کیا اردو کا نفاذ ممکن یے

تحریر : اعزاز کیانی

اردو, کیا اردو کا نفاذ ممکن یے

زبان کی پہلی غائیت رابطہ و ابلاغ ہے. چنانچہ اس غائیت کے تحت مختلف اقوام کسی ایک زبان کو قومی زبان قرار دیتی ہیں. قومی زبان سے مطلوب و مقصود یہ ہوتا ہے کہ ریاست کی مجموعی عوام کو ایک زبان پر جمع کیا جائے تاکہ نہ صرف ریاست اور عوام کے مابین کوئی خلا نہ رہے بلکہ عوام کا جب باہم اختلاط ہوتو زبان کی نافہمی و نا شناسی انکے باہم اختلاط و رابطہ میں حارج نہ ہو. یہ قومی زبان اس ریاست کی تدریسی زبان بھی ہوتی ہے اسلیے کہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے آپ جس زبان کو بااحسن پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں اسی زبان میں بااحسن سیکھ بھی سکتے ہیں.


مملکت خداداد پاکستان میں بمطابق آئین پاکستان قومی زبان اردو جبکہ سرکاری زبان انگریزی ہے. آئین ہاکستان میں انگریزی کو دراصل ایک وسط مدتی یا وقتی تدبیر کے تحت سرکاری زبان قرار دیا گیاتھا. پاکستان چونکہ انگریزی تسلط سے آزاد ہوا تھا لہذا اس وقت تک پاکستان کے تمام قوانین اور تمام دستاویزات انگریزی میں تھی اور یہ عملاً نا ممکن تھا کہ یک دم اس سارے ذخیرے کو اردو میں منتقل کیا جا سکتا. لیکن آئین پاکستان کی اس شق پر ہنوز عمل نہ ہو سکا چنانچہ نفاذ اردو بھی ہنوز ایک موضوع بحث ہے.


میرے نزدیک اصولی طور پر یہ مطالبہ یعنی نفاذ اردو کا مطالبہ بالکل صائب ہے. بلکہ یہ ایک فطری قاعدہ ہے کہ آپ کی اکثریت جس زبان کو بول, پڑھ, لکھ اور سمجھ سکتی ہو وہی زبان آپکی سرکاری و تدریسی زبان ہو. تاکہ ریاستی سطح کی تمام دستاویزات, تمام قوانین اور تمام فیصلوں سے ایک عام شہری بھی واقف ہو سکے.


یہ بات بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انگریزی زبان پاکستانی طلبہ کے سیکھنے وسمجھنے کے عمل میں ایک حارج کا کردار ادا کر رہی ہے. لیکن اسکی وجہ یہ بھی کہ ہماری تدریسی زبان تو اگرچہ انگریزی ہے لیکن ہمارے ہاں عموما ً طلبہ کوانگریزی بطور زبان سکھائی ہی نہیں جاتی جو ان کی مشکلات میں دوہرے اضافے کا موجب ہے. لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردو کا نفاذ ممکن ہے?


میرے نزدیک اگر خالصتا عقلی بنیادوں پر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو وہ جواب یہ ہے کہ سر دست یا یک دم اردو کا نفاذ عملاً ممکن ہی نہیں ہے. اسلیے کہ اس وقت ہمارے ہاں جتنے بھی قوانین و دستاویزات و فیصلے موجود ہیں وہ سب اردو میں ہیں. نصاب کی وہ تمام کتب ( باالخصوص اعلیٰ تعلیم کی کتب) جو ہمارے اداروں میں شامل نصاب ہیں یا جو معاون مواد کے طور پر موجود ہیں وہ سب انگریزی میں ہیں, اس کے علاوہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اس وقت بھی جو نیا علم تخلیق پا رہا ہے وہ اکثریت میں انگریزی زبان میں ہی تخلیق پا رہا ہے, بلکہ اس صدی کے غالب علم یعنی علم سائنس کی بابت بجا طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سائنس انگریزی بولتی ہے.


چنانچہ دوسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اردو کا نافذ کیسے ممکن ہے.
میرے نزدیک اس کے لیے لازم ہے کہ سرکاری سرپرستی میں تمام علوم کی امہات کتب ( نصابی و غیر نصابی) کو اردو میں منتقل کیا جائے, موجودہ قوانین و فیصلوں کو اردو زبان میں منتقل کیا جائے اور اسکے ساتھ ہی نئے علوم جو دیگر زبانوں میں پیدا ہوں انکو ساتھ ساتھ منتقل کیا جاتا رہے.
علاوہ ازیں انگریزی کو بھی بطور زبان پڑھایا جائے تا کہ نہ صرف عوام برائے راست ان علوم سے واقف ہو سکے بلکہ خود بھی ان علوم میں اپنا حصہ بذریعہ تحقیقی مقالات ڈال سکے

شیئر کریں

کمنٹ کریں