گوجری زبان و ادب کیا ہے

گوجری ادب

جیسا کہ اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ گوجری ادب سے کیا مراد ہے؟ تو یقینی طور پر کئی لوگوں کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ گوجری ایک الگ قومیت کی زبان ہے۔ چونکہ گجر / گوجر ایک قوم بھی ہے ، تو سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ گوجری گجروں کا ادب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی ذہن میں ہونا ضروری ہے کہ گجرات کا تعلق پنجاب سے ہرگز نہیں۔ یہاں جس ادب کی بات کی جا رہی ہے، اسے ہم اردو کا ابتدائی نقش بھی کہہ سکتے ہیں۔

اب اگر ہم گوجری یا گجراتی ادب کی بات کریں تو سادہ ترین الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ ادب ہے جس نے گجرات کے علاقے میں نشو نما پائی۔ تقریبا تمام مورخین ِ ادب مکمل غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں کہ اردو زبان کی تشکیل سب سے پہلے گجرات میں ہوئی۔

گوجری زبان برصغیر کی قدیم زبانوں میں سے ایک زبان ہے۔ اس خطے میں گوجروں کے تاریخی شواہد پانچویں صدی عیسوی کے بعد ہی ملتے ہیں اور پھر تیرہویں صدی عیسوی تک ہندوستان میں گجر حکومتوں کے واضح ثبوت دیکھنے میں آتے ہیں۔ یقینا اس دور میں گوجری زبان کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہوگی۔ سرکاری سرپرستی کے زمانے میں ادیبوں اور شاعروں نے کافی مقدار میں گوجری ادب تخلیق کیا۔ البتہ اس میں شعری ادب زیادہ ہے اور وہ بھی اکثر صوفیانہ کلام ہے۔ ان شعراء میں نورالدین ست گرو، حضرت امیر خسرو، شاہ میراں جی، شاہ باجن ، شاہ علی جیوگامی ، برہانالدین جانم، خوب محمد چشتی، جگت گرو اور امین گجراتی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

پندرہویں صدی عیسوی کے بعد ہندوستان میں گوجری حکومتوں کا زوال شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی گوجری زبان کی سرکاری سرپرستی ختم ہوگئی اور یہ زبان مرکزیت سے دور ہوتی چلی گئی۔ جس کے نتیجے میں گوجری زبان مقامی لہجوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی۔ گوجری زبان کی ادبی بنیادوں پر دوسری زبانوں کے ڈھانچے تعمیر ہونا شروع ہوگئے۔ کہیں گجرات کہیں راجستھانی کہیں سندھی تو کہیں ہندوستانی نام دے کر ہندوی اور اردو زبانوں نے اپنی ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

مرکزیت کھونے کے بعد گوجری زبان کا کوئی مخصوص علاقہ نہ رہا۔ ریاست جموں و کشمیر میں بولی جانے والی گوجری پر عربی و فارسی کے واضح اثرات دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ ریاست کے تمام گوجر مذہب اسلام کو ماننے والے ہیں اور ان کا مذہبی لٹریچر عربی اور فارسی زبانوں میں دستیاب تھا۔ مذہبی اور عالم فاضل لوگ درسگاہوں میں عربی فارسی کی تعلیم دیتے تھے۔ اس لیے عام لوگوں کی زبان پر بھی یہ اثرات مرتب ہونے لگے۔ البتہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ آریائی ہندوستان میں داخل ہوئے تو وہ انڈک زبان بولتے تھے۔ باقی زبانیں آریائی اور قدیم ہندوستانی تہذیبوں اور بولیوں سے میل ملاپ سے وجود میں آئیں جنہیں پراکرت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی ایک شاخ اپ بھرنس ہے۔

سرکاری سرپرستی کے دور میں گوجری زبان کو گجرات میں مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اردو زبان کے ایک مورخ ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی کتاب “تاریخ ِ اردو ادب” میں لکھتے ہیں کہ جب دکن میں اردو کے نئے مراکز ابھرے تو وہاں کے اہلِ علم و ادب نے قدرتی طور پر گوجری ادب کی روایت کو اپنایا۔ دکن میں جب اردو کا چرچا ہوا اور اسے سرکاری دربار کی سرپرستی حاصل ہوئی تو ہواں کےا دیبوں اور شاعروں کی نظر گوجری ادب پر ہی گئی۔ اس ادب کو معیار تسلیم کر کے انہوں نے اس ادب کے تمام عناصر کو اپنے ادب میں جذب کر لیا۔

ڈاکٹر جمیل جالبی سترہویں صدی تک گوجری زبان کی ادبی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اردو بولنے والوں کو گوجری سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یقینا گوجری زبان اور اردو کا لسانی رشتہ بہت قریبی ہے کیونکہ اردو زبان کی بنیادیں ہی گوجری ادب پر ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر میں تخلیق ہونے والا گوجری ادب مقامی لہجوں کا مرکزی روپ ہے۔ گوجری زبان کا اپنا ایک حلقہ ہے، اپنا ایک ادب ہے، اپنے خالص الفاظ کا ذخیرہ ہے اور اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ یہ کہہ دینا کہ گوجری پنجاب یا کسی دوسری زبان کی ذیلی بولی ہے، غلط بات ہے۔ بلکہ گوجری زبان کی اپنی ذیلی شاخیں ہیں۔ گوجری زبان میں محاورے، ضرب المچل، پہلیاں، لوک گیت، لوک کہانیاں اور لوک بار وغیرہ وہ سب مواد موجود ہے جس کے بل بوتے پر اس کو زبان کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ گوجری اپنی قدامت اور وسعت کے لحاظ سے برصغیر کی اہم زبان ہے۔ شروع شروع میں گجرات (بھارت) اور دکن میں اس کو اردو کا نام دیا گیا کیونکہ دراصل اس زبان کے خدوخال سے ہی بعد میں اردو نے نشوونما پائی۔ چوہدری اشرف گوجر ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب “اردو کی خالق، گوجری زبان” میں بڑے خوبصورت طریقے سے یہ بات ثابت کی ہے۔

گجراتی زبان برصغیر کے میدانوں اور کوہساروں میں بڑی توانائی کے ساتھ زندہ رہی۔ یہ زبان راجھستھان، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، صوبہ خیبرپختونخوا، شمالی علاقہ جات، یہاں تک کہ افغانستان، روس اور چین کے کچھ علاقوں میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

افغانستان سے آج بھی گوجری زبان میں ہفت روزہ مجلہ شائع ہو رہا ہے۔ گجراتی زبان بولنے والوں کی تعداد تقریبا پانچ کروڑ سے زئاد بتائی جاتی ہے۔ جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے برصغیر کی دوسری کوئی زبان گوجری کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ پنجاب، مارواڑی اور خاص طور پر سندھی پر اس کا اثر نمایاں ہے۔

جس طرح دکن میں دکنی اردو پھل پھول رہی ہے، اسی طرح گجرات میں گوجری کے نام سے اردو اپنے خدوخال واضھ کرنا شروع ہوچکی تھی۔ لازمی بات ہے کہ گوجرہ اپنے علاقے کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی، اور شمالی ہند سے بہت پہلے اس زبان میں تصنیف و تالیف کا کام ہونا شروع ہوچکا تھا۔

گجرات میں مسلمانوں سے پہلے سنسکرت اور پراکرت زبانوں کا چلن بہت عام تھا۔ اس وقت چونکہ سیاست و معیشت کے ساتھ ساتھ مذہب کی تعلیم و تبلیغ بھی زور و شور سے جاری تھی، جس کے لئے مسلم صوفیاء و درویش گفتگو اور باہمی روابط کے لئے فارسی و عربی کے ساتھ ساتھ مقامی زبان کے الفاظ بھی اپنی گفتگو اور تحاریر میں شامل کرتے تھے۔ اسی طرح، ان زبانوں کے مسلسل استعمال اور امتزاج سے اردو زبان کے نقوش سنورنے لگے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں