زمین ساکن یا فکر ساکن

تحریر: آفتاب سکندر

, زمین ساکن یا فکر ساکن

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا


سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر کل ایک ویڈیو زینتِ دید و رصد ہوئی جس نے ورطہ حیرت میں غرق کرتے ہوئے انگشتِ بدنداں کرکے انگشت بہ لب کردیا. یژمردہ دل کے ساتھ، حیف و گریہ زاری کے عالمِ جاوداں کی دستک جیسے ہمارے دل و دماغ پہ وارد ہوئی. تفکر و تدبر، بُربادی و تحمل، صبر و قرار اور سنتوکھ و سکون کی سیڑھی کو قدم زینتِ نردبان ہونے کو ہی تھے کہ قوتِ حافظہ نے پرواز کرتے ہوئے دل و دماغ میں ایک اور تصویر عیاں کی جو چند ماہ قبل تشہیر کے تمام قدمچاہوں کو عبور کر کے اسی سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے زینتِ طاقِ نسیاں ہوئی تھی جس میں ایک عالم دورانِ خطبہ شاہ احمد رضا خان بریلوی کی اسی تصنیف کے ذکر و اذکار میں سکونِ ارض پر ثبت یقین کے ساتھ ان کے رسالہ فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین کی قصیدہ گوئی کررہے تھے.
جس میں وہ عرض کرتے ہیں کہ سائنس دان لگے ہیں. کام ہورہا ہے اس پر. بہت جلد حق واضح ہوجائے گا.


میں اُن صاحبِ علم سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ صاحبانِ عقل و خرد، عزیزانِ فہم و فراست، شیدائیان علم و فن آپ کے سائنس دان کونسے نیپال کے جنگلات میں تحقیق و جستجو کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں. یہ حضراتِ ذی شعور و وقار افریقہ کے صحراؤں میں ہیں یا امریکہ کے دریاؤں میں ہیں یا بدؤوں کے صحراؤں میں ہیں یا تُربت کے پہاڑوں میں ہیں یا ابو ظہبی کے برج خلیفہ میں لگے ہوئے ہیں کدھر لگے ہوئے ہیں.


حد ہے اس رسالے کے متعلق اتنی جہالت کے منبع و ماخذ وجود پذیر ہیں کہ قلم اُٹھانے پر مجبور ہوا چاہتا ہوں اس رسالے میں مصنف کے تمام تر دلائل کمزور و ناتواں اور علیل ہیں.
گزارش کرتا چلوں کہ اس کتاب کے متعلق آگہی دینا لازم و ملزوم سمجھتے ہوئے بندہ ناچیز و بے ہنر اور گریوہ زر نے جسارت کی ہے. ہم صرف ایک دلیل دیکھتے ہیں فوزِ مبین نامی رسالہ کی جو ذیل میں مصنف یا مترجم کے ہو بہو دی جارہی ہے.


اقول: چاند کا زمین کو اونچا اٹھالینا نِرا ہذیان ہے زمین کا وزن ،__
169932000000000000000000
سولہ ہزار نو سو ترانوے مہاسنکھ من اور بیس سنکھ من ہے وہ قمر (عہ۳) سے انچاس حصے بڑی ہے بلکہ اس کاجرم (عہ۴) جرم قمر کا وزن میں ۵ء۸۱ مثل ہے ،کیا چٹھنکی ڈیڑھ چھٹانک پانچ سیر پختہ وزن پر غالب آکر اسے کھینچ لے گی یا قمر کو جر ثقیل کی کوئی کل دی گئی ہے اس کے پاس ایک کل ہوگی تو زمین کے پاس انچاس کہ قبل اس کے کہ وہ اسے بال بھر اٹھا سکے یہ اسے کھینچ کر گرالے گی، اور اگر بالفرض قمر زمین کو اٹھا بھی لے تو زمین چاہے سو گز نہیں سومیل کھنچ جائے پانی کا ذرہ بھر اٹھنا ممکن نہیں زمین کے اس طرف چاند کے خلاف کوئی دوسرا حامل اقوی نہ تھا جس سے چاند اسے نہ چھین سکتا اور پانی کو زمین مہا سنکھوں زیادہ زور سے کھینچ رہی ہیں چاند اسے کیونکر کھینچ سکے گا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ مثلاً سیر بھر وزن کے ایک گولے میں لوہے کا پتر نہایت مضبوط کیلوں سے جڑا ہوا ہے تم اس گولے کو ہاتھ سے کھینچ سکتے ہو لیکن اس پتر کو گولے سے جدا نہیں کرسکتے جب تک و ہ کیلیں نہ نکالو یہاں پانی پر وہ کیلیں صد ہا مہاسنکھوں طاقت سے جذب ہے جب تک یہ معدوم نہ ہو پانی ہزاروں چاندوں کے ہلائے ہل نہیں سکتا لیکن ہلتا کیا گزوں اٹھتا ہے تو ضرور جذب زمین معدوم ہے۔ وھوالمقصود اگر کہیے ضرور اس سے زمین کی جاذبیت تو باطل ہوگئی لیکن قمر کی تو مسلم رہی۔،،


اس دلیل کو لے کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مصنف کے پاس طبعیات کا سطحی علم بھی نہیں. وہ مظہرِ مد و جذر کی وضاحت نیوٹن کی کششِ ثقل کی قوت سے مانگتے ہوئے کششِ ثقل کا رد پیش کرتا نظر آتا ہے. یہاں اس امر کی وضاحت کرتا چلوں کہ مد و جزر کو فقط چاند کی کششِ ثقل کی قوت پر چھوڑ دینا غیر علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے.
مد و جزر کی دو اقسام ہیں.
،، neap tides,,
اور
،،spring tides,,


چونکہ مہتاب کی مدوجذر کی قوت سے قریب قریب دوگنی ہے اس لئے چاند کی مدوجذر کی قوت کا اثر زیادہ ہوتا ہے. اس مظہر کے پیچھے آفتاب کی کششِ ثقل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے. یاد رہے اس مظہر کے پیچھے ایک تیسرا عُنصر بھی کار فرما ہے مرکز جو قوت (centripetal force).
اسی طرز پر تمام دلائل علیل و ناتواں چونکہ تحریر میں تمام تر دلائل پر لکھیں تو تحریر بہت لمبی ہوجائے گی. البتہ صاحبانِ علم اسی دلیل سے ہی مصنف کے طبعیات کے متعلق علم کا اندازہ لگا سکتے ہیں.


اگر ہم تمام دلائل پر جزوی تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مصنف زمین کی مداروی اور محوری گردش دونوں کے قائل نہیں تھے جس بنیاد پر یہ بات طے ہے کہ جناب مرکزِ آفتاب کے نظام کی بجائے مرکزِ ارض کے نظام کے قائل ہیں. اور مرکزِ ارض کے نظام کو تو سائنس کب کا دفنا چکی ہے.
انٹرنیٹ کے مادھیم سے دیکھیں تو یہ کتاب اردو اور انگریزی ترجمہ میں موجود ہے. اب آپ اسی چھوٹی سی بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کی ہے کہ اعلیٰ حضرت صاحب اپنی تصانیف میں مرکزِ ارض کے نظام کے قائل تھے. بے شک اُن کا دوسرا رسالہ,,آیات فرقان بسکونِ زمین و آسمان ،، ہو یا فوزِ مبین در ردِ حرکتِ زمین رسالہ دونوں میں مطلق مرکزِ ارض کے نظام کے قائل ہیں.


اب ہمارے پاس جو دستیاب معلومات ہیں اس رسالہ کی اُس کے انگریزی ترجمے کی طرف توجہ کرنے پر ہمیں یہ عبارت ملتی ہے.
،، As we are not on the Earth, so Earth is static with respect to us which favor argumentations of static theory of Ahmad Raza.
اضافیت کا یہ نظریہ احمد رضا کی مرکزِ ارض کے نظام میں زمین کی ساکنیت کی قطعاً تائید نہیں کرتا. یہ دونوں نظریات مختلف ہیں. آئین شٹائین کے پیش کردہ نظریہ اضافیت کے ساتھ غلط ملط کرنا انتہائی صریحاً بددیانتی کا جُرم ہے. آپ اس بات سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تمام تر کاوش مترجمین کی یہی ہے کہ کسی طرح ان دلائل کو قوی ثابت کیا جائے.

شیئر کریں

کمنٹ کریں