وقت کی پابندی کتنی اہم

وقت کی اہمیت /وقت کی پابندی
وقت کی اہمیت /وقت کی پابندی

مضمون نگار : حافظ عبدالحمید

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

وَالْعَصْرِ اِنَّ ا لْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ

(العصر:3،2)

قسم ہے زمانہ کی۔ یقیناً انسان خسارے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں سے ایک وقت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر میں صبح کی قسم، سورۃاللّیل میں رات کی قسم، سورۃالضحیٰ میں چاشت کے وقت کی قسم اور سورۃ العصر میں زمانہ کی قسم کھائی ہے۔

ہمارے وقت کا ایک ایک لمحہ انمول اور قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے۔ وقت جتنا قیمتی ہے اتنا ہی پگھلتی برف کی طرح آناً فاناً یوں گزر جاتا ہے کہ

بس صبح ہوئی شام ہوئی
عمر یوں ہی تمام ہوئی

دنیا کے تمام مذاہب وقت کی پابندی کا درس دیتے ہیں۔ اسلام جو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے وقت کی پابندی پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآن کریم میں5 نمازیں بر وقت ادا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ یہ بھی ہمارے لئے ایک رہنمائی ہے کہ وقت کی قدر بہت ضروری ہے اور یہ کامیابی اور کامرانی کی کنجی ہے۔

ہمارے لئے تو یہ بات مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ ہم تو اس مسیح کے ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا تھا ’’اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَایُضَاعُ وَقْتُہُ۔ یعنی تُو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔‘‘

(تذکرہ صفحہ550)

وقت، مومن و کافر اور نیک و بد ہر ایک کی زندگی کی کشتی کو مسلسل آگے بڑھائے چلا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض کشتیاں دھارے میں ایسی ہیں جو بے مقصد اور بے سَروپَا بہے چلی جاتی ہیں، نہ ان کا رُخ معین، نہ منزلِ مقصود کی کوئی خبر،نہ مقصد حیات کا کوئی نشان۔ کچھ ایسی کشتیاں بھی وقت کے اس عظیم دھارے میں بہہ رہی ہیں جن کی سمت معیّن اور مقصود اعلیٰ ہے۔وہ ہر لمحہ کامرانی اور فلاح کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

وقت ہر لمحہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے! میں ایک قیمتی سرمایہ ہوں۔ تیرے عمل پر شاہد ہوں مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے تو کر لے ورنہ میں قیامت تک لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ حقیقت یہ ہے دنیا میں ہر خسارے کی تلافی کی جاسکتی ہے لیکن ضائع کئے ہوئے وقت کی تلافی نہیں کی جا سکتی۔

کامیاب لوگوں کی زندگی میں وقت کی قدر و اہمیت اور اسے گزارنے کے روشن اصول ملتے ہیں ۔تاریخ ساز افراد نے ہمیشہ وقت کو قیمتی سمجھا اور ایک ایک پل کی قدر کی،تب اُنہیں مقام و مرتبہ ملا ۔جو لوگ وقت ضائع نہیں کرتے وہ ہمیشہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔دنیا اور آخرت میں کامیابی کی کلید وقت کی قدر اور بہترین منصوبہ بندی ہے۔

جو وقت کو مفت گنوائے گا
وہ آخر کو پچھتائے گا
کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا
جو بوئے گا سو کھائے گا
تو کب تک دیر لگائے گا
یہ وقت بھی آخر جائے گا
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

وقت انسان کے لئے اللہ کی طرف سے تحفہ ہے۔ اس تحفہ کی قدر کرنا ہمارا فرض ہے، اس کی اہمیت کوسمجھنا اور اس کاصحیح استعمال کرنا ہمار ی کامیابی ہے۔ ہمیں اپنے وقت کے ایک ایک لمحے کا حساب اپنے اللہ کے سامنے دینا ہو گا کہ ہم نے دنیامیں وقت کیسے گزارا کن کن محفلوں میں ہمارا وقت گزرا، االلہ کی خاطر کتنا وقت صرف کیا اور اللہ کی مخلوق کے لئے کتنا وقت صرف کیا؟

بطور ایک مسلمان ہمیں اپنے اوقات کوصحیح اور اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرکے آخرت میں سُر خرو ہونےکی جدو جہد کرنی چاہئے۔

عمل کا ہو جذبہ عطا یا الٰہی
گناہوں سے مجھ کو بچا یا الٰہی

جو لوگ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہیں، کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔ وقت ضائع کرنے والوں کو زمانہ پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ کہتے ہیں وقت اور سمجھ ایک ساتھ خوش قسمت لوگوں کو ملتے ہیں۔ کیونکہ اکثر وقت پر سمجھ نہیں ہوتی اور سمجھ آنے تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ نظام میں وقت کی پابندی کا ثبوت ملتا ہے۔ ہر چیز اپنے اپنے مدار پر وقت ضائع کئے بغیر گردش کرتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اپنے اپنے مقررہ وقت پر نکلتے اور غروب ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کا نظام وقت کی پابندی پر چل رہا ہے۔ غرضیکہ کائنات کا سارا نظام ہی وقت کی اہمیت و ضرورت کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

وقت زندگی کی طرح ایک نعمت ہے۔ پابندئ وقت اس نعمت کی قدر اور شکریہ کا بہترین طریق ہے۔ جو وقت ضائع کرتے ہیں وہ وقت نہیں بلکہ اپنی زندگی ضائع کرتے ہیں۔

وقت کی قدر کرنے والے مؤجد، فلاسفر اور اولیاء بن گئے۔ اسی وقت کی مہربانی ہے کہ قدرت نے انہیں خوشحالی اور ترقی سےسَرفراز کیا۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ان ہستیوں کی کامیابی و شہرت کا راز یہی ہے کہ انہوں نے وقت کا صحیح اور مناسب استعمال کیا۔

اپنے اجداد کی تاریخ پہ ناز ہے ہمیں
اُن کی سینچی تہذیب کا پاس ہے ہمیں

جو قومیں وقت کی قدر کرتی ہیں وہ صحراؤں کو گلشن بنا دیتی ہیں، وہ فضاؤں پر قبضہ کر لیتی ہیں، وہ پہاڑوں کے جگر پاش پاش کر سکتی ہیں۔ زمانہ اور دنیا ان کے قدم چومتی ہےلیکن جو قومیں وقت ضائع کرتی ہیں زمانہ انہیں غلام بنا دیتا ہے اور وہ دین و دنیا میں خسارے میں رہتے ہیں۔ کہتے ہیں انسان کے ہاتھ میں اس کی اصلی دولت اس کا وقت ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا، اس نے سب کچھ ضائع کر دیا۔

وقت کو کوئی خرید نہیں سکتا،نہ اس کو ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ یہ ایک بہتا دریا ہے اور اس دریا سے جو لہر گزر گئی وہ واپس نہیں آسکتی۔ نہ کسی کا بچپن لوٹ سکتاہے نہ کسی کی جوانی دوبارہ مل سکتی ہے۔

وقت کا کام ہے چلتے رہنا یہ رکنے نہ پائے
جو وقت نکل گیا ہاتھ سے وہ پھر واپس نہ آئے

ہمیں ہر حال میں وقت کی قدر کرنی چاہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت کی پابندی کرنے اور اس کی اہمیت کو سجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

محنت ہو اگر سچی ضائع وہ نہیں ہوتی
تم کام کئے جاؤ اخلاص سے ہمت سے

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں