بلا شبہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ سنیما نے ہمیں ایک طویل وقت سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے جس سے باہر نکل کے آ پانا اب لگ بھگ ممکن ہی نہیں ہے۔ بہترین فلمیں، غزلیں، نغمیں، ڈائلاگز کی تعریف کے لیے ہر لفظ چھوٹا معلوم ہوتا ہے، کبھی کبھی کچھ ایسی فلمیں، غزلیں، نغمیں بھی سامنے آتے ہیں کہ جن کی مثالیں دے پانا میرے خیال سے لفظوں کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی۔ اس گرفت کو بنائے رکھنے کا کام ایک طویل وقت سے صرف اور صرف اردو ہی کر رہی ہے۔ اردو کتنی میٹھی زبان ہے اس حوالے سے ایک انٹرویو میں منوررانا نے کہا تھا کہ،

‛‛اگر آپ اپنی محبوبہ سے کہیں کہ آج تم مرڈرر دکھائی دے رہی ہو، تو وہ آپ سے خفا ہو جائینگی لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ آج تو تم قاتل دکھائی دے رہی ہو، تو وہ آپ کو چائے پیش کریں گی، تو یہ اس زبان کی خوبی ہے کہ یہ لفظ کو نرم کر دیتی ہے یہ محبت کی زبان ہے عاشق کی زبان ہے اردو’’

ایک شعر دیکھیں،

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا
فراق گورکھپری

اردو کی تعریف بیان کرنے کے لیے میرے پاس صرف احساسات ہی ہیں کیوں کہ یہ کام لفظوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں، کہ اگر اردو بالی وڈ کا حصہ نہ ہوتی تو ایسی فلمیں، غزلیں، نغمیں، ڈائلاگز کا ہماری زندگی پر کوئی خاص اثر نہ ہوتا۔ پہلے کے مقابلے آج کے نغموں کی زیادہ عمر نہیں ہوتی اس کی ایک اہم وجہ اردو کا اس میں شامل نہ ہونا ہے۔ کچھ اشعار دیکھیں،

شستہ زباں شگفتہ بیاں ہونٹھ گل فشاں
ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردو زبان کی
فرحت احساس

بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
منیش شکلا

ساحر لدھیانوی کا بیحد مقبول نغمہ،

رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں
یہ مرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں، کسے پیش کروں

یہ میرے شعر میرے آخری نذرانے ہیں
میں ان اپنوں میں ہوں، جو آج سے بیگانے ہیں
بے تعلق سی ملاقات کسے پیش کروں
یہ مرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں، کسے پیش کروں

یہ نغمہ ہر اس انسان کی زندگی سے ضرور گزرا ہوگا جس نے سنما کو پسند کیا ہے یا جس کی سنما میں دلچسپی ہے۔

فلم ‛‛غزل’’ میں یہ نغمہ شامل ہے ویسے تو کئی ساری ایسی بہترین فلمیں ہیں جن میں اردو کی خوبصورتی کو ظاہر کیا گیا ہے اسے سنوارا گیا ہے۔ ان سبھی بہترین فلموں میں ایک نام ‛‛غزل’’ کا بھی آتا ہے۔ اس فلم نے اردو کے چاہنے والے لوگوں کے دل میں ایک مخصوص جگہ بنائی ہے۔

اعجاز ‛‛انقلاب’’ کے ایڈٹر ہیں کام سے واپس گھر لوٹتے وقت جب وہ راستے سے گزرتے ہیں تو انہیں ایک گھر سے کسی لڑکی کی آواز آتی ہے جو غزل گاتی ہے آواز سن کر اعجاز اپنی ساری تھکان بھول کر اس گھر کے قریب جاتے ہیں مگر نا کامیاب ہوتے ہیں وہ گھر پہنچتے ہیں آواز اس قدر شیریں ہوتی ہے کہ انہیں وہ بارہا سنائی دینے لگتی ہے وہ بے تاب رہتے ہیں کہ اتنی پر کشش آواز کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ کام پر بھی اب ان کا دل لگانا مشکل سا ہو جاتا ہے۔

کچھ دن گزر جانے کے بعد انہیں اسی گھر سے مشاعرے میں شرکت کے لیے بلایا جاتا ہے یہ سن کر ان کی خوشی آسمان کو پہنچ جاتی ہے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ لڑکی یہاں انہیں مل سکتی ہے۔ وہ مشاعرے میں پہنچتے ہیں ادھر ادھر سب جگہ نظریں گھماتے ہیں مگر وہ لڑکی کہیں بھی نہیں دکھتی۔ دوسرے شاعروں کے کلام پڑھنے کے بعد جب انہیں اسٹیج پر بلایا جاتا ہے تو وہ اسی غزل کو کچھ بدلاؤ کر کے ترنم میں پیش کرتے ہیں سننے والوں سے انہیں ڈھیروں داد ملتی ہے مگر جس شاعرہ کی زمین پر انہوں نے وہ غزل کہی تھی وہ انہیں اس محفل می سن رہی ہوتی ہیں۔ آگے کی کہانی کے لیے آپ کو مکمل فلم دیکھنی پڑے گی اسی فلم میں شامل ایک غزل دیکھیں۔

عشق کی گرمیء جذبات کسے پیش کروں
یہ سُلگتے ہوئے دن رات کسے پیش کروں

حُسن اور حُسن کا ہر ناز ہے پردے میں ابھی
اپنی نظروں کی شکایات کسے پیش کروں

تیری آواز کے جادو نے جگا دیا ہے جنہیں
وہ تصّور ، وہ خیالات کسے پیش کروں

اے میری جانِ غزل ، اے میری ایمانِ غزل
اب سوا تیرے یہ نغمات کسے پیش کروں

کوئی ہمراز تو پاوں ، کوئی ہمدم تو ملے
دل کی دھڑکن کے اشارات کسے پیش کروں

فلم کے اداکار ‛‛اعجاز’’ (سنیل دت)، اداکارہ ناز آرا بیگم (مینا کماری) ہیں۔ فلم میں آپ کو ‛‛پرتھوی راج کپور’’ صاحب کی اداکاری بھی دیکھنے کو ملے گی۔ اس فلم کے ہدایت کار ‛‛وید موہن’’ ہیں۔ فلم کی کہانی ‛‛آغا جانی کشمیری’’ نے لکھی ہے۔ فلم کے گلوکار ‛‛محمد رفیع صاحب’’ ‛‛لتا منگیشکر’’ ‛‛سمن کلیانپری’’ ‛‛مینو پرشوتم’’ ‛‛آشا بھونسلے’’ جی ہیں ۔ موسیقی ‛‛مدن موہن’’ جی نے دیا ہے اور اسی کے ساتھ ‛‛ساحر لدھیانوی’’ کی کبھی نہ بھولی جانے والی غزلیں ہیں ۔ان سبھی ناموں کو پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہے کہ آپ کی اس فلم کو دیکھنے کی خواہش اور شدید ہو گئی ہوگی۔ اسی فلم سے ایک غزل دیکھیں۔

نغمہ وشعر کی سوغات کسے پیش کروں
یہ چھلکتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں
۔
شوخ آنکھوں کے اجالوں کو لٹاؤں کس پر
مست زلفوں کی سیاہ رات کسے پیش کروں
۔
گرم سانسوں میں چھپے راز بتاؤں کس کو
نرم ہونٹھوں میں دبی بات کسے پیش کروں
۔
کوئی ہم راز تو پاؤں کوئی ہم دم تو ملے
دل کی دھڑکن کے اشارات کسے پیش کروں

فلم کو دیکھنے کے بعد میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں، کہ آپ کے دل میں اردو کے لیے محبت اور بڑھ جائیگی۔

نوٹ: یہ مضمون اجے نیگی نے 25 جنوری 2021 کو ریختہ بلاگ پر ہندی میں شائع کیا تھا۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں