وقت پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Waqat Par Urdu Shayari (Waqt Pe Shayari Status). You can read famous Urdu Poems about Time Urdu Poetry and Tought Time Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

اشعار وقت پر شاعری

کہتے ہیں وقت بڑا طاقتور ہے۔ وقت کروٹ لے تو کوئی راجہ رنک ہو سکتا ہے اور کوئی رنک راجہ بن جاتا ہے۔ تو یہاں ہم اس طاقتور وقت، جو کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں، کے سفر کا مختصر جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی اس سفر کے دوران اسکے بدلتے روپ اور معنٰی کو بھی سمجھیں گے۔

اول تو یہ کہ وقت فارسی کا لفظ ہے۔ لیکن فارسی میں اسکا تلفظ کچھ اس طرح سے ہے کہ یہ ‘بخت’ بن جاتا ہے مگر لکھا وقت ہی جاتا ہے۔ فارسی میں وقت کا مطلب وقت کا حصہ، زمانہ یا موسم ہوتا ہے۔ ہندی اردو میں استعمال ہونے والا بخت بھی اسی ‘وقت’ کی شکل ہے۔ جس طرح سے ہندی میں ‘و’ – ‘بہ’ میں بدلتا ہے، ٹھیک اسی طرح سے فارسی میں بھی۔ وقت جب شکل بدل کر بخت بنا تو اسکا مطلب بھی وقت سے بدل کر قسمت یا بھاگیہ ہو گیا۔ اسی لفظ سے بنا ہے – کم بخت، اور ہندی میں اسکا استعمال اکثر غلط جگہوں پر دیکھا جاتا ہے۔ ہندی میں زیادہ تر لوگ اسکا مطلب بیوقوف سمجھتے ہیں، جبکہ اسکا اصل معنٰی بدقسمت ہے۔ اسی طرح سے ‘بدبخت’ بھی ہے۔

اس لفظ کی آخری کڑی میں ہم بات کریں گے ‘بخش’ کی۔ ‘بخش’ کے معنیٰ بھی حصہ یا انش ہیں، تبھی تو ‘بخشش’ کا مطلب دان یا خیرات نکل آتا ہے۔ ٹائٹل بخش یا بخشی بھی کافی سنا ہوگا آپنے۔ بخشی بادشاہی زمانہ میں سرحد پر ایک ایسا عہدہ تھا، جسکی خاصی عزت ہوتی تھی۔ یہ سپاہیوں میں تنخواہ بانٹنے اور ٹیکس وصولنے کا کام کرتے تھے۔ رہی بات بخش کی تو آپ نام رام بخش، نور بخش، شیو بخش، اللہ بخش سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک ساتھ کتنے اچھے ڈھنگ سے استعمال کیا جاتا تھا۔

اب ہم دیکھتے ہیں چند ایسے اشعار جن میں ان لفظوں کا استعمال ہوا ہے۔

وقت اچھا بھی آئےگا ‘ناصر’،
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
ناصر کاظمی
۔
ٹوٹی کمند بخت کا وہ زور رہ گیا
جب بام دوست ہاتھ سے کچھ دور رہ گیا
نامعلوم

اب ایک ایسا شعر دیکھیے، جس میں ‘بخت’ اور ‘وقت’ دونوں کا استعمال ہے۔ اس شعر سے ‘وقت’ کا معنٰی سمے اور ‘بخت’ کا مونٰی قسمت بہت اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے۔

حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے
بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
امجد اسلام امجد

شاعر نظیر اکبرابادی نے لفظ ‘کم بخت ’ کو ردیف بنا کر غزل کہی۔ اس میں کم بخت کا معنٰی ‘بدقسمت’ ہی ملتا ہے نہ کہ بیوقوف،

اے چشم جو یہ اشک تو بھر لائی ہے کم بخت
اس میں تو سراسر مری رسوائی ہے کم بخت
نظیر اکبرابادی

اسی غزل میں شاعر نے مقطع کہا ہے،

توڑے ہیں بہت شیشۂ دل جس نے ‘نظیر’ آہ
پھر چرخ وحی گنبد بینائی ہے کم بخت
نظیر اکبرابادی
۔
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
شکیب جلالی

اب لفظ ‘بخش’ کے حوالے سے چند شعر ملاحظہ فرمائیں،

لذت غم تو بخش دی اس نے
حوصلے بھی ‘عدم’ دئے ہوتے
عبدل حمید عدم
۔
کیا ہماری نماز کیا روزہ
بخش دینے کے سو بہانے ہیں
میر مہدی مجروح
۔
پھونک کر میں نے آشیانے کو
روشنی بخش دی زمانہ کو
عارف عباسی بلیاوی

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ وقت، بخت ؤ بخش جیسے لفظ گاہے بہ گاہے اشعار میں ملتے رہتے ہیں۔ اشعار ہی کیوں عام زبان میں بھی ان لفظوں کا استعمال خوب ہوتا ہے۔ تو ایسے ہی لفظوں کا سفرنامہ جانتے رہئے اور استعمال کرتے رہئے۔

نوٹ: یہ مضمون وجے شرما کی تصنیف ہے اور ریختہ ویب سائٹ پر 5 مارچ 2021 کو شائع ہوا تھا۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں