اردو زبان کی تشکیل اور نظریات

اردو زبان کی تشکیل اور نظریات
اردو زبان کی تشکیل اور نظریات

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد حامد علی خان

اردو زبان کی ابتدائی تشکیل پیچیدہ معاشرتی، سیاسی اور تہذیبی مراحل سے گزری ہے۔ ماہرین ِ لسانیات اس پر بہرحال متفق ہیں کہ دیسی اور بدیسی، مقامی اور غیرمقامی، ملکی اور غیرملکی، معاشرتی اور تہذیبی اشتراک و اختلاط نے زبان اردو کی تشکیل میں نمایاں حصہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر گریرسن، گارساں دتاسی، ڈاکٹر سینتی کمار چٹرجی، ڈاکٹر محی الدین قادری زور، نصیرالدین ہاشمی، محمود شیرانی اور ڈاکٹر مسعود حسین خاں کے نظریات ہمارے سامنے ہیں۔ ان ماہرین ِ لسانیات کی تحقیقی تفصیلات کے جائزے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اردو زبان مسلمانوں اور ہندوستان کے دیگر باشندوں کے تہذیبی میل جول اور معاشرتی لین دین سے وجود میں آئی ہے چنانچہ ڈاکٹر محی الدین قادری زور ہندوستانی زبان کے آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے دوسرے ماہرین ِ لسانیات کے خیالات کے پیش ، نظر روشنی ڈالتے ہیں کہ

“زبان اردو کا آغاز عام مستند رائے کے مطابق اس وقت ہوتا ہے جب محمد غوری نے 1193 ء میں دہلی کی سلطنت فتح کی۔ اور اس کے بعد اس حصہ ملک میں ایک طویل عرصہ تک مسلمان خاندان حکمران رہے۔ متعدد مصںفوں کی یہ رائے ہے کہ اردو دہلی میں فارسی اور ہندی کے میل جول کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ نیز یہ کہ وہ عام طور پر محمد تغلق کے زمانہ میں بولی جاتی تھی۔ جس کی فوجیں اس زبان کو دکن لے گئیں۔
یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس کا تعلق ان زبانوں سے ہے جو دہلی کے گرد و نواح میں بولی جاتی تھیں ۔ یہ رائے بھی کلیتاََ صحیع نہیں ہے
(ہندوستانی لسانیات ، صفحہ 94)

یہاں اس امر کی نشان دہی ضروری ہے کہ دہلی کا شہر کھڑی بولی ،ہریانی ، برج اور میواتی (راجستھانی) بولیوں کے علاقو کے مقام اتصال پر واقع ہے ۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان مقامی بولیوں نے کسی نی کسی حد تک زبان اردو کے آغازکی راہ ہموار کی ہوگی ۔ غالباََاسی لئے ماہرین لسانیات نے پنجابی اور برج بھاشا کو اردو زباں کی ماں قرار دیا ہے ۔ یہ پراکرتیں دراصل وہ ہیں جو مسلمانوں کیآمد کے وقت پشاور سے لے کر الہ آباد تک مستعمل تھیں۔ پروفیسر نصیر الدین پاشمی لکھتے ہیں :

“موجودہ زمانہ کے ماہرین لسانیات یعنی پروفیسر موسیو جیولس بلاک ، پروفیسر ٹرنر ،پرفیسربیلی ، پروفیسر چٹرجی اور ڈاکٹر سید محی الدین قادری کی تحقیقات کی رو سے اردو کا سر چشہ وہ زبان ہے جو پنجابی اور برج بھاشا دونوں کی ماں تھی ۔ یعنی وہ پراکرت زبان جو مسلمانوں کی آمد کے وقت پشاور سے لے کر الہ آباد تکبالی جاتی تھی ۔ (دکن میں ارود ،ص 36)

لیکن یہ بھی کہ جیوں جیوں مسلمان فاتحیناور صوفیائے کرام ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلتے گئے توں توں ایک مکلوط تہذیبی ماحول بنتا گیا۔ نتیجاتاََ عہد خسروی میں یہی زبان دہلوی اور ریختہ کے صورت میں نمایاں ہوئی اور کبھی ہندوی ، کبھی اردوئے معلیٰ تو کبھی دکھنی ، ہندی جیسے مختلف ناموں سے جانی گئی ۔ بہرحال اردو کی ابتدا کے متعلق اس وقت جو مختلف نظرئے ہیں وہ یوں ہیں :

1 ۔ اس کی ابتدا پنجاب سے ہوئی
2۔ اس کی ابتدا سندھ سے ہوئی
3۔اس کی ابتدا دکن سے ہوئی
4۔ اس کی ابتدا دو آبہ گنگا جمنا سے ہوئی
تو آئیے ان نظریات کا تفصیل سے جائزہ لیں

محمود شیرانی

محمود شیرانی نے اپنی کتان ” پنجاب میں اردو ” میں لکھا ہے کہ اردو کی ابتدا دراصل پنجاب میں ہوئی ۔ ان کا خیال ہے کہ غوریوں اور غزنویوں نے جب ہندوستان فتح کیا تو سب سے پہلے سندھ اور پنجاب کو ہی اپنا مسخر بنایا ۔عربی فارسی اور ترکی بولنے والے یہ بادشاہ اور ان کے لشکریوں کو سندھی اور پنجابی زبانوں سے قریب ہونے کا موقع ملا چنانچہ فارسی اور ترکی زبانون کا میل جول مقامی زبانوں سے ہوا ۔ اور ایک نئی زبان کی داغ بیل پڑ گئی جو بعد میں اردو کے نام سے موسوم ہوئی ۔ محمود شیرانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسی وقت یہ زبان دلی پہنچی اور نشو نما پانے لگی پھر بھی اس پر پنجابی کے گہرے اثرات پڑے اور ایک نئی زبان کا ہیولیٰ تیار ہوا جو اردو کے نام سے موسوم ہوئی ۔ا ن کا خیال ہے کہ :

“اردو دہلی کی قدی زبان نہیں ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی جاتی ہے اور چونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے کر ئے ہونگے ۔”

اس سلسلے میں شیرانی نے پنجابی اور اردو کے قواعد اور الفاظ کی تشکیل کے جن اصولوں کا لسانی جائزہ لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ اردو پنجابی کی بیٹی ہے ان می چند یہ ہیں ۔

1۔ اردو اور پنجابی زبانوں میں مصادر بنانے کا قاعدہ یکساں ہے ہر دو زبان میں فعل امر کے آگے علامت مصدر نا ” بڑھا دیتے ہیں ۔ مثلاََ کر سے کرنا ، مر سے مرنا

2 ۔ اردو اور پنجابی زبانوں میں تذکیر اور تانیث بنانے کا قاعدہ ایک ہے ۔ ہر دو زبان میں ایسے الفاظ جو ” الف” پر ختم ہوتے ہیں ان کی تانیث الف” حذف کرکے ” ی” بڑھا کر بناتے ہیں ۔ مثلاََ بکرا سے بکری ، گھوڑا سے گھوڑی وغیرہ ۔

3۔ اردو اور پنجابی کے ایسے اسم مکر جو حرف صحیع پر ختم ہوتے ہیں ان کی تانیث میں “نی ” جوڑ کر بناتے ہیں ۔ جیسے اونٹ سے اونٹنی ، مغل سے مغلانی وغیرہ ۔

4۔اردو اور پنجابی زبانوں میں فعل تذکیر و تانیث یا واحد اور جمع کی حالت میں اپنے فاعل کے مطابق آتے ہیں ۔ مثلاََ گھوڑا آیا ،گھوڑے آئے ، عورت آئی ۔عورتیں آئیں کی جگہ پنجابی میں عورتیں آئیاں استعمال ہوتا ہے ۔ قدیم اردو میں بھی اسی طرح استعمال ہوتا تھا ۔

5۔اردو اور پنجابی زبانوں میں ماضی مطلق بنانے کے واعدے ایک جیسے ہیں

6۔ماضی احتمالی اور مضارع دونوں زبانوں کے ایک جیسے ہیں ۔

7۔دونوں زبانوں میں فعل مستقبل بنانے کا قاعدہ ایک ہے

8۔فعل امر بنانے کا قاعدہ بھی دونوں زبانوں میں ایک ہے

محمود شیرانی کا خیال ہے کہ اردو اور پنجابی میں مونث کے صیغوں میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ دراصل متاخرین کی اصلاحی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے اردو اور پنجابی کو ممثل بنانے کے لئے کئی مثالیں لائی ہیں ۔لیکن اپنے مقدمے کو مضبوط کرنے کے لئے ان کے دلائل اتنے کمزور ثابت ہوئے کہ ” ہندوستانی لسانیات کے مصنف ڈاکٹر محی الدین قادری زور اور ” دکن میں اردو ” کے مصنف نصیر الدین ہاشمی نے سخت نکتہ چینی کی ۔ نصیر الدین ہاشمی کہتے ہیں

“ان فاتحین (جو سمدھ میں712ء سے حکومت سنبھالی)کی اصلی زبان عربی تھی ۔ اس لحاظ سے جو زبان عالم وجود میں آئی وہ عربیا ور سوراسنی سے مشترک ہوتی مگر چونکہ اس میں فارسی کا حصہ زیادہ ہے اس لئے ہم یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ اردو کی ابتداء سندھ سے نہیں ہوئی “

پروفیسر مسعود حسین خان نے بھی محمود شیرانی کے اس نظرئے کو رد کر دیا کہ اردو پنجابی کی بیٹی ہے ۔ پروفیسر مسعود حسن خان نے کہا کہ اردو پنجابی کی بہن تو ہو سکتی ہے بیٹی نہیں ۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ لانیات کی تاریخ میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ترقی پذیر زبان نے کسی دوسری زبان کو جنم دیا ہو ۔ پنجابی خود ایک ترقی پذیر زبان تھی اس لئے وہ ماں نہیں بن سکتی ۔

شوکت سبزواری

شوکت سبز واری نے ارود زبان کے ارتقاء کے سلسلے میں مختلف النواع نظریات کا جائزہ لیتے ہوئے ” پالی ” کی اہمیت کو زیادہ نمایاں قرار دیا ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ :

“اردو ہندوتسانی کھڑی قدیم ویدک بولیوں میں سے ایک بولی ہے ۔ جو ترقی کرتے کرتے یا یوں کہئے کہ ادلتے بدلتے پاس پروس کی بولیوں کو کچھ دیتے اور کچھ ان سے لیتے اس حالت کو پہنچی جس میںآج ہم اسے دیکھتے ہیں ۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ میرٹھ اور اس کے نواح میں بولی جاتی تھی اردو اور پالی دونوں کا منبع ایک ہے ۔پالی ، ادب ، فن ، اور فلسفے کی زبان ہے ۔اور ہندوستانی روزانہ بول چال کی ، لین دین اور کاروبار کی ، پالی ادبی درجے کو پا کر ٹھہر گئی لیکن پندوستانی عوام کی زبان ہونے کی وجہ سے اور بازار ہاٹ میں بولے جانے کے باعث برابر ترشی ترشائی اور چھلتی چھلاتی رہی “۔

ڈاکٹر شوکت سبز واری نے اپنے لسانی نظرئے کی وضاحت کرتے ہوئے اس خیال کو بھی تسلیم نہیں کیا کہ مسمانوں کی آمد ہند کے بعد اردو زبان کی نشو نما کا عمل شروع ہوا ۔ اور اس خیال کی بھی تردید کر دی کہ یہ نہ تو سورسینی کی کسی شاخ کی پیداوار ہے نہ برج بھاشا کا کوئی بدلا ہوا روپ ہے اور نہ اس کی ماں جائی بہن کہ جس پر محمد حسین آشاد اور محمود شیرانی زور دیتے آئے تھے ۔

عام طور پر ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ اردو کا تعلق آریائی خاندان سے ہے ۔ اس کی بنیاد یہ ہے کہ کوئی 1500ق۔م آریائی نسل کے لوگ ہندوستان آئے ۔ وہ ایک طاقت ور قوم تھی ۔ انہیں اپنی برتری کا احساس تھا ۔آریائی قوم سے پہلے یہال کول اور ڈراوڑی قومیں ریتی تھیں ۔اریہ نے انہیں مفتوح کر لیا ۔ ان کی زبان سکسکرت رائج ہوئی چونکہ یہ فاتح کی زبان تھی اس لئے سرخرو اور سربلند ہوئی ۔ فاتح کا اثر مفتوح پر ہوتا ہے ۔دونوں قوموں نے استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ غیر آریائی زبانین بھی رائج رہیں بلکہ عوام کی اکثریت غیر آریائی زبانیں ہی استعمال کرتی رہی ۔تقریباََ چار پانچ سو سال بعد دو زبانوں کے باہمی اشتراک سے تیسری زبان نمودار ہوئی جسے دونوں قوموں نے اپنایا ۔ یہ زبان پراکرت تھی ۔ پراکرت کی مختلف شاخیں ۔ ماگدھی +پراکرت ، پشاچی + پراکرت ، اردو ماگدھی اور شورسینی پراکرت ہوئیں ۔ یہ پراکرتیں بھی رو بہ انحطاط ہوئیں اور جتنی پراکرتیں تھیں تقریباََ اتنی ہی اپ بھرنش بن گئیں ۔ اس طرح ایک ہزار سال تک زبان کا یہ سفر جاری رہا ۔ لیکن شوکت سبز واری اس کلیہ کو رد کرتے ہیں کہ زیادہ صحیع اور قرین دانش یہ ہے کہ اردو (کھڑی)مسلمانوں کیآمد سے پہلے ایک نہایت ہی قیاس افتادہ اور لسانی اعتبار سے بڑی ہی پس ماندہ زبان تھی ۔ بلکہ مسلمانوں کی آمد کے بعد بھی ایک مدت تک وہ صرف روزانہ کاروبار اور عام بول چال کی زبان رہی ۔ مسلمانوں نے اول اول اس گھٹنوں کے بل چلنے والے بچے کو اٹھایا اور پال پوس کر بڑا کیا ۔” اور دلائل کے طور پر عرفی و نحوی اعتبار سے بھی زبان کا مطالعہ پیش کیا ۔ ڈاکٹر سبز واری کے اس لسانی انداز نظر میں وزن اور تاریخی بصیرت موجود ہے ۔ انہوں نے ان تاریخی صداقتوں پر اپنی توجہ مبذول رکھی ہے جنہوں نے معاشرتی تغیرات اور سیاسی تبدیلیوں کے قسیلے سے اس عوامی زبان کی کمزوریوں کو دور کرکے اسے عام و خاص زبان بنا دیا ہے ۔

مسعود حسین خان

ماہر لسانیات اوردو زبان کے آگاز و فروغ سے متعلق ایک پہل پر متفق ہین کہ یہ ہندوستان کی مخلوط و مشترک قومی تہذیب کا ثمرہ ہے ۔ اور جب ہم مسعود حسین خاں کے نقطہء نظر کی طرف رخ کرتے ہیں تو اس کی وضاحت ہوتی ہے کہ حکیم شمش اللہ قادری نے اردوئے قدیم میں ، نصیرالدین ہاشمی نے ” دکن میں اردو ” حافظ محمود شیرانی نے پنجاب میں اردو اور ڈاکٹر محی الدین قادری زور نے ” اردو شہہ پارے میں جو لسانی نظریات پیش کئے ہیں ان کی ترقی یافتہ شکل ڈاکٹر مسعود حسین خان کا لسانی نقطہء نظر ہے ۔ انہوں نے اردو کو گنگا جمنی تہذیب کا آئینہ دار بھی بتایا ہے اور آب گنگ و جمن کو تو اس کے آغاز و ارتقاء کا اصل مرکز بھی قرار دیا ہے ۔آب حیات میں محمد حسین آزاد نے برج بھاشا ک بھی اردو زبان کی ابتدائی تشکیل کا اہم عنصر تصور کیا ہے ۔ کیونکہ اہلی کے قریب اس کے علاقوں پر برج بھاشا کا گہرا اثر تھا ۔

ڈاکٹر مسعود حسین خان نے اس کی وضاھت کی ہے کہ اولاََ اس نئی ہندوستانی زبان کو بازار کی چھوکری تصور کرکے نظر انداز کیا گیا ۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ سرکاری اور درباری سطح پر فارسی کی بالا دستی تھی ۔ بازار کی یہی چھوکری محمد تغلق کے عہد میں ارضِ دکن پہنچی تو اس کی رسائی سلاطین دکن کے درباروں میں ہوگئی ۔یہاں ایک اجنبی ماحول تو تھا لیکن سرکاری سرپرستی اور درباری پشت پناہی حاصل ہوئی تو تیزی کے ساتھ فروغ کے مراحل طئے کرتی ئی ۔فارسی اور ترکی بولنے والے علاقوں سے دکن کی سرزمین بھی دور تھی اور شمال سے اس کا کوئی سیاسی تعلق بھی نہ تھا ۔ اس کا اثر لازمی طور پہ یہ ہوا کہ شمالی ہندوستان میں یہ جائے پناہ کے لئے سرگرداں رہی اور بعد میں جب سر زمین دکننے اس کا خیر مقدم کیا تو یہ اپنے پوشیدہ جوہروں کو منظر عام لائی اور عوام کی مقبول اور محبوب زبان بن گئی ۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے مسعود حسین خان کا یہ خیال دیکھیں:

” مسلامن پنجاب سے فارسی آمیز یا جدید پنجابی بولتے ہوئے دہلی میں داخل ہوئے ۔ دہلی اور اس کے آس پاس ان کی مڈ بھیڑ کئی بولیوں سے ہوئی ۔آس پاس کے علاقوں میں ایک طرف ہریانی اور دوسری طرف کھڑی بولی بولی جاتی تھی ۔۔اردو کی تہ میں جو بنیادی بولی ہے اس کا تعل تو نواح دہلی میں ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ سلاطین دہلی کے عہد میں اس پر پنجاب کی زبان کا گہرا اثر رہا ۔ جس کی وجہ سے دو تین صدیوں تک اس کا اپنا فارم متعین نہ ہو سکا ۔ اس خام اور غیر متعین زبان کو مسلامن دکن لے گئے “۔

مسعود حسین خان کے اس نظرئے کو نصیرالدین ہاشمی نے بھی قابل توجہ قرار دیا ہے اور پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بھی اس کی تائید کی ہے ۔

متذکرہ نظریات کے اختلافی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ خود بخود ہمارے سامنے آ جاتا ہے کہ اردو زبان کے ارقاء کے سلسلے میں کوئی قطعی رائے اب تک قائم نہیں کی جا سکی ہے ۔ اور اس کے اولین محرکات اب بھی دھندھلکوں میں گم ہیں ۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں