وبا اوروفا

افسانہ نگار : صغیر رحمانی

, وبا اوروفا

Death ends a Life, Not a Relationship.
Mitch Albom
تو ہوا یوں کہ بوڑھے کو چودہ دنوں کے لئے ہوم قر نطائین میں ڈال دیا گیا۔ اس کی خطا محض اتنی تھی کہ وہ ایک ایسے فرد کی میت میں شامل ہوا تھا، جو اس کا شناسہ تھا اور جس کا بیٹا کسی یورپی ملک میں رہتا تھا اور ابھی چند ایام قبل وطن لوٹا تھا۔ ماتم پرسی کے مرحلے میں بوڑھا اس سے ملا تھا اور اسے گلے لگا کر ڈھارس بندھائی تھی۔ وہ بیرونی ملک سے واپس آیا ہے، بس اتنی ہی بھنک لگنا کافی تھی پولیس کے لئے۔راتوں رات پولیس نے اس کے گھر کا احاطہ کر لیا اور اس سمیت اس کے خاندان کے سبھی افراد کو اٹھا کر لے گئی۔اتنا ہی نہیں، وہ بندہ جس کسی سے ملا تھا، جہاں کہیں گیا تھا، اور اس کے باپ کی میت میں جتنے لوگ شامل ہوئے تھے،بشمول گورکن، سب کوپولیس نے چودہ دنوں کی ہوم قر نطائین میں رکھ دیا تھا۔پس یہ بوڑھا اپنے شناسہ کی میت میں شامل ہونے کے جرم کی پاداش میں اپنے ہی گھر میں چودہ دنوں کے لئے مقید ہو گیا تھا۔
اس کا کمرہ کھلا ہوا، ہوادار اور روشن تھا۔ اس کے بستر کی بغل میں جہاں اس کی آرام کرسی لگی ہوئی تھی، بیت کی ایک چھوٹی میزبھی تھی جس پر چند کتابیں، اس کا چشمہ اور ایک ٹیبل گھڑی رکھی ہوتی تھی، وہاں پالش چڑھے لکڑی کے فریم والی ایک کشادہ کھڑکی تھی جس کے اس پار سبزہ زار لگے ہوئے تھے۔ کئی طرح کے شو پلانٹ اور ایک بڑا سا ناریل کا درخت جس پر ہاتھی کان پتوں والا منی پلانٹ چڑھا ہوا تھا۔اس کے قریب ہی قرینے سے سپاری کے کئی لمبے لمبے پیڑایستادہ تھے۔ان ہی جھرمٹ میں اس کی پیاری، رات کی رانی کہیں چھپی تھی جو راتوں کو گاڑھی، تیکھی مدہوش کر دینے والی، بظاہر خاموش مگر بہت شور کرنے والی خوشبو بکھیرتی تھی اور اس کاکمرہ شب عروس کی طرح ہر روز معطررہتا تھا۔
شب عروس کا ذکر آیا تو اس کا بھی ذکرمناسب ہوگا کہ اس رات یہ کمرہ پوری طرح برقی قمقموں سے آراستہ تھا۔اس کی پلنگ کی مسہری سے بیلا اور رجنی گندھا کی لڑیا ں لٹک رہی تھیں اور بستر پر گلاب کی پنکھڑیاں بکھری ہوئی تھیں۔ ماحول میں تیزابی نشا کی آمیزش تھی، اس پر کھڑکی کے رستے باہر سے آتی رات کی رانی کی خوشبو اسے کسی راجا سے کم نہیں باور کرا رہی تھی۔ وہ خود کو راجا ہی سمجھ رہا تھا۔ اپنی رانی کا راجا، جو چھوئی موئی کے پودے جیسی سمٹی سکڑی پلنگ پر بیٹھی تھی۔ اس دن سے اب تک یہ کمرہ ان دونوں کی کھٹی میٹھی یادوں کا آمازگاہ بنا رہا۔
لیکن آج حکومت کی ہدایات کے مطابق اس کی بوڑھی کو اس سے الگ کر دیا گیا تھا، بل کہ اس نے خود الگ کیا تھا کہ یہ بنواس اسے تنہا کاٹنا تھی۔اس کی بیوی اپنی ضروری اشیا کو لے کر بغل کے کمرے میں منتقل ہو گئی تھی۔وہ رو رہی تھی اور اس کی چھوٹی چھوٹی پتلیوں والی آنکھیں سوج کر یاقوتی ہو گئی تھیں۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ چودہ دن کس طرح، کن مصروفیا ت کے سہارے گزریں گے۔اس کی مصروفیت، اس کی عادت تو وہی بوڑھا تھا۔ وہ دونوں اپنے دنوں کے آغاز کے لئے ایک دوسرے کا سبب تھے۔ صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد ایک دوسرے کو مخصوص بوسہ لینے کے بعد ہی دوسرا کوئی کام کرتے۔یہ بوسہ شادی کے دن سے ان کے معمول کا ایک ناگزیر حصہ تھا جسے تا حیات قایم رکھنے کا ان دونوں نے مل کرعہد کر رکھا تھا اور آج اس وبا کی وجہ سے وہ اپنے عہد کو قایم رکھنے سے نہ صرف قا صر تھے بل کہ اتنے دنوں کے لمبے فراق کی اذیت سہنے کے لئے بھی مجبور تھے۔
وبا کی وجہ سے پورے ملک میں تالا بندی کر دی گئی تھی۔پورا ملک ساکت و جامد ہو گیا تھا۔ریل، ہوائی اور سڑک، سبھی راستے بند کر دئے گئے تھے۔سبھی طرح کی معاشی، تعلیمی، سماجی، مذہبی سرگرمیاں بند ہو گئی تھیں۔حیرت کا مقام یہ کہ آزادی کے بعد سے جن پر خصوصی توجہ دی گئی،اور جو ہمیشہ اس ملک کی سیاست کا سب سے اہم ایجنڈا بنے رہے، وہ مندر، وہ مسجد یں بند ہو گئی تھیں۔ سب کچھ بند۔ کھلے تھے تو صرف اسپتال جس پر گزشتہ ساٹھ پینسٹھ سالوں میں بہت کم توجہ صرف کی گئی تھی اور جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ کسم پرسی کے شکار آج ان فالج زدہ اسپتالوں کے نحیف کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی تھی۔ ادویات نیز ضروری اشیا کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ شاہ راہوں، سڑکوں، گلیوں میں ہو کا عالم تھا۔ اس ملک میں معاشرتی فاصلہ تو ویسے پہلے سے ہی کافی بڑھا ہوا تھا، اس وبا نے جسمانی طور پر بھی سب کوالگ کر دیا تھا۔لوگوں نے ایک دوسرے سے دوری اختیار کرلی تھی یا پھر اپنے اپنے گھروں میں قید ہو گئے تھے کیوں کہ ایسا تسلیم کیا گیا تھا کہ یہ وبا انسان سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔چنان چہ عوامی جم گھٹ اور مجمع پر سخت پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بوڑھے نے ایک طائرانہ نظر پورے کمرے میں ڈالی اورآرام کرسی پر نیم دراز ہوتے ہوئے آنکھیں موند لیں اور پوری انسانیت پر نازل ہو آئی اس وبا کے متعلق سوچنے لگا۔ یہ وبا دسمبر ۲۰۱۹کے وسط میں، جب سردیاں شباب پر تھیں، سب سے پہلے چین کے وہان شہر میں نمودار ہوئی تھی۔ تب کہا جا رہا تھا کہ چینی عوام کے کھانے پینے کے مکروہ عوامل کی وجہ سے یہ وبا پھیلی ہے کہ وہ سانپ، چمگادڑ کچھ بھی کھانے سے گریز نہیں کرتے۔کچھ نے اسے خدائی قہر سے تعبیر کی توکسی نے اسے حیاتیاتی اسلحوں کی ایجاد کی سمت میں چین کا پیش رفت بتایا۔ حقیقت پس پردہ تھی لیکن ایسا کچھ ضرورتھا جس کا مقصد بڑا تھا اور ہولناک تھا۔چوں کہ معاملہ چین جیسے طاقتور ملک کا تھا اس لئے دنیا بھی سہمی سہمی آوازیں نکا ل رہی تھی، خصوصاً امریکہ اپنے ہزاروں شہریوں کے جاں بحق ہونے کے باوجود کھل کر کچھ بول نہیں پا رہا تھا ورنہ دنیا شاہد ہے کہ حیاتیاتی اسلحوں کا بہتان مڑھ کرعراق کو کس طرح تباہ و برباد کیا گیا تھا۔ حقیقت وقت کے شکم میں تھی جس کے تولد کا انتظار سب کو تھا۔ رفتہ رفتہ اس وبا نے پیر پھیلانا شروع کیا۔ اٹلی، امریکہ سمیت یورپ اور ایشیا کے تمام ملکوں میں اس نے اپنی موجودگی درج کرائی اور پرزور طریقے سے کرائی۔اتنے پرزور طریقے سے کہ عقل ہکا بکا رہ گئی۔انسانی ارتقا محض دھوکہ ثابت ہوا۔
اسے ‘کرونا’ پکارا گیا۔ یہ جس قدرمہلک تھی، اس کانام اتنا ہی رومانی تھا۔سنتے ہی جسم میں گدگدی ہونے لگتی۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ گدگدی سہرن میں تبدیل ہو گئی۔اس کے متعلق کہا گیا کہ یہ ایک نئی وبا ہے جس کا کوئی علاج فالحال دنیا کے پاس موجود نہیں ہے۔ویسے تو یہ کسی خاص عمر اور جنس میں کوئی امتیاز نہیں برتتی تھی مگرعمررشیدہ لوگوں، دل اور چینی کے مریضوں اور کمزور قوت مدافعت والوں سے اس کی خاص رغبت تھی۔ اس کی خصلتیں بھی کسی محبوبہ سے کم نہ تھیں۔اول تو یہ کہ جس کسی کے اندر یہ گھر کرتی، ہفتہ دس دنوں تک اسے پتا بھی نہیں چلنے دیتی۔لجاتے شرماتے نمایاں بھی ہوتی تو پہلے ناک بھوں چڑھا کر اشارہ کرتی، سمجھ گئے تو ٹھیک نہیں توکھانس کھنکار کر اپنی موجودگی واضح کرتی۔ تب بھی انجا ن بنے رہے اور متواتر نظر انداز کرتے رہے تو ایک دم تمتما اٹھتی۔پورے جسم میں شعلہ بھڑکا دیتی۔اتنی تاپ، ایسی تاپ کہ سانسیں اٹکنے لگتیں، دم نکلنے لگتا اور اکثر، دم نکل ہی جاتا۔
وہی قاتل کرونا، جن دنوں چین، اٹلی اور امریکہ جیسے باوقار ملکوں میں تباہیوں کے رکارڈ ریزہ ریزہ کر رہی تھی، ان کے اعلی طبّی سہولیات، قابل رشک وسائل اور مستحکم ظروف کو چنوتیاں دے رہی تھی، وہاں کی پروقار تہذیب کواپنے قدموں تلے پامال کر رہی تھی نیز اسے بونا ثابت کر نے پر آمادہ تھی، ہندوستان کی آسمانی سرحدیں کھلی ہوئی تھیں اور اس وقت یہاں کے کرتا دھرتا اقتدار کی حصولیابی کی ایک غلیظ جنگ میں مصروف تھے۔جس امریکہ میں ہر روز ہزاروں شہریوں کو یہ بلا موت کا جامہ پہنا رہی تھی، اس وقت اس کے صدر کی آگوانی میں اپنا دیس “نمستے جی” جیسی تقریب کا انعقاد کرنے میں زوروشور سے مصروف تھا۔
وبائیں، بلائیں۔۔۔ ان سب کولاپروائیا ں بڑی راس آتی ہیں۔ذرا سی چوک ہوئی نہیں کہ پاؤں پھیلا لیتی ہیں۔ بس کیا تھا، کرونا ٹپک گئی آسمان سے۔ پہلا معاملہ کیرل میں نمودار ہواجو ایک طالب علم تھا اور جو چین واقع وہان کی ایک یونیورسٹی میں طب کی پڑھائی کرتا تھا اور وہاں ہر سال، نئے سال کے موقع پر ہونے وا لی لمبی چھٹیوں میں اپنے گھرآیا ہوا تھا۔وہ اکیلا نہیں آیا تھا بل کہ کئی طلبہ واپس آ ئے تھے۔ وہان کی طبی یونی ورسٹی میں طب کی پڑھائی بہ مقابل دیگر، سستی ہونے کے سبب یہاں سے کثیر تعداد میں طلبہ وہاں داخلہ لیتے ہیں اور ہر نئے سال کی لمبی چھٹیوں میں گھر آیا کرتے ہیں۔ پہلا معاملہ دریافت ہونے کے باوجود بھی آسمانی سرحدیں بند نہیں کی گئیں اور ملک کو اطمینان دلایا جاتا رہا کہ یہاں کسی طرح کی میڈیکل ایمرجنسی جیسی حالت نہیں ہے۔ ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عوام اطمینان سے تھی کہ اچانک ایک رات آٹھ بجے ملک کے سر براہ نے تالا بندی کا اعلان کر دیا ۔اس اعلان کے بعد ملک کو علم ہوا کہ حالات سنگین ہو چکے ہیں۔ ایک دم سے افرا تفری مچ گئی۔ لوگوں کا جم غفیر دکانوں پر ٹوٹ پڑا۔ آٹا، دال، چاول، آلو، پیاز، جس کو جو بن پڑا، خرید کر گھروں میں جمع کرتا گیا۔ ایسا سماں گویا آج کے بعد یہ چیزیں نہیں ملنے والی ہوں، گویا اشیاء کی مقدار پر ہی زندگی کا انحصار رہ گیا تھا۔لوگوں کی اس افرا تفری نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ زندگی بہت انمول ہے۔ دوسری طرف سرکاری محکموں میں بھی کچھ اسی طرح کی افرا تفری کا ماحول قائم ہو گیا۔بیرون ممالک سے کون آیا، کب آیا، کہاں گیا، کس سے ملا، ایک ایک کی ٹرول ہسٹری کھنگالی جانے لگی، ان کی اور ان کے رابطوں کی نشاندہی کرکے انھیں قر نطائین کیا جانے لگا۔ علامتیں نمایاں ہوتے ہی ان کی جانچ کی جاتی۔ نتیجہ مثبت آنے پر انھیں اسپتال میں داخل کیا جاتا۔چوں کہ اس کا کوئی علاج اب تک تشخیص نہیں ہوا تھا، لہٰذا فلو اور ملیریا وغیرہ کی دوائیاں دی جاتیں لیکن مرض کے ٹھیک ہونے میں قوت مدافعت کا ہی اہم کردار تھا۔ جس کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی اس کے شفایاب ہونے کی امید زیادہ ہوتی، جس کی کمزور ہوتی اس کی کم ہوتی۔ وبا سے اس جنگ میں سب سے اہم اور قابل ستائش کردار طبی کارکن، پولیس اور صفائی ملازم ادا کر رہے تھے، جوزندگی ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرائض کوانجام دے رہے تھے۔ ملک ان کا شکرگزار تھا جس کا اظہار اس نے ملک کے سر براہ کی ایما پر ایک رات پھر آٹھ بجے ان کے لئے تالیاں اور تھالیاں بجا کر کیا مگر تواریخ شاہد ہے،جب کبھی ایسا بحران پیدا ہوا ہے، ساتھ ساتھ احمقانہ اورغیرسائنسی روش نے بھی راہ پائی ہے۔ ملک کے ایک گروہ نے مشتہر کیا کہ پوتر گائے کی پیشاب پینے سے یہ وبا پاس نہیں پھٹکے گی۔اس کا اثر یہ ہوا کہ متعدد مقامات پر گائے کی پیشاب پی گئی اور پورے جسم میں اس کی گوبر کی قلعی چڑھائی گئی۔اتنا ہی نہیں، اس وبا کو دیوی کا درجہ دے کر با ضابطہ ــ کرونا مائی کہا گیا اور اس کی عبادت کی جانے لگی۔ اس وبا سے نمٹنے کی راہ میں اس ملک میں اگر کوئی رخنہ تھا تو ایک یہ کہ یہاں کے لوگوں میں اندھی عقیدت درجہ اتم موجود تھی، دوسرا یہ کہ یہاں طبی وسائل بس کسی طرح کام چلانے بھر تھے۔ جانچ کرنے کے آلات، ونٹلٹر، معالجوں کے لئے حفاظتی ملبوسات وغیرہ کا انتہائی فقدان تھا۔ اوپر سے خدشہ یہ کہ اگر وبا خاص لوگوں کے توسط سے عام لوگوں کے درمیان پہنچ گئی تب کیا ہوگا۔ابھی جو لوگ وبا کے شکار ہیں، ان کے متعلق حکومت یہ پتا کرلینے کی اہل تھی کہ ان کو یہ مرض کس سے ملا ۔ پتا چل جانے کے بعد اس کے لئے ضروری اقدام کیے جا تے مگر جب یہ وبا عوام الناس میں پہنچ جائے گی تب یہ پتا لگانا نہایت مشکل بل کہ نا ممکن ہوگا کہ وبائی کون ہے۔ لوگ ایک کے بعد دیگرے اس کی گرفت میں آتے جائیں گے۔ تب یقینا نتیجہ انتہائی خوفناک ہوگا جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ ملک کی آبادی کم و بیش ایک ارب پینتیس کروڑ ہے۔ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کیا ہو سکتا ہے ۔محض اتنا سوچ سکتے ہیںکہ جو کچھ ہوگا، گمان سے باہر ہوگا، اختیار کے باہر ہوگا۔ حکومت اس بات کو سمجھ رہی تھی. ہر چند اس کا زور اس بات پر تھا کہ یہ وبا عوامی نہ بنے۔
٭٭٭


جمود چہ معنی موت دونوں کا ایک ہی فلسفہ ہے۔دونوں کا ٹھہر جانے میں یقین ہے۔بوڑھے نے کہیں پڑھا تھا، فرض کرو کہ کوئی ایسا دن جب سب کچھ ساکت ہو جائے، سب کچھ بے حرکت ہو جائے، تب کیا ہوگا؟ اس نے سوچا تھا، تب بھی کچھ چلتا رہے گا، حرکت کرتا رہے گا۔ایک تووقت اور ایک اس کی سانسیں۔آج یہ دونوں متحرک تھیں لیکن گویا ٹھہر گئی تھیں۔
بوڑھے نے پورا منہ کھول کر گہری گہری سانس لینے کی کوشش کی۔یہ عمل اس نے تھوڑے تھوڑے وقفے پرمتعدد بار کیا اور اسے اطمینان ہوا کہ اس کی سانسیں چل رہی تھیں، ابھی رکی نہیں تھیں۔یہ مژدہ وہ اپنی بیوی کو سنانا چاہتا تھا۔
’’جان۔‘‘اس نے بوڑھی کو آواز دی۔’’ چل رہی ہیں۔ـ‘‘
’’کیا۔‘‘
’’سانسیں۔‘‘
بوڑھی اس کا منہ تک رہی تھی۔
’’ ٹی وی کم دیکھا کرو۔۔۔خبریں تو بالکل ہی مت سنو۔ زہر کا گھونٹ پلاتے ہیں۔‘‘ اس نے کاڑھے کا پیالہ دروازے کے پاس تپائی پر رکھتے ہوئے کہا۔ درمیان میں چوکھٹ۔ یہ دونوں کی لکچھمن ریکھا تھی۔ ایک ادھر نہیں آ سکتا،دوسری ادھر نہیں جا سکتی۔کھانے پینے کا سامان ، کپڑا لتا ، اخبار ، دوائی گو کہ بوڑھے کی مشرف کی جو بھی چیز ہوتی، بوڑھی تپائی پر رکھ دیتی، بوڑھا ادھر سے اٹھا لیتا۔ بس کاڑھے کا پیالہ اٹھاتے ہی اس کے ہاتھ کے ساتھ سا تھ اس کا کلیجہ بھی لرز جاتا۔ منہ پھیر کر بستر پر بیٹھ جاتا۔ بچوں کی طرح ضد پکڑ لیتا۔
’’مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہو۔‘‘
بوڑھا پھر بھی منہ پھیرے رہتا۔
’’پی لو جان۔‘‘
اب وہ اٹھ کر دھیرے دھیرے آتا اور پیالہ اٹھا لیتا۔دار چینی،لونگ،الائچی،سونٹھ اور کالی مرچ کے مرکبات۔ تیکھا، کڑوا مشروب حلق کی نالیوں سے گزرتا تو ایک کسیلی لکیر سی کھینچتی چلی جاتی اورایسا محسوس ہوتا گویا سچ مچ زہر کا پیالہ ہی پی رہا ہو۔
ان دونوں میں سے کسی کو یہ یاد نہیں کہ ایک دوسرے کو جان کہہ کر مخاطب کرنا کب سے شروع ہوا۔شائدشادی کی پہلی رات سے، شائدپہلی ملاقات سے یا شائد پہلی بار رابطہ ہونے پر۔ یہاں ملاقات اور رابطے کو الگ الگ زمرے میں رکھا گیا ہے کہ یہ دونوں لفظ معنوی اور صوری اعتبار سے الگ ہیں ، اور ان دونوںکے معاملے میں تو بالکل الگ ہیں۔لیکن اس بات کا اندازہ ان دونوں کو خوب تھا کہ یہ جوایک دوسرے کے لئے جان لفظ کا تخاطب تھا، بہت قدر کی منزل نہیں رکھتا تھا۔لیکن انہیں اس کا بھی علم تھا کہ شائد محبت اور عشق میں یہی بنیادی فرق ہے،کہ محبت،عشق کی پہلی سیڑھی ہے، کہ محبت میں ہوش و حواس کی گنجائش ہے ،جبکہ عشق بے خود رہتا ہے،کہ محبت کو گھرانہ عوام پسند ہے تو عشق کوگھرانہ خواص، کہ محبت کے کئی ایام ہو سکتے ہیں مگر عشق کا توصرف ایک ہی زمانہ ہوتا ہے۔۔۔فنا ہو جانا۔
شادی سے قبل بوڑھے اور بوڑھی نے ایک دوجے سے محبت ہی کی، عشق تو انہیں شادی کے بعد ہوا۔
دونوں کے درمیان جب رابطہ ہوا۔
مماثلت یہ تھی کہ دونوں کا تعلق ادب سے تھا۔دونوں کہانیاں لکھتے تھے۔ اس زمانے میں مواصلات نے اتنی ترقی نہیں کی تھی ۔ کسی کسی کے گھر میں ٹیلی فون ہواکرتا تھا۔ رابطے کا سب سے اہم اور قابل اعتماد ذریعہ محکمہ ڈاک تھا۔بوڑھی کو یاد نہیں کہ اس کی کس کہانی پر بوڑھے نے اسے خط لکھا تھامگر اتنا ضرور یاد ہے کہ اس نے اس میں مستقبل کی ایک بڑی ادیبہ کی شناخت کی تھی اور اس کی فکر کو بے انتہا سراہا تھا۔بوڑھی نے اس کے خط کا جواب دیا اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔دو چار یاچھ مہینے نہیں، پورے آٹھ سال۔ دونوں نے ایک ایک صندوق مخصوص کر دئے تھے جو خطوں سے بھر گئے تھے۔ دونوں ہر روز ایک دوسرے کو خط لکھتے۔بعض دفعہ تو ایک خط پوسٹ کرنے کے بعد دوسرا لکھنے بیٹھ جاتے کہ ہر دفعہ انھیں محسوس ہوتا کہ کچھ رہ گیا ،کچھ چھوٹ گیا۔ چوںکہ لکھنے پڑھنے کا وہ دونوں کا شروعاتی دور تھا۔ خط میں ادب، ثقافت، دیس دنیا کی باتیں ہوتیں۔اپنی کہانیوں پر ایک دوسرے سے مشورہ کرتے۔دوسرے کی کہانیوں پر بحث کرتے۔ رفتہ رفتہ پسند نا پسند، کھانا پینا جیسی ذاتی باتیں بھی موضوع گفتگو بننے لگیں۔دونوں نے ایک دوسرے کو لفظ لفظ پڑھا،لفظ لفظ سمجھا، اور پھر دونوں میں محبت ہو گئی۔
ہاں یہ محبت تھی۔
اب تک ادب گائوں میں لوگ ان دونوں کو بھی ذرا ذرا جاننے پہچاننے لگے تھے۔ان کی کاوشوں کو سراہنے لگے تھے۔ایسے میں ادب کی ایک محفل میں حصہ لینے کا موقع فراہم ہوا تو دونوں کی ان دیکھی محبت کے پر پھڑپھڑا اٹھے۔ آٹھ سالوں سے جو محبت بند لفافے کی تحریروںمیں مقید تھی اب کھلی ہوا میں سانس لینے اور اپنے محبوب کے لمس کی حرارت سے پگھل جانے کے لئے مچل اٹھی۔دونوں کی محبت جذبات کی صورت قطرہ قطرہ بہنے لگی اور نتیجہ اخذ ہوا کہ ملاقات ناگزیر ہے۔
ایک ملاقات نا گزیر تھی۔
جب ملاقات ہوئی۔
. ملاقات ہوئی۔ کیا، کیوں، کیسے کا ذکرچھوڑ دیں تو ٹرین میں دونوں کی ملاقات ہوئی۔برتھ الگ الگ تھیں مگردونوں نے ایک ہی برتھ پرسفرکرنا پسند کیا۔ ٹرین پوری رفتارمیں چل رہی تھی اوران کی برتھ پراس ٹرین کی رفتار سے زیادہ زور، زور تلاطم تھا۔ برتھ کا پردہ گرا ہوا تھا اوراندرجذبات کا سمندر باندھ کو توڑ کر تہس نہس کر دینے پرآمادہ تھا۔دونوں تقریبا ہانپ رہے تھے اور دونوں کا حلق خشک ہو رہا تھا، پیاس کی شدت سے کانٹے چبھ رہے تھے کہ دفعتا بوڑھی نے آنکھوں پر پلکوں کا شامیانہ تان دیا اورجبیں اس کے سینے پر رکھ کر گہری اور گرم سانسیں لینے لگی گویا حسن، عشق کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو گیا ہو۔ غضب کا منظر تھا۔غضب کا ماحول اور غضب کی کیفیت۔ حسن مٹ جانے کے درپے تھا،عشق مر جانے پر آمادہ۔حسن سراپاملتجی بنا ہوا تھاکہ عشق اپنی التفات کی بارش سے خشکی کو تر بہ تر کردے۔اس قدر بھیگو دے کہ جسم کے ساتھ روح بھی زیر آب ہو جائے۔ بوڑھے نے اپنے سینے پر شعلوں کی تپش محسوس کی۔ غیر ارادتا شعلے بھڑک اٹھے، جسم کی طنابیں کس گئیں۔ اس نے آہستگی کے ساتھ اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا۔گرم سانسوں کے تصادم کو ذرا دیر محسوس کرتا رہا پھراس نے اس کے ہونٹوں کو اپنے پورے منہ میں بھرلیا اوراپنی زبان اس کے اندر ڈال دی۔ گاڑی تیز رفتار سے بھاگ رہی تھی۔ ملاقات تکمیل کو پہنچ رہی تھی۔
یہ بھی محبت تھی۔
٭٭٭


آپ سوچ رہے ہوں گے ، کہانی کرونا سے شروع ہوئی، پھر بوڑھے بوڑھی کی محبت کی داستان میں بدل گئی۔داستان بھی عام سی جس میں سب کچھ اچھا اچھا ہو رہا ہے۔ایسا نہیں ہے۔ان کی پریم کہانی عام سی ہے مگر عام ہے نہیں اور اس میں سب کچھ اچھا اچھا بھی نہیں ہے۔جیسے آپ اسی کو لے لیں کہ ان دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اس کے بعد یوں ہوا کہ بوڑھی نے بوڑھے کو خط لکھنا بند کر دیا۔ہفتہ، دس دن، مہینوں گزرنے لگے، ڈاکیہ سے پوچھ پوچھ کر بوڑھا، بوڑھا ہونے لگا۔اس نے کئی بار بوڑھی کے شہر کے چکر بھی کاٹے مگر کچھ حاصل نہ ہو سکا۔کسی اخبار و رسل میں اس کی کوئی تخلیق بھی شایع نہیں ہوتیں جس سے اس کے متعلق کچھ پتا چل سکے۔ وہ ایسے غائب ہوئی جیسے کوئی غائب ہوتا نہیں۔مد مست سانڈ کی پشت پر سوار وقت بھی ایسے کلانچے بھرتا گزر رہا تھا کہ سب مبہوت تھے۔ اس درمیان بوڑھا بھی ایک ہفتہ وار میں سب ایڈیٹر لگ گیا۔
ایک دن خبروں کی سرخی طے کرنے کے بعدوہ صفحات کی نظر ثانی کر رہا تھا کہ اس کے ایڈیٹر نے اسے آواز دی۔’’تمہارا فون ہے۔‘‘
اس نے فون لیا اور بولا ۔’’جی جناب۔‘‘
’’جناب نہیں، میں محترمہ ہوں۔‘‘
دھک۔۔۔جیسے اس کے کلیجے کے اوپرکسی نے گھونسا مارا ہو۔ اس آواز کو تو وہ لاکھوں کروڑوں میں پہچان سکتا تھا۔گو کہ اس میں تھوڑی لکنت تھی مگر وہ آواز اس کی بوڑھی کی تھی۔اس کی بوڑھی کی ہی تھی۔
’’جا۔۔۔ن‘‘
’’جا۔۔۔ن‘‘
یاد آیا،یہیں پہلی بار دونوں نے ایک دوسرے کو جان کہا تھا۔اس کے بعدان دونوں کے حلق سے کوئی آواز نہیں نکل سکی۔ صرف روتے رہے۔روتے رہے۔ اورروتے رہے۔ رونے کا یہ سلسلہ تب بند ہوا جب دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو ایسے نہارا، ایسے نہارا کہ کیا کوئی کسی کو نہارتا ہوگا۔ ایسے دیکھا، ایسے دیکھا کہ کیا کوئی کسی کو دیکھتا ہوگا۔ ایک دوسرے کو دیکھنے اور نہارنے کے بعد دونوں اس نتیجے پر پہونچے کہ بیس سالوں کہ وقفے نے دونوں کے جسم پر گہری چھاپ چھوڑدی ہے۔جہاں بوڑھی کے سر کے بال پوری طرح سفید ہو چکے ہیں وہیں بوڑھا پوری طرح گنجا ہو چکا ہے۔ نہ جانے کس احساس کے تحت دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ،اور آپ کے اعتراض نہیں کرنے کے باوجود میں اقرار کرتا ہوں کہ اب سے قبل انہیں بوڑھا بوڑھی کہہ کر میں ان کی جان پر ظلم کرتا رہا تھا۔ دراصل بوڑھا بوڑھی کہلانے کے حق دار وہ اب ہوئے تھے۔
ان دونوں نے شادی کر لی۔
کیا ؟ کہ بیس سالوں تک بوڑھی کہاں رہی، کیوں اس نے بوڑھے سے رابطہ ختم کر لیا، وغیرہ وغیرہ۔ ارے بھائی، کچھ نہیں ، ان بیس سالوں کی کہانی قطعی قابل بیان نہیں ، پھر بھی مختصرابتا دیتا ہوں۔بس بوڑھی کے گھر والے اس رشتے کے لئے تیار نہیں تھے۔کچھ ذات برادری کا گھسا پٹا معاملہ تھا۔ ان لوگوں نے اسے قسم دی تھی کہ اس چھوٹے انسان سے کوئی بھی ناتا رکھا تو ماں باپ کا مرا ہوا منہ دیکھو گی۔ بوڑھی نے بھی گھر والوں کو قسم دے دی تھی کہ اگر کسی نے اس کی کہیں اور شادی کرانے کی کوشش کی تو وہ سب اس کا مرا ہوا منہ دیکھیں گے۔ کوئی کسی کا مرا ہوا منہ دیکھنے کو تیار نہیں تھاپس سال نے بیس کلانچیں مار دیں۔ اب چوں کہ، ماں باپ رہے اور نا ہی ان کی قسم۔ تو اب آپ کی اجازت ہو تو ان کی شادی کروا دی جائے؟
دونوں نے شادی کر لی ۔
یہ بھی محبت تھی۔
اور بوڑھا بوڑھی کا جوڑا خوشی خوشی رہنے لگا۔
یوں تو کہانی یہاں ختم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں ہے۔
٭٭٭


ملک کے آسمانوں پر گدھ منڈرانے لگے تھے۔اسپتالوں میں زندوں کے لئے جگہ نہیں تھی، کرونا سے مرے ہوئوں کو کون پوچھتا۔لاشیں جگہ کو جگہ پڑی رہتیں۔کچھ کو تو خاندان والے بھی لے جانے سے مکر جاتے۔ ہندوں کو اپنے شمشان میں اور مسلمانوں کو اپنی قبرستان میں جگہ نہیں ملتی۔ ان کو سرکاری شمشان میں جلا دیا جاتا یا پھر شہر کے کہیں کنارے گڈھوں میں اجتماعی طور پر دفنا دیا جاتا۔یہ مرض اپنے آپ میںانوکھا اس لئے بھی تھا کہ زندگی اور موت دونوں حالات میں آپ کے اپنے ساتھ نہیں ہوتے تھے۔ جس کے بنا جینے کا تصور بھی بے معنی لگتا، جس کے لئے جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتیں ،ایک وقت آیا کہ اس سے دوری اختیار کرنے میں عافیت محسوس ہونے لگی۔گو کہ اس مرض نے تمام طرح کے دعووںکی قلعی کھول دی تھی۔قلعی، آزادی کے بعد کے انتظامات کی بھی کھلی تھی۔اس ایک بحران نے ثابت کیا تھا کہ جس کسی کی دور حکومت رہی ہو،ارتقا کے نام پر محض قلعی کی ایک سطح ہی سب نے چڑھائی ہے۔۔۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا تھا کہ اقتدار کے حصول اور اس کو بنائے رکھنے کے لئے کیسے جانوں کا سودا کیا جاتا ہے۔۔۔اور اس نے یہ بھی ثابت کیا تھا کہ مصائب کو مواقع میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔۔۔
یہ خبریں بوڑھے کو اضطراب سے بھر دیتیں۔ بوڑھی ٹی وی دیکھنے سے منع کرتی،’’زہر کا گھونٹ پلاتے ہیں یہ سب۔‘‘مگر بوڑھے کا دل کہاں مانتا۔ بہت کوشش کرتا، اخبار پڑھنے کی، کتابیں پڑھنے کی، کچھ لکھنے کی اور کچھ نہیں تووڈیو گیم کھیلنے کی، مگر دل نہیں لگتا۔خبریں سنتا۔خبریں تھیں کہ صرف مایوسیوں سے بھر دینے والی تھیں۔کوئی خبر ایسی نہیں جو جاں فزا ہو،ہمت افزا ہو۔ اس سے قبل تالا بندی ہونے اور کام دھندا بند ہونے کے سبب محاجر مزدوروں کی جم غفیر گھر واپسی کے لئے پیدل ہی ہندوستان کی چوہدی ماپ رہی تھی،ان کے پیر لہو لہان ہو رہے تھے ، ان کے خون سے سڑکوں پر تواریخ رقم ہو رہی تھی،بچے، بوڑھے، عورتیں۔۔۔ وقت اور اہل وقت نے ان پر ظلم ڈھانے میں کوئی امتیاز برتا نہ کوئی دقیقہ اٹھا رکھا ۔بھوک پیاس سے وہ گر رہے تھے،اٹھ رہے تھے، اٹھ کر چل رہے تھے اور مر رہے تھے۔ایک بار پھر، ۱۹۴۷ کے بنٹوارے سا سماں بندھ گیا تھا،لیکن فرق یہ تھا کہ اس بار امیر اور غریب کا بنٹوارا ہوا تھا۔اس خبر اور اس کے مناظر نے دل و دماغ کو مٹھی میں پکڑ کر مسل ڈالا تھا۔جن لوگوں نے ہندوستان کو تراشا تھا ،جن محنت کشوں نے یہاں کی معاشیات کو کھاد پانی دیا تھا، ان کی ایسی بے حرمتی دیکھ کر پتھروں کا بھی سینا چاک ہو گیا تھا۔اس واقعے نے جہاںاقتدار کی بے حسی کو اجاگر کیا وہیںثابت کیا کہ محنت پر پونجی کی فوقیت ہمیشہ رہی ہے ، رہے گی۔۔۔ اس خبر کو بھی دیکھ سن کر بوڑھے پر کئی دنوں تک افسردگی اور پژمردگی مسلط رہی تھی۔ وہ قلم کار تھا، حساس تھا،د ور اندیش تھا، اور اسے دکھ رہا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ہر شعبے میں پیداوار بند تھی۔بے روزگاری اور غربت حد کو تجاوز کر چکی تھی۔ پہلے سے ہی ونٹلٹر پر پڑی معاشیات پوری طرح دم توڑ چکی تھی۔ بوڑھا سمجھ رہا تھا بل کہ اس کو یقین کامل تھاکہ اس وبا کے خاتمے پر دنیا بہت بدلنے والی ہے، ملک بدلنے والا ہے۔معاثرتی اور معاشی سطح پر بہت ساری تبدیلیاں رو نما ہونے والی ہیں۔لوگوں کی پوری کی پوری طرز زندگی بدلنے والی ہے۔
’’ جو بچیں گے انہیں تیار رہنا ہوگا۔‘‘ اس نے بیوی سے کہا۔
’’کیوں ، کیا ہوا؟‘‘چوکھٹ کے اس طرف بیٹھی بوڑھی نے اس طرفٖ بیٹھے بوڑھے کو گھور کر دیکھا۔
’’جان۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ گدھ لاشیں گن رہے ہیں۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گوشت جانور کا ہو یاکسی انسان کا۔بس ان کا پیٹ بھرنا چاہئے۔‘‘
’’کیا ہو گیا ہے تمہیں؟‘‘
’’ مجھے آہٹ سنائی دے رہی ہے۔کیا تم بھی سن رہی ہو؟ایک انجانا، نہ سمجھ میں آنے والی آہٹ۔‘‘
’’ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ بوڑھی نے اس کی باتوں کو رد کیا۔
بوڑھے کے کمرے کی پیچھلی دیوار پر آویزاں ٹی وی میں لگاتار خبریں نشر ہو رہی تھیں۔’کرونا بے قابو ہو گیا ہے۔۔۔اسپتال میں بیڈ کی بھاری کمی ہے۔۔۔ حفاظتی اشیا کی مانگ کو لے کر ڈاکٹر ہڑتال پر چلے گئے۔۔۔ عام مریض، کرونا مریضوں کی لاش کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔۔۔ ملک کے سر براہ کے ہاتھوں ایودھیا میں شری رام جنم بھومی کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔۔۔ملتے ہیں ایک بریک کے بعد۔
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
دونوں، بوڑھا بوڑھی کے ہونٹوں پر مسکان پھیل گئی ۔
٭٭٭


ہوم قر نطائین میں رہتے بوڑھے کا ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ظاہری طور پر بوڑھے میں کوئی تبدیلی نہیں دکھ رہی تھی لیکن باطنی طور پر اسے بے اطمینانی محسوس ہو رہی تھی۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ سب ماحول کے بتدریج بد سے بدتر ہوتے جانے کے سبب تھا یا سچ مچ اس کے اندر وبا کے جراثیم گھر کر گئے تھے۔
دوسرے دن بوڑھے کو بوڑھی نے کاڑھا دیا تو وہ بڑے آرام سے پی گیا۔
’’ارے واہ، آج تو تم نے ذرا بھی نا نکر نہیں کی۔‘‘
’’ ہاں آج کاڑھا کڑوا نہیں تھا۔‘‘
’’کاڑھا کڑوا نہیں تھا؟ روزانہ یہی توپیتے ہو۔‘‘
’’ہاں لیکن آج کڑوا نہیں تھا۔‘‘
’’ ارے کیسے کڑوا نہیں تھا۔‘‘ ایک دم سے وہ چیخ پڑی۔بوڑھی لپک کر وہ پرچی اٹھا لائی جس میں تمام ہدایات لکھی ہوئی تھیں اور جسے طبی عملہ بوڑھی کو سونپ گیا تھا۔
اگر تیز بخار ہو،کھانسی یا سردی ہو رہی ہو،سانس لینے میںدقت ہو رہی ہو، کوئی ذائقہ نہیں مل رہا ہو یا کسی طرح کی گندھ محسوس نہیں ہو رہی ہو تو فورا محکمہ صحت کو اطلاع کریں۔
محکمہ صحت کے کارکن آئے اور بوڑھے کی جانچ کا نمونہ لے کر چلے گئے۔
بوڑھی زار و قطار روئے جا رہی تھی۔ بوڑھے پر بھی پژمردگی چھا گئی تھی۔آرام کرسی پر سر ٹکاکر آنکھوں کو بند کر لیا تھا اس نے۔اسے ایک انجانی سی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔وہ قطعی سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ آہٹ کیسی ہے اور اس سے اس کا کیا تعلق ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کے متعلق بوڑھی سے دریافت کرے مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔بوڑھے کی جانچ رپورٹ آنے میں تین دن لگ گئے اور ان تین دنوںمیں بغیر کچھ کھائے پئے بوڑھی نے رو رو کر اپنی آنکھیں سرخ کر لی تھیں۔
بوڑھے کی جانچ رپورٹ مثبت آئی تھی۔
اور اب اسے اسپتال میں بھرتی ہونا تھا۔
بوڑھے کو لے جانے کے لئے اسپتال کی گاڑی آ گئی تھی۔ گاڑی کے ساتھ اسپتال سے طبی عملہ بھی آیا ہوا تھا جو ایک خاص طرح کی حفاظتی پوشاک میں ملبوس تھا۔کچھ دیر قبل ہی بوڑھی نے بوڑھے کا سرمئی رنگ کا ویڈنگ سوٹ جو ابھی بھی نیا سا لگتا تھا اور جو اسے بے انتہا پسند تھا، اسے بھجوایا تھا اور ساتھ میں شکاریوں والا بکری کی کھال سے بنا ٹوپ بھی،جو وہ اکثر باہر جاتے وقت پہنتا تھا۔جب بوڑھے نے ملبوسات زیب تن کر لیا تو اس کی شخصیت میں حد درجہ وقار پیدا ہو گیا۔ اب وہ اسپتال رخصت ہونے کے لئے پوری طرح تیار تھا۔اس نے میز سے ٹکی اپنی چھڑی پکڑی، اس کے مٹھے پر اپنی انگلیوں کی گرفت مضبوط کی اورچلنے کے لئے اسپتال کے اہلکاروں کو اشارہ کیا۔اس درمیان دروازے کے باہر کھڑی بوڑھی اپنی سوجی آنکھوں کو مسلتی رہی، کہ اچانک جانے اسے کیا ہوا، کہ اس نے تیزی سے دروازے کی چوکھٹ عبور کی اور بوڑھے کو اپنی آغوش میں بھر لیا، اس کے چہرے پر بوسوں کی بوچھار کردی، اس کے ہونٹوں کو اپنے پورے منہ میں بھر لیا اور اپنی زبان اس کے منہ کے اندر ڈال دی۔ یہ سب اتنی عجلت میں ہوا تھا کہ اسپتال کا عملہ ہکا بکا رہ گیا تھا۔
یہ عشق تھا۔ اسپتال کی گاڑی کھل چکی تھی۔وہ لوگ اب، بوڑھا بوڑھی دونوں کو اسپتال لے جا رہے تھے۔
******
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
صغیر رحمانی عہد حاضر میںصف اول کے افسانہ نگاروں میں شمار کئے جاتے ہیں ان کا اصلی نام محمد صغیر عالم ہے ۔جنوری 1969کو ضلع آرہ ،صوبہ بہار کےمرحوم عبدالرحمان صاحب کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے دیہی ترقی میں ایم ۔اے کیا ۔ ایک بڑی آرگنائزیشن میںاعلیٰ عہدے پہ فائز ہیں ۔ چار افسانوی مجموعے پرانے گھر کا چاند ، واپسی سے پہلے، جہاد، اور داڑھی شائع ہو کر مقبولیت حاصل کر چکے ہیں ۔ ان کے ناول " تخم خوں"نےرکارڈ کامیابی حاصل کی ہے ۔ اسے دلت ڈسکورس کا پہلا ناول بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک ہندی ناول اشیش بھی منظر عام پہ آ چکا ہے ۔

کمنٹ کریں