زنجیر ۔ سو لفظی کہانی

افسانہ نگار : سیف الرحمن ادیؔب

چشمِ نم، تنِ پُر زخم، پارہ پارہ دل اور بہت سارا خون لے کر نکلا۔
سنا تھا زنجیریں کھینچنے سے انصاف مل جاتا ہے، اسی لیے ڈھونڈنے لگا تھا۔
حاکم کی دہلیز تو بہت دور تھی،
منصف کا دروازہ بھی خالی تھا،
کوتوال کے ہاں تو سونا چاندی کا راج تھا، لوہا کہاں ملتا؟
وزیر اپنے ایمان سمیت اسے بھی بیچ چکا تھا اور
گورنر تو اس سے آشنا ہی نہیں تھا۔
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک کڑی نظر آئی،
پکڑ کر کھینچا تو کوئی چیخنے لگا۔ زنجیر عدل پر زنگ لگا ہوا تھا،
کسی مظلوم کے ٹخنوں کو جکڑے ہوئے تھی۔

شیئر کریں
مدیر اعلیٰ
مصنف: سیف الرحمن ادیؔب
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں