اردو زبان کی ابتدا اور اس کا ارتقاء

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد فاروق خان
lafznamaweb@gmail.com

اردو زبان, اردو زبان کی ابتدا اور اس کا ارتقاء

اردو ایک آریائی زبان ہے ۔آریائی زبان کا پہلا نقش ہمیں رگ وید کی شکل میں ملتا ہے ۔ اس وقت ہند یورپی زبان ہند ایرانی منزل سے گزر کر خالص ہند آریائی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ آریائے ابھی دریائے سندھ تک ہی پہنش پائے تھے کہ ان کی زبان نے ادبی شکل اختیار کر لی لیکن رگ وید کے بیشتر اشلوک اسی غیر مصنوعی اور سادہ زبان میں ہیں جو اس وقت کے آریاؤں کے گھروں میں بولی جاتی تھی ۔ دریائے سندھ کے آریہ جوں جوں آگے بڑھے ان کی زبان پر صوبہ جاتی اور دیسی بولیوں کا بھی اثر پڑا ۔اور دیسی الفاظ میل بھی ہونے لگا ۔
مثلاََ کال (وقت )،پوجا ،پھل ، بیج، وغیرہ ہندوستان کی دیسی بولیوں کے الفاظ ہیں ۔1000 ق م سے 600 قم تک آریہ شمالی ہند میں پھیل چکے تھے اور انکی مرکیزیت ختم ہو چکی تھی ۔ شمال مغربی ہندوستان کی زبان کو اس زمانے میں س لحاظ سے فوقیت حاصل تھی کہ وہ آریاؤں کی قدیم معیاری زبانوں سے زیادہ قریب تھی ۔ ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بھی ۔ زیادہ صحیع اور کھدری سمجھی جاتی تھی ۔ جوں جوں آریائی تہذیب کا مرکز پنجاب سے ہٹ کر دو آبہ مین منتقل ہوتا گیا یہاں کی زبان کو بھی ممتاز حیثیت دی جانے لگی ۔
اسی زمانے میں آریائی زبان کو از سر نو منظم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ صوبی جاتی اور مقامی تعصّبات سے ہٹ کر صرف ایسے الفاظ کو ٹکسالی زبان مانا گیا جو سن جگہ رائج ہوں ۔ سب لوگ ادب سے ایک خاص قسم کی ٹکسالی زبان کا استعمال کرنے لگے اور یہ زبان بن سنور کر سنسکرت ہو گئی ۔


ملک کے جس حصہ میں آریہ پھیل گئے تھے وہاں کے مذہبی اور علمی طبقوں میں یہ سمجھی اور بولی جاتی تھی اور ہندوستانی بولیوں میں یہ کثرت میں وحدت کا کام دیتی تھی ۔
رفتہ رفتہ سنسکرت کا رواج کم ہونے لگا ۔ا س نے مذہب کو اپنی آغؤش میں جگہ دی نتیجہ یہ ہوا کہ برہمنوں کے حلقہ میں محدود ہوکر رہ گئی ۔اس کے زوال کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ مہابیر جین اور مہاتما گوتم بدھ نے اپنے اپنے مذاہب کی تلقین یہاں کی مقامی بولیوں میں کی ۔ عوام نے اسکا استقبال کیا ۔ اس رح صوبہ جاتی بولیاں ابھر کر سنسکرت سے ٹکر لینے لگیں اور سنسکرت رفتہ رفتہ ایک فرقہ کی زبان بن کر رہ گئی ۔ ادھر پراکرت جو عوام کی گود میں پلی تھی مروجہ زبان کا مخرج بن گئی ۔


مختصر یہ کہ آریوں کی ابتدائی زبان (جو دیسی بولیوں کے میل سے بنی تھی ) سے ویدک زبان اور سنسکرت پیدا ہوئیں ۔ صوبہ جاتی بولیوں نے ویدک زبان کی فطری رجحان کو اپنایا ۔ یہی اس کے پراکرت ( فطری) کہلانے کا سبب ہے ۔ انہیں پہلی پراکرتوں کی ادبی شکل کو “پالی ” نام دیا گیا ہے ۔ پالی کے نمونے یا تو بدھوں کی مذہبی کتابوں میں ملتے ہیں یا پھر اشوک کی لاٹوں پر ۔ ان لاٹوں کی تحریر سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اشوک کے زمانے میں کم از کم دو تحریریں رائج تھیں ایک مغربی دوسری مشرقی ۔ مغرب پہ سنسکرت کا اثر نظر آتا ہے اور مشرقی پراکرت ماگدھی کہلائی ۔
ایک طرف سنسکرت ادبی طبقوں پر اپنا اثر قائم کر رہی تھی اور دوسری طرف بدھ اور جین مذہب کا سہارا لے کر عوامی بولیاں تیزی کے ساتھ ادبی پراکرتوں کی شکل اختیار کر رہی تھیں ۔


اس عہد کی پراکر توں کی پانچ نمایاں شکلیں ہیں

1 ۔ مہاراسٹری : ادبی حیثیت سے اس زمانے میں اس پراکرت کو سب سے زیادہ فروغ حاصل تھا ۔ اس عہد کا بیشتر شعری ادب سی پراکرت مین ملتا ہے ۔مہاراسٹری پراکرت کو ملک دکن سے کوئی نسبت نہیں ۔ یہ شور سینی پراکرت کی ترقی یافتہ شکل تھی ۔


2۔ شور سینی : اس کا مرکز دو آبہ کا وسطی حصہ متھرا تھا ۔ اس پر سنسکرت کا گہرا ثر نظر آتا ہے سنسکرت کے ناٹکوں میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔1ء سے پہلے ہی اس نے ایک منضبط ادبی زبان کی حیثیت اختیار کر لی تھی ۔


3۔ ماگدھی : یہ جنوبی بہار کی پراکرت تھی ۔چوں کہ یہ آریائی تہذیب و تمدن کے مرکزوں سے دور جا پڑی تھی اس لئے غیر مہذب زبان سمجھی جاتی تھی ۔


4۔ اردماگدی : شور سینی اور ماگدی پراکرتوں کے درمیانی علاقہ کی زبان تھی ۔آج اسی علاقہ کو دلی والے پورب کے نام سے پکارتے ہیں ۔ گوتم بدھ اور مہابیر جین نے اسی پرا کرت کو اپنایا تھا اور اس زمانے میں اسکا رواج شاہی خاندانوں تک محدود تھا ۔ شاہی زبان ہونے کی وجہ سے یہ دوسرے پراکرتوں پر بھی اثر انداز ہوئی ۔ غرض یہی اس وقت کی معیاری زبان تھی ۔


5۔ پشپاچی : یہ کشمیر اور پنجاب کے علاقہ کی پراکرت تھی ۔اور عوام میں بھوت پریت کی زبان سمجھی جاتی تھی ۔ کشنوں کے عہد (1ء کے بعد)میں شمالی مغربی ہندوستان کی اس پراکرت کو فروغ ہوا ۔ اس زمانے میں شاہی پرستی کی بدولت گندھار کی بولی اور معیاری زبان کی حیثیت سے اس علاقے میں رائج ہو گئی ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں