اردو اور پشتو کا تعلق

پشتو زبان ،اس کا تاریخی و لسانی پس منظر ،رسم الخط اور اردو کے ساتھ مماثلت:

پشتو ایک قدیم زبان ہے۔ جس طرح دیگر زبانوں کو قوم،علاقے یا پھر کسی ملک کی مناسبت سے مختلف نام دئیے گئے ہیں بالکل اسی طرح پشتون قبائل کی مناسبت سے پشتو زبان کانام بھی پڑگیا ہے۔ جہاں تک اس زبان کا تاریخی ولسانی حوالہ ہے تو ” رگ وید ” میں جس” پکھت ” یا ”اوستا” میں جس ” بخت ” قوم کا ذکر پایا جاتا ہے ، ساتھ ساتھ مشہور یونانی مؤرخ ہیرو ڈوٹس نے 520ق م میں جس ” پکھت” قوم کا تذکرہ کیا ہے ،اس سے محققین کی اکثریت اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ اسی ” پکھت” یا” بخت” نے بعد میں ” پخت” یا ” پشت” کی شکل اختیار کر کے اس سے اسی قوم کی زبان کا نام ”پکھتو” یا ”بختو” (پشتو یا پختو) پڑا۔

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ یہ زبان آریائی خاندان کی ایک ذیلی شاخ ہے۔ انگریز جب ہندوستان آئے تو انہوں نے دیگر زبانوں کی طرح پشتو زبان میں بھی دلچسپی لی اور جدید لسانی اصولوں کے مطابق پشتو کے صوتی ،تشکیلی،نحویاتی اور معنوتی نظام کا گہرا لسانی مطالعہ اور تجزیہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ پشتو، سنسکرت اور اوستا زبانوں میں لفظی،معنوی اور نحوی مماثلتیں موجود ہیں۔لہذا پشتو زبان بھی آریائی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔اسی نظریے کے ساتھ اکثر پشتو مؤرخین سمیت دنیا بھر کے مؤرخین و محققین متفق ہیں۔ْ

رسم الخط

پشتو زبان شروع میں یونانی،خروشی،برہمی، دیوناگری، میخنی اور اوستائی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ ظہورِ اسلام کے بعد عربی رسم الخط نےمذکورہ تمام رسم الخط کو ختم کردیا ،(خطِ نسخ میں بھی ایک زمانے میں پشتو لکھی جاتی تھی)

پشتو اور اردو زبانوں میں مماثلت

پاکستان کی دیگر زبانوں کی طرح پشتو کے بھی قومی زبان کے ساتھ گہرے روابط ہیں، مثلاََ دونوں زبانوں پر عربی اور فارسی کا اثر نمایاں ہے۔ ذخیرہ الفاظ دونوں زبانوں میں یا تو مشترک ہے یا ان دونوں میں قریبی اشتراک پایا جاتا ہے۔ اس پر دلالت کے لئے پروفیسر پریشان خٹک صاحب نے تحقیق کی ہے کہ 5022 الفاظ کا ذخیرہ زبان اردو اور پشتو میں مشترک ہے۔علاوہ ازیں ڈاکٹر انعام الحق کوثر صاحب نےاپنی کتاب ” ہشت لسانی گلدستہ” میں ایک لسانی سروے پیش کرتے ہوئے 1612 اردو الفاظ ،اسما اور افعال کا انتخاب کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ روزمرہ استعمال ہونے والے ان الفاظ میں 863 الفاظ اردو اور پشتو میں مشترک ہیں یا پھر قریبی ہیں جو کہ تقریباََ 53.،5 فی صد بنتے ہیں۔

پشتو کا پہلا شاعر

پشتو شاعری کی اپنی ایک الگ تاریخ ہے۔ یہ تاریخ کئی صدیوں پر مشتمل ہے اور اس میں بڑے نامور شعراء گزرے ہیں۔ امیر کرور سوری کو پشتو کا سب سے پہلا شاعر باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پشتو شاعری میں رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی شاعری کو صوفیانہ شاعری کا درجہ حاصل ہے۔ یہاں تک کہ شاعر ِ مشرق علامہ اقبال بھی ان دونوں شعراء سے بہت متاثر تھے اور خوشحال خان خٹک کی شاعری سے اپنی اردو شاعری میں استفادہ کرتے تھے۔

تحریر: حیدر خان

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں