر نہیں آتی۔
تصویر کا نصف حصہ ایک سوال ہے اور انسان لا کے مسلسل سوال برہنہ کے ساتھ آج بھی بحر زخار میں، اپنی تلاش میں سرگرداں ہے۔
الٰہی یہ تیرے پُراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے زیب خدائی


’میں‘ کی نہیں ختم ہونے والی تلاش کا سلسلہ سائنس، مذہب، تصوف اور ادب تک پھیلا ہوا ہے۔خدیجہ مستور کا آنگن تقسیم ہوا، لیکن آنگن کے اس طرف جانے والے بھی اپنے تھے۔آگ کا دریا کے وسیع کینواس میں قرۃ العین حیدر تاریخ اور فلسفوں کی روشنی میں اسی ’میں‘ کو تلاش کرتی رہیں۔مستنصر حسین تارڑ اسی میں کی تلاش میں وادیئی سندھ کی سیر کرآئے۔ ان کے ناول خس وخاشاک زمانے میں قدیم کنویں سے برآمد ہونے والے چھوٹے چھوٹے بونوں کی پُر اسرار دنیا در اصل درد اور اپنوں کی دنیا ہے یہاں ایک غم زدہ ماضی ہے اور اپنوں سے بچھڑنے کا غم۔مرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ میں انسان کے انسان سے تعلق کی سطح دیوانگی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بقول اطہر مرزا، کبیر اور زہرہ کا تعلق عورت اور مرد کے تعلق کو انتہائی شکل تک پہنچنے کی کوشش ہے جہاں من و تو کا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے۔یہاں ’غیر‘ سے پردہ ہی اٹھ گیا۔ منٹو کے کہانیوں کی چیخ میں کہیں کوئی غیر شامل نہیں تھا۔ یہاں اپنو ں کا دردٹو بہ ٹیک سنگھ سے انکل سام کے نام خطوط تک پھیلا ہوا ہے۔ محبوب اور رقیب دونوں کا رشتہ محبت سے ہے اور جہاں محبت ہو وہاں غیریت کا گزر نہیں۔ پریم چند کے مشہور زمانہ ناول چوگان ہستی کا ایک کردار نایک رام، ونے سنگھ سے کہتا ہے جس کے لئے جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہوں، میں ا س کے لئے غیر کیسے ہوسکتا ہوں۔دشمنی، جنگ کا تصور بھی قلبی واردات سے ہوتے ہوئے’میں‘ کی شناخت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ روز ازل سے انسان اپنی ہی تلاش میں سرگرداں ہے۔ الگ الگ واقعات، حادثات، واردات اور کرداروں سے گزرتے ہوئے ہماری کہانیاں ابھی بھی انسان کی تلاش میں رقصاں ہیں۔ حکایات مثنوی سے مولانارومی کی آواز بھی سُن لیجئے۔
گفت اینک مابشر ایشاں بشر
ما و ایشاں بستہئی خوابیم و خور
ہم بھی انسان اور یہ بھی انسان۔ دونوں سونے اور کھانے کے پابند تو فرق کیسا۔ روز ازل سے یہی قصہ اب تک جاری و ساری ہے۔ اور اور اس پوری انسانی کتھا میں غیریت کا تصور محض فریب ہے۔ابھی تو خود کو جاننے کا پہلا مرحلہ بھی طئے نہیں ہوا۔
دنیا ایک ختم نہ ہونے والی نیند ہے۔
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں