وہی بندشیں ، وہی قید ، وہی عورت

مضمون نگار : مشرف عالم ذوقی

, وہی بندشیں ، وہی قید ، وہی عورت

عصمت کے ’لحاف‘ کی کہانی مختلف ہے ۔ عصمت نے ’لحاف‘ میں خوفزدہ پاگل ہاتھی دیکھ لیا تھا۔ پتہ نہیں یہ اُن کے گھریلو ماحول کا اثر تھا یا مجبوری، یا سماج کی ستم ظریفی کا دباؤ۔ ’چوتھی کا جوڑا‘ سے ’چاچا چا بڑے‘ تک عصمت عورت سے متعلق کہانیاں تلاش کرتی رہیں اور اس لئے ’لحاف‘ کے اندر سے دیواروں پر رینگتے پاگل ہاتھی سے زیادہ کچھ بھی دیکھ پانے میں کامیاب نہیں رہیں۔


حقیقت میں یہ عصمت کی کہانیوں کا قصورنہیں تھا، بلکہ عصمت کی ’عورت‘ بغاوت کی جگہ خودسپردگی پر زور دے رہی تھی۔ قرة العین حیدر کی دنیا اِس تعلق سے تھوڑا الگ تھی۔ یعنی وہ عورت کے متعلق بہت حد تک الجھن بھری تھیں، یعنی اُن کی آپ بیتیوں میں عورت کے لئے اُن کا جلا کٹا رُخ ایسا تھا، جیسے کوئی گھمنڈی راجکماری اپنی داشتاؤں کو نفرت بھری نظر سے دیکھ رہی ہے…. چاہے اُن میں فلم ایکٹریس نرگس ہوں یا ثریا— قرة العین حیدر نے کبھی عورت کے مسائل کی پرواہ نہیں کی۔اُن کے پاس ماضی کا ایک جھروکا تھا۔ لکھنے کی ایک میز تھی اور اپنی تعریف کا جذبہ تھا۔ جس کے آگے پیچھے اُن کی آنکھیں کچھ بھی دیکھ سکنے کی حالت میں نہیں تھیں۔


واجدہ تبسم کا قلم ’ہور اوپر، ہوراوپر‘ سے آگے کبھی نہیں بڑھا، یعنی جس حد تک عورت کے ’ہور اوپرہور اوپر‘ کے تصور کو وہ چٹخارے دار الفاظ میں پیش کرسکیں، یعنی ’عورت‘ اُن کے نزدیک ’چٹخارے‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔


اس کے برعکس دیکھیں، تو جیلانی بانو، ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کی فضا الگ ہے ۔
انگلینڈ، امریکہ وغیرہ میں بھی مسلمان خواتین افسانہ نگاروں کی کمی نہیں ہے، لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ آج ’مغربی‘ ہواؤں میں سانس لینے کے باوجود وہ ڈری سہمی مشرقی یا روایتی لڑکی سامنے آجاتی ہے۔ باہر کے کھلے پن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہتھیار وہی کالے کالے برقعہ بن جاتے ہیں۔ اوپر سے لے کر نیچے تک خود کو ڈھکے ہوئے، لالی چودھری سے لے کر بانو اختر، پروین لاشری، حمیدہ معین رضوی، سعیدہ سلیم عالم، عطیہ خاں، صفیہ صدیقی وغیرہ اپنی کہانیوں میں اُسی عورت کو زندہ کرنے میں ترجیح دیتی ہیں ، جو مذہبی پابندیوں میں اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری میں زندگی بسر کرنے کو ہی شرعی راستہ جانتی ہوں۔


باہر کے رنگیں اور کھلم کھلا ماحول میں ذرا سی آزادی چرانے والی عورت کتنی محتاط ہو جاتی ہے، اس کا حوالہ آغا سعید (یہاں ایک مرد افسانہ نگار کی کہانی کا حوالہ جان بوجھ کر دے رہا ہوں)کی ایک چھوٹی سی کہانی ’تضاد‘ میں دیکھئے۔ لڑکی غیر ملکی ہے۔ کسی مرد نے اُسے پھولوں کی ٹوکری بھیجی ہے۔


”میں کہتی ہوں کہ اِن پھولوں کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی اور تم نے یہ پھولوں کی ٹوکری اور یہ گلابی کارڈ مجھے کیوں بھیجا؟ یہ تو خیریت ہوئی کہ میرے شوہر گھر نہیں تھے، ورنہ قیامت برپا ہو جاتی۔ میں کہتی ہوں کہ تم میرے کون ہو، جو تم نے ایسا کیا؟“ یہ مس ’ت‘ کی آواز تھی۔


”نہیں، میں آپ سے کوئی چیز قبول نہیں کرسکتی۔ وہ بات محفلوں اور مشاعروں تک ہی ہے۔ میرے شوہر اِس کو پسند نہیں کرتے اور نہ میں پسند کرتی ہوں۔ مجھ سے غلطی ہوئی جو آپ کو بیماری کا بتایا۔ پھر آپ کوئی چیز بھیجنے کی تکلیف نہ کریں اور نہ ہی مجھے فون کریں۔“


’تضاد‘آغا محمد سعید یہ بے باکی کا موضوع نہیں ہے کہ باہر کی خونخوار آزادی اچانک اِن عورتوں کو اپنے ہی بنائے گئے پنجرے میں رہنے پر مجبور کیوں کردیتی ہے؟ جبکہ ایشیائی ممالک میں رہنے والےاں اسی پنجرے کو توڑنے میں اپنی تمام صلاحیت خرچ کردیتی ہےں۔ کیا یہ ’بکنی چولی‘ کا ڈر ہے، یا تہذیب کے خاتمے کا اثر ہے؟ جیسا کہ کشور ناہید کی کتاب ’بُری عورت کی کتھا‘ میں اُس کا ایک مستری دوست کہتا ہے


”میری ماں برقعہ اوڑھتی تھی، مگر میری بیٹی بکنی پہنتی ہے۔“
کنڈوم تہذیب سے گھبرائے لوگ سیدھے سیدھے اپنی تہذیب یا مذہب کے سائے میں لوٹ آتے ہیں، دیکھا جائے، تو بدلا کچھ بھی نہیں ہے، ہاں، تبدیلی کی آگ کچھ دیر کے لئے بغاوت کی ایک ’چنگاری‘ کو جنم دے کر پھر سے بجھ جاتی ہے۔ 1903 میں رقیہ سخاوت حسین، ’سلطانہ کا سپنا‘ لکھتی ہیں، تو ساری بغاوت، مردوں سے لیا جانے والا مورچہ صرف خواب کی حد تک ہوتا ہے۔ عورت مرد سے بغاوت بھی کرتی ہے، تو خواب میں_ رقیہ سخاوت حسین سے آگے بڑھیں اور آج کی کہانیوں کا جائزہ لیں تو فیمنسٹ موومنٹ سے لے کر بغاوت اور نئی نسائی فکرکی کہانیاں سامنے آرہی ہیں۔ سینکڑوں، ہزاروں برسوں کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے توآج کی عورت کافی حد تک تبدیل ہوچکی ہے۔ حقارت، نفرت اور جسمانی استحصال کے ساتھ مرد کبھی بھی اُسے برابری کا درجہ نہیں دے پایا ہزاروں برسوں کی تاریخ میں یہ ’دیوداسیاں‘ سہمی ہوئی، اپنا استحصال دیکھتے ہوئے خاموش تھیں کبھی نہ کبھی اس بغاوت کی چنگاری کو تو پیدا ہونا ہی تھا۔ برسوں پہلے جب رقیہ سخاوت حسین نے ایک ایسی ہی کہانی ’مرد‘ کو لے کر لکھی تھی۔ رقیہ نے عورت پر صدیوں سے ہوتے آئے ظلم کا بدلا یوں لیا کہ مرد کو، عورتوں کی طرح ’کوٹھری‘ میں بند کردیا اور عورت کو کام کرنے دفتر بھیج دیا۔ عورت حاکم تھی اور مرد آدرش کا نمونہ ایک ایسا ’دو پایا مرد‘، جسے عورتیں، اپنے اشاروں پر صرف جسمانی آسودگی کے لئے استعمال میں لاتی تھیں۔ سچ پوچھئے تو میں عورت کو کبھی بھی دیوداسی، بڑنی، سیکس ورکر، نگر بدھو، گنیکا، کال گرل یا بارڈانسر کے طور پر دیکھنے کا حوصلہ پیدا ہی نہ کرسکا۔ بادشاہوں یا راجے مہاراجاؤں کی کہانیوں میں بھی ملکہ یا مہارانی کے ’رول ماڈل‘ کا میں سخت مخالف رہا۔ میں نہ اُسے شہزادی کے طور پر دیکھ سکا، نہ ملکہ عالم یا مہارانی کے طور پر وہ مجھے مطمئن کرسکیں__ کیونکہ ہر جگہ وہ مردانہ سامراج کے پنجوں میں پھنسی کمزور اور ابلا نظر آئیں۔خواہ انہو ںنے اپنے سر پر ملکہ کا تاج یا شہزادیوں سے کپڑے پہن رکھے ہوں۔ تاریخ اور مذہب کی ہزاروں برسوں کی تاریخ میں، خدا کی اِس سب سے خوبصورت تخلیق کو لاچار، بدحال اور مجبوری کے ’فریم‘ میں قبول نہیں کیا جاسکتا.

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں