مضمون نگار : سید شہباز عالم

, یوگاسن کے قانون

یوگ ہندوستانی تہذیب کا قدیم زمانے سے حصہ ہے ۔ یہ جسمانی اور دماغی صحت کو بڑھا دیتا ہے ۔ روزانہ صحیع طریقے سے یوگ کرنے سے جسم اور دماغ تندرست رہتے ہیں ۔ فٹ رہنے کے لیے آج کل اسکول، ہاسپیٹل، کلب وغیرہ میں بھی یوگ کروایا جاتا ہے ۔ لیکن یوگ کی پریکٹس کرنے سے پہلے ہمیں چند بنیادی باتوں کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ ورنہ آپکو یوگ سے فائدہ ہونے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔ آئیے ہم بتاتے ہیں کہ آپکو کن کن باتوں کا دھیان رکھنا چاہیے تاکہ آپکو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے ۔ صحیع طریقے سے یوگ کیا جائے تو آپ اپنے اندر اور باہر کی دنیا میں صحیع طریقے سے تال میل محسوس کر سکتے ہیں ۔ جب کہ اسے شروع کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپکے اندر اور باہر صحیع ماحول ہو ۔ اپنے یوگ کی پریکٹس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے آپکو چند باتیں دھیان میں رکھنی ہونگی ۔
جس طرح ایکسرسائز سے پہلے وارم اپ ضروری ہے اسی طرح یوگاسن شروع کرنے سے پہلے وارم اپ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ اسکے لیے آپ یوگ کرنے سے پہلے ہلکی پھلکی کسرت کر لیں یا چھوٹے یوگاسن بھی کر سکتے ہیں ۔


آپکا پیٹ خالی ہو اور صاف ہو ۔ یوگ صرف کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ انسانی انرجی سسٹم کو بہتر کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ اس ضمن میں سد گرو سمجھاتے ہیں کہ اگر آپ اپنی انرجی کو اوپر کی سمت بڑھانا چاہتے ہیں تو شئے جسم نہیں ہے اسے جسم سے باہر ہونا چاہیے ۔ اس لیے دھیان رکھیں یوگ ہمیشہ صبح سویرے خالی پیٹ ناشتے سے پہلے کرنا بہتر ہے ۔ اور پیٹ کی صفائ کرنے کے بعد کریں ساتھ ہی یوگ کی پریکٹس کے درمیان آپکو کسی قسم کا کھانا یا پانی نہیں لینا چاہیے ۔
اور اگر آپ صبح سویرے یوگ نہیں کر پاتے تو کھانے کے تین گھنٹے کے بعد ہی یوگ کریں ۔
یوگ کرنے سے پہلے نہانا بہت بہتر ہے ۔ نہانے سے صرف جسم ہی صاف نہیں ہوتا ۔ جب پانی آپکے جسم سے رابطہ بناتا ہے تو آپکی اندرونی کثافت بھی دور ہوتی ہے ۔ پانی جسم میں پازیٹیو انرجی بھی پیدا کرتا ہے ۔ ٹھنڈے یا گنگنے پانی سے نہانا چاہیے کیونکہ اس سے جلد کے پور کھل جاتے ہیں جس سے یوگ کرنے کے لیے اہم ہے. کیونکہ اس سے سیل اسٹکچر یوگ سے حاصل ہونے والی اندرجی سے پوری طرح چارج ہو جائے ۔
ڈھیلے اور آرام دہ کپڑے پہنیں ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں یوگ انسان کی انرجی سسٹم پہ کام کرتا ہے ۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے سے اس عمل میں مدد حاصل ہوتی ہے ۔ سد گرو کہتے ہیں کہ جب آپکی انرجی آپکے اندر پھیلتی ہے تو آپ محسوس کریں گے کہ تنگ کپڑے آپکے جسم کو آرام نہیں دے رہے ہیں ۔ قدرتی طور پہ آپ بہت ڈھیلے کپڑے پہننا ہی پسند کریں گے ۔
یوگ کرنےسے پہلے نیم اور ہلدی کا استعمال کریں ۔ ہلکے گنگنے پانی کے ساتھ نیم کا رس اور ہلدی پینے کی وجہ سے سیلس کی صفائ ہو جاتی ہے ۔ ساتھ ہی سیل کے درمیان پھیلاؤ ہو جاتا ہے ۔ جس سے وہ انرجی کو سوکھ پاتے ہیں ۔ جب آپ سادھنا کرتے ہیں تو یہ پھیلاؤ جسم میں لچیلا پن لاتا ہے ۔ یہ لچیلا پن آپکے جسم کو دھیرے دھیرے بہت طاقتور بناتا ہے ۔


یوگاسن کی ابتدا ہمیشہ ہلکے یوگاسن سے کریں۔ چاہے آپکو یوگ کی کتنی بھی پریکٹس کیوں نہ ہو ۔ ابتدا میں بنا جسم کو تیار کئے بھاری یوگاسن کرنے سے آپکے جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آپ یوگ سورج اگنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے کے بعد کسی بھی وقت کر سکتے ہیں ۔ لیکن دن کے وقت یوگ نہ کریں ۔ یوگاسن صبح سویرے کرنے سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ مگر آپ کسی وجہ سے صبح یوگ نہیں کر پاتے تو شام یا رات کو کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے بھی کر سکتے ہیں ۔ بس خیال یہ رہے کہ آپکا پیٹ بھرا ہوا نہ ہو ۔
یوگ کرنے کے درمیان اور یوگ کے فوراً بعد فریز کا ٹھنڈا برفیلا پانی بیحد نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ یوگاسن کرنے سے جسم گرم یو جاتا ہے ۔ ایسے میں درمیان میں یا یوگ کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سےسردی زکام ،کف اور الرجی کی شکایت ہو سکتی ہے ۔ اس لیے یوگ کے بعد نارمل پانی ہی پئیں ۔
اگر آپکو کوئ بٹی بیماری ہے اور جسم نقاہت کا شکار ہے تو یوگ نہ کریں ۔ جوڑوں، کمر گھٹنوں میں زیادہ درد ہے تو یوگ ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کریں ۔ اس کے علاوہ یوگ کے درمیان باتھ روم نہ جائیں بلکہ اپنے جسم کا پانی پسینے کے ذریعہ باہر نکالنا چاہیے۔
یوگ کے ماہر کے ذریعہ بتائےگئے آسن ہی کریں ۔ غلط آسن سے کمر درد، گھٹنوں میں تکلیف یا مسلز میں کھینچاؤ ہو سکتا ہے ۔ اسکے علاوہ آپکے پیٹھ، گھٹنے یا مسلز کی پرابلم ہو تو اپنے ٹرینر سے صلاح ضرور لیں ۔


یوگاسن کے درمیان اپناموبائل آف کر دیں اور ممکن ہو تو تنہائ میں یوگ کریں تاکہ آپکا دھیان ادھر ادھر نہ بھٹکے ۔ اس کے علاوہ ہنسی مذاق کے ماحول میں نہ یوگ کریں نہ یوگ کے درمیان وہ ماحول بنائیں اس سے آپکا دھیان بھٹک سکتا یے ۔ کیونکہ یوگ میں دھیان کی بہت اہمیت ہے ۔
یاد رکھیں کسی بھی یوگاسن کو جھٹکے سے نہ کریں اور نہ ہی یوگ کی مدرا سے ایک جھٹکے سے باہر نکلیں ۔اسکے علاوہ آپ یوگ اتنا ہی کریں جتنا آپ آسانی سے کر سکتے ہیں ۔ دھیرے دھیرے یوگ کی پریکٹس بڑھائیں اور آسان یوگ سے رفتہ رفتہ بھاری یوگ کی طرف جائیں ۔ ایک دم سے بھاری یوگ کبھی نہیں کرنا چاہیے ۔ اس سے جسم کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
تین سال کی عمر کے بچوں کو یوگاسن بالکل نہ کریں ۔ چار سے سات سال تک کی عمر کے بچے ہلکا یوگ کر سکتے ہیں ۔ سات سال سے زیادہ عمر کے بچے ہر طرح کا یوگاسن کر سکتے ہیں ۔ پریگننسی دوران یوگ نہ کریں ۔
یوگاسن کھلی اور تازہ ہوا میں کرنا بہترین مانا گیا ہے ۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کسی بھی صاف ستھری جگہ پہ یوگ کیا جا سکتا ہے ۔
ہمیں امید ہے ہمارے اس مضمون سے آپ کو خاطر خواہ فائدہ ہوا ہوگا۔اپنی رائے کمنٹ باکس میں ضرور لکھیں۔ شکریہ
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں