ولی دکنی کی شعری خصوصیات

گوجری ادب کے اہم شعراء
گوجری ادب کے اہم شعراء

ولی کو اردو کا سب سے پہلا باقاعدہ غزل گو تسلیم کیا جتا ہے۔ ابتداَ ولی نے قدیم رنگ میں شاعری کا آغاز کیا تھا مگر اپنے سفر دہلی کے دوران شاہ سعد اللہ گلشن کے مشورے پر ریختہ گوئی کی ابتداء کی اور اسی میں عظمت اور انفرادیت کا ثبوت دیا۔ یہیں سے ان کی شاعری میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی غزل گوئی کے جائزے کے بعد ان کی شاعری کی درج ذیل خصوصیات کا تعین کیا جا سکتا ہے:

ولی جمال دوست شاعر

ولی کی شاعری میں حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے۔ شاعر ولی سے پہلے کسی شاعر نے حسن و جمال کا بھرپور اور کامیاب تصور نہیں دیا۔ اسی لیے ڈاکٹر سید عبداللہ نے ولی کو جمال دوست شاعر کا لقب دیا ہ۔ ان کی حسن پرستی میں سرمستی وارفتگی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی حسن پرستی میں سرمستی اور سرخوشی کار نگ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ وہ حسن کے ایک تجربے کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ جس سے ان کی روح اور جسم میں سرمستی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ خود کو اس تجربے کے محسوسات میں گم کردینا چاہتے ہیں۔ ان کی حسن پرستی صحت مندانہ انداز کی ہے۔ وہ حسن کو کسی ایسے تجربے کی بنیاد نہیں بناتے جو جنسی ہو اور جس سے صرف نفسانی خواہشات کا تعلق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ولی کے ہاں جنسیت و احساساتِ حسن آفاقی تصورات کا حامل محسوس ہوتے ہیں۔ وہ حسن کے احساس سے روح کی بالیدگی اور من کا سرور حاصل کرتے ہیں۔

نکل اے دلربا گھر سوں کہ وقتِ بے حجابی ہے
چمن میں چل بہار ِ نسترن ہے ماہتابی کا
آج گل گشت ِ چمن کا وقت ہے اے نوبہار
بادہ گل رنگ سوں ہر بام گل لبریز ہے

زندگی اور کائنات کا حسن

ولی حسن و جمال کے شعری تجربات بیان کرتے ہوئے کسی غم یا دکھ کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ وہ جمال دوست ہیں۔ اس لیے کائنات کی ہر شے میں جمال دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر زندگی اور کائنات کے تاریک پہلوئوں کو نہیں دیکھتی۔ وہ صرف روشن پہلوئوں کا نظارہ کرتی ہے۔ جہاں خوشی، امید اور مسرت کی سدا بہار چھائوں ہے۔ وہ حسن سے مایوس ہو کر آہیں بھی نہٰں بھرتے۔ اس لیے کہ وہ بامراد عاشق ہیں اور محبوب کے حسن کا دیدار انہیں حاصل ہے۔ ان کی شاعری میں زندگی اور کائنات کا حسن بھی نظر آتا ہے۔ ولی حسن کے حوالے سے ایسی فضاء قائم کرتے ہیں جہاں ہر طرف پھول ہی پھول اور وسیع سبزہ زار ہیں۔ شفاف اور ٹھنڈا پانی ہے۔ پرندے چہچہا رہے ہیں، چاندنی کھلی ہوئی ہے، دور تک میدان اور راہ چاندنی میں نہائی ہوئی ہیں۔ پوری کائنات مسکراتی معلوم ہوتی ہے۔ جیسے فطرت کا تمام تر حسن ولی کے بیان میں سمٹ آیا ہے۔ ان اشعار کو دیکھئے جن میں ولی زندگی کے خوبصورت مظاہر کا ذکر کرتے ہیں:

صنم تجھ دیدہ و دل میں گزر کر
ہوا ہے باغ ہے آبِ رواں ہے
نہ جائوں صحنِ گلشن میں کہ خوش آتا نہیں مجھ کو
بغیر از ماہ رو ہر گز تماشا ماہتابی کا

عارف ظہیر صدیقی یوسفی: میں اس سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امیر خسرو غزل میں تو اولیت رکھتے ہیں لیکن ہمیں سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ اردو زبان کا آغاز کب ہوا۔ جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں اس کی رو سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ چونکہ اردو کا باضابطہ آغاز امیر خسرو کے زمانے میں نہیں ہوا لہذا ہم جناب محترم امیر خسرو کو اردو کا پہلا شاعر نہیں کہہ سکتے۔

احساسات ِ حسن کی شاعری

ڈاکٹر سید عبداللہ کے خیال میں ولی کی شاعری عراقی طرز کے زیادہ قریب ہے۔ اس “عراقی” طرز سے ان کی مراد یہ ہے کہ ولی کے ہاں معاملاتِ عشق کے بیان کی بجائے احساساتِ حسن کا بیان زیادہ ہے۔ وہ معاملات ِعشق جن سے گفتگو محبوب سے ملاقات اور مکالمے کا پہلو نکلتا ہے وہ سب ولی کی شاعری کا حصہ ہیں۔

مسندِ گل منزلِ شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدہء بیدار کا

ڈاکٹر سید عبداللہ ولی کے اس رجحان پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ولی نے فکر کی گتھیاں نہیں سلجھائیں۔ انہوں نے چاند کی چاندنی اور آفتاب کی حسرت انگیز دھوپ، سپرنیلگوں کی دلکش و وسعت اور صبح و شام کے دلاویز حسن کا تماشائی بننا اور ان سے حواس ظاہر و باطن کو مسرور بنانا سیکھا اور سکھایا ہے۔ ولی فلسفہ زندگی کے ترجمان شارح نہ تھے۔ جمال زندگی کے وصاف اور قصیدہ خواں تھے۔

تیرا لب دیکھ حیواں یاد آوے
ترا مکھ دیکھ کنعاں یاد آوے
ترے دو نین دیکھوں جب نظر بھر
مجھے تب نرگسستاں یاد آوے
ترے مکھ کی چمن کو دیکھنے سوں
مجھے فردوسِ رضواں یاد آوے

سراپا نگاری

ولی کی شاعری میں سراپا نگاری بدرجہ اتم موجود ہے۔ ولی نے اپنی شاعری میں جس محبوب کی خلیق کی ہے۔ وہ ان سے پہلے اور شائد بعد میں بھی اردو شاعری میں نہیں ملتا۔ انہوں نے واقعیت اور تخیل کی مدد سے اپنے محبوب کے حسن کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی ہے۔ ان کے اشعار سے محبوب کی خوبصورت تصویریں بنتی ہیں۔ اسی لیے ولی کو اردو ادب کا سب سے بڑا سراپا نگار شاعر مانا جاتا ہے۔ ان کے لئے محبوب کے مکھ میں سب سے زیادہ دلکشی ہے۔ یہ مکھ حسن کا دریا ہے۔ اس کی جھلک سے آفتاب شرمندہ و بے تاب ہے۔ اور اس کا مکھ صفحہ رخسار، صفحہ ء قرآں ہے۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ آنکھ اور لب، خال اور خد غرض سراپائے جسم کی تعریف و توصیف بہت عمدہ پیرائے میں بیان کی ہے۔ مندرجہ ذیل اشعار دیکھیں کہ محبوب کے مختلف اعضائے جسمانی کا کتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

وہ نازنیں اادا میں اعجاز ہے سراپا
خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا
اے ولی دل کو آب کرتی ہے
نگہ چشمِ سرمگیں کی ادا
موج ِ دریا کوں دیکھنے مت جا
دیکھ تو زلفِ عنبریں کی ادا

ولی کا تصورِ محبوب

ولی کی شاعری پڑھتے ہوئے اس کے ایک محبوب کا تصور بھی ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس کا کوئی نام بھی نہیں۔ ولی اسے مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ کبھی “ساجن” کہتا ہے اور کبھی “پیتم” تو کبھی “لالن” کہا ہے۔ جبکہ کبھی “من موہن” کبھی محشرِ ناز و ادا کا خطاب دیتا ہے۔ کبھی “فتنہ رنگیں ادا” کا نام۔ ان تمام نانوں سے اس کی والہانہ محبت اور وارفتگی ِ عشق کا پتہ ملتا ہے۔ اس کی صداقت محبت میں تو کچھ کچھ کلام ہی نہیں، بلکہ عقل کہتی ہے کہ اس مبالغہ حسن میں بھی کچھ نہ کچھ اصلیت ضرور ہے۔ ولی کا ساجن اردو شاعری کا روایتی محبوب نہیں ہے۔ والی کا محبوب، من موہن، شریف، خوددار، پاک نفس اور باحیا ہے۔

گر نہ نکلے سیر کو وہ نو بہار
ظلم ہے فریاد ہے افسوس ہے
عجب کچھ طف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گل رخ سوں
خطب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

خوبصورت تشبیہات و استعارات

تشبیہ حسنِ کلام کا زیور اور شاسعری کی جان خیال کی جاتی ہے۔ ولی کو تشبیہات کے استعمال کے معاملے میں اجتہاد کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی شاعری کا نمایاں وصف ان کی خوبصورت تشبیہات ہیں جو اپنے صحیح مواد پر انگوٹھی میں نگینے کی مانند خوبصورتی ک ساتھ جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہیں:

مسندِ گل منزل شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدہ بیدار کا
تیری یہ زلف ہے شامِ غریباں
جبیں تری مجھے صبح وطن ہے
دو آتش کیا ہے سرمہ چشم
داغِ دل دیدہ ء سمندر ہے

ان تشبیہات میں جو کیف، حسنِ ندرت، جدت، دل کشی اور دل آویزی ہے وہ محتاج ِ بیان نہیں۔ پھول کی کھلی ہوئی پنکھڑی کو دیدہ ء بیدار کہا۔ باحیا محبوب کے سینے میں راز کی مانند ولی کے گھر آنا، زلف کا شامِ غریباں اور جبین کا صبح وطن ہونا اور دل کے دراغ کا دیدہ ء سمندر ہونا، ولی کی بے مثال فن کاری اور چابک دستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں جبکہ ولی کا پورے کا پورا دیوان کسی نوعیت کی نادر تشبیہات سے سجا ہوا ہے۔

سوز و گداز

غزل چونکہ معاملات ِ مہر و محبت اور وارداتِ عشق و عاشقی کی داستان ہے۔ اس راہ کے مسافر کو قدم قدم پر ہجر و فراق کی تلخیاں سہنا پڑتی ہیں۔ کتنی رکاوٹیں عبور کرنا پڑتی ہیں۔ جی جی کر مرنا اور مر مر کر جینا پڑتا ہے۔ اس لیے ان واردات و تجربات کے بیان میں سوز و گداز کا عنصر لازمی طور پر شامل ہوتا ہے۔ ولی کی غزلوں میں سوز و گداز یقینا موجود ہے مگر اس کی کیفیات میر کے سوز و گداز سے مختلف ہیں۔ اسی لیے میر کے ہاں سوز و گداز کی شدت ہے جبکہ ولی کے ہاں اس کے برعکس سوز و گداز میں بھی ان کا احساس جمال کارفرما محسوس ہوتا ہے۔

اک گھڑی تجھ ہجر میں اے دلربا تنہا نہیں
مونس و دمساز مری آہ ہے فریاد ہے
نہ ہوئے اسے جگ میں ہرگز قرار
جسے عشق کی بے قراری لگے

زبان ِ شگفتگی اور آہنگ

ولی ایک ذہین شاعر تھے۔ جنہوں نے مروجہ اظہار کے سانچوں کے جائزے کے بعد اپنی شعری بصیرت کی مدد سے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ اسی وقت مروجہ زبان، اعلی شاعرانہ خیالات کے اظہار کے قابل نہیں چنانچہ انہوں نے خود زبان کے سانچوں کو مرتب کیا۔ ولی کی زبان ان سے پہلے غزل گو شاعروں سے قطعی طور پر مختلف محسوس ہوتی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے اس تبدیلی کا نمایاں احساس ہوتا ہے۔ یہ زبان مقامی ہندی اور فارسی الفاظ کا ایک خوبصورت آمیزہ ہے۔ اس طرح ان کی زبان میں سلاست و شگفتگی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔

مت غسے کے شعلے سوں جلتے کو جلاتی جا
ٹک مہر کے پانی سوں یہ آگ بجھاتی جا
تجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولی دائم
مشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا

چھوٹی اور لمبی بحروں کا استعمال

شاعری کے بہائو کو تیز کرنے اور ترنم کی لہروں کو بلند کرنے کے لئے ولی چھوٹی اور لمبی بحروں کو استعمال کرتے۔ اور غنائیت و موسیقی کا وہ جادو جگاتے ہیں کہ ان کی فن کاری پر ایمان لانا پڑتا ہے۔

دیکھنا ہرصبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع ِ انوار کا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل ِ بیمار کا
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گل رخ سوں
خطاب آہستہ آہستہ، جواب آہستہ آہستہ

خارجیت کا تصور

چونکہ ولی جامل دوست شاعر ہیں۔ اسل یے وہ داخلیت کے اندھیرے کنویں میں بند نہیں رہ سکتے بلکہ ان کے ہاں خارجیت کا بھی بھرپور نظارہ ہے۔ وہ باہر کی دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز اور محظوظ ہوتے تھے۔ وہ صرف اپنی ذات کےا ندر آنکھیں بند کر کے گم نہٰں ہوگئے تھے۔ ان کی آنکھیں زندگی اور کائنات کے حسن و جمال کا مسلسل مشاہدہ کرتی رہتی ہیں اور جہاں جہاں ان کے دیدہ بینا کے لئے سامانِ نظارہ ملتا ہے وہ لطف و سرور حاصل کرتے ہیں۔ ان کی خارجیت بڑی نکھری ہوئی اور جاندار ہے۔ اس میں صرف خارج کے کوائف کا احوال ہی قلمبند نہیں کیا گیا۔ ولی کا ذاتی نقطہ نظر ہر موقع پر موجود رہتا ہے۔ وہ کائنات کا مطالعہ اس کے تحت کرتے ہیں۔ خارجیت کا بیان کرتے ہوئے حسن و جمال کے تصورات کو پیش پیش رکھتے ہیں۔ میر تقی میر نے ولی کی عظمت کا اعتراف اس شعر میں کیا ہے:

خوگر نہیں کچھ یونہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں