ولی دکنی : بابائے ریختہ

ولی دکنی : بابائے ریختہ
ولی دکنی : بابائے ریختہ

ولی کے نام اور وطن کے بارے میں اختلاف ہے۔ اہلِ گجرات انہیں گجرات کا باشندہ ثابت کرتے ہیں اور اہلِ دکن کی تحقیق کے مطابق ان کا وطن اورنگ آباد دکن تھا۔ ولی کے اشعار سے دکنی ہونا ثابت ہے۔ ولی اللہ ولی، سلطان عبداللہ قلی، قطب شاہوں کے آٹھویں فرماں روا کے عہد میں 1667ء میں اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اس کےبعد حصول ِ علم کے لئے احمد آباد آ گئے۔ جو اس زمانے میں علم و فن کا مرکز تھا۔ وہاں حضرت شاہ وجیہہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہوگئے۔ ولی کی عمر کا بیشتر حصہ احمد آباد میں گزرا۔ اس شہر کے فراق میں انہوں نے ایک پردرد قطعہ بھی لکھا۔ ولی نے گجرات، سورت اور دہلی کا سفر بھی کیا۔ اس کے متعلق اشارے ان کے کلام میں موجود ہیں۔

دہلی میں ولی کی سعد اللہ گلشن سے ملاقات ہوئی۔ تو وہ ان کا کلام دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ ان تمام مضامین کو جو فارسی میں بیکار پڑے ہیں۔ ریختہ کی زبان میں کام میں لانا چاہئے۔ تاہم یہ بات متنازع ہے اور اردو نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے (کتاب: اردو کا اتبدائی زمانہ) کہ محض دہلی والوں کی امپیریل ازم کا نتیجہ ہے کہ اردو کے اولین تذکرہ نگار میر تقی میر اور قائم چاندپوری یہ بات تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے کہ کوئی خارجی آ کے دہلی میں اردو غزل کا آغاز کرے۔

اس لیے سعد اللہ گلشن والا واقعہ ایجاد کیا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اصل میں الٹا دہلی والوں نے (یعنی سعداللہ گلشن) نے ولی کو شاعری سکھائی تھی۔ دوسرا مشورہ یہ دیا کہ دکنی الفاظ کا استعمال کم کرو اور ان کی جگہ فارسی کے شیریں الفاظ کا انتخاب کرو۔

فلسفہ کی گہرائیؤں اور علمی مضامین اور اخلاقی باتیں نہ ہونے کے باوجود ولی کی شاعرانہ اہمیت مسلمہ ہے۔ جب بھی اردو غزل کی بات ہوگی اولیت کا تاج ولی کے سر کی زینت بنے گا۔ وہ اردو غزل کا بابا آدم نہ سہی، غزل کو نئے معانی اور نئے راستوں پر ڈالنے کا معمار ِ اول ضرور ہے۔

قائم چاندپوری نے اپنے تذکرے نکاتِ سخن میں لکھا ہے کہ ولی نے سعد کے مشورے پر عمل کیا اور دوسری مرتبہ دہلی گئے تو ان کے کلام کی خوب قدر ہوئی اور یہاں تک شہرت ہوئی کہ امراء کی محفلوں میں اور جلسوں اور کوچہ و بازار میں ولی کے اشعار لوگوں کی زبان پر تھے۔ ولی دکنی کو محمد حسین آزاد نے اردو شاعری میں وہی مقام دیا ہے جو انگریزی شاعری میں چاسر اور فارسی شاعری میں رودکی کو حاصل ہے۔

ولی کی تاریخ وفات بھی بے حد متنازع ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحقیق کے مطابق وہ 1730 عیسوی کے بعد فوت ہوئے۔ تاہم زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ولی 1708 کے لگ بھگ فوت ہوئے تھے۔

ولی دکنی : اردو شاعری کا بابا آدم

ایک طویل عرصہ تک ولی دکنی کو اردو کا پہلا غزل گو تسلیم کیا جاتا رہا لیکن بعد میں تحقیق سے یہ بات ثبوت کو پہنچ گئی کہ اردو غزل کا آغاز ولی سے پہلے امیر خسرو سے ہی ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر وحید قریشی اس بارے میں لکھتے ہیں:

ولی سے پہلے کم از کم غزل کے دو ادوار گزر چکے تھے۔ ان ادوار کے شعراء کے کچھ نمونے بھی ملتے ہیں۔ پہلا دور حضرت امیر خسرو سے شروع ہوتا ہے۔ جس میں دس شعراء ہیں۔ دوسرا دور قلی قطب شاہ سے شروع ہو کر میراں ہاشمی تک چودہ شاعرؤں پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد ولی کے معاصرین کا زمانہ ہے۔

گویا یہ بات طے ہوگئی کہ اردو غزل کی خشت اول ولی کے ہاتھوں نہیں رکھی گئی بلکہ ولی سے صدیوں قبل غزل اپنی ابتداء کر چکی تھی تو پھر کس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اردو غزل گو کی اولیت کا تاج ولی کے سر پر رکھا جائے؟

اس سلسلے میں ہمیں “آبِ حیات” میں مولانا آزاد کی ایک رائے پر غور کرنا ہوگا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں:

یہ نظم اردو کی نسل کا آدم جب ملک عدم سے چلا تو اس کے سر پر اولیت کا تاج رکھا گیا۔ جس میں وقت کے محاورے نتے اپنے جواہرات خرچ کیے اور مامین کے رائج الوقت دستکاری سے میناکاری کی۔

ولی کے بارے میں آزاد کے یہ تاثراتی اور ذاتی الفاظ اس بحث کا باعث بنے کہ ولی کو باوا آدم قرار دی جائے یا انہیں اگر اسے بابا آدم مان لیا جائے تو پھر ان سے پہلے غزل گو شاعر کس کھاتے میں جائیں؟ اگر ان کو باوا آدم تسلیم نہ کریں تو انکی شان میں کیا کمی آ جائے گی وغیرہ وغیرہ۔

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ذہن میں اتی ہے کہ شائد آزاد کے زمانے تک ولی سے پہلے غزل گو شاعروں کے بارے میں حقیق نہ ہوسکی تھی اور آزاد کو یہ بات قطعی معلوم نہ ہوسکی کہ ولی سے قبل ہی غزل گو بلکہ بعض اچھے شعراء موجود ہیں۔ اگر تو آزاد کا اس جملے سے یہی مطلب تھا تو یہ بات جدید تحقیقات کی روشنی میں بالکل غلط ثابت ہوچکی ہے۔ ہاں اگر آزاد کے ہاں جملے سے یہ تصور ہو کہ ولی سے قبل اردو شاعری کی روایت موجود تھی مگر اتنی پختہ نہ تھی اور ولی نے اسے ایک خاص شکل عطا کر کے ہمارے سامنے رکھا ہے تو یہ بات ولی کو اوردو شاعری کا باوا آدم ضرور ثابت کرتی ہے۔

ولی کو اس اعتبار سے یقینا ہم باوا آدم کہہ کر اولیت کا تاج ان کے سر پر رکھتے ہیں کہ انہوں نے اردو شاعری کی روایات ترتیب دیں۔ نہ صرف زبان بلکہ مضامین کی جدت ان کا کارنامہ ہے۔ ولی کے روپ میں اردو گزل کو پہلی مرتبہ ایسا شاعر ملا جس نے زبان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارا اور نہ صرف اپنے دور کےتمام ادبی و فکری روایات کو شاعری کا حصہ بنایا بلکہ اظہار کی لذت اور زبان کی تعمیر کا اعجاز بھی دکھایا۔ اردو غزل کے اظہار کے موضوعات کا تعین کیا۔ جو صدیوں تک غزل کا لازمہ سمجھے جاتے رہے ہیں۔

اردو غزل کے اظہار کے سانچے مرتب کیے اور زبان کے مختلف تجربات کے ذریعے ایسا شعری سرمایہ دیا کہ جو غزل کی ترقی میں مددگار ثابت ہوا۔ اور اس طرح ولی کے ہاتھوں غزل کی جاندار روایات کا قیام عمل میں آیا۔ ولی محمد صادق اس بارے میں لکھتے ہیں:

ولی کی شاعری کے چار نہایت اہم پہلو ہیں: تاریخی، لسانی، فنی اور جمالیاتی۔ تاریخی لحاظ سے وہ اس وجہ سے اہم ہیں کہ ان کے زیرِ اثر شمالی ہند میں جدید شاعری کا آغاز ہوا۔ اور رفتہ رفتہ یہ اسلوب تمام ملک پر چھا گیا۔ اس لیے اگر آزاد کے الفاظ میں اسے اردو شاعری کا باوا آدم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment
  1. Avatar

    اس مضمون میں اگر ولی کے اشعار بھی شامل ہوتے تو زیادہ پُرتاثیر مضمون ہوتا

    Reply

کمنٹ کریں