وومنز ڈے

افسانہ نگار : واجدہ تبسم گورکو

, وومنز ڈے

اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے ایک لمبی انگڑائی لی اور اپنے ریشمی بالوں کو لپیٹ کر جوڑے کی شکل دی اور ایکدم گھر کے کام میں مصروف ہو گئی۔ پھر کام سے فرصت پا کر اس نے اپنے بال کھول دیے اور ہوا میں لہرانے شروع کئے۔ بند آنکھوں سے اس نے لہراتے بالوں کو کھنگالا اور ایک دو گول گول چکر لگا کے جب آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ اس کی اماں اس کے پیچھے کھڑی ہے۔ وہ دوڑی اور اماں کو گلے لگا لیا۔
” کیوں بیٹا آج بڑا پیار آ رہا ہے” اماں نے اس کے کندھے پر تھپکی لگا کر کہا۔ وہ بھی اپنی اماں سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر دل میں چھن چھن کر آتے بہت سے سرکش خیالات ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے دوڑتے آ رہے تھے اور وہ طے نہیں کر پا رہی تھی کہ اماں کو کیا جواب دے۔ اس لئے وہ مسلسل اپنی اماں کے چہرے کو بغور دیکھ رہی تھی کہ اماں نے پیار سے اس کے منہ پر ایک اور تھپکی لگا ئی۔ اسے لگا جیسے اس کا سویا ہوا وجود جھنجھوڑ کر جاگا ہو۔ شاید وہ اس لمس کو کچھ دیر تک اور محسوس کرنا چاہتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں جیسے سمندر تھا جو اماں کی ایک تھپکی سے بہہ نکلا۔ اور اس کے آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے بہہ کر اس کے لبوں کو چھوتے ہوئے نیچے گر پڑے۔ اماں تو ممتا کی دیوی تھی اور یہ اپنی اماں کی اکلوتی اولاد ۔ بیٹی کے آنسوؤں کو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی۔ اپنے پلو سے بیٹی کے آنسو پونچھ لئے اور ایک دم مچل کر بولی۔ ” کیا بات ہے میری گڑیا ؟. مجھے جلدی جلدی بتاؤ ورنہ میں بھی رو پڑوں گی “.


“اماں آج آٹھ مارچ ہے اور آج وومنز ڈے ہے۔ یعنی یوم خواتین۔ دنیا کی تمام خواتین اگر چہ اس عالمی دن پر اپنے مسائل کی جانب اوروں کی توجہ مبذول کرانا چاہتی ہوں مگر میں چاہتی ہوں کہ میں اپنی اماں کے پاس ہی رہوں کیونکہ میری شادی کے بعد آپ کا خیال کون رکھے گا۔ پاپا بھی نہیں ہیں۔ گھر کون سنبھالے گا۔ آپ اکیلی پڑ جاؤ گی۔ اس لئے اماں مجھے اپنے سے جدا مت کرنا۔ یہ میری آج کے دن کے حوالے سے مانگ ہے اور یہی میرا فیصلہ بھی ہے۔ اماں مجھے کسی بھی قسم کے سماجی ٹھکیدار کے ہتھے نہیں چڑھنا ہے “.


” اماں یہ مرد لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم عورتیں کن کن مشکلوں اور مراحل سے گزر کر ان کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو تکلیف دے دے کر ان کو پڑھا لکھا کر سیاستدان، فلسفر، قانون دان، عالم و فاضل، کاروباری اور ہنر مند بناتے ہیں مگر پھر یہ کبھی قانون بنا کر یا مذہب کآ سہارا لے کر ہر جگہ ہمارے لئے روکاوٹیں ہی روکاوٹیں کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیوں کورٹ کچہری کے دروازے کھٹ کھٹا کر ہم ہی انصاف مانگتے ہیں اگر انبیاء اولیاء اور پیر و مرشدوں کو ہم نے ہی جنم دیا ہے تو پھر ان کی درگاہوں کے اندر جانا ممنوع کیوں ہے؟ ۔ وہ پاک کیسے کہلاتے ہیں جبکہ وہ بھی ہماری ناپاکی سے ہی پیدا ہو گئے ہیں “.
وہ کہتی گئیں اور اماں جیسے سن ہو کر سنتی گئیں۔ “اماں ایک گذارش ہے مجھے کھلی فضا میں جینے کا حق چاہٹے۔۔ مجھے اپنے سے الگ نہیں
کر نا ۔۔۔۔۔۔۔” کہتے کہتے دونوں ماں بیٹی بے تحاشہ رونے لگیں

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں