نعت کا زیرک شاعر دلاور علی آزر

مضمون نگار : نوید فدا ستی

نعت, نعت کا زیرک شاعر دلاور علی آزر

دلاور علی آزر کا شمار دورِ حاضر کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔جنھوں نے نعت میں کئی جہت نما اضافے کیے ہیں احمد رضا خان بریلوی ، محسن کاکوروی ، علامہ اقبال سے لے کر دلاور علی آزر تک کا نعتیہ سفر کئی منازل سے ہوتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے دلاورعلی آزر بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے مگر نعت میں اس نے اپنی وجدانی کیفیات کو نظم کر کے نعتیہ ادب میں گویا انقلاب برپا کر دیا ہے دلاور علی آزر کی فکر انگیز شاعری سنجیدہ علمی و ادَبی حلقوں میں خاصی شہرت پا چکی ہے پیشِ نظر کتاب سیّدی بھی اپنی تغّزلی خصوصیات کے لحاظ سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔دلاور علی آزر اپنے شعری رویے میں اپنے اندر کی بے تابانہ خواہشوں اور تخلیقی صلاحیتوں کو یک جان کر کے ایسے سلیقے اور مہارت سے پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والا اس کی نظم کردہ کیفیات و جذبات کو روحانی و جسمانی ہر دو سطحوں پر محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کے تخیل کے گِرد ایک نورانی ہالا تیار ہو جاتا ہے جس سے اس کے اندر کی تاریکی کا پردہ چاک ہو کر روشنی کی چادر میں سمٹ جاتا ہے۔


میں آ گیا ہوں آپ کے در پر بہ صد خلوص
اب اپنے آپ سے کوئی شکوہ نہیں مجھے


میں اسے خلعت کروں گا خشک ہونٹوں کے لیے
خواہشیں بن کر تو دیں پشمینۂ نعتِ رسول


نیند اسے خواب کے زندان سے لے کر بھاگی
پھر مرا خواب گرفتار مدینے میں ہوا


خدا تک اب مجھے سرکار لے کے جائیں گے
خدا کا شکر کہ سرکار تک پہنچ گیا میں


دلاور علی آزر کا نعتیہ سفر پوری آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ جاری و ساری ہے حسن آفریں جمالیات ، برتر تخلیقی اُپچ اور کمال فنی مہارت نے اس کے مقام و مرتبے کا تعیّن ابھی سے کر دیا ہے جس میں اضافہ تو ممکن ہے لیکن کمی کا ذرہ برابر بھی امکان دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ اس دل نواز شاعر نے قادر الکلامی اور شعری امکانات کا ایک واضح اور اَن مٹ ”نقش“ نہ صرف نعتیہ تاریخ پر ثبت کیا ہے بل کہ تخلیقی وفور ، تشکیلی لیاقت اور تمہیدی اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے نعتیہ شاعری کو شاعری اور خالصتاََ شاعری سے روشناس کروا کر معنوی اعتبار سے شعر میں طلسم کاری اور معجز نمائی کو جنم دیا ہے۔انھیں وجوہات و امتیازات کی بِنا پر دلاور علی آزر نعتیہ ادب کا ایک اہم اور روشن تر باب بننے میں پوری طرح کامران نظر آتا ہے کیوں کہ شاعری کے ضمن میں خوش سلیقگی ، پاکیزہ نفسی اور روحانی اطمینان کے ساتھ یہ شاعر حریمِ نعت میں ظہور کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے عشقِ رسول کی وارفتگی اور اُسلوب کی نیرنگی نے دلاور علی آزر کی شعری فضا کو مثالِ آئنہ ایک تقدّس عطا کیا ہے۔


ایک بڑے شاعر کی تخلیقی شخصیت میں ان تین عناصر یعنی (تخلیقی وفور ، تشکیلی لیاقت اور تمہیدی اخلاص) کا ہونا لازم بل کہ ناگزیر ہے اور دلاور علی آزر اِن تینوں خصوصیات سے مالا مال ہے ایک نعت ملاحظہ کیجے۔


بنتا ہی نہیں تھا کوئی معیارِ دو عالم
اِس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم


جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کھلتیں
اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم


آکریہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ
لگتا ہے اسی غار میں دربارِ دو عالم


وہ آنکھ بنی زاویۂ محورِ تخلیق
وہ زلف ہوئی حلقۂ پرکارِ دو عالم


سرکار کی آمد پہ کھلا منظرِ ہستی
آئینہ ہوئے یوں در و دیوارِ دو عالم


جز اِس کے سرِ لوحِ ازل کچھ بھی نہیں تھا
تجھ اسم پہ رکھے گئے آثارِ دو عالم


یہ خاک اُسی نور سے مل کر ہوئی روشن
یوں شکل بنی شکلِ طرح دارِ دو عالم


آہستہ روی پر تری قربان سبک پا
اے راہبرِ گردشِ سیّارِ دو عالم


توقیر بڑھائی گئی افلاک و زمیں کی
پہنائی گئی آپ کو دستارِ دو عالم


ہر نقش ہے اِس پیکرِ ذی شاں کا مکمل
آزریہی شہکار ہے شہکارِ دو عالم


مندرجہ بالا نعت درج کرنے کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے میں نے اُوپر جتنی باتیں کی ہیں ان کی دلیل اس ایک نعت میں موجود فنی باریکیوں اور فکری بالیدگی میں پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی پوشیدہ اُن کے لیے جو فن سے اُس طرح واقف نہیں لیکن آہنگ اور فکر سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، ظاہر اُن کے لیے جو فکر و فن کی معراج کو سمجھتے ہیں اِس نعت میں اس شاعرِ بے بدل نے انتہا کر دی ہے ایک ایک لفظ ایک ایک مصرع ایک ایک شعر اپنی مثال آپ ہے جو نورِ مجسمؐ کی انوار و تجّلیات کا مضبوط ترین حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔دلاور علی آزر اگر صرف یہی نعت تحریر کرتا تو بھی نعتیہ ادب اِسے کسی طرح در گزر نہیں کر سکتا تھا مگر اُس نے اپنے تخلیقی وفور کو بروئے کار لا کر نعت کی دو نہایت اہم ترین مجموعے ”نقش“ اور ”سیّدی“ دے کر ہمارے نعتیہ سرمائے میں گراں قدر اور وقیع اضافہ کیا ہے۔


ختم ہوتےکہیں دیکھے نہیں آثار اس کے
بند ہوتے کبھی دیکھا نہیں دروازۂ نعت


ہر چیز آئنہ ہے اُدھر ہے ان کے سامنے
جانا تو چاہتا ہوں مگر ، ان کے سامنے


ان پر سب آشکار ہے ان پر سب آئنہ
کیا لے کے جاوں دیدۂ تر ان کے سامنے


اُن سے چُھپی ہوئی تو نہیں میری کوئی بات
میں ان کے سامنے مرا گھر ان کے سامنے


مدحت میں صرف ان کی عطا کام آئے گی
جلتا نہیں چراغِ ہنر ان کے سامنے


ان سے ہی لیں گے روشنی آزر یہ مہر و ماہ
سیراب ہوں گے شام و سحر ان کے سامنے


اور بھی اس کے خدوخال نکھر جاتے ہیں
چہرۂ پہ مَلتا ہوں میں جب غازۂ نعت


نعت ادبی اصطلاح میں اُس موزوں کلام کو کہتے ہیں جس میں آں حضرت کی مدح و تعریف کی گئی ہو یا آپؐ کو اوصاف و شمائل کا بیان ہو نیز حضورؐ کی ذات یا ان سے منسوب کسی چیز سے محبت و اظہار ہو۔ نعت میں آزر کی طرزِ اظہار سب سے منفرد اور جداگانہ ہونے کے باوجود ممتاز ہے اس کے نزدیک آں حضرت کی ذاتِ والا صفات بنی نوع انسان کے لیے نہ صرف سرمایۂ افتخار ہے بل کہ ان کی محبت ایک ایسی فعال قوت ہے جس میں عدم وجود انسان کو ”اسفل“ کر دیتا ہے آزر کی دونوں کتاب ”نقش اور ”سیّدی“ تازگی اور پیش کاری کے اعتبار سے اردو نعت کی تاریخ میں ایک اہم حیثیت کے حامل ہیں کچھ اشعار دیکھیے۔


میں اپنا دل پِروؤں گا عشقِ رسول میں
میں اپنی جان پیش کروں گا جناب کو


بخش تو اس نگاہ کی آزر ہے کاربند
کیا جمع کر رہے ہو گناہ و ثواب کو


رعنائیوں کی چشم کشائی کے درمیاں
بینائیوں کا پختہ ارادہ حدیث ہے


یہ زمینی سلطنت ہے یا کوئی جاے نماز
آسمانی رنگ ہے چادرِ عز العرب


اپ دیتے ہیں دعائیں ان کو
ورنہ جو کام عدو کرتے ہیں


ْآپ آئے تو زمانوں کو ملا اذنِ سفر
ہر نئے دورنئے پور کا دروازہ کھلا


کھلا ہے کیسا عجیب منظر اٹھایا حانے لگا ہے لنگر
جزیرۂ دل سے بحرِ جاں میں اتر رہا ہے جہاز اس کا


ان اشعار میں اسلام کا فلسفۂ حیات مغمر ہے لیکن یہاں فلسفہ محض فلسفہ نہیں رہتا بل کہ عشقِ رسولؐ کے جذبے میں ڈھل کر خالصتاََ شاعری میں تبدیل جاتا ہے کچھ اشعار مزید پڑھیں۔


؎عبادتوں میں خلل نہ آئے ابد نہ پہنچے ازل نہ آئے
سکوں براے نمود اس کا نمود براے نماز اس کی


پوروں نے بہت شوق سے کی ہوں گی سماعت
اس ہاتھ کی مٹھی میں جمادات کی آیات


نسبت کا شرف قدر بڑھایا ہے سو آزر
یہ پانچ کی تشبیب ہے وہ سات کی آیات


حدیث اک علم ہے جس علم کی اپنی ریاضی ہے
یہاں ہر حاشیے پر حاشیہ بردار کھلتے ہیں


سیّدی کا پہلی نعت سے آخری نعت تک مطالعہ کرتے جائیے ، سرشار ہوتے جائیے اور اس شاعرِ طرح دار کو دعا دیتے جائیے آزر کی نعوت میں جزبۂ دل کی بے تابی ، طبعیت کی بے ساختگی ، الفاظ کی برجستگی اور خیال کی رعنائی اپنی انتہائی سطحوں پر دکھائی دیتی ہے پھر ایک اہم اور قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ سیّدی کی شاعری میں تکلف اور تصنع کا شائبہ تک نہیں۔ تمام نعتیں خوش سلیقہ الہام اور آمد کی آئنہ دار ہیں یہ نعتیں پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ آزر کا دل محبتِ رسولؐ کے بحرِ عمیق ہے۔جس سے نعتیہ مضامین موجوں کی طرح اُبھرتے ، پھیلتے اور روحوں پر نقش ثبت کرتے جاتے ہیں پھر ہر موج اپنے زور سے لہراتی ہوئی ایک موزوں قافیے کے ساحل تک آ پہنچتی ہے۔


پلِ صراط پہ چلنا ہے نعت بھی آزر
کسی طرح نہ بڑھایا نہ اُن کو کم کیا جائے


نعت گوئی کا فن عشقِ رسول کی منزل میں ایک ایسا پلِ صراط ہے جس پر قدم رکھنے اور توازن قائم رکھتے ہوئے اس پر سنبھلنے کی سعادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جب تک دینی علوم کی بصیرت شریعت و طریقت سے آگاہی اور عشق کے باریک سے باریک راز کا عرفان نہ ہو اس طرف رُخ کرنا ٹھوکر کھانے کے مترادف ہے میرے نزدیک یہ کہہ و مہ کے بس کی بات ہرگز نہیں ہے کہ جذبے کو لفظ عطا کرنے ، لفظوں کی تہذیب و ترتیب اور اظہار کے گوشوں کی تراش خراش کے ہنر کی تکمیل یہ وہ منزل ہے جہاں طویل علمی سفر طے کرنے اور مشاہدات و تجرّبات کی کڑی دھوپ سے گزرنے کے بعد ہی الفاظ جذبے کو آفاقی راستوں پر ڈالتے ہیں اور فکر و خیال کی کتنی ہی صدیاں پار کرنے کے بعد مفہوم و معانی کے ایک لمحے کا قرب حاصل ہوتا ہے آزر کی نعتیہ شاعری کے مطالعے سے اس کی علمی گہرائی و گیرائی دینی و مذہبی فکری و ذہنی صلاحیت متشہبانہ اور مجتہدانہ جد و جہد کے بہت سے گوشوں پر روشنی پڑتی ہے نعت کا ڈھانچہ آگہی اور باخبری پر قائم ہوتا ہے باخبری حصولِ علم سے پیدا ہوتی ہے اور حصولِ علم کے لیے جد و جہد کے گہرے پانیوں کی تہوں میں سفر کر کے اُبھرنا پڑتا ہے کہ یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے کہ مصداق ہے۔


وہ اسم اسمِ محمد ہے جس کی برکت سے
تمام کھولی گرہیں کائنات کی میں نے


دلاور علی آزر کی ذات کے کوزے میں کتنی سمندروں کی سمائی ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ اس کی نعتیں جذبے کو الفاظ کا پیرہن عطا کرنے اور محبتِ رسولؐ کے اظہار میں احترام کی حدود قائم رکھنے کے لحاظ سے ہمارے ادب میں ایک مستقل سرمائے کی حیثیت رکھتی ہیں جہاں تک میں نے آزر کو شعر و ادب کے بڑے قدر دان سے عزت افزائی وصول کرتے دیکھا ہے اور اس کے باوجود اس کے لہجے میں ایک بے نیازی پائی ہے وہ کسی کسی کی تربیت کا حصہ ہے آزر کے اشعار سے کچھ اس انداز معنوی تغزل جھلکتا ہے کہ سبحان اللہ خط کشید کیجیے گا۔


صحیفہ پڑھتے ہوئے آپ یاد آ گئے تھے
رُکا جو میں تو سپارہ درود پڑھنے لگا


مہکائے ہوئے رکھتے ہیں وہ خاکِ جہاں کو
رُکتا نہیں خوشبو کا سفر اُن کی طرف سے


آزر نے اپنے غزلیہ اُسلوب کو نعت کی منزل کیا ہے اور اپنے ہی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مشکل پسندی کو آسانی کی طرف کھینچ کر نعت میں اک نئی جہت کا بنیاد گزار ہو گیا ہے ایسی سنگلاخ اور دشوار گزار ، زمینیں تراش کر ان زمینوں کو پانی کرنا سہلہ نہیں ہوتا ایسی زمینیں جن میں شعر کہنے کو کلیجہ چاہیے پھر اس میں اپنی انفرادی اور امتیازی حیثیت کو قائم رکھنا انتہائی مشکل عمل ہے لیکن آزر نے ایسی ہی زمینوں میں عقیدت و محبت رسولؐ کے پھول کِھلا کر سبک رفتاری سے گزر جاتا ہے کہ اہلِ فن ششدر رہ جاتے ہیں


مِلا تھا تحھ سے جو آسماں کے دبیز پردے کی چھاؤنی میں
دِکھا دیا سب کو اس کا چہرہ بتا دیا سب جو راز اس


جو صداے کُن کا اصول تھی وہی صوت ہے ترے اسم کی
جو بناے کُن کا حصول تھی وہی تری نعت ہے


نعتیہ کلام کی خصوصیات میں اُسلوبِ بیان کی ندرت اور مضامین کی صداقت اپنے حسن و انداز میں ہر جگہ جلوہ گر ہے اردو نعتیہ ادب میں یہ تغزّل یہ حسن و خوبی مفقود تھے آزر کا نعتیہ کلام پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی صاف شفاف نہر کسی ہموار ترائی میں آہستگی سے بہتی چلی جا رہی ہے نہ کہیں رکاوٹ ہے نہ لفظ میں گرانی ہے نہ قافیہ کی تنگی ہے زبان میں کھلاوٹ بیان میں حلاوت لفظوں میں فصاحت اور تراکیب میں لطافت ہے میرے نزدیک اردو ادب میں عہد حاضر کے نوجوان شعراء میں سہل ممتنع کی یہ بہترین مثال دلاور علی آزر کے علاوہ کہیں موجود نہیں دلاور علی آزر کی نعتیہ شاعری جذبات کی ملمّع کاری کے علاوہ ایسی بے شمار فکری و فنی خوبیوں کی حامل ہے جس کی مثال اس دور کے شعراء میں بہت کم ملتی ہے ذیل کے اشعار میں جذباتی فکری اور فنی دست رس پر غور کیجے ایسی سنگلاخ اور سخت زمینوں میں آزر کی فکر رسا نے جدت و ندرت کے کتنے گوشے روشن تر کر دیے ہیں۔
آ کر یہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ
لگتا ہے اسی غار میں دربارِ دو عالم
قافیہ سرکار اور ردیف دو عالم
آسماں اورزمیں ایک ہوئے وصل کی رات
ان کے نزدیک بہت دور کا دروازہ کھلا
قافیہ دور اور ردیف کا دروازہ کھلا
تبدیل ہو کے نور کی صورت میں ایک دن
دیکھوں گا روشنی کے ٹھکانے سے وقت کو
ٹھکانے اور ردیف وقت کو
میں روشنی کی طرح ان کا نام لے لے کر
ِچراغِ حرف سے بہتا ہوں نعت کہتا ہوں
قافیہ بہتا اور ردیف ہوں نعت کہتا ہوں
کیمیا ہو گئی وہ خاک جو صحرا تھی کبھی
چشمِ حکمت ہو تو دیکھو سرِمیدانِ عرب
میدان اور ردیف عرب
صحیفہ پڑھتے ہوئے آپ یاد آگئے تھے
رکا جو میں تو سپارہ درود پڑھنے لگا
قافیہ سپارہ ردیف درود پڑھتا ہوں
ہمیشہ قائم رہے جہاں میںیونہی فضائے نماز اُس کی
گواہی دیتا ہے چپا چپا زمیں ہے جائے نماز اُس کی
قافیہ فضائے ردیف نماز اُس کی
آفاق کو چھوتی ہوئی دُھن اُن کے لیے ہے
وہ صدق ہیں آوازہِ کُن اُن کے لیے ہے
قافیہ کُن اور ردیف اُن کے لیے ہیں
پڑھتا ہوں حضور آپ کے حسنات کی آیات
تحدیث کی تحدیث ہیں آیات کی آیات
قافیہ حسنات اور ردیف کی آیات


اقبال جہاں بھی عشقِ حقیقی کا ذکر کرتے ہیں وہاں عشقِ رسول کے مضمون ضرور باندھتے ہیں اور حقیقت میں اصلِ ایمان بھی یہی ہے جنگ یرموک کا ایک واقعہ جو اقبال نے نظم کیا ہے وہ بھی حضور کے عشق میں سرشار ایک فدائی کی داستان ہے جو فراق سے بے چین ہو کر لقائے حبیب کے لیے رخصت پیکار کی درخواست کرتا ہوا امیرِ لشکر سے کہہ رہا ہے اقبال نے واقعہ کو جس سادگی اور صفائی سے موئثر التزام کے ساتھ پیش کیا ہے وہ شاعر کی داخلی کیفیت کی آئنہ داری کرتا ہے اقبال کے نعتیہ اشعار حقیقت و معرفت ، توحید و رسالت ، اسلام کے آفاقی پیغام ، غافل مسلمانوں کو پیغامِ محمدؐ کا پاس ، احساس دلانے اور محمدؐ سے وفا کرنے ایسے موضوعات نعت پر مشتمل ہے ان کے نزدیک تخلیقِ کائنات کی غرض و غایت ذات مصطفوی ہے اور سارا عالمِ امکان اسی محوّر کے گرد گُھوم رہا ہے انہوں نے اردو نعت گوئی کو فکری و فنی طور پر وسعت دیاقبال کے نعتیہ کلام میں حکمت آفرینی کی مثالیں جگہ جگہ پائی جاتی ہیں وہ ہر مضمون میں اسی فکر و نظر کی ترجمانی کرتے ہیں جو ان کے فلسفہِ حیات سے متعلق ہے”اقبال کے فلسفہ کی ابتدا کائنات میں انسان کی افضلیت کے مسئلے سے ہوتی ہے وہ اسی خاک کے پُتلے میں حیرت انگیز ممکنات دیکھتے ہیں اور وہ اس لقہ خلقنا الانسان فی احسن تقویم کی تعبیر کرتے جاتے ہیں وہ انسان کے بلند مقام کے سامنے فرشتوں کو بھی حیرت زدہ دکھاتے ہیںیہاں تک کے وہ مقام مصطفائی تک پہنچ کر عرش بریں و کُرسی تک اس کی کبریائی کی زد میں دیکھتے ہیں اس لحاظ سے تجزیہ کیا جائے تو اقبال کا سارا کلام اس زندگی کی تفسیر ہے جس کی سر بلندی آسمانوں کو بھی سرنگوں کیے ہوئے ہے لیکن آزر کا کمال یہ کہ وہ ان نکات کو اک نئے انداز سے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں تصرّف بھی کرتا ہے اور نئی جہات سے روشناس بھی کرواتا ہے وضاحت کے لیے کچھ اشعار نقل کرتا ہوں۔


کرتا ہوں نعت حمد و ثنا کی طرف ہوں میں
ان کی طرف ہوں یعنی خدا کی طرف ہوں میں
مرا نشانہ کبھی چُوکتا نہیں آزر
درود پڑھتے ہوئے تِیر کھینچتا ہوں میں
ختم ہوتے کبھی دیکھے نہیں آثار اس کے
بند ہوتے کبھی دیکھا نہیں دروازۂ نعت
نہیں ہے اس سے زیادہ مری کوئی اوقات
میں ان کے در کا گداگر ہوں بات ختم ہوئی
کوئی سامان تو بخشش کا مجھے کرنا ہے
کیا ہو گر نعت رقم کرتے ہوئے مر جاؤں
خاک خوشبو میں بدلتی ہے یہ کیا آمد ہے
اے گِلِ تازہ نفس اے گُلِ ریحانِ عرب
نُور پھوٹا ہے اچانک مری پیشانی سے
کس کی دہلیز پہ آخر مرا سر آ گیا ہے
خدا کی ساری خدائی نبی کی مِلکیّت
نبی کو سارے وسائل خدا سے ملتے ہیں
وقت کو موڑیے سرکار سے ملنا ہے مجھے
اور ملاقات زمانوں سے اُدھر چاہیے ہے
یہی نجات کا باعث بنے گا کل آزر
کھِلیں گے پھول لحد میں درود پڑھتے رہو


حضورؐ کی مدح سرائی کا یہ نرالا دھنک دلاور علی آزر کی نعوت سے قبل پوری نعتیہ شاعری میں کہیں موجود نہیں دیکھا گیا اس پر جتنی بات کی جائے کم ہے۔کیوں کہ ان موضوعات کی وسعت و گیرائی کا اندازہ لگانا ناممکنات میں سے ہے۔مجھے یہ روش یہ انداز یہ طرز یہ اُسلوب اس قدر پسند آیا ہے کہ جس کو بیان کر کے میں اپنی سرشاری کو کم نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ اس کا تعلق صرف اور صرف محسوسات کے علاقوں سے ہے پڑھتے جائیں اورآئنہ ہوتے جائیں والا معاملہ ہے یہ۔


عین حقیقت ہے کہ نعت گوئی کا فن بہت مشکل سے عطا ہوتا ہے اس کے کئی وجود ہیں نعت کے مضامین قرآن سے ماخوذ ہوتے ہیں جنھیں جدت اسلوب کے ساتھ ادا کرنا ہوتا ہے اس کے علاوہ طرزِ ادا میں جو آزادی دوسرے مجازی کے ساتھ ہوتی ہے یہاں نہیں برتی جا سکتییہاں تو چشمِ تصور کے لیے ادب کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا پھر یہ کہ شاعر جب تک مکمل طرح آزاد نہ ہو اپنے کمالِ فن کے مظاہرہ نہیں کرسکتا اس کے علاوہ محض وصف نگاری بھی شاعری نہیں ہوتی کوئی بھی صنف ہو اگر داخلیت سے خالی نظر آئے تو محض تُک بندی ہو کر رہ جاتی ہے خارج اور داخل کی درست تقسیم ہی دراصل موضوع کو اعتبار بخشتی اور قابلِ قبول بناتی ہے شعر شاعر کے ظاہر و باطن کا مظہر ہی تو ہے خارجی موضوعات کے تحت اشعار کا مطالعہ کرتے وقت ضروری ہے کہ اس میں شاعر کا داخلی تاثر کس حد تک اور کس صداقت کے ساتھ شامل ہے یہی شاعری کے معیاری ہونے پیمانہ طے کرتا ہے اور شعر کا حسن دوبالا شعر کی تاثیریت بھی اسی کے مرہونِ منت ہوتی ہے نبیِ اکرمؐ کے ساتھ محبت کا جذبہ ایک مومن کے لیے سرمایہِ کُل حیات تو ہے لیکن ایک نعت گو شاعر اس جذبے کا اظہار اس آزادی کے ساتھ نہیں کر سکتا جو دوسرے موضوعات کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے مثلاً شاعری میں تصوّف کا میدان بہت وسیع تر ہے اس میں شاعرانہ ندرت اور جوش و تمکنت کے اظہار کے لیے لامتناہی امکانات ہیں ایک صوفی خدا کے ساتھ عشق کا دعویٰ کرتا ہے اور جب وہ سراپا عشق بن جاتا ہے تو کبھی وہ ”سبحان ما اعظم شانی“ کہتا ہے کبھی ”اناالحق“ کہہ کر موجود منظر نامے میں محشر برپا کر دیتا ہے اور کبھی اس کی آواز میں ”الناس کلمہ عبد لا عبدی“ شامل ہو جاتا ہے اس طرح اقوال جو کہ شطیحات میں شامل ہیں اور جو عالم سکر میں صوفیا سے ظاہر ہوتے ہیں وہ صرف عشقِ الہیٰ میں جائز ہیں لیکنیہ جواز بطور فتوی نہیں ہے کیوں کہ صوفیاءیہ کلمات اپنے ارادہِ اختیار سے نہیں کہتے اور جب ادارہِ اختیار کا کوئی دخل نہ ہو تو جوازِ عدم کا کوئی سوال نہیں رہ جاتا ایسے اقوال خواہ کسی کیفیت کے مظہر ہوںنبیِ کریمؐ کے حضور کبھی جائز نہیں ہو سکتے یہی وجہ ہے کہ وہ بایزید جن سے”سبحان ما اعظم شانی“ قول منسوب ہے حضورؐ کے حضور ان کی یہ کیفیت ہے کہ ”نفس گم کردہ می آیدجنید و بایزید این جا“ اس بیان سے اس قول کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے کہ ‘باخدا دیوانہ باشد با محمد ہوشیار ہوشیاری کے ساتھ جذبۂ عشق کا اظہار نعتیہ شاعری میں ایک مشکل ترین مرحلہ بن جاتا ہے اس لیے اکثریت نعت گو شعراء اپنے کلام میں عشق و محبت کی وہ تاثر نہ پیدا کر سکے جو صوفیااپنی شاعری میں کرتے ہیں اردو اور فارسی نعتیہ شاعری میں اقبال ایک بالکل منفرد متشنی مقام رکھتے ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اسلامی فلسفہِ حیات کی ترجمانی کی ہے ان کا یہ عشق بھی جمالِ محمدی کا مرغونِ منت ہے اس طرح دلاور علی آزر ذیل کے اشعار سے رسولِ اکرمؐ کے ساتھ ان کے والہانہ عشق کا اندازہ اپناتا ہے جو اقبال سے بھییک سر مختلف ہے کچھ شعر پڑھیے۔


چوما کروں نقشِ قدومِ شہہ اُمم
اے کاش میرے دل سے بھی ان کا گزرنا ہو
بتاؤں کیا کہ میں اس نور کی تجلی کو
جب اپنی روح پہ سہتا ہوں، نعت کہتا ہوں
وہ اُدھر کھول دیں گرہیں جو پڑی ہیں مجھ پر
میں اِدھر نعت رقم کرتے ہوئے مر جاؤں
تری ذات آئنہ دہر کا، مجھے ساعتوں کا شعور دے
ترے سامنے ہیں ازل ابد، مدد اے رسولِ خدا مدد
دلاور علی آزر کے یہاں عشق کے بے نیازانہ اور والہانہ اظہار کے باوجود عقیدت کی فروانی ہے اور غلو کا دور دور تک کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا یہ ہے اصلِ کمال کہ مقامِ محمدؐ کے اظہار میں کچھ کہا بھی تو صرف اس قدر کہ
مجھ میں بسی ہوئی ہے مہک مدحِ شاہ کی
مجھ میں کِھلا ہوا گُلِ ریحانِ نعت ہے


آزر کی نعت میں کامل عناصر کا کینوس بہت وسیع ہے جو مجھے دوسرے شعراء کے نعتیہ کلام میں نہیں نظر نہیں آتا آزر نے اپنی نعتوں سے اصلاح کا کام لیا ہے اور عشقِ رسولؐ کے ترانے گُنگُنا کر عالمِ اسلام کے اندر ایک ولولہ پیدا کرنے کی تخلیقی سعی کی ہے۔آزر کے نعتیہ کلام میں عطمتِ رفتہ کا احساس ، لمحہِ موجود کی زبوں حالی ، مستقل کے روشن اور پر شکوہ عبد کا انتظار اور اس سے وابسطہ تاثرات و احساسات ملتے ہیں آزر کے کلام کی روشنی حبِ رسولؐ سے سرشار ایک عاشقِ صادق کے روپ میں ہمارے سامنے آتی ہے۔
اپنی قسمت کا صدقہ اتاروں گا میں شکر ادائی کا سجدہ گزاروں گا میں
آپ جب مل گئے پھول جب کھل گئے چاہیے ہے مجھے اور کیا سیدی
اب نہ بھٹکوں گا میں ہے یہ کامل یقین اب مجھے قافلے کی ضرورت نہیں
میرا رستا تھا سیدھا نشاں آپ کا میری منزل ہے یہ نقشِ پا سیدی
اسمِ احمد کو نہ ہونٹوں سے جدا کر لینا
دل دھڑکتا ہوا سینے میں اگر چاہیے ہے


آزر نے نہ صرف نعت کے تقاضوں کو پورا کیا بل کہ دوسرے شعراء کے بھی رہنمائی کی یہاں آزر کی نعت ایک فانوس کی طرح صد رنگ انوار بکھیرتی چلی جاتی ہے جابہ حا قرآنی آیات اور احادیث جبینِ شعر پر لَو دیتی نظر آتی ہیں صنعت تلمیح پر مشتمل اشعار دینی اور واقعاتی پس منظر لیے ہوئے ہیں فلسفیانہ اور متصوفانہ اصلطلاحات آزر کی علمی وسعت کی آئینہ دار ہیں آزر کی شاعری میں ایک طرف شعری خوبیاں اپنے اوج پر دکھائی دیتی ہیں تو دوسری طرف جذبے کی گہرائی نے عملی رسوخ کے ساتھ ہم آئنگ ہو کر ایک کہکشاں کو اُبھار دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آزر کی نعوت ہر دل کی دھڑکن ، ہر لب کی صدا اور ہر نگہ کا نور بن کر شعری اُفق پر جگمگا رہی ہیں آزر ایک نعت باب ہے ایک مکمل اور روشن باب جس کو سمجھنے اور اس پر بات کرنے کے لیے کئی ادوار درکار ہیں سو ایسا خوش بخت شاعر مبارک باد سے بڑھ کر ہے کیسی کیسی سخت زمینیں پانی کر دی ہیں اس شاعر نے یہ کمال نہیں تو اور کیا ہے ایسی زمینیں تراشنا ہی ایک تخلیقی کارنامہ ہے پھر اس میں خالصتاََشاعری کوجمع کرنا معجز نمائی اللہ اس شاعرِ آب دار کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے آمین۔۔۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    👁️ سبحان اللّٰه… بیش بہا… سیرحاصل تعارف 👁️

    Reply

کمنٹ کریں