انسانوں نے اپنے جنسی اعضاء کو چھپانا کب سے سیکھا ؟

تحریر : علی نثار

, انسانوں نے اپنے جنسی اعضاء کو چھپانا کب سے سیکھا ؟

سوال یہ ہے کہ انسانوں نے اپنے جنسی اعضاء کو چھپانا کب سے سیکھا ؟ اور ان کا اس کے پیچھے کیا مقصد تھا ؟کیا انسانوں کے علاوہ کیا کوئی دوسرا جاندار ہے جو اپنے جنسی اعضاء کو کھلا رکھنے پہ شرم یا کوئی اور جذبہ محسوس کررہے ہوں ؟


تاہم اس بات کا تعلق کسی سائنسی نظریے سے نہیں ہے ۔ اس بات کا تعلق انسانی نفسیات سے جڑا ہے ۔آج بھی مرد و عورت کا آخری خیال ایک دوسرے کے جنسی اعضا ہی ہیں ۔ انسان نے شاید یہ تجسس برقرار رکھنے کے لیے ایسا کیا ہو۔ انسانی جسمانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ انسانی شعوری ارتقاء بھی ہوا اور ستر پوشی انسانی شعوری ارتقاء کا حصہ ہے ۔شعوری ارتقاء کے دوران ہی یہ کہیں انسانی لاشعور کا لازمی حصہ بن گیا۔ اعضاء کو چھپانا، کھلا رکھنا یہ تو انسانی شعور کے مختلف ادوار کے بدلتے رجحانات کی دیکھی ان دیکھی مراحل سے گزرتی حقیقت ہے اور سائنس اس کا محاکمہ کیوں کرے کہ یہ احساس کا اظہار ہے مادے کا نہیں۔ پردہ کرنے یا نا کرنے کا سائنس سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تہذیب کا سوال ہے۔ یہ واحد Assets ہے جنکو نہ چھپانا جرم ہے۔

پہلے انسان کے جسم پر بالوں کا بڑا ذخیرہ تھا جو اسے بدلتے موسمی حالات سے بچاتا تھا۔ اب ہوا یوں کے جب انہیں شکار کی قلت کی وجہ سے سفر کرنا پڑا افریقا کے باہر موسم کچھ زیادہ ٹھنڈا ہونے سے زیادہ سمور کی ضرورت پڑی تو انہوں نے جانوروں کا سمور استعمال کیا اس سے بچنے کے لیے اس طرح انسانوں نے اپنے اعضاء کو ڈھکنا شروع کیا آہستہ آہستہ کچھ انسانی قبیلوں نے کچھ اعضاء کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے ڈھانپ لیا جیسے سیکسیول اعضاء اور یہ رفتہ رفتہ انسانی رسم کا حصہ بن گئے۔ ابھی بھی کچھ انسانی قبائل سیکسیول اعضاء کھولے رکھتے ہیں جن میں سے کئی افریقی پپوا نیو گنیا کے لوگ شامل ہے۔
سیکس پبلک ڈومین سے نکل کر جب پرائیویٹ ڈومین میں شامل ہوا تب ہی اپنا جسم پرائیویٹ پراپرٹی ٹھہرا۔ خاندان بنے اور پھر کپڑا دوسروں کو یہ بتانے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا کہ پرائیویٹ پارٹس صرف ازواج کے لیے اوپن ہیں۔


جب سے انسان کے پاس شعور ہے تب سے انسان اس عمل کو دہراتا آ رہا ہے۔اس کی مثال آپ ایک بچے سے لے سکتے ہیں کہ جیسے جیسے وہ شعور کی پختگی پہنچتا ہے اس کے اندر جبلی حیا کا شعور پروان چڑھتا ہے۔اور نتیجے کے طور پہ اپنے اعضاء کو ڈھانپتا ہے۔یہی جبلی حیا ءِ شعور مجموعی سطح پہ پنپتا ہے تو ایک اخلاقی قانون کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے جس کا دباؤ دوگنا ہو جاتا ہے یعنی انفرادی طور اور مجموعی طور ، اس کے علاوہ اندرونی تقاضے اور بیرونی مجموعی اصول بھی ہیں۔
ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے یہی اعضاء شاید سب سے نازک بھی ہیں، اور دوسری سرگرمیوں میں رکاوٹ بنتے ہیں جیسے بھاگنے اور تیز چلنے میں۔ ابھی بھی دنیا میں ایسے بہت سے قبائل ہیں جہاں ان اعضاء کو نہیں چھپایا جاتا ۔


انسان اور دیگر جاندار اپنی حفاظت کی غرض سے، مسائل سے بچنے کے لئے مختلف اور ماحول کے مطابق ڈھلنے کے لئے مختلف طریقہ کار کا استعمال سیکھتے ہیں۔ انسان نے روز مرہ کی زندگی میں درپیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے ستر پوشی کی شروعات کی۔جنگل میں شکار کے پیچھے بھاگتے وقت کانٹے دار جھاڑیاں نازک اعضاء کو زخمی کرنے کا باعث بنتی تھی جس کی وجہ سے پتے باندھنے کا آغاز کیا گیا جس سے زخم مکھیوں اور دیگر حشرات کے کاٹنے سے بھی بچے رہتے اور کانٹے دار جھاڑیوں سے بھی حفاظت کا باعث بنتے اسی طرح سرد موسم میں دوسرے جانوروں کی کھال کا استعمال کرنے کا مقصد بھی خود کو سردی سے بچانا تھا۔ عورتوںکو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا تھا بچوں کو دودھ پلانے کے بعد سینے پر باقی رہ جانے والے لعاب دار مادوں پر بیٹھنے والی مکھیوں سے اور بعد میں ان سے پھیلنے والے جراثیم اور ان کی بیماریوں سے حفاظت کی غرض سے یا پھر بچوں کا بار بار دودھ کے لئے تنگ کرنے سے بچنے کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے گئے ۔ مرد کو کیوں کہ سینے کی حفاظت مقصود نہ تھی اس لئے مرد نے سینے کی ستر پوشی نہیں کی۔


شرم کا موضوع آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ شرم دراصل ایسا فعل ہے جو ڈر اور خوف کی ہی قسم ہے۔ آپ کو پہلی بار کوئی بھی کام کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے کہ کہیں آپ سے غلطی نہ ہو جائے یا پھر آپ کسی اور کے سامنے پہلی بار کوئی کام کرتے ہوئے نروس ہوتے ہیں۔ اس لئے دوسروں کے سامنے کپڑے اتارتے ہوئے آپ کو پہلی بار شرم آئے گی۔
جنگلی جانداروں میں جسم پر بال یا پروں کی موجودگی انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھیں گے کہ برفانی علاقوں میں موجود جانوروں کے جسم پر موجود گھنے بال انہیں شدید سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان جانوروں کے جسم کی ساخت اس طرح سے تھی کہ جنسی اعضاء جھاڑیوں کی زد میں کم ہی آتے ہوں گے ۔ہمارے جسم سے بال گرنے کی ایک بڑی وجہ جوئیں رہی ہیں جس باعث انسانوں کے جسم سے بال جھڑ گئے۔ بہت سے کام انسان نے اپنے شعوری ارتقا سے سیکھے۔


ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ آنکھ کسی بھی تولیدی عضو سے زیادہ حساس ہے لیکن انسان اسے نہیں ڈھانپتے۔اور جن لوگوں نے آنکھ کو مکمل طور پر ڈھانپنے کی رسم ڈالی وہ بہت جلد معدوم ہو گئے۔
ایک جواب یہ بھی ہے کہ آنکھ فطرتی طور پر ریکشن کے خلاف ری ایکٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انسانی جسمانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ انسانی شعوری ارتقاء بھی ہوا اور ستر پوشی انسانی شعوری ارتقاء کا حصہ ہے شعوری ارتقاء کے دوران ہی یہ کہیں انسانی لاشعور کا لازمی حصہ بن گیا۔

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں