یوم آزادی پر اشعار

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
افتخار عارف

وطن کی پاسبانی جان و ایماں سے بھی افضل ہے
میں اپنے ملک کی خاطر کفن بھی ساتھ رکھتا ہوں
نامعلوم

بیزار ہیں جو جذبہ سے
وہ لوگ کسی سے بھی محبت نہیں کرتے
نامعلوم

ہے محبت اس وطن سے اپنی مٹی سے ہمیں
اس لیے اپنا کریں گے جان و تن قربان ہم
نامعلوم

کہاں ہیں آج وہ شمع وطن کے پروانے
بنے ہیں آج حقیقت انہیں کے افسانے
سراج لکھنوی

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
لال چند فلک

تن من مٹائے جاؤ تم نام قومیت پر
راہ وطن پر اپنی جانیں لڑائے جاؤ
لال چند فلک

جوانو نذر دے دو اپنے خون دل کا ہر قطرہ
لکھا جائے گا ہندوستان کو فرمان آزادی
نازش پرتاپ گڑھی

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا
نامعلوم

ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی
اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے
خورشید اکبر

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
بسمل عظیم آبادی

ہم اہل قفس تنہا بھی نہیں ہر روز نسیم صبح وطن
یادوں سے معطر آتی ہے اشکوں سے منور جاتی ہے
فیض احمد فیض

وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے
مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں
برج نارائن چکبست

خوں شہیدان وطن کا رنگ لا کر ہی رہا
آج یہ جنت نشاں ہندوستاں آزاد ہے
امین سلونی

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
فراق گورکھپوری

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
علامہ اقبال

کعبے کو جاتا کس لیے ہندوستاں سے میں
کس بت میں شہر ہند کے شان خدا نہ تھی
رند لکھنوی

نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز
یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی
نازش پرتاپ گڑھی

ہم خون کی قسطیں تو کئی دے چکے لیکن
اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا
والی آسی

پھر دیار ہند کو آباد کرنے کے لئے
جھوم کر اٹھو وطن آزاد کرنے کے لئے
الطاف مشہدی

اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلا دے
میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں
جاوید اکرم فاروقی

اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلا
دیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا
جعفر طاہر

خدا اے کاش نازشؔ جیتے جی وہ وقت بھی لائے
کہ جب ہندوستان کہلائے گا ہندوستان آزادی
نازش پرتاپ گڑھی

دکھ میں سکھ میں ہر حالت میں بھارت دل کا سہارا ہے
بھارت پیارا دیش ہمارا سب دیشوں سے پیارا ہے
افسر میرٹھی

یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
احمق پھپھوندوی

زمین ہند ہے اور آسمان آزادی
یقین بن گیا اب تو گمان آزادی
سنو بلند ہوئی پھر اذان آزادی
سر نیاز ہے اور آستان آزادی
سراج لکھنوی

برق رفتاری پہ اپنی رشک کرتا تھا جہاں
سوئے آزادی ہمارا قافلہ تھا تیز گام
منزل مقصود تک یہ قوم جا سکتی نہیں
جس کے قبضے میں نہیں اسپ سیاست کی لگام
عرش ملسیانی

گلزار وطن

پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے پودے اس میں نئے لگائیں
پھولوں میں جس چمن کے ہو بوئے جاں نثاری
حب وطن کی قلمیں ہم اس چمن سے لائیں
خون جگر سے سینچیں ہر نخل آرزو کو
اشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں
ایک ایک گل میں پھونکیں روح شمیم وحدت
اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں
فردوس کا نمونہ اپنا ہو کنج دل کش
سارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیں
چھایا ہو ابر رحمت کاشانۂ چمن میں
رم جھم برس رہی ہوں چاروں طرف گھٹائیں
مرغان باغ بن کر اڑتے پھریں ہوا میں
نغمے ہوں روح افزا اور دل ربا صدائیں
حب وطن کے لب پر ہوں جاں فزا ترانے
شاخوں پہ گیت گائیں پھولوں پہ چہچہائیں
چھائی ہوئی گھٹا ہو موسم طرب فزا ہو
جھونکے چلیں ہوا کے اشجار لہلہائیں
اس کنج دل نشیں میں قبضہ نہ ہو خزاں کا
جو ہو گلوں کا تختہ تختہ ہو اک جناں کا
بلبل کو ہو چمن میں صیاد کا نہ کھٹکا
خوش خوش ہو شاخ گل پر غم ہو نہ آشیاں کا
حب وطن کا مل کر سب ایک راگ گائیں
لہجہ جدا ہو گرچہ مرغان نغمہ خواں کا
ایک ایک لفظ میں ہو تاثیر بوئے الفت
انداز دل نشیں ہو ایک ایک داستاں کا
مرغان باغ کا ہو اس شاخ پر نشیمن
پہنچے نہ ہاتھ جس تک صیاد آسماں کا
موسم ہو جوش گل کا اور دن بہار کے ہوں
عالم عجیب دل کش ہو اپنے گلستاں کا
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں
سرور جہاں آبادی

ترانۂ ہندی

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا
اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
علامہ اقبال



شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں