اردو میں ناول کی ابتدائی تنقید

مضمون نگار : محمد عباس

, اردو میں ناول کی ابتدائی تنقید

اردو میں ناول کی تنقید کی ابتدا ناول کے آغاز کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
قصے کہانی کی روایت گو کہ ہندوستانی معاشرے میں بہت پرانی تھی لیکن ایک ایسا قصہ جس کی جڑت تمام تر اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہو، جس میں عام اور روز مرہ کی باتیں ہوں،کہانی کا یہ روپ اردو والوں کے لیے نیا تھا۔ ایسے میں فنکاروں کو ضرورت پیش آئی کہ وہ ناول کو عوام میں متعارف کروانے کے لیے اوراس کی تشریح و تو ضیح کے لیے خود ہی لکھیں۔یوں فن کاروں نے ناول کے ساتھ ساتھ ناول کے بارے میں بھی لکھنا شروع کر دیا۔
اول اول،ناول کی بابت ان تخلیق کاروں کے خیالات کا اظہار اپنے ناول کے دیباچوں کے اندر ہی رسمی صورت میں ہوتا رہا۔کسی نے صنفِ ناول کی وضاحت پر زور صرف کیا ، کچھ اپنے نظریۂ فن کے بارے میں لکھتے رہے اور کچھ نے ناول کے فنی معیارات پر بحث کی۔ یوںاردو ناول کے تشکیلی دور میں ، جب اردو ناول کی عمارت کی بنیادیں قائم ہو رہی تھیں، ناول کی تنقید نے بھی اپنے کٹھن سفر کا آغاز کیا۔ اس ابتدائی دور میں ہی ناول کی تنقید میں بیشتر ایسے مباحث کا آغاز ہو گیا تھا جن پر بعد ازاں ناولی تنقید نے اپنا زور صرف کرنا تھا۔اس لحاظ سے،ناول کی تنقید کا جائزہ لینا ہو تو یہ دور اہم ہے جب ناولی تنقید کی آئندہ اٹھان کے امکانات واضح ہو رہے تھے۔سو ضروری ٹھہرتا ہے کہ ناول کی تنقید کا تفصیلی جائزہ لینے سے قبل تنقید کے اس اولین دور پر توجہ کی جائے۔ زیرِ نظر باب میں ناول کی اسی ابتدائی تنقید کا جائزہ لیا جائے گا جو ۱۸۶۲؁ سے ۱۹۰۰؁ کے عرصے تک باقاعدہ یابے قاعدہ صورت میں مختلف لوگوں کے ہاں ملتی ہے۔


اردو میں جدید طرز کے قصوں کے متعلق سب سے پہلا تنقیدی اظہار مولوی کریم الدین کے ہاں ملتا ہے۔۱۸۶۲؁ میں انہوں نے ’’خطِ تقدیر‘‘ نامی کتاب لکھی( جس کے بارے ناقدین میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا یہ ناول ہے کہ تمثیل) تو انہوں نے اس کا دیباچہ بہ عنوان ’’پیشانیِ خطِ تقدیر ‘‘ لکھا۔ اس دیباچے میں اردو میں ناول کی تنقید کا پہلا سراغ ملتا ہے۔ یہاں انہوں نے قصے کی قدیم طرز اور روش کو تنقید کا نشانہ بنا کر نئے انداز کا قصہ لکھنے اور پڑھنے کی ترغیب دی۔ ان کے ہاں واضح طور پر قصہ گوئی کی قدیم صورتوں سے انحراف کی خواہش نظر آ رہی ہے:


’’سات سو برس سے عربی اور ترکی میں اور ایک سو برس سے ہندی یا اردو میں قصہ نویسی کا جو شوق لوگوں کو ہوا تو اس دن سے آج تک یہ دستور رہا ہے کہ ان مصنفوں نے بادشاہوں یا تاجروں یا فقیروں کی کہانیاں لکھیں ۔ کوئی قصہ مضامینِ عشقیہ اور محاوراتِ واجب التحریر سے خالی نہیں ہے اور جس راہ پر اول مصنف چلا تھا ، وہی سڑک آج تک جاری ہے۔ کسی نے دوسری روش اختیار کرنے کا خیال بھی نہیں کیا……شاید ان (قصہ گوؤں ) کے ذہن میں یہ خوف سمایا ہو گا کہ نئی وضع کا قصہ ایشیا کے باشندے پسند نہ کریں گے تا آنکہ عشق کی کہانی کیوں کہ یہ ہر ملک اور ہر زمانے کے لوگوں کے دلوں پر زیادہ مؤثر ہوتی رہی ہے۔‘‘٭۱


مولوی کریم الدین جس عہد سے تعلق رکھتے تھے، وہاں داستان گوئی ایک مستند روایت کی حیثیت رکھتی تھی۔ روایت کے اس درجے کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ اس میں بڑے فن کاروں کے علاوہ چھوٹے بلکہ پست درجے کے لوگوں کے لیے بھی بڑا موقع ہوتا ہے ۔ یہ چھوٹے فن کار قوت متخیلہ کی کمی کی وجہ سے نئی اختراعات سے معذور ہوتے ہیں اور صرف قدما کی پیروی کر کے اپنی روزی روٹی چلائے رکھتے ہیں۔ کسی بھی روایت کے لیے یہ وقت خطرناک ہوتا ہے۔ ایسے ہی لمحوں میں اعلیٰ ذہن رکھنے والے لوگ اس روایت سے بیزار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسے میں پرانی روایت اپنا کوئی اعلیٰ شاہکار پیش نہ کر دے تو نئی چیزوں کے متلاشی ذہن دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔ اردو میں داستان پر جب ایسا وقت آیا تو داستان گوئوں نے اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھایا جو داستان کی روایت اپنی زندگی کے لیے ان لوگوں سے تقاضا کرتی تھی اور دو شاہکار ’’داستانِ امیر حمزہ ‘‘اور’’ بوستانِ خیال‘‘ پیش کیے لیکن جدید صنعتی ثقافت کا دھاراایسا تھا کہ داستان کی روایت بھی،اپنی خالق معاشرت کے زوال کے ساتھ ساتھ، اپنا اعتبار کھوتی چلی گئی۔اب یہی مقدر ٹھہرا کہ غالب تہذیب کے مظاہر اس کی جگہ لے لیں۔ مولوی صاحب کے ہاں بھی قدیم روایت سے انحراف کا جو رویہ مل رہا ہے، یہ سب اسی مغربی ثقافت کی بالواسطہ عطا ہے۔ لیکن اس عمل میں ہم انہیں قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے ۔ تاریخ کے اس لمحے میں یوں ہونا ہی تھا، اس کے لیے کسی نہ کسی کو آلۂ کار بننا ہی تھا، مولوی صاحب نہ بنتے ، کوئی اور ہو جاتا۔ ہونا ایسے ہی تھا، جیسے وقت چاہتا تھا۔


قدیم قصوں اور ان میں بیان کردہ حالات جو اردو کی افسانوی روایت میں ایک نقطے پر جامد ہو گئے تھے، ایک ڈھلی ڈھلائی روش تھی جس کے تحت کہانی بیان ہوتی جاتی تھی۔ زبان کے ہیر پھیر کے ساتھ ایک جیسے واقعات کو نئے انداز سے پیش کرنا داستان گوئی کی مہارت قرار پا چکا تھا۔ کہانی کا مقصد تفریحِ طبع اور زبان دانی کی مہارت کے اظہار تک محدود تھا۔ اوسط درجے کے فنکار ساری ساری رات سامعین کو ایسے حربوں کی مدد سے مسحور رکھتے تھے۔ایسے میں مولوی کریم الدین کا اس عام پسند روش سے انحراف اہم ہے۔ اپنے دیباچے میں انہوں نے نئے انداز کے قصے میں جن باتوں کی طرف توجہ کی ، ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
ا۔ ایشیائی قصوں کی پرانی روش اور طرز چھوڑ کر نئے طریقے سے کہانی لکھنا۔
ب۔ قصے کا پیرایہ ایسا ہو جس کا اثر انسان کی طبع پر ہو۔
ج۔ جو شخص پڑھے ، اسے اپنے حسبِ حال معلوم ہو۔ یعنی واقعتاً کہانی زمین پر بسنے والے انسانوںکی ہو۔
د۔ قصہ خوانی انسان کو مسرت و انبساط کے علاوہ بصیرت و بصارت بھی عطا کرے۔٭۲


ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کہانی کا مقصد اپنے سابقہ رتبے سے بڑھ رہا ہے۔ کہانی اب دل بہلانے کا فن ہی نہیں رہی بلکہ وہ اس سے بصیرت حاصل کرنے کے بھی متقاضی ہیں۔اور زمین پر بسنے والے انسانوں کی کہانی ہونے کی وجہ سے یہ بصیرت لا محالہ انسانی رویوں اور مسائل کے متعلق ہی ہو سکتی ہے۔ وہ بادشاہوں ، تاجروں اور فقیروں (یعنی اس دور کے اعلیٰ طبقات) کی زندگی پیش کرنے کی بجائے اپنے ارد گرد کے لوگوں کے حالات بیان کرنے پر زیادہ زور دیتے ہیں تا کہ پڑھنے والے کو سب حالات اپنے حسبِ حال محسوس ہوں اور وہ کہانی کے کرداروں کے ساتھ اپنی یک گونہ مطابقت پیدا کر سکے۔


مولوی صاحب نے سب سے اہم رائے زبان کے بارے میں دی ہے کہ زبان ایسی ہو جو اثر پیدا کرے۔ وہ لفاظی اور لسانی شعبدہ بازی جو داستان گویوں کا مرغوب ہتھیار بن چکی تھی،ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ زبان کے کمالات کو سراہنے کی بجائے ’’اثر‘‘ اور ’’نتیجے‘‘ پر زور دیتے ہیں یعنی اہمیت معنی کی ہے، مواد کی نہیں۔ اردو ناول کی زبان بڑی حد تک سادہ اور موضوع کے حسبِ حال رہی ہے، اس کی وجہ شاید یہی ہو کہ اردو ناول کے بارے میں پہلا تنقیدی اظہار ہی زبان کے احسن استعمال پر زور دیتا ہے۔یہ نہیں کہ زبان سادہ ہو، بلکہ اس میں اثر ہو اور اثر آرٹ ہی پیدا کرتا ہے۔ حتیٰ کہ صرف سادہ زبان بھی آرٹ ہی کی بدولت وجود میں آتی ہے۔


مولوی کریم الدین کی یہ تنقیدی آراء ما قبل قصہ نگاری کی روایت سے مکمل آگاہی کا نتیجہ ہیں۔ وہ اپنے عہد کی رفتار میں پیدا ہونے والی تبدیلی کے شاہد ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ادب کی روایت کے انجماد کو بھی محسوس کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے انقلابی خیالات کا اظہار کرنے میں جھجک محسوس نہ کی۔ ان کے ہاں قصہ مافوق الفطرت دنیا سے نکل کر روز مرہ ماحول میں آ کر سانس لینے کی خواہش کا اظہار کرتا دکھائی دیتاہے۔آج جس رجحان کو ہم حقیقت نگاری اور معاشرے کی عکاسی وغیرہ جیسی اصطلاحوں میں بیان کرتے ہیں، اس کی طرف پہلا اشارہ کریم الدین نے ۱۸۶۲؁ میں دے دیا تھا۔اس کے علاوہ ان کا یہ جملہ کہ ’ایشیائی قصوں کی روش اور طور کو چھوڑ کر نئی چال چلنا بہتر ہے‘ واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے ہاں کے مروجہ طریق ہائے بیان کے پارکھ ہونے کے ساتھ ساتھ مغرب سے درآمدہ تازہ فنِ قصہ گوئی سے شناسا بھی ہیں اور اس کے قدر دان بھی۔ایشیائی قصوں کو ترک کرنے کی یہی صلاح اردو کے کہانی کاروں کے لیے مشعلِ راہ تھی کہ اب روندی ہوئی چراگاہوں میں دندناتے پھرنے کی بجائے بہتر ہے کہ نئے میدانوں کی تلاش میں نکلا جائے۔ ایک ایسے دور میں جب مغرب کی صنعتی تہذیب کے ساتھ برصغیر کی تہذیب کا ٹکرائو اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا اور اس صنعتی تہذیب نے اپنی برتری ثابت کر دی تھی ، یہ ناگزیر تھا کہ کسی شخص کی توجہ کہانی کی اس شکل پر بھی پڑتی جو یہ صنعتی تہذیب ناول کے نام سے اپنی بغل میں داب لائی تھی۔ ایک ایسا تاریخی موڑ جہاں سیاسی شکست نے اپنی روایت پر لوگوں کا اعتقاد ڈانواں ڈول کر دیا تھا اور لوگ شعوری طور پر اپنی شکست خوردہ تہذیب کے عناصر سے منہ موڑکر نئی تہذیب کے مظاہر اپنا رہے تھے، مولوی کریم ا لدین کا کہانی سے نئے تقاضے کرنا بھی فطری نظر آتا ہے۔سماجی رشتوں کی طرف توجہ ، حقیقی زندگی کی پیش کش ، مروجہ مضامین و موضوعات سے انحراف ، زبان کو تصنع سے آرٹ کی سطح پر لانا یہ سب تنقیدی اشارے ہی ہیں جو اس معاشرے کے شعور میں کہانی کے بدلتے رجحان کے لیے پیدا ہوتی قبولیت کا اظہار ہیں اور یہی اظہار بہت تھوڑے عرصے بعد عملی شکل میں نذیر احمد کے ہاں در آتا ہے۔ ارتضیٰ کریم مولوی کریم الدین صاحب کی بابت لکھتے ہیں کہ :


’’اس سے قبل اتنے واضح انداز میں کسی نے فکشن کی تنقید نہ کی تھی۔ دیکھا جائے تو تنقیدی اعتبار سے کریم الدین کے یہ خیالات خاصے انقلابی اور تغیر آفریں نظر آتے ہیں۔ اس عہد میں اس نوع کی فکر اور پرانی کہانیوں پر ایسی تنقیدی رائے کہ اس میں محض طبقہ اولیٰ کے کردار اور شاہی معاشرت کے شب و روز کوہی بنیاد بنایا جاتا ہے، بڑی بیش قیمت ہے۔ اس اعتبار سے کریم الدین کا تنقیدی رویہ پختہ نظر آتا ہے جس نے آنے والے دور کے فکشن اور تنقید دونوں کو متاثر کیا۔‘‘٭۳


مولوی صاحب کے بعد اردو میں ناول کے متعلق آراء کا اظہار ڈپٹی نذیر احمد کے ہاں نظر آتا ہے۔اپنے پہلے ناول ’’مراۃالعروس ‘‘کے دیباچے میں انہوں نے اس کتاب کے مقصدِ تصنیف کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے ۔ اپنی زبان میں ایک بالکل نئی کہانی لکھتے ہوئے ان کے ذہن میں ضرور اس صنف کے فنی تقاضے رہے ہوں گے۔ لیکن دیباچے میں انہوں نے ناول کے فن پر کچھ نہیں لکھا۔ البتہ لکھاتو محض اپنی تصنیف کا جواز بتانے کے لیے لکھا۔ ظاہر ہے کہ کسی صنف کے پہلے نمونے کی پیش کش کرتے ہوئے اس فن کی مبادیات پر بحث ممکن بھی نہ تھی، یہ مرحلہ تو کہیں راستے میں آنا تھا۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ قارئین کو بتایا جائے کہ آخر اس طرز کا قصہ تحریر کیوں کیا گیا۔ سو انہوں نے دیباچے میں یہی کام کیا:
’’……مجھ کو ایسی کتاب کی ضرورت محسوس ہوئی جو اخلاق و نصائح سے بھری ہوئی ہو اور ان معاملات میں جو عورتوں کی زندگی میں پیش آتے ہیں اور عورتیں اپنے توہمات اور کج رائی کی وجہ سے ہمیشہ مبتلائے رنج و مصیبت رہا کرتی ہیں، ان کے خیالات کی اصلاح اور ان کی عادات کی تہذیب کرے اور کسی دلچسپ پیرائے میں ہو۔ جس سے ان کا دل نہ اکتائے، طبیعت نہ گھبرائے‘‘٭۴


نذیر احمد کے اس دیباچے سے نظر آتا ہے کہ ان کے پیشِ نظر ناول کا ایک صریح مقصد ہے۔ عورتوں کی عادات کی تہذیب لیکن اس سے اگلا جملہ فن ِ ناول کے بارے میں ان کی بصیرت کا مظہر ہے کہ ’’دلچسپ پیرائے میں ہو‘‘یعنی وہ قصے میں موعظت اور ترغیب ِ اصلاح کے باوجود اس میں دلچسپی کے عنصر کو بھی اہمیت دیتے ہیں جو کہ ناول کی اصل ہے۔ بھلا اخلاق اور مواعظ دنیا کی کس زبان کے ناول میں نہیں ملتے لیکن ان کی اصل اہمیت ان میں دلچسپی کے عنصر کی بنا پر دیکھی جاتی ہے فقط اخلاقی عناصر کی کثرت کی بنا پر دھتکارے نہیں جاتے۔نذیر احمد بھی ناول میں دلچسپی کو اہمیت دیتے ہیں ۔ نذیر احمد ناول کے فن کو سمجھتے تھے۔ گو کہ بعض لوگوں کو ان کے ہاں اخلاقی واعظ ناگوار گزرتے ہیں لیکن یہی تو ان کا کمال ہے ،اسی بنا پر تو علی عباس حسینی سے لے کر آصف فرخی تک تمام ناقدینِ ناول نذیر احمد کی تعیین قدر کی بحث اٹھائے ملتے ہیں۔ ناول کے فن کی بابت نذیر کے ایک اور بیان میں ہلکے سے اشارے ملتے ہیں کہ :


’’جو کچھ وقت اس کتاب کی تصنیف میں صرف ہوا، اس کے علاوہ یہ کتاب مدتوں اس غرض سے پیشِ نظر رہی کہ بولی با محاورہ ہو، اور خیالات پاکیزہ اور کسی بات میں آورد اور بناوٹ کا دخل نہ ہو‘‘٭۵


یہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نذیر احمد ناول کے فن میں دو چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں ، ایک زبان کی دلنشینی اور دوسرے قصے کا فطری پن۔(جسے احسن فاروقی کی زبان میں گتھا ہوا پلاٹ کہا جا سکتا ہے)نذیر احمد اپنے ناولوں میں ان معیارات پر پورے اترے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن مندرجہ بالا جملوں سے علم ہوتا ہے کہ انہیں فنِ ناول کی مبادیات کا شعور تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ناول کے فن میں حسنِ زبان، قصے کا فطری پن، اور اس میں دلچسپی کا عنصر ہی ناول کی اصل روح ہیں۔


نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ کی تقریظ میں ایم کیمپسن (ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن، ممالکِ شمال و مغرب) نے بھی کچھ ایسے جملے لکھے ہیں جنہیں آج اردومیں ناول کی تنقید کے ابتدائی نشان کہا جا سکتا ہے۔ انگریز ہونے کے ناتے ناول ان کے لیے نئی صنف نہ تھی اور یقینا وہ انگریزی ناول کی روایت سے کسی نہ کسی حد تک آگاہی ضرور رکھتے ہوںگے، اس لیے اردو کے پہلے ناول کی تقریظ میں ان کا بیان آنے والے ناولوں پر اثر انداز ہونے کی اہلیت رکھتا تھا:
’’نذیر احمد کی یہ تصنیف روز مرہ کے پڑھنے کے لائق اور عام فہم ہے اور اس کا مطلب صاف اور عمل کرنے کے قابل ہے۔ اس میں مضامینِ عاشقانہ اور نازک خیالات جن کو اس ملک کے مصنف اپنی شہرت کا ذریعہ سمجھتے ہیں، نہیں ہیں……یہ کل قصہ شرفا کی زبان میں بیان کیا گیا ہے کہ وہی اس ملک کی اصل اردو ہے ، نہ کہ وہ جس میں نمائش کے لیے بڑے بڑے الفاظ اور مضامین بھر دیے جاتے ہیں۔ حالات ایسے ایسے واقعی لکھے ہیں جو ہر ایک عورت کو اس کے سسرال میں پیش آیا کرتے ہیںاور زنان خانے کے وہ طور طریق بیان کیے ہیں کہ جو اہلِ یورپ اس کو پڑھے گا ،اس ملک کی عورتوں کے روز مرہ حالات کی کسی قدر واقفیت اول ا س کتاب سے حاصل کرے گا۔ عورتوں کی زبان اور ان کی رغبت اور بچوں کا لاڈ پیار اور امورِ خانہ داری میں عورتوں کا اختیار اور ان کی جہالت اور ان کے مکرو فریب یہ سب اس کتاب سے خوب عیاں ہوتے ہیں اور بیان سے کوئی علامت مبالغے کی نہیں پائی جاتی ۔ ظاہر ہے کہ مصنف نے اصل حقیقت بیان کی ہے اور قصے کی نصیحت نفسِ قصہ سے نکلتی ہے……جن اشخاص کا مذکور اس قصے میں ہے وہ پڑھنے والے کو ایسے نظر آتے ہیں کہ گویا ان کی نقل ہورہی ہے ۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کسی ہندوستانی نے اس سے پہلے بجائے لفاظی اور مداحی کے بات چیت اور گفت و شنید سے اصل حقیقت کو ایسا ادا نہیں کیا۔‘‘٭۶


مندرجہ بالا بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایم کیمپسن کے نزدیک ناول کے فن میں کون کون سی چیزیں اہمیت کی حامل ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے موضوع پر بات کی۔ یعنی عام موضوعات سے ہٹ کر موضوع ہونے کی بنا پر اسے اچھا ناول قرار دیتے ہیں، جو کہ ویسے بھی ہر اچھے ناول کی بنیادی خوبی ٹھہرتی ہے۔ دوسرے انہوں نے ناول میں اس روز مرہ زبان کی تعریف کی ہے جو کہ اصل زبان ہے (اس میں کیمپسن کا غیر ملکی ہونا بھی ایک عنصر ہو سکتا ہے کہ ثانوی زبان والوں کے لیے زبان کی پیچیدگی کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے)اور لفظوں کی نمودو نمائش سے پرہیز کو اس کی خوبی بتایا ہے۔ تیسری بات یہ کہ قصے کی نصیحت الگ سے، یا غیر فطری طور پر نہیں بلکہ نفسِ قصہ سے نکلتی ہے۔ آخری چیز جسے انہوں نے سراہا ہے، وہ حقیقی حالات ہیں یعنی ’’اصل حقیقت‘‘۔ کیمپسن کے یہ خیالات ناول کی بالکل ابتدا کے وقت ناول کی تنقید کے لیے اہم ٹھہرتے ہیں۔
کیمپسن کے ساتھ ہی ولیم مور نے بھی نذیر احمد کے ناولوں کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ یہاں بھی ناول کی تنقید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ملتی ہے۔ ’’مراۃ العروس ‘‘ کی بابت انہوں نے لکھا کہ :


’’اس ملک کے عام مروجہ حکایاتِ بے لطف کے مقابل میں ، کہ وہ اکثر قابلِ اعتراض بھی ہیں، اس کتاب کے نہایت عمدہ مضامین سے پڑھنے والوں کو نہ صرف یہ فائدہ ہو گا کہ سلیس ، فصیح زبانِ روز مرہ سے واقفیت حاصل ہو گی بلکہ امورِ خانہ داری میں بھی بہت واقفیت پید اہو گی اور ممکن نہیں کہ جن لوگوں کو بہ وجہ اپنے مناصب کے لوگوں سے کام پڑتا ہے ان کے لیے فہمیدِ معاملات میں یہ کار آمد نہ ہو‘‘ ٭۷
یہاں ولیم مور نے موضوع کی ندرت اورزبان کی سلاست و فصاحت کی طرف توجہ دی ہے۔ جب کہ نذیر کے دوسرے ناول ’’توبتہ النصوح‘‘ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں :
’’بہ مقابلہ ’’مراۃالعروس‘‘ کم تر درجہ کی ہے۔ یعنی بہ اعتبارِ بندش اور حالات کے اس میں وہ بے ساختگی نہیں جو ’’مراۃالعروس‘‘ میں ہے اور چند اشخاص کا ذکر ایک مرتبہ کیا گیا ہے مگر پھر ان پر نظر نہیں رکھی گئی۔ مکالمے میں نصائح میں بہت طول ہیں۔ اور کہیں کہیں بے محل بھی ہیں مگر ساتھ ہی اس کے یہ بات بھی ہے کہ کتاب کا مقصد اور زبان دونوں بہ غایت پسندیدہ اور قابلِ تعریف ہیں ۔ فی الواقعہ ، بیان کی قوت، اسلوب کا پاکیزہ و سادہ حسن ، محاورات کی بے مثال برجستگی اور دلی کی عام بول چال کے مطابق فارسی و عربی الفاظ کی موزوں آمیزش اس کتاب کے اعلیٰ اوصاف ہیں۔ ضرب الامثال کے بہ کثرت و بر محل استعمال اور روز مرہ کی بے تکلف گفتگو کے فقروں نے اس کتاب کی افادیت میں بہت زیادہ اضافہ کردیا ہے‘‘٭۸


یہاں ظاہر ہوتا ہے کہ ناول کی تنقید کچھ آگے بڑھی ہے ۔ پہلا بیان ہی ناول کے پلاٹ کی بعض کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور انہی کمزوریوں کی بنا پر وہ اسے ’’مراۃالعروس‘‘سے کم تر درجہ کی چیزٹھہراتے ہیں۔پھر مکالمے اور نصائح کی طوالت کا ذکر ہے۔ ان دونوں بیانات سے علم ہوتا ہے کہ اب اردو میں ناول کی تنقید سیدھے توصیفی بیانات کی حدودو سے نکل رہی ہے۔ اور اب آغاز ہو رہا ہے ناول کو فنی اصولوں پہ پرکھنے کا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اس بیان میں پایا جانے والا تنقیدی رَس جس بھی مغرب کے لوگوں کی دین ہے۔ وہ لوگ جو بصد نازاں تھے کہ ان کی تہذیب کا نمائندہ پودا اجنبی سر زمین میں پھل پھول رہا ہے وہ لوگ اس کی آبیاری میں جی جان سے کوشاں بھی تھے۔ اس سب کے باوجود ان کے تنقیدی خیالات سے ناول کی تنقید میں کچھ پیش رفت تو ہوئی اور ویسے بھی اردو کی ساری تنقید مغربی افکار کے پروں پر ہی اڑتی ہے۔ اگر ناول کی تنقید میں تھوڑا بہت دھکامغربی اہلِ قلم لگا رہے ہیں تو اس میں کیا تعجب۔


۱۸۷۶ء؁ میں شاد عظیم آبادی کا ناول ’’صورت الخیال‘‘ چھپا جس کے دیباچے میں انہوں نے مولوی کریم الدین کی طرح صراحت کی کہ ان کا ناول نئی طرز کا قصہ ہے:
’’…اس نئی طرز کی داستان میں نہ کسی طلسم کے باندھنے اور توڑنے کا حاذل ہے ، نہ جنوں اور دیو پریوں کا ڈھکوسلہ ہے نہ کسی ایسے انوکھے ملک اور خلقت کا بیان ہے کہ اس کا پتا نہ زمین میں ملے نہ آسمان پر۔حتی الوسع اس خیالی قصے میں فطرتی حالات پر بہت کچھ توجہ دی گئی ہے۔ اپنی ہی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد اور اپنے ہی دل کی گڑھت ہے۔‘‘٭۹
شاد عظیم آبادی کے اس دیباچے میں کسی نئی تنقیدی روش کا اظہار تو نہیں ملتا لیکن یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اب اردو میں داستان کا دورِ حکومت ختم ہو چکا ہے۔ طلسم باندھنے توڑنے، جنوں پریوں کے ڈھکوسلے اور انوکھے ملک ،انوکھی خلقت جیسے تمسخرانہ الفاظ شاہدہیں کہ انگریزی حکومت کے تحت ہندوستان کے ادبی رجحانات میں تبدیلی کی رفتار بڑھ گئی ہے۔ صنعتی دور کا پیدا کردہ تصورِ نیچر اب ہندوستان کے لوگوں میں جگہ بنا رہا ہے اور وہ بالکل مادی انداز میںاصولِ فطرت سے مراد فطرت کے وہ ظاہری اصول لے رہے ہیں جو دیدۂ بینا کے بغیر ہی نظر آ جاتے ہیں۔ داستانوی ادب کے حق میں یہ سوچ جتنی تباہ کن ثابت ہوئی ، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا البتہ اس کے متوازی اسی اندازِ فکر کی بدولت ناول کو ایک اچھا آغاز مل گیا۔یہی وجہ ہے کہ ۱۸۵۷ء؁ سے ۱۹۱۴ء؁ تک ۱۳۳ ایسے ناول نگار پیدا ہو چکے تھے ، جن کا نام اردو ناول کی تاریخ میں محفوظ ہے۔شاد عظیم آبادی نے اپنے ناول میں فطرتی حالات پر توجہ دینے کا دعویٰ کیا ہے اور پھر یہ بھی اضافہ کیا کہ ’’یہ اپنے ہی دل کی گڑھت ہے‘‘ شکر ہے کہ انہوں نے اسے حقیقی واقعہ نہیں بتایا ورنہ ’’صورت الخیال ‘‘ مفتی صاحب کا ’’علی پور کا ایلی ‘‘ثابت ہوتا جس کے بعد اردو میں سوانح اور دستاویزی ناول لکھنے کا رجحان بہت پہلے جڑ پکڑ لیتا اور اردو ناول کے قاری کی تخیلاتی کہانی سے لطف اٹھانے کی تربیت ہی نہ ہو پاتی۔خیر یہ تو’’جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا ‘‘والا معاملہ ہے، ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہواتھا۔
۱۸۸۷ء؁ میں لکھنٔو میں ایک ناول ’’افسانۂ نادر جہاں‘‘سامنے آتا ہے جس کی مصنفہ کے طور پر طاہرہ بیگم الملقب بہ نواب فخرالنسا نادر جہاں بیگم ہے لیکن اس کے بارے میں علی عباس حسینی صاحب ٭۱۰ نے وثوق سے لکھا کہ یہ ناول مرزا عباس حسین ہوش کا ہے۔ اس لیے میں یہاں مرزا صاحب کا نام ہی استعمال کروں گا۔ مرزا صاحب ناول کے دیباچے میں بہ زبانِ نادر جہاں کہتے ہیں:


’’اے میری پیاری ہم وطن بیویو! نیک زنوں کا دلچسپ قصہ جو تمہارے سامنے بدلے کے طور پر میں نے پیش کیا ہے، اس سے یہ میرا مطلب نہیں کہ میں ایسی اورویسی تالیف کے قابل اور تعریف کے لائق ہوں یا تمہاری نصیحت اور اپنی فضیلت منظور ہے یا پیرِ مغاں بن کر سمجھانے کو بیٹھی ہوں ، بلکہ میری خاص غرض یہ ہے کہ میرے خاوند و مالک نے جیسا مجھے سرافرازا اور کنیز نوازی فرمائی ، وہ تم پر بھی اظہار ہو تا کہ یہ بھی ایک قسم کا شکر میرے نامۂ اعمال میں لکھا جائے اور خداوندِ عالم اس کے بدلے میں میرا رتبہ اور بڑھائے … کسی حصے میں نہ میں نے تمہیں مخاطب بنایا ہے اور نہ خطاب کر کے سمجھایا ہے کہ بہن خبردار تم وہ کام نہ کرنا اور میری بہن میں قربان یہ بات ضرور کرنا ۔ ہاں راہیں، نیکی بدی، عذاب ثواب، خیر شر ، اونچ نیچ کی بہ خوبی دکھلا دی ہیں۔ نہ تو میرا منہ نصیحت کرنے کے قابل تھا اور نہ کوئی نصیحت کے نام سے سنتا ۔ جسے کتاب کا نام دیکھ کر پیار آتا ، وہ نصیحت سے بگڑ جاتا۔ سیدھے دل کی ایک آدھ خدا کی نیک بندی ایسی بھی ہوتی جو نصیحت کے مزے کو کڑوا کسیلا نہ بتاتیں ، ساری کتاب پڑھ جاتیں۔ میرا مقصود اصلی جو تھا کہ سب پڑھیں یا دیکھیں، سنیں، وہ فوت ہو جاتا۔ اس لیے میں نے اپنے باغ میں کڑوے پھل کا درخت نہیں لگایا۔ مزے دار شے کو قے کے قابل نہیں بنایا۔‘‘٭۱۱
اس دیباچے میں ناول کے فن کی بابت ایک نہایت اہم نکتہ موجود ہے کہ ناول خواہ بامقصد ، نصیحت آموز اور اصلاحی ہو لیکن نصیحت مصنف یا راوی کی طرف سے نہ کی جائے بلکہ تمام مقصد نفسِ قصہ سے از خودہی نکلتا ہو۔کرداروں کی زبان ، واقعات کا درو بست ، انہی سے نفسِ مضمون کھلنا چاہیے نہ کہ راوی خود مائیک پکڑ کر کھڑا ہو جائے۔ یوں ’’افسانہ نادر جہاں‘ ‘جو فنی لحاظ سے بھی اپنے عہد کا ایک شاہکار ناول تھا، تنقیدی طور پربھی ایک اہم بحث کا آغاز کرتا ہے اور یہی نہیں بلکہ تقریباً ۶۰۰صفحات کے اس ناول میں مرزا صاحب نے اس امر کو کمالِ فن سے نبھا کر دکھایا بھی ہے۔


۱۸۹۱ء؁میں ’’سوانح عمری مولانا آزاد ‘‘نامی ناول نواب محمد افضل خان صاحب نے لکھا تھا۔سید محمد عبدالغفور شہباز نے اس کی اصلاح بھی کی اور مقدمہ بھی لکھا۔ اس مقدمے میں گو کہ صرف اسی ناول پر تنقید ہے لیکن پھر بھی یہ تنقید اس قدر وسیع پہلو رکھتی ہے کہ پہلے کسی کے ہاں اتنی وسعت نہ ملتی تھی۔انہوں نے اپنے مقدمے میں ناول کے کرداروں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ موضوع اور اسلوب کے باہمی رشتے پر نظر دوڑائی ، فنِ ظرافت کو تنقیدی طور پر دیکھا۔مصنف کے پیرایۂ اظہار کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کرداروں کا معاشرت سے تعلق واضح کرتے ہیں۔ مثلاایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:


’’سوانح عمری کے مضامین کو اس خاص طرزِ ادائے مطلب کے ساتھ عجیب متناسب طلسماتی تعلق ہے۔ شاید مولانا آزاد کی سوانح عمری کے لیے مطالب کے لحاظ سے اس طریقۂ انشاسے بہتر کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ طرزِ عبارت اور حالات میں ایک عجیب طرح کا مفہومی لین دین قائم ہے کہ حالات کو طرزِ عبارت چمکا رہی ہے اور طرزِ عبارت کو حالات۔ پھر وہ معاملہ اس اعتدال کے زینے پر ہے کہ نہ تو مطالب عبارت کو گھسیٹ لے گئے ہیں نہ عبارت مطالب کو۔ گویا دو متساوی القوۃ اشخاص ایک دوسرے کو اپنی طرف برابر قوت سے گھسیٹ رہے ہیں۔‘‘٭۱۲
سید محمدعبدالغفور شہباز ، بہ قول آصف فرخی ،اپنے زمانے کے لکھنٔو میں ایک عالم کا درجہ رکھتے تھے اور ان کا مطالعہ بہت متنوع تھا۔ اس مضمون میں پہلی بار اردو کے کسی ناول کو اتنے مختلف حوالوں سے دیکھا جا رہا تھا ۔ ان کے اس قدر تفصیلی جائزے سے ثابت ہوتا ہے کہ اب اردو میں ناول کی تنقید اس سطح پر آ چکی ہے جہاں وہ کسی ناول کی تعریف و تحسین کے علاوہ اس کی تفہیم بھی کر سکے۔ آصف فرخی نے اس حوالے سے خاصی بحث بھی کی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ:
’’یہ تقریظ بھی گویا یہ باور کرانے کے لیے لکھی گئی کہ اس وقت تک نثرِ اردو میں سخن وری یعنی نثاری کی بنیاد مستحکم طور پر قائم ہو چکی ہے اور ’’فسانۂ خورشیدی‘‘ کو سخن وری کے ان ہی اصولوں کی روشنی میں دیکھنا چاہیے ۔ ناول کو سخن وری کے اصولوں کے مقابل لا کھڑا کرنے کی یہ کوشش بجائے خود نہایت اہم معلوم ہوتی ہے…سخن وری کا داستان طرازی پر اطلاق کر کے غالب نے جو تنقیدی اصطلاح قائم کی ہے، اس اجمال کی تفصیل مولوی عبدالغفور شہباز کی تقریظ سے مل جاتی ہے۔ اور شاید اسی لیے اتنی جاذبِ توجہ معلوم ہوتی ہے کہ غالب کے تنقیدی اشارے کی توسیع ہوتی نظر آتی ہے اور اس اصول کا محیط آگے بڑھ کر داستان طرازی کے ایک نئے مرحلے یعنی ناول نگاری تک پہنچ جاتا ہے۔ داستان اور ناول کے واسطے سخن وری کے اصولوں کو معیار ٹھہرانا ، ناول کے سنِ شعور تک پہنچنے کا اعلان ہے۔‘‘٭۱۳


۱۸۸۷ء؁ میں سرشار کے ناول ’’جامِ سرشار‘‘ پر پنڈت مادھو پرشاد نے تقریظ لکھی۔ جس میں وہ ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اس دور میں ناول پر گہری نظر رکھتے تھے۔انہوں نے اپنی اس تقریظ میں ناول کے بہت سے حوالوں پر بحث کی ، گو کہ زیادہ تر انداز توصیفی ہی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کچھ نزاکتیں ایسی ہیں جو ناول کی تنقید میں اس سے پہلے مدِ نظر نہیں رکھی گئیں۔ پنڈت صاحب نے اس تقریظ میں جس حسنِ تنقید کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے اردو اور انگریزی کے کافی ناول پڑھ رکھے ہیں ۔ کرداروں کے حوالے سے گفتگو خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ واقعات کی تصویر کشی پر بحث خاصے کی چیز ہے۔ اور پھر زبان کے بارے میں بھی ان کے خیالات قابلِ قدر ہیں۔ پنڈت صاحب لکھتے ہیںکہ:


’’بڑی خوبی میرے علم و یقین میں اس ناول میں یہ ہے کہ افراط و تفریط دونوں سے مبرا ہے۔ جو کچھ لکھا ہے، بالکل نیچر ہی نیچر ہے۔ پنڈت رتن ناتھ صاحب کے ناولوں میں یہ واقعی بڑی عمدگی ہے کہ اردو زبان میں نہ انگریزی طرزِ قصص کا عمل درآمد کیا ہے نہ کہیں جن اور بھوت اور پریت کے جھوٹے قصے ہیں، نہ کہیں ضعیف الاعتقادی کا بیان ہے نہ کہیں اس قدر مبالغہ کیا ہے جو نیچر کے خلاف ہو۔ اور اس پر طرہ یہ کہ بیان میں اس قدر خوش اسلوبی ہے کہ پڑھنے والے کا جی چاہتا ہے کہ پڑھتا ہی جائے۔ اگرشراب کا بیان ہے تو شرابی کی تصویر کھینچ دی ہے ۔ اور اگر محلاتی زبان ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص محل خانہ کا مرقع پیشِ نظر ہے۔ ‘‘٭۱۴


اس اقتباس میں انہوں نے ’’جامِ سرشار ‘‘کی کافی ایک خوبیاں پرکھی ہیں لیکن سب سے اہم جملہ یہ ہے کہ ’’اردو زبان میں نہ انگریزی طرز قصص کا عمل درآمد کیا ہے…‘‘ یہ وہ تنقیدی بصیرت ہے جس سے ہم آئندہ کی تنقیدی روایت میں محروم رہے ہیں ۔ ہمارے ناقدین کا یہی شکوہ رہا ہے کہ نذیر ، سرشار ، شرر مغربی ناول کے اصولوں پر ناول نہیں لکھتے۔ جب کہ پنڈت صاحب عین اس تہذیبی غلبے کے دور میں سرشار کے ناول میں انگریزی کا تتبع نہ ہونے کو ناول کی خوبی گردان رہے ہیں ۔ ثنا خوان تقلیدِ مغرب کہاں ہیں؟ دیکھیں کہ ناول کی تنقید کے ابتدائی دور میں ہی ایک شخص ناول کے بارے میں کس طرح کا وِژن رکھتا ہے ۔ پنڈت صاحب نے اس بیان میں نیچر کے مطابق ہونا اور اپنے کلچر کے ساتھ جڑت کوناول کی خوبی بتایا ہے۔ اور اپنی ہی روایت میں آگے بڑھنے کو ناول کا مثبت پہلو گردانا ہے۔
رشیدۃ النساء بہار کی پہلی خاتون ناول نویس ہیں ،انہوں نے اپنے’’ اصلاح النساء‘‘ (۱۸۹۴ء؁) کے دیباچے میں ناول نویسی کے بارے میں اپنے خیالات کااظہار کیا ہے۔ ان کے خیالات میں کوئی ایسی ندرت نہیں، بلکہ یہی بیان کیاہے کہ اخلاقی سبق کو نصیحت کے طور پر لکھنے کی بجائے قصے کے ذریعے بیان کیا جانا بہتر ہے۔ ان کے اسی رویے سے ان کے ہاں تنقیدی شعور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔


’’ہم کو بھی یہ خیال ہوا کہ ایک کتاب ایسی لکھیں جس میں ان رسموں کا بیان ہو جن کے باعث صدہا گھر تباہ ہو گئے اور جو باعث فضول خرچ اور فساد کے ہیں مگر مجھے یہ خیال بھی ہوا کہ ان باتوں کو نصیحت کے طور پر لکھنا میری حیثیت پر زیبا نہیںہے بلکہ ان باتوں کو قصہ کا پیرایہ میں لکھنا ہر طرح سے مناسب ہو گا۔ یہ سوچ کر میں نے ان ہی رسموں اور جھگڑوں کو جو روزانہ ہر شریف خاندان میں ہوتے ہیں ،فرضی نام رکھ کر لکھنا شروع کیا۔‘‘٭۱۵
اسی دور میں عبد الحلیم شرر نے بھی ناول نگاری کا آغاز کیا اور اردو میں تاریخی ناول کے رجحان کو متعارف کروایا۔ اردو میں ان کا یہ رجحان ایک نئی چیز تھا۔ اس سے عوام کو مانوس کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ناولوں کے دیباچوں میں ناول نگاری پر بحث اور’’ دلگداز‘‘ میں ناول کے حوالے سے کوئی مضمون لکھنے کا طریقہ اپنائے رکھا۔ ان کی ایسی تحریروں میں ناول کی تنقید کے حوالے سے خاصا مواد مل جاتا ہے۔ یہ مضامین ’’مضامینِ شرر‘‘ جلد چہارم میں یکجا صورت میں موجود ہیں۔ ’’ناول‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ :


’’ناولوں میں تعلیمِ اخلاق کا وہی طریقہ اختیار کیا گیاہے جو قرآن مجید میں اختیار کیا گیا تھا کہ واقعاتِ عالم کو دکھا کے ان کے برے یا بھلے انجام کے متعلق علما کے فتووں کی طرح حکم نہ لگایا جائے بلکہ ان کے ہر قسم کے انجام کی تصویریں دکھائی جائیں اور ان کا مشاہدہ کرادیا جائے اور یہی تعلیم اخلاق کا وہ طریقہ ہے جو ناولوں میں اختیار کیا جاتا ہے… ناول سے زیادہ کوئی موثر پیرایہ کسی مسئلے یا کسی تہذیب کے ذہن نشین کرنے اور لوگوں کو پابند بنا دینے کا ہو سکتا نہیں۔ ناول کا اسلوب وہ شکر ہے جو ہر کڑوی دوا کے خوش گوار بنانے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ ‘‘٭۱۶


یہاں شرر نے ناول کا وہی تفاعل بتایا ہے جو ان کے پیش رو بھی زیرِ بحث لا چکے ہیں یعنی ناول میں اخلاقی تلقین کا مسئلہ ، اس سلسلے میں وہ قرآن میں بیان کردہ قصوں کی مثال دیتے ہیں اور اسی طریقے سے اخلاقی تعلیم دینے کی دعوت دیتے ہیں۔(یہ اور بات کہ وہ اپنے ناولوں میں بھی بعینہٖ کلامِ پاک کی طرح سے الوہی لہجے میں درسِ اخلاق دیتے نظر آتے ہیں)ناول کو وہ تعلیم کا ذریعہ ہی سمجھتے ہیں جو کہ آج ہمیں ناگوار گزرتی ہے لیکن ناول کے تشکیلی دور میں یہ ضروری ٹھہرتا تھا۔ داستانوں کے تربیت یافتہ قاری کو حقیقت پسند کہانی کی طرف لانے کے لیے ایک مسلسل ترغیبی عمل کی ضرورت تھی اور ناول کی تنقید میں اخلاقی تعلیم پر زور بھی دراصل اسی ترغیبی عمل کا ایک حصہ تھا۔یہ ایک ایسا جواز تھا جس کو اس روایت پرست اور روایت پسند معاشرے کو ایک نئی صنفِ ادب کی طرف مائل کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا تھا۔یہ الگ معاملہ ہے کہ بعض ناول نگار اور ناقدین ناول لاشعوری یا شعوری طور پر اس اخلاقی موعظت کے پس پردہ انگریز کے سیاسی عزائم میں بھی معاون ثابت ہو تے رہے لیکن اس کے باوجود اس سارے عمل کو ناول کے حق میں غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ناول نگاروں کی خواہش تھی کہ ناول عوام میں مقبولیت حاصل کرے ، اس لیے وہ جدید دور کی مارکیٹنگ کے انداز میں قارئین کو مختلف آفرز دیتے رہے۔ کہانی کے ساتھ ایک عدد اخلاقی سبق بالکل مفت حاصل کریں۔ کہانی بھی پڑھیں اور ساتھ گھریلو مسائل کا بہترین حل بھی معلوم کریں۔ اولاد کو ایک قصہ پڑھائیں اور انہیں مذہب کی طرف مائل پائیں… یہی وہ حربے تھے جن کی بنا پر ناول جسے یورپین صنفِ ادب ہونے کی بنا پر اول اول ہمارے کلاسیکی معاشرے میں مخربِ اخلاق سمجھا جاتا تھا، پردہ دار بیبیوں تک کے ہاتھوںمیں پہنچتا رہا۔ آخر یہ کمال نذیراحمد، عباس حسین ہوش اور شرر جیسے لوگوں کا ہی تو تھا ۔ ایک نئی صنفِ ادب جوایک متضاد معاشرتی اقدار کی حامل تہذیب کی نمائندہ سمجھی جاتی تھی، کو عوام میں اس قدر مقبولیت دلانا کچھ ایسے ہی بیانات کی بدولت تھا۔ البتہ یہ بھی ٹھیک ہے کہ شرر جیسے فن کاروں کا مقصد اخلاق پہلے تھا اور فن بعد میں، بلکہ فن تو ایک اضافی چیز تھی، جس طرح ٹافی کا ریپر۔ اخلاق کی ٹافی تک پہنچنے کے لیے اگر آرام سے ریپر اتارنے کی بجائے پھاڑ پھینکنا بھی پڑتا تو انہیں شمہ بھر پرواہ نہ ہوتی۔شرر کی حد تک یا کسی اور ادیب کی انفرادی سطح تک تو یہ تنقیدی فیصلہ کام آ سکتا ہے کہ وہ مصلح تھا، فن کار نہ تھا لیکن اگر اُس زمانے کی ادبی فضا ، وہاں کے فنی معیارات کو سامنے رکھ مجموعی لحاظ سے اس تعلیم الاخلاق کے رجحان کا جائزہ لیا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی مجبوری تھی۔ ناول میں تدریس کاعمل اپنانا بھی اور تنقید میں اس پر زور دینا بھی۔
اپنے اسی مضمون میں آگے چل کروہ بتاتے ہیں کہ معاشرتی ناول اور تاریخی ناول میں کیا فرق ہے اور ہندوستان میں ان کی کیا کیفیت ہے:


’’نئے تعلیم یافتہ گروہ کا خیال ہے کہ ہماری موجودہ زندگی اور ابنائے وطن کی مروجہ معاشرت پر ناول لکھنے چاہییں جیسا کہ انگریزی میں ہو رہا ہے مگر ہمارے خیال میں یہ ان کی ناتجربہ کاری ہے۔ بے شک انگلستان اور ممالکِ یورپ میں اکثر ناول ایسے ہی ہوتے ہیں اور وہاں وہی عنوان دلچسپ رہتا ہے مگر ہندوستان کی پبلک میں جہاں تک میرا تجربہ ہے ، یہ عنوان دلچسپ نہیں ہو سکتا۔ افسانوں میں انسان اپنی زندگی کے اعلیٰ اور کامیابی کے واقعات ڈھونڈتاہے اور (اگر)ناکامی و ٹریجڈی بھی پسند آتی ہے تو اس عہد کی جب اپنے حالات میں کامیابی و مقصد وری کی صورتیں نظر آیا کرتی تھیں۔ جس طرح ہر انسان اپنی جوانی کے واقعات کو زیادہ پسند کرتا، مزے لے لے کر کہتا اور سنتا ہے، اسی طرح قومیں بھی اپنے عروج و کمال اور اوج و اقبال کے واقعات کو زیادہ پسندیدہ خیال کرتی ہیں…یورپ والوں کو دنیا کی ساری عمر میں یہی موجودہ دور کامیابی و کامرانی اور ترقی و عروج کا دور نظر آتا ہے اور اسی لیے وہ اپنی گزشتہ زندگی کے عوض موجودہ زندگی کو زیادہ پسند کرتے اور قومی عمر کے اس حصے پر فخر و ناز رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر ان کے ناول موجودہ سوسائٹی کے واقعات سے لبریز ہوتے ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ بالکل بجا ہے… ہماری اس ذلت و پستی کی زندگی میں رکھا ہی کیا ہے جس میں ہمیں یا کسی اور کو مزہ آئے گا ۔ اولوالعزمی و بلند حوصلگی ہم میں نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے… سچ یہ ہے کہ ہم میں وہ سوسائٹی ہی نہیں جس پر یورپ کے ناولوں کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔‘‘٭۱۷
اسے ہم شرر کی ذاتی قیاس آرائی کہہ لیںحقیقت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ پھر یہ کوئی علمی یا تحقیقی نتیجہ بھی نہیں ہے کہ جس کی کوئی ٹھوس دلیل ہو،یہ تو بس ایک اُشکلا ہے۔ عوام معاشرتی ناولوں کی بجائے تاریخی ناول زیادہ پسند کرتی ہے، اور وہ بھی ماضی کے کسی عہدِ عروج پر مبنی، ایک دعویٰ ہے جس کی دلیل صرف ان کا ذاتی’’ تجربہ ‘‘ہے۔اس بیان کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں، اول تو یہ کہ مولانا خود کیوں کہ جذباتی قسم کے آدمی ہیں، قوم کے شاندار ماضی کی تابندہ روایات کو اپنے دل و دماغ میں بسائے ہوئے ہیں اور وہ ان سے نکلنا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب انہیں دوستوں کی فرمائش پر کوئی معاشرتی ناول لکھنا پڑ جائے تو ان کے ذہن و دل کی دنیا اسے برداشت نہیں کر سکتی،لکھنے کو وہ لکھ مارتے ہیں، لیکن پھر ذاتی جذبات کی تسکین کے لیے فوراً پلٹتے ہیں ، تاریخی ناول کی طرف اورپھر جی بھر کے اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مندرجہ بالا فیصلہ دے دیا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اپنے چمک دار اسلوب کی وجہ سے وہ عام معاشرتی مسائل کو موضوع بنا کر اچھا نہیں لکھ پاتے۔ تاریخ کے موضوع پر تہلکہ خیز ناول لکھنے والے شرر معاشرتی ناولوں میں بالکل پھسپھسے معلوم ہوتے ہیں۔اس لیے یہ واقعہ ہے کہ عوام نے ان کے تحریر کردہ معاشرتی ناول پسند نہ کیے۔ تیسری وجہ ان کا قاری ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر مصنف اور ہر رسالے کے کچھ مخصوص قاری ہوتے ہیں۔ شرر اور ’’دلگداز‘‘ کی جو وجۂ شہرت ہے، اس کی بابت ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے بیشتر قاری ان کی طرح ہی جذباتی اور تاریخی عمل کو اسلام کی دوربین سے دیکھنے والے ہوں گے۔ایسے لوگوں کو اپنے محبوب ناول نگار سے توقع ہوتی ہو گی کہ وہ ان کے جذبات کی تسکین کرے گالیکن جب شرر کا کوئی معاشرتی ناول سامنے آتا تو وہ مایوس ہو جاتے ہوں گے۔ توقعات کا ٹوٹنا کب برداشت ہوتا ہے۔ اور پھر شرر بھی تو اپنے قارئین کی توقعات توڑنا پسند نہیں کرتے تھے۔ایک جگہ وہ اپنے ناول ’’یوسف و نجمہ ‘‘ کے خاتمے کی بابت لکھتے ہیں کہ’’جہاں تک ہم سمجھتے ہیں ، ناظرین نے اس انجام کو پسند کیا ہو گا اور جو کچھ اس میں ہوا وہ ان کے مذاقوں اور ان کی خواہش کے مطابق ہو گا‘‘٭۱۸ یعنی یہ کوشش شعوری کی جاتی تھی کہ انجام قارئین کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے تا کہ پورے ناول میں ان کے جذبات ،جنہیں بے دردی سے جوش دیا گیا ہے، آخر پر کہانی کا خوش گوار انجام دیکھ کر ٹھنڈے پڑ جائیں اور اس خواب ناک انجام کی دنیا میں مست رہیں۔


ناول کے فن کی بابت شرر کا تصور بعض اوقات مضحکہ خیز لگتا ہے۔ اوپر کا بیان جہاں و ہ کہتے ہیں کہ معاشرتی ناول لکھنے کے لیے ہمارا معاشرہ مناسب نہیں ، بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ ’’ملک العزیزورجینا‘‘ کے خاتمے پر لکھتے ہیں :
’’غالباً اردو میں اپنی طرز کا یہ پہلا ناول ہے ۔ ہمارے مسلمان دوستوں نے اس ناول کو حد سے زیادہ پسند کیا۔ اس ناول نے قومِ اسلام کے وہ کارنامے دکھائے جو بجھے ہوئے جوشوںاور پژ مردہ حوصلوں کو ازسرِ نو زندہ کر سکتے ہیں… صلاح الدین ایوبی کے حالات سے مسلمان بہت کم واقف ہیں۔ تاریخی حوالے سے اس کے حالات بتانا ہمارے دوست مولوی شبلی صاحب کا کام ہے جواس کی سوانح عمری لکھنے کا بار اپنے سر لے چکے ہیں۔ …ہمارے قدر افزااور’’ دلگداز ‘‘کے قدر دان گواہ ہیں کہ اس کا ہرہرجملہ رگِ حمیتِ اسلامی کو جوش میں لاتا ہو گا اور یقین ہے کہ وہ حضرات جنہوں نے غور سے اور شوق سے اس ناول کو اول سے آخر تک ملاحظہ فرمایا ہو گا، ان کے دلوں میں قومی خون جوش مار رہا ہو گااور وہ ترقی پر تلے بیٹھے ہوں گے۔‘‘٭۱۹


اس بیان کے آخری چار جملے تو خیر مولانا شررکے فنی شعور پر تنقید کے لیے اس قدر استعمال ہو چکے ہیں کہ عالمِ بالا میں بھی ان کی چڑ بن چکے ہوں گے۔مجھے تو اس پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اس امر کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ناول نگار کا کام تاریخی حیثیت بتانا نہیں ۔ اگر سمجھتے ہیں تو پھر یہ بات ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی تھی کہ محض ناول پڑھ کر قومی خون جوش نہیں مارتا۔ ان کی آغاز کردہ اس روایت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہر وہ ناول نگار جو تاریخی موضوع پر ناول لکھتا ہے، خواہ مخواہ مذہبی جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے بعدصادق حسین سردھنوی، رئیس احمد جعفری، اسلم راہی، نسیم حجازی، عنایت اللہ جیسے لوگ بھی قوم کو جوش دلانے میں لگے رہے۔ ایک ایسا جوش جو ناول کے پہلے صفحے سے شروع ہوتا ہے اور ناول کی اٹھان کے ساتھ ساتھ اس کا درجہ حرارت بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ شرر کا فنِ ناول بس دو نکات تک محدود تھا۔ ایک مسلمانوں کے گزشتہ کارناموں کو اجاگر کرنا، دوسرے اپنی قوم کے بجھے دلوں میں جوش پیدا کرنا۔ یہ دو مقصد پورے ہونے چاہییں، باقی ناول نگاری کی ساری روایت جائے بھاڑ میں ۔ پھر بھی یہ امر حیران کن ہے کہ اردو ناول کے ابتدائی دور میں ہی’’ فردوسِ بریں‘‘ جیسا ایک عمدہ ناول دے گئے۔ شرر کے فنی شعور کے مقابلے میں اس ناول کی حیثیت ایک معجزے کی سی ہے۔


رتن ناتھ سرشار نے بھی ایک جگہ ناول کی بابت اظہارِ خیال کیا ہے مگر ان کے ہاں کوئی جدت نہیں ، اور نہ ہی کوئی نیا نقطۂ نظر دکھتا ہے۔’ ناول میں محیرا لعقول واقعات نہیں ہوتے اور واقعات کسی اخلاقی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔‘ اس سے آگے وہ کچھ نہ لکھ پائے۔
شرر کے ساتھ مرزا محمد ہادی رسوا کے تنقیدی نظریات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناول’’افشائے راز‘‘ (۱۸۹۶ء؁) اور اس کے بعد ’’ذات شریف‘‘ (۱۹۰۰ء؁) کے دیباچوں میں ناول نگاری کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان دیباچوں کے علاوہ ان کے تنقیدی مراسلات میں بھی فنِ ناول نگاری کے متعلق بعض آراء مل جاتی ہیں۔ مرزا رسوا کی یہ تحریریں بتاتی ہیں کہ وہ ناول کا کس قدر جدید شعور رکھتے تھے ۔ نہ ان کے ہاں کسی اخلاقی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے اور نہ ہی وہ قوم کو ترقی کا جوش دلانے کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ مرزا رسوا کے ناول نگاری کا آغاز کرنے تک اردو میں اس نئی صنفِ ادب کے نمونوں کا ایک ڈھیر لگ چکا تھا۔ مرزا صاحب کی نظر ان تمام ناولوں پر تھی اور ان کے تجزیے کے بعد ہی وہ اپنے فنی نظریات کا بیان کرتے ہیں۔ مثلاً ایک تنقیدی مراسلے میں اردو کے مقبولِ عام ناولوں کے عام رجحانات پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں :


’’اکثر ناول جو اس زمانے میں لکھے گئے ہیں ،ان سب میں ایک ہی طرح کے منظر ہوتے ہیں اور وہی ہر پھر کے آتے ہیں۔ جیسے اس شہر میں ایک غریب تھیٹر تھا جسے لوگ مذاق میں’’چیتھڑا کمپنی‘‘ کہتے تھے ، اس میں چند پردے ہوتے تھے۔ خواہ مخواہ تماشے میں وہی پردے بار بار دکھائے جاتے تھے ،خواہ ان کا محل ہو یا نہ ہو۔…اکثر تقلید پیشہ ناول نویسوں نے رینالڈز کے ناول انگریزی میں پڑھے ہیں۔اس کے مضامین جس قدر یاد رہ گئے ہیں، ان کو اپنے ناولوں میں صرف کرتے ہیں۔ قصے میں بھی کوئی جدت نہیں ہوتی۔ میں نے کسی انگریزی کتاب میں انگلستان کے ناول نویسوں کے پلاٹ کی ایک عام صورت پڑھی تھی۔ اس کا ذکر اس موقعے پر لطف سے خالی نہیں… …واقعی ناولوں میں اس کے سوا ہوتا ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کہ ہمارے ناول نویسوں کے لیے بھی ایسا ہی ایک ڈھانچہ بنا دیا جائے۔ اس پر ہزاروں ناول نام بدل بدل کر لکھ دیے جائیں۔‘‘٭۲۰


اس پورے بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا رسوا اپنے معاصر ناول سے خاصی آگاہی رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں عام روش سے خاصا تنافر نظر آتا ہے اور وہ بڑے خوش ہو کر ان پر جملے کستے نظر آتے ہیں۔ اس بیان میں جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب پلاٹ کا بہت واضح تصور رکھتے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ پلاٹ کہتے کسے ہیں۔ اور پلاٹ کے فرق سے ناول میں بھی فرق پیدا ہو جاتا ہے۔’’ واقعی ناولوں میں اس کے سوا ہوتا ہی کیا ہے۔‘‘وہ اس بات کے شاکی ہیں کہ ہمارے بیشتر ناول ایک ہی پلاٹ کے ہیں، صرف نام بدل جاتے ہیں۔ ’’ذات شریف‘‘ کے دیباچے میں وہ پلاٹ کے بارے میں مزید صراحت کرتے ہیں۔ ’’بعض معاصرین کا یہ طریقہ ہے کہ وہ کسی امرِ خاص کے ثابت کرنے کے لیے پلاٹ(قصہ کا منصوبہ) بناتے ہیں اور اسی کی مناسبت سے خانہ پری کر دیتے ہیں۔‘‘٭۲۱


پلاٹ کے بارے میں مرز ا صاحب کا قول ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے معاصرین کی نسبت پلاٹ کا بہتر تصور رکھتے ہیں اور ناول کی بابت اس طریق کو معیوب سمجھتے ہیں کہ پلاٹ کی تشکیل کسی خاص مقصد تک پہنچنے کے لیے کی جائے اور پھر اسی کے مطابق چل کر اپنی مرضی کے مطابق سفید کو سفید ثابت کر دیا جائے۔پلاٹ کا یہ تصور اس جدید تصور سے مطابقت رکھتا ہے جس کا ڈھنڈورا پچاس سال بعد ہمارے ناقدین نے پیٹا۔
پلاٹ کے علاوہ مندرجہ بالا بیان میں انہوں نے معاصرین کے موضوعات پر بھی بحث کی ہے کہ سبھی نے رینالڈز کے موضوعات کو ہی استعمال کیا ہے ۔ مرزا صاحب اس تقلیدی روش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح کا جدید فنی شعور رکھنے والے شخص سے تقلیدی روش کی حمایت ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ ایک ایسی تقلید جس میں نہ کوئی تنوع ہو نہ کوئی اختراع۔ موضوعات کے لحاظ سے عامیانہ پن انہیں گوارا نہیں۔ وہ صنفِ ناول کی موضوعاتی وسعت سے واقف ہیںاور اسی لیے در پردہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیں نئے موضوعات کی طرف دیکھنا چاہیے۔ ایک اور جگہ معاصر ناول کے موضوعات پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ایک اور خوبی ہمارے ملک کے ناولوں میں پردہ کے اصول کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ عوام عشق اور عاشقی کو ہر قصہ کی جان سمجھتے ہیں ۔ لذتِ فراق اور انتظار سب سے عمدہ مضمون خیال کیا جاتا ہے ۔ پھر اگر کسی پردہ نشین سے سامنا ہو بھی گیا تو بغیر اس کے کہ اس کی عصمت پر دھبا لگے، پیام، سلام ، وعدے ، وعید، فراق ، انتظار۔ یہ سب کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور جب تک یہ نہ ہو ، قصے کا مزا کیا۔ لہٰذا لازم ہوا کہ قصے میں ناجائز محبتوں کا تذکرہ ہو اور یہ موجب خرابیِ اخلاق کا ہے۔ناول پر کیا موقوف ، اور قصے بھی اسی طرح کے ہیں۔‘‘٭۲۲


مرزا رسوا اپنے معاصرناول کے مضامین سے بیزار نظر آتے ہیں ۔ یا تو ایک ہی طرح کے سماجی اصلاح کے موضوعات پر مبنی ناول یا پھر عشق و محبت کے موضوع پر سستے جذباتی قسم کے ناول۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب خود اپنے ناولوں میں اس ڈگر سے ہٹ کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔البتہ یہ ہے کہ لڑکے لڑکی کی محبت کو ناجائز کہنا، اور ان ناجائز محبتوں پر مبنی قصوں کو موجب خرابیِ اخلاق قرار دینا تھوڑ اسا اٹکتا ہے اور اس جملے میں ان کے معاصرین نذیر اور شرر کی گونج سنائی دیتی ہے، صرف ایک اس جگہ پر وہ اپنے معاصرین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں(شاید یہ ردِ عمل ہو محبت کے موضوع پر لکھے جانے والے بے تحاشا ناولوں کا)باقی تو ان کے پاس الگ ہی روش نظر آتی ہے۔
مرزا رسوا کے ہاں موضوع کو اخلاقی لحاظ سے منتخب کرنے یا پھر اپنے ذہن میں بسنے والی فرضی دنیا سے اخذ کرنے کے رجحان کے خلاف ایک منفی رویہ ملتاہے ۔ وہ اپنے تنقیدی خیالات میں اس چیز کے حامی نظر آتے ہیں کہ موضوع کو خارج کے مشاہدے سے پنپ کر ناول میں سمانا چاہیے۔ ایک ایسا ناول جو معاشرے اور معاشرے کے خارجی حالات کے مشاہدے پر مبنی ہو، وہی در حقیقت اچھا ناول کہلا سکتا ہے۔ایک جگہ اپنے معاصرین کے ہاں نئے موضوعات کی کمی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :


’’نہ ہم خارج سے مضامین اخذ کرتے ہیں، نہ ذہن سے ۔ ہم کو اس کی قدرت ہی نہیں کہ کسی منظر کو دیکھ کے زبانِ قلم سے اس کی تصویر کھینچ سکیں…فطرت کے ملاحظے کا ہمارے ملک میں بہت ہی کم شوق ہے۔ جمال اور عظمت کے تصورات سے اذہان قاصر ہیں۔ نئے مضمون کیونکر نکالیں۔‘‘٭۲۳
ناول کے موضوع کے علاوہ وہ ناول کے ماحول اور کرداروں پر بھی بڑی تفصیل سے رائے دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے ماحول کی کہانی نہیں لکھ سکتے جو انہوں نے دیکھ نہیں رکھا۔ تاریخی ناول لکھنے میں وہ یہی عذر پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے وہی کچھ لکھنے کی بات کی جو عام مشاہدے میں آئے، اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ان کے ناولوں کو ان کے زمانے کی تاریخ سمجھا جانا چاہیے۔ کرداروں کے بارے میں بھی ان کا کہنا ہے کہ کم مایہ بندے اور جاہل بھی تو آخر خدا کے بندے ہیں، کبھی تو ان کے خیالات اور خواہشوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ بادشاہوں اور جنوں کی کہانیاں بہت ہو چکیں۔ اب ذرا عام آدمی سے بھی تعلق بنایا جائے۔’’افشائے راز ‘‘ کے دیباچے میں انہوں نے خاصی تفصیل سے بحث کی ہے کہ:


’’فکر کے سوا انسان کے دماغ میں ایک اور بھی قوت ہے جس کو خیال کہتے ہیں۔ یہ ایسی سیر بین ہے جس طرف ایک ادنیٰ توجہ کرنے سے آئندہ اور گزشتہ حالات کے ہو بہو نقشے آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ ناول ایک ایسی عمدہ چیز ہے جس کے ذریعے ہم وہی نقشے دوسروں کو بھی دکھا سکتے ہیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ مفید اور دلچسپ انسان کے حالات ہیں۔ نہ صرف ظاہری حالات بلکہ اس کے باطنی اور بعید از نظر کیفیتیں اسی کے ذریعے سے دکھائی جا سکتی ہیں۔ بشرطیکہ واقعات کی صحیح تصویر کھینچنے کی کوشش کی جائے۔ غرضیکہ ناول سے مختلف قسم کے انسانوں کی فطری حالت دکھائی جاتی ہے اور اس لیے اس احاطہ کا بھی ذکر کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جس میں اس کی نشوونما ہوئی ہو تا کہ ملک کے رسم و رواج ، تعلیم ، معاشرت، قانون اور اتفاقات کی وجہ سے جو امور ممکن الوقوع ہیں، ان کا شرح بیان ہو سکے۔ یہ بھی کچھ ضروری نہیں کہ ہم ناول نویسی کے لیے ایسے اشخاص کی سوانح عمری کی تفتیش کریں جن کے مفصل حالات ہم معلوم نہیں کر سکتے۔ خود ہمارے عزیزوں اور دوستوں میں ایسے لوگ ہیں جن کے حالات دراصل بہت ہی دلچسپ ہیں مگر ان کے سننے کی ہمیں پروا نہیں کیوں کہ ہمیں سکندرِ اعظم ، محمود غزنوی، ہنری ہشتم، ملکہ این، نپولین بونا پارٹ کی تاریخوں کی ضخیم جلدوں سے فرصت ہی نہیں ملتی۔‘‘٭۲۴


اس اقتباس میں مرزاصاحب نے کئی مباحث اٹھائے ہیں، ایک تو یہی لے لیجیے کہ مرزا صاحب نے انسان کی باطنی اور بعید از نظر کیفیات دکھانے کی بات کی ہے جو لاشعور کی عکاسی کی طرف اشارہ ہے، ظاہر ہے کہ ۱۹۰۰ء؁ سے پہلے لاشعور کا لفظ مستعمل ہی نہ ہوا تھا، اس کی جگہ مرزا صاحب نے باطنی اور بعید از نظر کیفیات کے الفاظ استعمال کیے۔ یہاں وہ واضح طور پر فرد کے لاشعوری اعمال اور اس کے لاشعور کی دنیا ناول میں دکھانے کی بات کر رہے ہیں۔ پھر یہ جملہ کہ اس احاطہ کا بھی ذکر ضروری ہو جاتا ہے، جس میں انسان کی نشوونما ہوئی ہو ، سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ماحول سے انسانی کردار کے پروان چڑھنے کے نفسیاتی دبستان تک بھی رسائی رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ناول میں صرف فرد کی بجائے اس کا پورا ماحول دکھانا کیوں ضروری ہو تا ہے۔ اردو میں ناول کے لحاظ سے نفسیاتی مباحث کا نقطۂ آغاز مرزا صاحب کے اسی بیان سے ملتا ہے۔


مرزا صاحب تاریخ کے بڑے ہیروز کو ناول کا موضوع بنانے پر بھی طنز کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کہنا درست ہے کہ اگر ناول میں عجیب و غریب حالات سے ہی کشش پیدا ہوتی ہے تو ضروری نہیںکہ مشہور تاریخی ناموں کے ذریعے ہی پیدا کی جائے بلکہ عام لوگوں کے حالات بھی دلچسپ ہو سکتے ہیں۔ یہ تو فنکار کی نظر اور اس کا بیان ہے جو واقعے کو دلچسپ بناتا ہے نہ کہ امرِ واقعہ۔ تاریخی ناول لکھنے والے حضرات کے موضوعات تو بڑے بڑے ہوتے ہیں لیکن ان کا بیان ایسابنجر ہوتا ہے کہ پورے ناول میں ہریالی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہمارے معاشرے میں لوگوں کو اسلامی تاریخ کے درخشندہ ابواب اور مثالی مجاہدین کے تصور سے سرورلینے کی عادت نہ ہو تو تاریخی ناول کو کوئی دیکھے بھی نہ۔ کیوں کہ ان ناولوں میں دلچسپی نام کی نہیں ہوتی۔ اس کے مقابلے میں عام سے کرداروں پر لکھے گئے ناول قاری کو ایسا پکڑ میںلیتے ہیں کہ ناول ختم ہو جاتا ہے قاری آزاد نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں دنیا کے بڑے ناولوں ’’مادام بوواری‘‘ ، ’’ برادرز کرامازوف‘‘ ، ’’آننا کاریننا‘‘ کے ساتھ ساتھ اردو میں ’’گئودان‘‘، ’’بہائو ‘‘، ’’آگے سمندر ہے‘‘ اور ’’غلام باغ‘‘ کی مثال دینا چاہوں گا جن کے کردار ’’آخری چٹان ‘‘اور ’’شاہین‘‘کے مقابلے میں ذرا بھی تاریخی اہمیت کے حامل نہیں لیکن بیان کی عظمت کی بنا پر ان کا آپس میں تقابل کرنا ہی گناہ ہے۔ مرزا صاحب زبان کے متعلق بھی ایک فنکار کے سے خیالات رکھتے ہیں۔محمد حسین آزاد کی طرح وہ زبان کو ایک جادو گر ہی گردانتے ہیں جو لمحوں میں ایک قلعہ کھڑا کر سکتا ہے اور اگلے ہی پل میں اسے گرا بھی سکتا ہے۔ پہلے میں اس موضوع پہ دو اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا، پھر بات آگے بڑھے گی:


’’اگرچہ ادیب مصور کی طرح کسی چیز کی رنگت اور شکل آنکھ سے نہیں دکھا سکتا،نہ خوش آئند سُر کانوں تک پہنچا سکتا ہے لیکن وہ الفاظ کے ذریعے سے ہر چیز کی صورت صفحۂ تخیل پر کھینچ سکتا ہے، نہ صرف ایک رخ سے بلکہ مختلف رخوں سے۔ اور یہ ذہنی تصویر بہ نسبت جسمانی تصویر کے زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ الفاظ کے انتخاب اور تالیف سے نہ صرف نظم بلکہ نثر میں بھی اصولِ موسیقی کا مزا پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘٭۲۵
’’نیاز مند کو اس زمانے کا طرزِ تحریر پسند ہے اور نہ اس کے لکھنے کی لیاقت اور آپ بیتی لکھیے تو اس طرح لکھیے کہ جس طرح ہم آپ باتیں کرتے ہیں۔ براہِ مہربانی ان الفاظ اور تراکیب سے معاف کیجیے گا جن کی قوت بسبب کثرتِ استعمال کے بالکل زائل ہو گئی اور اب ان میں کسی قسم کی ندرت باقی نہیں رہی بلکہ ایک طرح کی نفرت خیز عفونت پیدا ہو گئی ہے۔‘‘٭۲۶


زبان کے متعلق مرزاصاحب کے خیالات خاصے ترقی یافتہ ہیں۔ وہ اس چیز کو تاڑ چکے ہیں کہ ان کے معاصرین کس طرح زبان کی شعبدہ گری سے اپنے ناول ادب کے میدان میں دوڑا رہے ہیں۔ مرزا صاحب کو احساس ہے کہ زبان کے بل پر کوئی ناول ، ناول نہیں بن سکتا، ناول کے لیے ضروری ہے کہ زبان کرداروں کے حسبِ حال ہواور فطری انداز میں لکھی محسوس ہو۔انہوں نے گویا میر امن کی طرح ایسی زبان لکھنے کی بات کی ہے جو لڑکے بالے ، مرد عورت آپس میں بولتے چالتے ہیں۔ اور ایسے بھاری بھرکم الفاظ جو فقط انشاء میں رعب پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، سے پرہیز کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایسی اردو جوعام فہم ہو اور مصنف کی علمیت یا زباندانی کا اعلان نہ کرتی ہو،انہیں پسند ہے (جو کہ ایک ادیب کے لیے مشکل ترین کام ہے)ان کے خیال میں ایسی تراکیب اور الفاظ جن میں ندرت نہیں رہی، استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ زبان تو ایک زندہ عنصر ہے ، شمشان گھاٹ سے لفظوں کی راکھ کو ناول کی استھی میںلپیٹ کر ادب کے دریا میں بہا دینے سے فن کی روح کو مکتی نہیں ملتی، زبان کا اصل فن تو یہی ہے کہ زندگی کے حجم کو اپنے اندر اس طرح سمیٹ لے کہ لفظ ننھے بچوں کی طرح ہمکنے لگیں۔ زندگی کا پھیلائو تا حدِ نظر وسیع ہوتا چلاجائے اور یہ سب زبان کی اس سادہ شکل میں ہو کہ زبان کو شفاف میڈیم نہ ماننے والے بھی ایک بار تو سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔


وہ زبان کومصور کے رنگوں اور موسیقار کے سُروںپر ترجیح دیتے ہیں کہ اس کی مددسے ہر چیز کی ایسی صورت بیان ہو سکتی ہے جو اصل سے بھی زیادہ اصلی محسوس ہو۔ ناول نگار بعض اوقات واقعی ایسی تصویر بنا دیتا ہے کہ قاری اپنا ہاتھ بڑھا کر اسے محسوس بھی کر سکتا ہے۔ زندگی اپنی اصل میں پتا نہیں کیاشکل رکھتی ہے لیکن جب وہ کسی فن کار کے قلم سے گزر کر سامنے آتی ہے تو پھر ’’جنگ اور امن‘‘،’’کرامازوف برادران‘‘،’’تنہائی کے سو سال‘‘،’’بڈن بروکس‘‘، ’’یولی سیز‘‘، ’’فسانۂ آزاد‘‘،’’آگ کا دریا‘‘اور’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ جیسے عنوانات کی صورت میں قاری کے ذہن میں تا ابد جگمگاتی رہتی ہے۔ یہ سب زبان کے کمالات ہی تو ہیں۔
مرزا رسوا کے تنقیدی خیالات اردو ناول کی ابتدائی تنقید کے اس دور میں خاصے جدید ہیں اور خصوصاً پلاٹ، نفسیاتی کیفیات، اور زبان کے استعمال کے متعلق ان کے نظریات سے آئندہ کے تنقیدی نظریات کا خمیر اٹھتا ہے۔ ان کے تنقیدی نظریات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے کم از کم ایک ناول کی شکل میں اپنے ان نظریات کے اطلاق کا مکمل نمونہ خود ہی پیش کر کے دکھایا بھی ہے۔پلاٹ ، کرداروں کے نفسیاتی مطالعہ اور زبان کی برجستگی اور بے ساختگی کے لحاظ سے ان کا ’’امرائو جان ادا ‘‘آج بھی اردو کے چند بہترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ان کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ان کے تنقیدی نظریات آنے والے ناول کی اٹھان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے ان کے بارے میں جورائے دی ہے، میں اسی پر اس بحث کا اختتام کرنا چاہوں گا:


’’اردو ناول کا ان کے ذہن میں جو معیار تھا وہ ان کے زمانہ ہی میں وقیع نہ تھا بلکہ آج اس کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے نقاد مغربی نقادوں کے خیالات کا سہارا لے کر جب چلے تو بات اس سے آگے نہ بڑھ سکی کہ ناول کے لیے کسی نہ کسی نظریہ ٔ حیات کی موجودگی لازمی ہے اور یہی بات مرزا رسوا نے ناول کو موجودہ زمانہ کی تاریخ بتا کر واضح کرنے کی کوشش کی ۔ نذیر احمد کی مانند انہوں نے ناول کو تعلیم و تدریس کا ذریعہ نہ بنایا ۔ شرر کی مانند قومی احساسِ کمتری دور کرنے کا وسیلہ نہ سمجھا اور نہ ہی سرشار کی مانند ایک داستان نما افسانہ تخلیق کیا ۔ جہاں ’’ امرائو جان ادا‘‘ کی وجہ سے ان کانام عظیم ناول نگاروں کے ساتھ لیا جاتا ہے وہاں اپنے نظریہ ناول نگاری کی بنا پر وہ ذہنی لحاظ سے موجودہ دور کے نقادوں کے پیش رو بن جاتے ہیں۔‘‘٭۲۷


یہاں سید سجاد حیدر (یلدرم)کا ذکر ضروری ہے ۔ ان کے ایک مضمون ’’ناول نویسی ‘‘ مطبوعہ ’’معارف‘‘علی گڑھ، جلد اول، شمارہ ۴،اکتوبر ۱۸۹۸ء؁ کا ذکر ارتضیٰ کریم نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور اس کے خاصے طویل اقتبا س بھی دیے ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے ناول کی بابت زیادہ تر وہی خیالات دہرائے ہیں جن کا ذکر پہلے ناقدین کر چکے تھے۔ ناول میں مافوق الفطرت کرداروں کی جگہ روز مرہ زندگی کے کردار ، ناول کے موضوعات کا عشق سے ہٹ کر بھی کسی سمت دیکھنا، ناول کے لیے پلاٹ کی اہمیت وغیرہ ۔لیکن ان کے مضمون میں اس سے ہٹ کر بھی دو چیزیں اہم ہیں۔ ایک تو وہ جہاں انہوں نے ناول کی تین اقسام بتا کر ان کی درجہ بندی کی ہے کہ قصہ کی سب سے اہم قسم وہ ہے جس میں مصنف انسانی فطرت پر ایک فلسفیانہ نظر ڈالتا ہے، دوسری قسم جس میں کوئی اخلاقی تعلیم دینا مقصود ہو اور تیسرے تاریخی ناول۔ان کی درجہ بندی سے کسی کو اعتراض ہو تو ہو، اتنا تو ہے کہ اردو کی حد تک کسی نے پہلی بار ناولوںکی جماعت بندی کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری چیز ان کے ہاں جو اہم ہے، اس کی طرف ہلکا سا اشارہ مرزا رسوا دے چکے تھے، لیکن سجاد صاحب نے اسے ذرا کھل کر بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ایک اور بات ہے جس کی طرف ہمارے ناول نویسوں نے ابھی تک توجہ نہیں کی…یعنی ناول کے ہیرو کے لیے تعلیم یافتہ یا امیر ہونا کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔ غریب اور غیر تعلیم یافتہ بھی اتنا ہی اچھا ہیرو ہو سکتا ہے جتنا کہ تعلیم یافتہ یا امیر…مگر ہمارے ناول نویسوں نے خیال کر لیا کہ ہیرو کے لیے ضروری ہے کہ نہایت ہی اعلیٰ خاندان کاہو۔نواب زادہ ہو، شاہزادہ ہو، یاکم سے کم معقول آمدنی رکھتا ہو… ابھی تک اردو میں غربت کی زندگی کا نقشہ کھینچا جانا باقی ہے اور یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ محض غریب لوگوں کی زندگی کے متعلق ناول لکھے جائیں۔ یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے جس پر ابھی تک کسی نے قلم نہیں اٹھایا لیکن جس کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کے لیے بڑی معلومات اور وسیع تجربہ اور عمیق مشاہدے کی ضرورت ہے…‘‘٭۲۸


مرزا رسوا نے ایک جگہ اس امر کا اظہار کیا تھا کہ کردار نچلے طبقے کے بھی ہوں تو کیا حرج ہے لیکن سجاد صاحب نے ناول کے مرکزی کردار کے لیے یہ بات کہی ہے۔ ہیرو کا تصور جو جاگیرداری عہد میں ایک مجموعہ صفات شخص کے لیے رائج تھا، صنعتی عہد کے آغاز کے ساتھ ،جب ہر شخص کو اپنی اہمیت کا احساس ہو نا شروع ہو گیا تھا، عام آدمی کو ہیرو کے طور پر دیکھنے کا تصور رائج ہونے لگا تھا۔ اردو میں اب ناقدین کو احساس ہوتا جا رہا تھا کہ ہیرو اعلیٰ طبقے سے یا ممتاز ترین صفات کا مالک ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ کوئی عام آدمی بھی ہو سکتا ہے۔
سجاد صاحب کا یہ کہنا کہ ابھی اردو میں غربت کی زندگی کا نقشہ کھینچا جانا باقی ہے،اتنے بڑے کینوس کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی طرف اردو ناول ابھی دیکھ نہ پایا تھا اور پھر جب کچھ عرصے بعد اردو ناول نے اس طرف نظر کی تو کئی اچھے ناول پیش کر دیے ۔ سجاد صاحب کا یہ کہنا دراصل ناول کی اسی طرف رہنمائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ناول نگار کو احتیاط برتنے کا بھی کہہ رہے ہیں کہ غربت کی زندگی کی نقشہ کشی کے لیے وسیع تجربے اور عمیق مشاہدے کی ضرورت ہے۔ سجاد صاحب کے یہ خیالات اردو میں ناول کی تنقید کے لحاظ سے کوئی نادر اضافہ تو نہیں قرار دیے جا سکتے لیکن پھر بھی ان کی اپنی جگہ ایک اہمیت ضرور ہے۔ ان کے اس مقام کے بارے میں ارتضیٰ کریم لکھتے ہیں :
’’یہ بڑی بات ہے کہ اس دور میں جب کہ فکشن کی تنقید تو کیا خود اردو تنقید کے بال و پر بھی نہ آئے تھے۔سجاد حیدر نے ناول نویسی کے متعلق سوچا اور اس کی خامیوں کو سامنے رکھا… حالانکہ ان کی یہ باتیں اور تمام خیالات جو ناول نگاری سے متعلق ہیں،وہ اکثر انگریزی تنقید سے اخذ کردہ ہیں۔ ہاں انہوں نے اسے اردو میں عام کرنے کی کوشش کی ۔ اس اعتبار سے ان کا یہ مضمون بھی اردو میں افسانوی ادب کی تنقید کے ارتقامیں اہم مقام رکھتا ہے‘‘٭۲۹


باب کے آخر میں جس شخص کا ذکر کرنا ضروری ہے ،اس کانام تاریخ کے پردوں میں کہیں گم ہے۔ اس کی کتاب کا نام ’’تنقید القصص‘‘ ہے اور مصنف کا نام نواب عاشق الدولہ بتایا گیا ہے لیکن یہ فرضی نام ہے۔اس کتاب کے چھ حصے ہیں۔
۱۔ فرق اور اثر ۲۔ ہندوستانی جدید ناول
۳۔ مختلف مقامات کے ناول اور ان کی زبان اور طرزِ ادا وغیرہ ۴۔ ناولوں کی خصوصیات
۵۔ ایک چھوٹا سا محاکمہ ۶۔ میری صلاح
پہلے حصے میں انہوں نے یورپی انداز کی قصہ نگاری یعنی ناول اور ایشیائی قصوں کے مابین فرق اور دونوں معاشروں پر ان کے اثرات واضح کیے۔ دوسرے حصے میں اردو ناولوں کی مجموعی صورتِ حال اور اسلوب وغیرہ پر بحث کی ہے۔ چوتھے حصے میں ہندوستانی ناول کی خصوصیات ، پانچویں میں ان قصوں کی بابت ایک محاکمہ اور چھٹے میںاپنی طرف سے مشورہ دیا ہے کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں ناول کے سوا۔ ناول لکھنے سے بہتر ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام کیا جائے۔’’ تنقید القصص ‘‘ کے مصنف کی اہمیت میرے خیال میں اسی قدر ہے کہ ناول کی تنقید نے جس طرف دیکھا نہ تھا اب تک،ادھر دیکھا تو ہے۔ان سے کچھ ایسے مباحث کا آغاز ہوتا ہے جو پہلے نہ تھے۔مثلاً زبان ، ناول کی قرأت، تکنیک وغیرہ ورنہ ناول کے بارے میں ان کی تمام تر آراء مخاصمانہ ہیں۔نیر مسعود صاحب نے ایک جگہ ان کے خیالات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ذرا ملاحظہ کیجیے:


’’ناول میں پڑھنے والے کی دلچسپی بالکل ایسی ہی ہوتی ہے جیسی کنکوے بازی، بٹیر بازی، ناچ ، تھیٹر کے سے تفریحی مشاغل میں ہوتی ہے اور اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا ۔ اردو میں تاریخی ناول بھی لکھے جا رہے ہیں لیکن ان میں من گھڑت واقعات جوڑ کر پڑھنے والے کو گمراہ کیا جاتا ہے اور کم استعداد پڑھنے والے ان بے اصل واقعات پر اسی طرح یقین کرتے لگتے ہیں جس طرح ’’تاریخ ابولفدا‘‘ قسم کی مستند کتابوں پر یقین کیا جا سکتا ہے۔…ناول ملک یا زبان کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بہت مبتذل چیز ہے اور ایک حد تک مخربِ اخلاق، معینِ جرم، موید سیہ کاری ہے، اسی لیے ہمارے بڑے بڑے عالی دماغ عالموں نے اس صنف کی طرف توجہ نہیںکی ۔ اگر ناول ہندوستان میں کسی کام کا بھی ہوتا اور کچھ اس سے دنیاوی فائدے کی توقع بھی ہوتی تو پہلے ہندی ناولسٹ سرسید ہوتے۔لکھنے والوں کو چاہیے کہ ناول نویسی چھوڑ کر مفید علمی کتابیں ترجمہ یا تصنیف کریں ۔ یہ محض عذرِ لنگ ہے کہ اردو زبان الفاظ کی طرف سے ایسی مفلس ہے جس میں علوم و فنون یا اعلیٰ درجے کی عربی ، انگریزی انشا پردازی کے ترجموں کی پوری گنجائش نہیں … ہماری اردو مفلس ہے نہ محتاج، بلکہ دنیا کی تمام دولت مند زبانوں سے بہت زیادہ مالا مال ہے اور ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے جینے دیں اور صرف ناولوں کی تیرہ و تار دنیا میں دفن نہ کریں۔‘‘٭۳۰
جہاں تک میرا خیال ہے ، اس قسم کی کھلی تنقیص ناول کے لیے بہت ضروری تھی۔ کسی صنفِ ادب کی ابتدائی پرکھ کے لیے یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ابتدا میں ہی اس کے سارے مثبت و منفی پہلو دیکھ لیے جائیں(جس طرح کہ اینٹی غزل ، نثری نظم اور علامتی افسانے وغیرہ کے بارے میں ہوا تھا)ایک تو اس طرح کی شدید تنقید قارئین کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خود اس صنف کو پڑھ کر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔ دوسرے تخلیق کار کے ہاں ایک لحاظ سے ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتاہے کہ وہ ان اعتراضات کو دور کر نے کے لیے نئی صنف کے اعلیٰ اور بہتر نمونے پیش کرے۔


انیسویں صدی کے اختتام کے ساتھ ہی اردوناول کی روایتی تنقید کامطالعہ ختم ہوتا ہے، البتہ اگلے باب کی طرف بڑھنے سے قبل میں صرف ایک دیو قامت شخص کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، جو آج بھی اردو فکشن کے بڑوں میں شمارے جاتے ہیں۔پریم چند ایک بڑے ناول نگار ہونے کی وجہ سے ناول کے فن پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔ گو کہ ناول پہ ان کا تنقیدی کام بہت کم ہے لیکن ناول کے بارے میں دو تین مضمون لکھنے کے باوجود، ان کے خیالات بہت اہم اور اپنے معاصرین سے بہت آگے ہیں اس لیے ابتدائی تنقید کے باب کے آخر میں ان کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔
ناول پر اپنے مضمون میں وہ سب سے زیادہ اہمیت ناول کے موضوع کو دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ناول کو عالمی ادب میں جو امتیازی حیثیت حاصل ہے وہ اس کے موضوع کی ہمہ گیری ہے۔ دنیا کا کون سا موضوع ہے جو اس میں نہیں سما سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ناول کی موضوعاتی وسعت ہی ناول نگار کے پائوں کی بیڑی ثابت ہوتی ہے کیوں کہ بڑے موضوع کو سنبھالنے کے لیے تخیل بھی اتنا ہی بڑا چاہیے۔
’’ناول نگار کے لیے سب سے اہم چیز اس کی تخیلی صلاحیت ہے اگر اس میں اس کی کمی ہے تو وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔اس میں اور چاہے جتنی کمیاں ہوں لیکن تخیل کی قوت ناگزیر ہے۔ اگر اس میں یہ قوت موجود ہے تو وہ ایسے کتنے ہی مناظر ، واقعات اور کیفیات کی تصویر کشی کر سکتا ہے جن کااسے ذاتی تجربہ حاصل نہیں ہوا۔ اگر اس میں یہ صلاحیت نہیں تو خواہ اس نے کتنی ہی سیروسیاحت کی ہو، وہ کتنا ہی عالم کیوں نہ ہو اور اس کے تجربات کا دائرہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، اس کی تخلیق میں دل کشی نہیں آ سکتی۔ ایسے کتنے ہی ادیب ہیں جن میں انسانی زندگی کے واقعات کو دلچسپ ، دلآویز اور موثر اسلوب میں بیان کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن وہ تخیل کی کمی کی وجہ سے اپنے کرداروں میں زندگی کے آثار پیدا نہیں کر سکتے۔ جیتی جاگتی تصویریں نہیں کھینچ سکتے۔ ان کی نگارشات کو پڑھ کر ہمیں یہ خیال نہیں ہوتاکہ ہم کوئی سچا واقعہ دیکھ رہے ہیں‘‘٭۳۱


پریم چند لکھتے ہیں کہ ناول کا طرزِ بیان دل کش اور موثر ہونا چاہیے لیکن اسے الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں بننا چاہیے، ناول کی خوبی زبان نہیں، اس کی اصلیت ہے۔ اسی طرح واقعات چاہے جتنے دل چسپ بنائے لیکن وہ سبھی بھی اصل قصے سے مربوط ہوں اور قصے میں روانی پیدا کرتے ہوں۔ حقیقت پسندی کے بارے میں کہتے ہیں کہ حقیقت پسندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ زندگی اور معاشرے کا تاریک پہلو ہی دیکھا جائے۔کردار منفرد اور ارتقا پذیر ہوں، مکالمے جتنے زیادہ ہو سکیں، ناول کے لیے اچھا ہے اور بیانیہ کم سے کم ہو۔ ناول کی بابت کہتے ہیں :
’’جس ناول کے مطالعے کے بعد قاری کو اپنے اندر ایک تکمیل یا آسودگی کا احسا س ہواور اس کے پاکیزہ جذبات بیدار ہو جائیں وہی کامیاب ناول ہے۔ جس کے خیالات گہرے اورتیکھے ہیں، جو زندگی میں لدّو بن کر نہیں بلکہ سوار بن کر چلتا ہے جو جدو جہد کرتا ہے اور ناکام ہوتاہے، اٹھنے کی کوشش کرتاہے ، جو عملی زندگی کے پیچ و خم سے گزرتا ہے، جس نے زندگی اور زمانے کے انقلاب دیکھے ہیں، جس نے دولت اور عُسرت کا سامنا کیا ہے، جس کی زندگی مخملی گدوں پر ہی نہیں گزری، وہی ایسے ناول لکھ سکتا ہے جن میں روشنی، زندگی اور آسودگی دینے کی صلاحیت ہو گی۔ ناول پڑھنے والوںکا مزاج اور میلان اب کچھ بدلتا جا رہا ہے۔ اب انہیں مصنف کے تخیل کی پرواز سے تسکین نہیں ہوتی۔ تخیل بہر حال تخیل ہوتا ہے، وہ حقائق کا بدل نہیں ہو سکتا۔ مستقبل ان ہی ناولوں کو لبیک کہے گا جو تجربات اور واقعات پر استوار ہوں‘‘٭۳۲


انیسویں صدی کے ساتھ ہی روایتی تنقید کا باب ختم ہوتا ہے۔۱۹۰۰ء؁ کے بعد بھی گو کہ اردو میں ناول کی تنقید کے باب میں اکا دکا چیزیں لکھی جاتی رہیں لیکن علی عباس حسینی کی مستقل تصنیف ’’ناول کی تنقیدی تاریخ‘‘ تک کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس میں نظری لحاظ سے کوئی اہم پیش رفت ہوئی ہو۔ تخلیقی لحاظ سے بھی ہم اس دور کو اردو ناول کا خاموش دور کہہ سکتے ہیں ۔ ایک ایسی لمبی چپ جس میں صرف پریم چند ہی تیز ہوا کا شور بنے ہوئے ہیں۔
اس باب میں ہم نے مولوی عبدالکریم، نذیر احمد ، کیمپسن، ولیم مور،شاد عظیم آبادی ، مرزا عباس حسین ہوش، پنڈت مادھو پرشاد، عبدالغفور شہباز، رشیدۃ النسا، عبدالحلیم شرر، مرزا محمد ہادی رسوا، رتن ناتھ سرشار، سجاد حیدر، عاشق الدولہ اور پریم چند کی طرف سے ابتدائی تنقیدی پیش رفت ملاحظہ کی ۔ اردو ناول کی تنقید میں جن مباحث کا آغاز ان لوگوں نے کیا آج وہ بہت ترقی یافتہ شکل میں موجود ہیں لیکن پھر بھی ان لوگوں کی اہمیت محض تاریخی کی بجائے تنقیدی ہے۔ ہمیں ان کے خیالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاشرہ اپنے عہد میں لکھے گئے ناولوں کو کس طرح پڑھ رہا تھا اور اس عہد کا تخلیق کار اپنی تخلیق میں کس چیز کو اہمیت دیتا تھا۔ آج ہم نذیر احمد، شرر، سرشار، رسوا اور دوسرے ناول نگاروں کو اپنے زمانے کے تنقیدی تصورات کی روشنی میں پڑھتے ہیں تو مایوسی کا شکار ہوتے ہیں لیکن اگر ہم اس ابتدائی تنقید کی روشنی میں ان تخلیق کاروں کے رجحانات جانچ کر ان کا مطالعہ کریں تو مجھے یقین ہے کہ ہم ان کی پوری تفہیم حاصل کر لیں گے۔ اس کے بعد ہمیں یہ ناول مایوس نہیں کر سکتے۔ آخر ان کے کرم خوردہ صفحات میں ان کا عہد اپنی پوری رنگینی اور ماحول کے ساتھ موجود ہے۔

حوالہ جات

۱۔ ارتضیٰ کریم ، ڈاکٹر،’’اردو فکشن کی تنقید کامعمارِ اول،مولوی کریم الدین‘‘،مشمولہ’’فنون‘‘،لاہور،شمارہ:۴۳/۴۲،مئی تا اکتوبر،۱۹۹۴ء،ص:۶۳
۲۔ ارتضیٰ کریم،’’فکشن کی تنقید‘‘،فضلی سنز، کراچی،اول، ۱۹۹۷ء،ص:۴۲
۳۔ ارتضیٰ کریم،’’فکشن کی تنقید‘‘،فضلی سنز، کراچی،اول، ۱۹۹۷ء،ص:۴۳
۴۔ نیر مسعود،’’ناول کی روایتی تنقید‘‘،مشمولہ’’آج‘‘ ،کراچی،شمارہ نمبر ۶۳، ص:۲۱۹
۵۔ نیر مسعود،’’ناول کی روایتی تنقید‘‘،مشمولہ’’آج‘‘ ،کراچی،شمارہ نمبر ۶۳، ص:۲۱۹
۶۔ ارتضیٰ کریم،’’فکشن کی تنقید‘‘،فضلی سنز، کراچی،اول، ۱۹۹۷ء،ص:۵۰
۷۔ آصف فرخی ،’’ عالم ایجاد‘‘، شہرزاد ، کراچی ،۲۰۰۴ء،ص:۲۰۳
۸۔ ارتضیٰ کریم،’’فکشن کی تنقید‘‘،فضلی سنز، کراچی،اول، ۱۹۹۷ء،ص:۵۲
۹۔ ایضاً،ص:۵۳
۱۰۔ علی عباس حسینی،’’ناول کی تنقیدی تاریخ‘‘،ایجو کیشنل بک ہائوس ، علی گڑھ،۲۰۰۵ء،ص:۲۰۰
۱۱۔ عباس حسین ہوش،مرزا، ’’افسانہ نادر جہاں‘‘مقدمہ جلد اول،مطبع نولکشور ، لکھنٔو،۱۹۱۶ء، ص:۱۰۔۹
۱۲۔ نیر مسعود ،محولہ بالا،ص:۲۲۵۔
۱۳۔ آصف فرخی،محولہ بالا،ص:۱۶۰۔
۱۴۔ ارتضیٰ کریم،محولہ بالا،ص:۵۵
۱۵۔ ارتضیٰ کریم،محولہ بالا،ص:۵۸
۱۶۔ عبدالحلیم شرر،’’مضامین شرر‘‘ ناشر:مبارک علی شاہ، مزنگ لاہور،س،ن،ص:۲۲۹
۱۷۔ ایضاً،ص:۳۰۔۲۲۹
۱۸۔ ایضاً،ص:۴۳
۱۹۔ عبدالحلیم شرر،مقدمہ:’’فردوسِ بریں‘‘مرتبہ سید وقار عظیم،مجلس ترقی اردو،لاہور، س ن، ص:۲
۲۰۔ نیرمسعود،محولہ بالا،ص:۲۲۲۔۲۲۱۔
۲۱۔ ارتضیٰ کریم، محولہ بالا،ص:۷۱۔
۲۲۔ سلیم اختر،ڈاکٹر،’’ داستان اور ناول‘‘، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، ۱۹۹۱ء،ص:۱۰۹۔
۲۳۔ نیر مسعود، محولہ بالا،ص:۲۲۳۔
۲۴۔ ارتضیٰ کریم،محولہ بالا،ص:۶۱۔
۲۵۔ نیر مسعود، محولہ بالا،ص:۲۲۳۔
۲۶۔ سلیم اختر،محولہ بالا،ص:۱۱۱۔
۲۷۔ ایضاً،ص:۱۱۲
۲۸۔ ارتضیٰ کریم،محولہ بالا،ص:۶۸۔
۲۹۔ ایضاً،ص:۷۰۔
۳۰۔ نیرمسعود،محولہ بالا،ص:۳۱۔۲۳۰۔
۳۱۔ پریم چند،’’مضامینِ پریم چند‘‘،مرتبہ:عتیق احمد،انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی،اول، ۱۹۸۱ء،ص:۲۲۱
۳۲۔ ایضاً،ص: ۲۲۶
٭٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں