یاد پر شاعری

یاد کے موضوع پر شاعری

یاد شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناسٹلجیائی کیفیت تخلیقی اذہان کو زیادہ بھاتی ہے ۔ یہ یاد محبوب کی بھی ہے اس کے وعدوں کی بھی اور اس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحموں کی بھی۔ اس میں ایک کسک بھی ہے اور وہ لطف بھی جو حال کی تلخی کو قابل برداشت بنا دیتا ہے ۔ یاد کے موضوع کو شاعروں نے کن کن صورتوں میں برتا ہے اور یاد کی کن کن نامعلوم کیفیتوں کو زبان دی ہے اس کا اندازہ ان شعروں سے ہوتا ہے ۔

یاد وابستہ ہے جسے بھول گیا خلوت میں
تم تو ہروقت مرے ساتھ رہا کرتے ہو
ابرار مجیب

یاد کا دل کے دریچے سے گزر کیسے ہو
تیری تجسیم مکمل ہے میری آنکھوں میں
صدف اقبال

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
غالب

یاد کر وہ دن کہ ہر یک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اِک دیدۂ بیخواب تھا
غالب

یاد پر شاعری

مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
میر

کرو گے یاد باتیں تو کہو گے
کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
میر

دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں
اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
میر

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
بشیر بدر

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
فیض احمد فیض

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
راحت اندوری

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں
اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
انور شعور

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
فراق گورکھپوری

یاد پر شاعری

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
حسرت موہانی


تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
فیض احمد فیض

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
گلزار

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
حسرت موہانی

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
ناصر کاظمی

آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
احمد فراز

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں
ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا
بہادر شاہ ظفر

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
جون ایلیا

یاد پر شاعری

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
داغ دہلوی

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا
کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے
جلیل مانک پوری

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو
کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا
ساحر لدھیانوی

سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
جون ایلیا

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
احمد فراز

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں
خمار بارہ بنکوی

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست
وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
فراق گورکھپوری

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
جون ایلیا

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
جاں نثار اختر

یاد پر شاعری

”آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
فیض احمد فیض

یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اختر انصاری

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا
جون ایلیا

اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
جون ایلیا

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ
بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے
جمال احسانیوہ 

کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے
ناصر کاظمی

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
فراق گورکھپوری

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں
امام بخش ناسخ

ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یاد
وقت کتنا قیمتی ہے آج کل
شکیل بدایونی

یاد پر شاعری

یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے
کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست
احمد فراز

کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے
کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا
منور رانا

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے
جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا
جلیل مانک پوری

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا
ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی
ناصر کاظمی

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں
تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں
افتخار مغل

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں