اردو: مڈل کلاس لوگوں کی زبان؟

پاکستان اردو مڈل کلاس

پاکستان کی ایلیٹ کلاس نے بچوں کیساتھ اردو میں بات کرنا چھوڑ دیا ہے!صرف انگریزی!انکے نزدیک اردو میں بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے مڈل کلاس کے بچوں کا پنجابی میں بات کرنا !

اس کی وجوہات کو جاننے کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ ہم پاکستان کے طبقاتی و سماجی نظام پر ایک نظر دوڑا لیں۔ سماجی طور پر پاکستان مختلف ایکانومیکل کلاسز میں تقسیم ایک ملک ہےہ جس کا ایلٹ کلاس طبقہ اصل میں بدبودار طبقاتی نظام کی پیدوار ہے اور یہ بدبودار طبقاتی نظام پاکستان کی سویلین سپریمسی کےخلاف آمرانہ برتری کی جنگ سے شروع ہوا ہے جو دن بہ دن مظبوط شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دیکھا جائے تو صرف ایلیٹ کلاس ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں یہ ہوا ہے کہ ہم میاں بیوی بچوں سے انگریزی کے علاوہ اردو اور یہاں تک کہ مقامی زبانوں میں بھی بات کرتے رہے ہیں لیکن تیز رفتار انٹرنیٹ اور ٹی وی / کیبل چینلز کے اِس دور کے بچوں نے خود یہ بھانپ لیا ہے کہ انگریزی بولنی ، انگریزی پڑھنی ہے اور انگریزی ہی سننی ہے۔

اس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ مجموعی طور پر ہم اپنی قومی زبان سے دن بہ دن دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زبان کا تہذیب کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی زبان اردو ہی کو ترک کرنے کا ماحول بنا رہے ہیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم اپنی اقدار، اپنی مشرقی روایات اور تہذیب و تمدن کا گلا بھی اپنے ہاتھوں گھونٹ رہے ہیں۔

ہماری اشرافیہ انگریزی بولتی، نام نہاد مغربی لباس پہنتی اور اسی رنگ ڈھنگ میں روزمرہ کی زندگی گذارتی ہے لیکن روشن خیالی ان کو چھو کر بھی نہیں گئی۔ روشن خیالی سیاسی و سماجی طرز فکر کا نام ہے جو تمام انسانوں کو بلا لحاظ مذہب و عقیدہ رنگ و نسل برابر اور مساوی خیال کرتا ہے۔ ہماری اشرافیہ ان انسانی خصوصیات سے خالی ہے اور ان کی لبرل ازم اور روشن خیالی محض انگریری بولنے،لکھنے،جدید تراش خراش کا لباس زیب تن کرنے اور اپنے بچوں کو اے لیول اور او لیول کرانے تک محدود ہے۔

انگریزی زبان کو بھارت اور پاکستان میں ایک زبان کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے عقل اور ذہانت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ آپ میں سو ہنر موجود ہوں لیکن جب تک آپ اچھی انگریزی نہیں بول سکتے، آپ کو جاہل تصور کیا جائے گا۔

‫پاکستان کی قومی زبان اردو ہے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ انگریزی زبان سمجھنا اور بولنا محض ایک ہنر ہے، کسی انسان کی ذہانت اور قابلیت کا معیار ہر گز نہیں، دنیا کی ترقی یافتہ اقوام مثلاً چینی، جرمن، اطالوی، ولندیزی، فرانسیسی وغیرہ میں سے کوئی بھی نہ انگریزی بولتا ہے ‬‫نہ ہی انگریزی زبان سیکھتا ہے یہ تو ہماری قوم کی احساس کمتری ہے کہ وہ غیر ملکی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں دوسرے ہمارے اداروں نے اردو کی ترقی و ترویج میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم ذہنی پستی کا شکار ہے ‫اگر اس ملک و قوم کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو ہمارے ارباب اقتدار کو اردو کو اس کی اصل شکل اور رسم الخط میں ہی لازمی طور پر فروغ دینا ہو گا

ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ایلیٹ کلاس تو شاید پہلے ہی گھروں میں انگلش بولتی تھی، ہمارے مڈل کلاس اور نچلی مڈل کلاس، گلی گلی کھلے انگلش اسکولوں میں داخل اپنے بچوں سے اردو انگریزی کا عجب ملغوبہ بولنے کی کوششوں میں ھے، پہلے اردو بولنا پڑھے لکھے گھرانے کی نشانی تھی اب یہ چلن ھے، لطیفہ یہ ھے اردو پھر بھی کچھ چل جاتی تھی، اب نہ اردو پورے طریقے سے لکھ پڑھ اور بول سکتے ہیں نہ انگلش

اس مسئلے کے حل میں حکومت کو اپنا فلاحی کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو یہ ضروری ہوگا کہ حکومت سکولوں میں یکساں بنیادوں پر انگریزی زبان کی تعلیم دے اور اس کے ساتھ ساتھ مادری اور قومی زبانوں پر بھی اتنا ہی فوکس کرے جتنا وہ انگریزی زبان پر کرے۔ لیکن اس امر کو وقوع پریز ہونے کے سامنے جو سب سے بڑا چینلج موجود ہے وہ ہے طبقاتی نظام ِ تعلیم۔ یعنی امیروں کے لیے الگ نظام ِ تعلیم اور غریبوں کے سکولوں کا الگ ہونا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی ملک میں دو مختلف زبانوں کے لوگ تشکیل پا رہے ہیں جن کی نہ صرف سوچ مختلف ہوتی ہے بلکہ زندگی کا رہن سہن اور تہذیب و ثقافت بھی فرق رکھتی ہے۔ دوسرا کردار حکومت کی بجائے خود معاشرے کو ادا کرنا ہوگا، گھر والوں کو، والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو انگریزی زبان، قومی زبان اور مادری زبان تینوں زبانیں فخر کے ساتھ سکھائیں۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    اردو نال اوہو ہویا جو ایہنے پنجابی نال کیتا۔ پنجابی فیر وی بچ جائے گی کیوں جہ ایہدیاں جڑاں زمین وچ بوہت ڈونگیاں نیں نالے ل ایہنوں ایہدے بابیاں دیاں دعاواں نے جہناں دےکلام تے پنجابی گائیکی دی مضبوط عمارت کھڑی اے پر اردو نوں میر تے غالب دیاں عشقیہ غزلاں کدی وی نئں بچا سکن گئیاں ۔و

    Reply

کمنٹ کریں