اُردو پریشاں ہے

گل بخشالوی

, اُردو پریشاں ہے

مری دہلیز پر محسن کھڑی ،اُردو پریشاں ہے
خودی کے خون پر شاید بڑی ،اُردو پریشاں ہے
تمہیں رہنا ہے گر مغرب میں تو تہذیب رہنے دو
اُسے دیتی ہے انگریزی تڑی، اُردو پریشاں ہے
چلا تھا آپ سے ،پھر تو ہوا ،اب یو‘بُلاتے ہیں
مرے بچوں کو انگریزی لڑی ،اُردو پریشاں ہے
میں ابا جی سے ڈیڈی بن گیا ،ماں جی بنی مما
کہاں پہ آکے ٹوٹی ہے لڑی ،اُردو پریشاں ہے
ادیب وشاعروں پر ناز تھا وہ بے وفا نکلے
گھروں میں اُن کے انگریزی لڑی ،اُردو پریشاں ہے
کبھی قومی زباں تھی میں ،کسی کے خواب کی دھرتی
مری آنکھوں میں آکر روپڑی ،اُردو پریشاں ہے
ہے ہندوپاک کی عظمت ،تہذیب وثقافت کی
زبانوں میں نگینے سا جڑی ،اُردو پریشاں ہے
ادیب وشاعروں ،اُردو کے متوالوں کی جنت میں
یہ گوروں کی زباں کیوں منہ چڑی ،اُردو پریشاں ہے
بتاتی ہے تلفظ میں تری ،کمزوریاں بھی گل
تری آنکھوں میں اشکوں کی جڑی ،اُردو پریشاں ہے

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں