کم عمر بچوں کا جنسی استحصال لمحہِ فکریہ

ترتیب و انتخاب ۔۔ زاہد آرائیں
بشکریہ جستجو

, کم عمر بچوں کا جنسی استحصال لمحہِ فکریہ

یہ معلوماتی تحریر بچوں کو جنسی تشدد اور استحصال سے بچانے کی ایک کوشش ہے والدین سے گزارش ہے کہ پہلے اسے خود سمجھیں اور پھر اپنے 14 برس یا اس سے کم عمر بچوں کو اسی حساب سے اس تحریر کے مندرجات خود سمجھانے کی کوشش کریں۔
سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کم عمر بچوں سے جنسی میلان اصل میں ایک ایک نفسیاتی مرض ہے جسے انگریزی میں پیڈوفیلیا (Pedophilia )
کہا جاتا ہے۔ اور اس مرض کا شکار ایک عام شادی شدہ زندگی گزارتے ہوئے بھی نہیں گزار سکتا بلکہ بالغ عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات رکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اس کی توجہ کم عمر بچوں کی طرف ہی ہوتی ہے۔
اس مرض سے جو فرد متاثر ہوتا ہے وہ کسی بالغ شخص سے جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ناپسندیدگی اور کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہ کراہت بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک عام فرد بچوں سے جنسی انداز کی قربت کے بارے میں محسوس کر سکتا ہے۔ مغربی ممالک میں یہ غیر قانونی عمل اور میلان سمجھا جاتا ہے اور اس کے قوانین بھی سخت ہوتے ہیں۔
انٹرنیٹ کے ذریعے سخت قسم کی پابندیوں اور آئے دن ہونے والے قانونی ایجنسیوں کے دھاووں کے باوجود بچوں کی جنسی صنعت (Child Sex Industry) بین الاقوامی بازاز میں ایک اہم تجارت بن چکی ہے۔


۔۔۔۔۔ جنسی استحصال کی مختلف شکلیں ۔۔۔۔۔
بچوں کو شہوانی انداز سے چھونا۔۔
معصوم بچوں سے جنسی عمل کے متعلق گفتگو۔۔
فحش مواد کی فراہمی۔۔
کسی کے رو بہ رو جلق یا خودلذتی کا مظاہرہ۔۔
آبروزیزی۔۔
کم سن بچوں کی جسم فروشی۔۔۔
بچوں کا جنسی استحصال گو کہ کوئی نئی بات نہیں یہ بھی کم و بیش انسانی تاریخ جتنا ہی پرانا ہے لیکن آج کل جس تواتر سے اس قبیح فعل سے متعلق خبریں ذیر گردش میں ہیں یہ ضرور لمحہ فکریہ ہے۔ خاص طور پہ اس صورت میں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ رہا ہے جس پہ بات کرنے سے ہمیشہ گریز کا رویہ اپنایا گیا ہے۔ خود والدین اور بچوں کے مابین غیر ضروری جھجک اور شرم بھی اس کی اہم وجہ رہے ہیں، لیکن یہی عدم واقفیت بچوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر دس میں سے دو لڑکیاں جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں، لڑکوں میں اس کی تعداد لڑکیوں کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔ پاکستان سمیت اکثر ممالک میں یہ اعداد و شمار اس لیے بھی گمبھیر ہیں کہ یہاں رپورٹ کیے گئے واقعات کی تعداد ان کی اصل تعداد سے کہیں کم ہوتی ہے۔
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، جنسی حملے، جنسی ہراسانی اور جنسی عمل کی ترغیب دینے اور ایسے اشارے کرنا جنسی استحصال میں شامل ہیں۔


بعض اوقات یہ ذلیل اور ناشائستہ حرکات بدترین جنسی استحصال پر منتج ہوتی ہیں اور بچے نا چاہتے ہوئے بھی اس عمل کا حصہ بننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بچوں میں نفسیاتی، جسمانی عوارض کا پیدا ہوجانا، ان کی ذہنی صلاحیتوں کا مفلوج ہوجانا بچوں میں جنسی استحصال کے بعد پیدا ہونے والے عام اثرات ہیں جب کہ انتہائی صورتوں میں بچے اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بچوں کی تربیت اور ان کو پروان چڑھانا محض یہی نہیں کہ ان کے لیے اچھی خوراک اور لباس فراہم کیا جائے یا کسی اچھے تعلیمی ادارے میں داخل کروادیا جائے، بلکہ ان کی ہر آن تربیت اور تحفظ بھی والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ یہ ننھے مسافر جو خدا نے ہمیں عطا کیے ان کو ان کی منزل پہ بعافیت اور کامیابی سے پہنچانا بھی اہم فریضہ ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال میں خاموشی اہم کردار ادا کرتی ہے جس کے پیچھے بھی کئی ایک عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بالخصوص خوف ایک ایسا عنصر ہے جو بچوں کو زبان بندی پر مجبور کیے رکھتا ہے۔
بچوں کے جنسی استحصال کی درج ذیل صورتیں عام ہیں:


۱۔ جسمانی اعضاء کو چھونا:
بچوں کو غیر ضروری طور پر لپٹانا، بھینچنا اور چومنا ، ہاتھ پھیرنا اور جنسی اعضا کو دبانا شامل ہیں۔ والدین کو اس صورت میں انتہائی ہوشیار اور آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے، رشتے داروں ، گھریلو ملازمین، دوست احباب اور اجنبیوں کے ساتھ تعلقات اور ان کی گھر میں آزادانہ آمد ورفت کے سلسلے میں محتاط رہنا چاہیے کیوں کہ بچوں سے جنسی زیادتی کے زیادہ تر واقعات میں قریبی رشتہ دار یا شناسا افراد ہی ذمہ دار پائے گئے ہیں۔
نابالغوں کو برہنہ یا جنسی افعال پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز (پورنوگرافی) دکھانا یا پھربچوں کے سامنے اپنے جنسی اعضا کی نمائش بھی جنسی استحصال کی ایک صورت ہے


۲۔ جنسی عمل سے متعلق نازیبا گفتگو:
اس صورت میں بچوں سے جنسی نوعیت کی گفتگو کی جاتی ہے، بیہودہ لطائف، گالیوں اور لفظوں کا گفتگو میں استعمال کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ عموماً بچوں کے ساتھ مختصر تنہائی میسر آنے کی صورت میں یا پھر ٹیلیفون اور فیس بک پر ان باتوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی گفتگو میں جنسی عمل کی ترغیب دینے کی کوشش بھی شامل ہے۔


۳۔ پورنوگرافی یا برہنگی:
نابالغوں کو برہنہ یا جنسی افعال پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز (پورنوگرافی) دکھانا یا پھربچوں کے سامنے اپنے جنسی اعضا کی نمائش بھی جنسی استحصال کی ایک صورت ہے، اس ضمن میں انٹرنیٹ پر پورن سائٹس تک نابالغ افراد کی رسائی روکنا بھی ضروری ہے۔
۴۔ جلق یا خود لذتی:
بچوں کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر مجرم اپنے جنسی اعضا سہلواتا ہے، ناسمجھ بچے کے لیے یہ ایک خوفناک تجربہ ہوتا ہےلیکن لالچ یا خوف کا قوی احساس اس کو زبان بندی پر مجبور کر سکتا ہے۔


۵۔ جنسی زیادتی یا ریپ:
بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا ان کے جنسی استحصال کی انتہائی صورت ہےذ۔ عموماً وہ والدین جو بچوں کو اپنے ہی گھرمیں اکیلا یا ملازمین کے پاس چھوڑ کر، یا کسی رشتے دار یا پڑوسی کے گھر چھوڑ کر جانے کے عادی ہوتے ہیں ان کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اقامت گاہوں میں مقیم اور مدرسوں میں زیر تعلیم طلبا کی بڑی تعداد بھی مدرسین اور ساتھی طلباء کے ہاتھوں ریپ کانشانہ بنتی ہے۔ اس مذموم حرکت کے اثرات بہت خوفناک ہوتے ہیں، مجرم اس صورت حال کے بعد راز کھلنے کے خوف سے بچوں کے قتل سے بھی گریز نہیں کرتے۔


۶۔ برہنہ تصاویر یا فحش ویڈیوز بنانا:
عادی مجرم بعض اوقات بچوں کو ڈرانے دھمکانے اور اپنے مطالبات منوانے کے لیے ان کی ناشائستہ تصاویر یا ویڈیوز بنا لیتے ہیں، اس طرح وہ بچوں کو مجبور کرتے ہیں کے وہ ان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی ہوس کا نشانہ بھی بنیں یا دیگر بچوں کو بھی ورغلا کر ان کے چنگل میں لے آئیں۔ اس کے علاوہ یہ تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ وغیرہ پر بھی پوسٹ کی جاتی ہیں۔


۷۔ کم سن بچوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنا:
کم سن بچوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنا جنسی استحصال کی بدترین شکل ہے۔ عام طور پر بچوں کو اس مقصد کے لیے اغوا کیا جاتا ہے اور بعدازاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
حوالہ جات۔۔
جنسی میلانات تحریر : ابوزید (دبئی)

شیئر کریں

کمنٹ کریں